Ticker

6/recent/ticker-posts

معروف افسانہ نگار جاوید نہال حشمی سے علیزے نجف کی ایک ملاقات

معروف افسانہ نگار جاوید نہال حشمی سے علیزے نجف کی ایک ملاقات


انٹرویو نگار علیزے نجف
جاوید نہال حشمی ایک ایسے افسانہ نگار کے طور پہ جانے جاتے ہیں جن کے مزاج میں سنجیدگی اور مزاح کا آہنگ نظر آتا ہے، ایک طرف وہ جتنے سنجیدہ، شعور شناس اور حساس ہیں وہیں دوسری طرف ان کی شخصیت میں بذلہ سنجی کا عنصر بھی نمایاں ہے، وہ ایک علم دوست، ادب نواز اور تخلیقی صلاحیت کے حامل انسان ہیں، اردو ادب سے ان کا تعلق فطری طرز پہ قائم ہوا ان کے والد حشم الرمضان صاحب ایک ادبی شخصیت تھے یوں بچپن میں ہی ادب ان کی سرشت کا حصہ بن گیا تخلیقی صلاحیت ہونے کی وجہ سے ان کے ذہن میں تخیل کی کارفرمائیاں ابتدائی عمر میں ہی شروع ہو گئی تھیں جوں جوں وقت گزرتا گیا احساس الفاظ کا پیرہن اوڑھتے گئے یوں وہ ایک قاری سے قلمکار میں ڈھل گئے اس وقت ان کا ذکر ادیبوں کی صف میں فخریہ انداز میں کیا جاتا ہے۔


جاوید نہال حشمی ایک کثیر الجہت قلم کار ہیں۔بنیادی طور پہ وہ ایک افسانہ نگار ہیں افسانوں کے ساتھ انہوں نے ڈرامے، انشائیے، طنزو مزاح اور غزلوں پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔ اکثر و بیش تر ان تمام اصناف پر ان کی تخلیقات شائع بھی ہوتی رہی ہیں ان اصناف میں انھوں نے ایسے شہ پارے تخلیق کئے جس نے ان کی شناخت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ استاد ہیں شوق کے اعتبار سے وہ اعلی پایے کے قلمکار ہیں، نئی نسل کی بدلتی نفسیات اور زمانے کے تغیر پذیر تقاضوں پہ ان کی گہری نظر ہے انھوں نے سائنسی مضامین بھی لکھے ہیں جس کے ذریعے انھوں نے سائنسی ذہن رکھنے والوں کے لئے تفریح طبع کا سامان پیدا کیا ہے۔ ان کی اب تک تین کتابیں منصہء شہود پہ آ چکی ہیں اور کئ اعزازات سے بھی انھیں نوازا جا چکا ہے اس وقت وہ میرے سامنے ہیں میں بحیثیت انٹرویو نگار کے سوالات لئے ان سے بہت کچھ جاننے کی جستجو میں ہوں آئیے آپ بھی اس جستجو میں شریک ہو جائیں تاکہ علم کی یہ روشنی اپنا ہالہ مزید وسیع کر سکے۔

afsana-nigar-javed-nehal-hashmi-se-aliza-najaf-ki-ek-mulakat

علیزے نجف: آپ ہمیں خود سے متعارف کراتے ہوئے یہ بتائیں کہ آپ کا تعلق ہندوستان کے کس خطے سے ہے اور اس خطے میں ایسی کون سی روایت پائی جاتی ہے جو کہ ملکی سطح پہ اپنی ایک شناخت رکھتی ہے؟


جاوید حشمی: میں ہندوستان کی اولین سرکاری درس گاہ، مدرسہ عالیہ (اینگلو پرشین ڈپارٹمنٹ، کلکتہ مدرسہ) میں سائنس کا معلم ہوں۔ میرا تعلق مغربی بنگال کے ایک علمی و ادبی گھرانے سے ہے۔ابّا مرحوم محمد حشم الدین فارسی اور اردو کے ٹیچر تھے۔ انگریزی زبان و قواعد پر بھی کافی دسترس رکھتے تھے۔ ہم پانچ بھائی اور دو بہنوں میں چار ٹیچر اور دو اعلیٰ عہدے پر فائز سرکاری افسران ہیں۔ ایک طرح سے تدریس ہمارا خاندانی پیشہ ٹھہرا۔والد مرحوم کا شمار مضافات کے استاد شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے مضافات کے کئی نئے اور پرانے شاعروں کی ذہنی آبیاری کی۔ لہٰذا ادبی ذوق بھی ہمیں ورثے میں ملا ہے۔ادبی دنیا میں مجھے افسانہ، افسانچہ اور انشائیہ نگار کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔


میرا تعلق مغربی بنگال کے ضلع شمالی ۲۴ پرگنہ سے ہے جہاں میں نے ۱۷ مارچ ۱۹۶۷ کو آنکھیں کھولیں۔ بنگال ہندوستان کا وہ خطہ ہے جہاں انگریزوں نے اپنے سیاسی تسلط کا آغاز کیا، اور جہاں سے جنگِ آزادی کی شروعات بھی ہوئی۔جنگ آزادی میں حصہ لینے اور شہید ہونے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد کا تعلق بنگال سے ہی ہے۔ لہٰذا یہ خطہ شروع سے ہی سیاسی اعتبار سے بہت فعال اور سرگرم رہا ہے۔آزادی کے بعد بنگال کا جو حصہ ہندوستان میں رہ گیا وہ آج تک مغربی بنگال ہی کہلاتا ہے۔ یہ صوبہ اپنی سیاسی فعالیت اور سیکولر اصولوں کی پاسداری کے لیے ملکی سطح پر اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اس کا جیتا جاگتا ثبوت حالیہ صوبائی انتخابات کے نتائج ہیں جنہوں نے پہلی بار پورے ملک کو یہ احساس دلا دیا کہ بی جے پی ناقابلِ تسخیر نہیں ہے، اور بھگوا آندھی کو روکنے اور اس کی راتوں کی نیند اُڑانے والی طاقت ابھی بھی موجود ہے۔ یہ صوبہ اپنے rich culture کے لیے بھی ملکی سطح پر جانا جاتا ہے۔ میوزک، آرٹ اور فلم یہاں کے لوگوں کے زندگیوں میں رچی بسی ہے۔ٹیگور، ویویکا نند اور ستیہ جیت رے جیسی شخصیات کا جنم ایسے ہی نہیں ہوا۔ یہاں کی معاشرتی زندگی میں ثقافت کے غلبے نے ہی فرقہ پرستی کو اب تک پنپنے نہیں دیا ہے۔



علیزے نجف: آپ نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو اس وقت اپنے ارد گرد کا ماحول کیسا پایا ؟اس کے منفی و مثبت عناصر کیا تھے؟ کیا شخصیت سازی کے ضمن میں ارد گرد کے منفی ماحول کے اثرات سے بچا جا سکتا ہے اور یہ کیسے ممکن ہے؟

جاوید حشمی: قصبہ کانکی نارہ جہاں میں نے ہوش سنبھالا جوٹ مل کا علاقہ کہلاتا ہے۔ان دنوں تعلیم کے لیے خوب سازگار ماحول نہیں تھا۔ گرچہ اس چھوٹے سے قصبے میں چار اردو پرائمری اسکولس تھے اور ایک ہائر سکنڈری اسکول تھا لیکن مسلمانوں میں تعلیمی بیداری ہنوز کم تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اکلوتے ہائر سکنڈری اسکول کی حیثیت ذو لسانی تھی جہاں ہندی میڈیم کے طلباء کی تعداد زیادہ ہوا کرتی تھی۔ مسلمان بچوں کی ایک بڑی تعداد جس میں ناخواندہ اور پرائمری ڈراپ آؤٹ دونوں ہوا کرتے تھے، آوارہ گردی کرتے اور فالتو کاموں میں مصروف پائے جاتے۔ والد مرحوم نے ان حالات میں ہماری اچھی تربیت کے لیے گھر میں ہی گویا ایک ”مائیکرو“ ماحول بنا رکھا تھا۔ باہر نکلنے پر بہت زیادہ پابندی تو نہیں ہوتی تھی مگر ساتھیوں اور دوستوں پر بڑی گہری نظر رکھی جاتی۔ کسی بدنام یا بگڑے لڑکے کے ساتھ کبھی دیکھا جاتا تو ابّا کے ساتھی چپکے سے خبر دے دیتے، اور اسی شام ہماری خبر لی جاتی مگر ہر بار وارننگ پر ہی اکتفا کیا جاتا کہ ان کی ایک ڈانٹ سے ہی ہماری گھگھی بندھ جاتی۔ ابّا اکثر اپنے دوستوں سے کہتے ہوئے پائے جاتے:

’میں ہی جانتاہوں کہ اس ماحول میں اپنے بچوں کو باہر کے برے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا کیا نہیں کرنا پڑتا‘۔ گھر میں ماہنامہ کھلونا، پیام تعلیم اور نور جیسے بچوں کے رسائل پابندی سے آتے تھے جنہیں پڑھنے اور بعد میں جن میں لکھنے کا نشہ بچپن سے ہی چڑھ گیا۔ ان ہی رسائل نے ہمارے اندر کے شاعر اور ادیب کو جنم دیا۔ والد صاحب گھر میں ہی صبح شام انگریزی ٹیوشن پڑھاتے تھے لہٰذا ہم سبھی کو کسی نہ کسی batch میں بیٹھنا پڑتا تھا گو کہ وہ گروپ ہم سے اوپر کی جماعت کا ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم سبھی بھائی بہنوں کی انگریزی ہمیشہ سے ہی بہت اچھی رہی ہے اور جب اردو میڈیم اسکولوں سے نکل کر کالج میں انگریزی میڈیم سے پڑھنا شروع کیا تو کسی دقت کا احساس تک نہ ہوا۔



علیزے نجف: ۔آپ کی تعلیمی لیاقت کیا ہے اور اس سفر کا آغاز کہاں سے ہوا آپ کو کس طرح کے استاد ملے انھوں نے آپ کی ذہن سازی میں کس طرح کا کردار ادا کیا؟ کیا آج کے اساتذہ میں وہ اوصاف پائے جاتے ہیں؟

جاوید حشمی: میں نے کلکتہ یونیورسٹی سے علم حیاتیات (زولوجی) میں آنرز گریجویشن کیا ہے۔ سول سروسز کے چکر میں پڑ کر کبھی ایم ایس سی کی طرف توجہ نہیں کی جس کا مجھے آج تک قلق ہے۔تدریس سے فطری لگاؤ کے سبب سول سروسز کی جانب سے دلچسپی کم ہوتی گئی۔ پھر بردوان یونیورسٹی سے بی ایڈ (فرسٹ کلاس) کرنے کے بعد پرائیویٹ ٹیوشن پڑھانے لگ گیا۔ اسی دوران کلکتہ یونیورسٹی سے انگریزی میں اسپیشل بی اے کیا۔ 1997میں سرکاری اسکول میں ملازمت پانے کے چند برسوں کے بعد کمپیوٹر پروگرامنگ میں ڈپلومہ بھی کر لیا۔ اسکول اور ڈگری کالج میں تو کسی ٹیچر نے مجھے اتنا متاثر نہیں کیا مگر بی ایڈ کالج (ہگلی گورنمنٹ ٹریننگ کالج) میں ایجوکیشنل سائیکولوجی کے ٹیچر سواپن سرکار نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں انہیں کبھی بھول نہیں پایا۔ وہ نہایت نرم گو، خوش مزاج اور بہت باصلاحیت پروفیسر تھے۔ ان کا مضمون ایجوکیشنل سائیکولوجی اتفاق سے میرا بھی پسندیدہ مضمون تھا۔ان کا کہنا تھا کہ تدریس میں ٹیچر کی پرسنالٹی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ایک ٹیچر کو اسمارٹ ڈریس پہننا چاہئے، اسمارٹ دِکھنا بھی چاہئے تب ہی وہ اپنے طلبہ کو متاثر کر سکتا ہے۔ میرا ہمیشہ سے ماننا رہا ہے کہ ایک اچھا ٹیچر اسے نہیں کہتے جس کے پاس نالج کا بہت بڑا ذخیرہ ہو بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ کتنی آسانی سے اپنا نالج اپنے طلبہ کے ذہنوں میں منتقل کر سکتا ہے۔ سواپن سرکار سر کی شخصیت ہر کسوٹی پر پورا اترتی تھی۔ ملازمت کے پندرہ سالوں کے بعد ایک بار میرے ایک سینئر کولیگ نے جو ایک دوسرے اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہو چکے تھے بتایا کہ ویسٹ بنگال بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے سکریٹری نے ایک ملاقات میں ان سے میری بہت تعریف کی تھی۔ میں چونک گیا۔ اتنا اعلیٰ سرکاری افسر کون ہے اور بھلا مجھے کیسے پہچانتا ہے؟ معلوم ہوا کہ یہ سواپن سر ہی تھے جو بی ایڈ کالج کے بعد کلکتے کے ڈیوڈ ہیر کالج میں پرنسپل ہوئے تھے اور بالآخر بورڈ کے سکریٹری کی عہدے پر فائز ہوگئے تھے۔ ان کا یہ جملہ میرے لیے سند کی حیثیت رکھتا ہے کہ ’ مجھے حشمی جیسے اچھے اسٹوڈنٹ بہت کم ملے ہیں‘۔ ایک اسٹوڈنٹ کا اپنے کسی ٹیچر کو یاد رکھنا کوئی بڑی بات نہیں، مگر ایک ٹیچر کا اپنے ہزاروں اسٹوڈنٹ میں سے کسی کو بطور خاص یا د رکھنا یقیناً بہت بڑی بات ہے۔ میں بہ حیثیت معلم، شعوری اور لاشعوری طور پر ہمیشہ سواپن سرکار کے اوصاف اپنےاندر سمونے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔


میرا ماننا ہے کہ A Teacher by Passion ہمیشہ A Teacher by Profession سے بہتر ہوتا ہے کیوں کہ تدریس ایک پیشہ سے کہیں زیادہ ایک مشن ہے۔ ہر دَور میں دونوں اقسام کے ٹیچرس پائے جاتے رہے ہیں۔دورِ جدید میں قسم دوم کی تعداد قدرے زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔اسی لیے میں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ آج کئی ٹیچر ایسے ہیں جو کسی اور پیشے میں ہوتے تو قوم و ملت پر احسانِ عظیم کرتے اور دیگر پیشوں میں موجود کئی افراد اگر معلمی کے میدان میں ہوتے تو ہمارے اسکولوں میں تعلیم و تعلم کا معیار قدرے بلند ہوتا۔ٹیچروں کی تقرری میں کرپشن اور طریقہ انتخاب میں خامیوں کے سبب آج مثالی ٹیچر بہت کم ملتے ہیں مگر ملتے ضرور ہیں اور ہر جگہ ملتے ہیں۔


علیزے نجف: کسی بھی ملک کا نظام تعلیم اسکے مستقبل کے تعین میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آج کے نظام تعلیم کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر آپ کو اس میں کوئی دو تبدیلی لانے کا اختیار حاصل ہو تو آپ کس زمرے میں وہ تبدیلی لانا چاہیں گے اور کیوں؟


جاوید حشمی: ہمارے یہاں کا نظامِ تعلیم روایتاً اکیڈمک کورسز پر زیادہ زور دیتا رہا ہے۔ نتیجتاً ڈگری ہولڈرس کی بھرمار ہو گئی ہے اور بےروزگاری کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ موجودہ سائنسی ترقی اور مقابلہ جاتی دور میں آپ ادب، فلسفہ، لسانیات، تاریخ وغیرہ جیسے مضامین میں ماسٹرس کر کے ڈاکٹروں، انجینئروں اور دیگر پروفیشنلس سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان مضامین کے کورسز میں کوئی داخلہ نہ لے۔ بات تعداد اور ترجیحات کی ہے۔ ترجیحات کے معاملے میں نیاز فتح پوری کے رسالے ”نگار“ میں چھپی ایک نہایت دلچسپ تحریر جو میں نے برسوں قبل پڑھی تھی کا حوالہ دینا چاہوں گا جو ہماری ترجیحات کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کسی آبشار کے دونوں جانب دو افراد (ایک یوروپین اور ایک بر صغیر ہند کا بندہ) بیٹھے بڑے غور سے گرتے ہوئے پانی کو دیکھ رہے ہیں۔ اندازہ کیجئے دونوں کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہوگا۔ یورپین شخص یہ سوچ رہا ہوگا کہ اس آبشار سے کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ بجلی کیسے پیدا کی جا سکتی ہے، جب کہ برصغیر کا بندہ بہت زیادہ کرے گا ایک اچھی سی نظم لکھ مارے گا!


لہٰذا اول تبدیلی تو میں یہ لانا چاہوں گا کہ پریکٹیکل کلاسز یا لیباریٹری ورک جن کی ابتدا ہمارے یہاں عموماً ہائر سکنڈری میں ہوتی ہے، پرائمری درجات تک لے آؤں گا۔ یورپ کی Project-based learning دراصل پریکٹیکل کلاسز کی ہی توسیع یا ایک شکل ہے۔ا س کے لیے کسی تجربہ گاہ یا مخصوص انفرااسٹرکچر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بس لکچر اور بلیک بورڈ ورک سے کچھ وقت بچا کر کلاس میں ہی کچھ عملی کام دے کر نتیجہ اخذ کرنا سکھایا جائے۔اونچے درجات میں ایجوکیشنل excursions نصاب کا حصہ ہیں۔ آج کے دَور میں اول تا دہم تمام درجات میں تمام مضامین کے ورچووَل excursions میں بچوں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ اور بات صرف سائنس کی حد تک محدود نہیں۔ اگر وادیٔ سندھ کی تہذیب پڑھانا ہو تو پاکستان دورے پر جانے کی ضرورت نہیں۔ پروجیکٹر کی مدد سے ہڑپا کی ٹاؤن پلاننگ، گرینری، گریٹ باتھ وغیرہ کی اصلی تصاویر اور ویڈیوز کلاس میں بیٹھے بیٹھے دکھا پائیں گے۔ غالب کو پڑھانا ہو تو دلّی کی چاندنی چوک اور بلی ماران کی تصاویر اور ویڈیوز کلاس میں جان ڈال دیں گی۔ پھر دیکھیے طلبہ کی دلچسپی اور سیکھنے کی سطح۔


دوسری تبدیلی کے بطور، میں ٹیچرس ٹریننگ اور ٹیچرس recruitment کے عمل کو ملک کی آئی آئی ٹیز سے بھی زیادہ اہمیت دوں گا۔جب تک ہمارے تعلیمی ادارے بےحس،ضمیر فروش اور نااہل ٹیچروں سے پاک نہیں ہو جاتے، تمام منصوبے کاغذ پر ہی دھرے رہ جائیں گے۔ یہ موجودہ دَور کا بہت بڑا المیہ ہے کہ جو نوجوان کسی ملازمت کے قابل نہیں ہوتا وہ بڑی آسانی سے ٹیچر بن جاتا ہے۔


علیزے نجف: ۔انسان کی جبلت میں اتھاہ صلاحیتوں کے امکانات موجود ہیں جسے پوٹینشیل کہتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہندوستان مسلم نوجوانوں کی اکثریت اس امکانی صلاحیت کے ہوتے ہوئے بےشناخت زندگی گزارنے پہ مجبور ہے؟ کیا اس کے پیچھے ان کی بےعملی و بےشعوری ہے یا فی الواقع ملکی سطح پہ ان کو نظر انداز کرنے کی سازش کی جا رہی ہے؟ اپنے تجربے و مشاہدے کی روشنی میں بتائیے۔


جاوید حشمی: ملکی حالات اور سیاست پر نظر رکھنے والوں کے لیے اس کا جواب دینا کچھ مشکل نہیں۔مسلم نوجوانوں کی بےشناخت زندگی اور پسماندگی کے دو اسباب ہیں۔ ایک کا تو ذکر آپ نے کر ہی دیا، یعنی بےحسی سے پیدا شدہ بےعملی جو انہیں بڑی تیزی سے پیچھے دھکیلتی جا رہی ہے۔ دوسری وجہ، ہماری ملت کے اہل ثروت اور مخیّر حضرات کی misplaced priorities ہے۔حکومت کی جانب سے تعصب اور سازش کا رونا اب بند کیجیے۔ یہ کم و بیش ہر دور میں رہا ہے اور رہے گا۔ہمیں انفرادی اور اجتماعی اعتبار سے ان رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جو مسلمان ہندوستان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں کیا ان کے ساتھ تعصب کا معاملہ نہیں؟ زیادہ محنت ہر قسم کے تعصب کو ناکام کر سکتی ہے۔لیکن ان کامیاب مسلم نوجوانوں کی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہے جن میں سے کچھ تو فیملی بیک گراؤنڈ کے سبب کامیاب ہوتے ہیں یا پھر ملّی و فلاحی کوچنگ اداروں کی کاوشوں کے سبب۔ اکثر کوچنگ کے ادارے ٹیسٹ کے ذریعہ غریب مگر ذہین طلبہ کا انتخاب کر کے تربیت دیتے ہیں۔ اب ظاہر ہے پانچ فیصد کی کامیابی سے ملت کی تقدیر بدلنے سے رہی، پچانوے فیصد کا تو اللہ ہی مالک ہے۔خوشی کی بات ہے کہ ان پچانوے فیصد والوں کی بھی خبر گیری کرنے کے لیے دیر سے ہی سہی کئی ادارے مقامی و علاقائی سطح پر آگے آئے ہیں۔ لیکن جس پیمانے پر اس کی ضرورت ہے وہ اب بھی عنقا ہے۔ ہم اور ہمارے ادارے اب بھی ادبی سیمیناروں اور مشاعروں نیز دینی مجالس کے انعقاد میں جتنی رقم لٹاتے ہیں، اس کا نصف بھی تعلیم و تدریس میں لگایا جائے تو ملت کی قسمت سنور جائے گی۔


علیزے نجف: زندگی کی نعمت ہر کسی کے لئے نعمت غیر مترقبہ کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اکثر زندگی گزارنے کا سلیقہ نہ ہونے کی وجہ سے زندگی زحمت بھی بن جاتی ہے میرا سوال یہ ہے کہ آپ کے خیال کے مطابق کیا اس فن کو سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کو سیکھا کیسے جا سکتا ہے آپ نے زندگی کو کس اصول کے تحت گذارا ؟

جاوید حشمی: زندگی ایک بہت بڑی نعمت ہے، اور اسے گزارنے کا سلیقہ ہی انسان کو جانور سے الگ کرتا ہے۔ جانور صرف جبلّت کے تحت پوری زندگی گزارتا ہے جب کہ انسان کو اس جبلّت پر قابو رکھنے کی تربیت ہی اسے جانوروں سے ممتاز کرتی ہے۔ علاوہ ازیں، انسانوں کو اللہ نے کئی اضافی صلاحیتیں عطا کی ہیں جسے بروئے کار لا کر وہ دنیا اور آخرت دونوں میں مقصدِ حیات کی تکمیل کر سکتا ہے۔ اور اس تربیت کی ابتدا والدین سے ہی ہوتی ہے۔ یہ بھی کہتے سنا جاتا ہے کہ ایک صالح معاشرہ اور مکتب بھی زندگی گزارے کا فن سکھاتے ہیں لیکن ایک صالح معاشرے میں پرورش، اور اچھے مکتب میں تعلیم دلوانا بھی تو والدین کی ہی ذمہ داری ہے۔لہٰذا زندگی کا سلیقہ سیکھنے میں گھر کا ماحول بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بچپن بگڑ گیا تو جوانی میں سنبھلنااور زندگی کو پھر سے صحیح ڈگر پر لانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ میرے لیے ابّا مرحوم ہی سب سے بڑے آئیڈیل تھے۔ ان کی زندگی میں ہم نے دو اصولوں کو شدت سے محسوس کیا ہے۔ ایک تو یہ کہ کوئی بھی کبھی بھی کسی مدد کے لیے آیا تو انہوں نے اسے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔ دوسرے، اپنے بدخواہوں، نقصان پہنچانے والوں اور دھوکا دینے والوں کے خلاف انہوں نے اپنے دل میں کبھی کسی قسم کا انتقامی جذبہ نہیں رکھا، حتیٰ کہ ایسے لوگ جب دوبارہ مدد کے طلب گار ہوئے تو انہوں نے انکار نہیں کیا۔ ان ہی اصولوں پر میں بھی گامزن رہنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔


علیزے نجف: آپ ایک افسانہ نگار ہیں۔ اب تک آپ نے بےشمار افسانے لکھے ہیں تین کتابیں بھی منظر عام پہ آ چکی ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے افسانہ نگاری کے میدان میں ہی طبع آزمائی کا فیصلہ کیوں کیا؟ آپ نے کس عمر میں اپنا پہلا افسانہ لکھا اور وہ کہاں شائع ہوا تھا؟

جاوید حشمی: اس کا جواب ذرا مشکل ہے (مسکراہٹ)۔ والد محترم شاعر تھے بلکہ کئی شعراء کے کلام کی اصلاح بھی کیا کرتے تھے۔ شاعروں کا گھر میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔دونوں بڑے بھائیوں (احمد کمال حشمی اور ارشد جمال حشمی) نے یہ فن وراثت میں “genetically” لیا کیوں کہ دونوں نے کبھی اپنا کوئی کلام ابّا کو دکھایا ہی نہیں۔ بس چھپ چھپا کر لکھتے رہے لہٰذا اصلاح کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ مجھے پتہ نہیں کیوں شروع سے ہی شعر و شاعری سے دلچسپی نہیں رہی۔ البتہ کہانیاں اور بچوں کے ناول پڑھ کر اکثر تخیل کی دنیا میں کھو جایا کرتا تھا۔ شاید یہی وجہ ہو افسانہ نگاری کی طرف مائل ہونے کی۔ یوں تو میری اولین تخلیق بچوں کی کہانی ”سنہرا خواب“ ماہنامہ ”پیام تعلیم“ نئی دہلی میں 1981 میں شائع ہوئی جب میں درجہ ہشتم کا طالب علم تھا لیکن پہلا افسانہ ”سلسلہ“ ماہنامہ ”انشاء“ کلکتہ میں 1987 میں شائع ہوا جب میں 20 سال کا تھا۔



علیزے نجف: آپ جب کوئی افسانہ لکھتے ہیں تو اس کے اجزائے ترکیبی سے ہٹ کر اور کون سے اصولوں کو ہمیشہ مدنظر رکھتے ہیں؟ آپ نے اپنے فکر و خیال کو بیان کرنے کے لئے کیا افسانہ نگاری کی بساط کو کافی پایا؟

جاوید حشمی: دلچسپ سوال۔میں اپنے افسانوں کی ابتدا پر خاص توجہ دیتا ہوں کیوں بیشتر قاری گرفت میں لیے جانے کا انتظار نہیں کرتے۔لہٰذا میرے تقریباً سارے افسانوں کا آغاز مکالموں یا مرکزی خیال سے متعلق کسی دلچسپ یا سنسنی خیز واقعے کی منظر نگاری سے ہوتا ہے۔افسانے کی ابتدا میں کردار کا تعارف یا تمہیدی جملے عام قاری کو ”بعد میں اطمینان سےپڑھوں گا“ والے رویّے پر اکساتے ہیں۔کلائمکس پر زیادہ دھیان دیتا ہوں۔ سس پنس کو effective tool کے بطور استعمال کرتا ہوں۔ شعور بالیدہ اور مشاہدہ تیز ہونے کے بعد زندگی کی ناہمواریوں کا شدت سے احساس ہونے لگا۔ اور تب لگا ان کے اظہار کے لیے افسانہ نگاری کی بساط کافی نہیں۔ پھر وہیں سے انشائیہ نگاری کی طرف طبیعت مائل ہوتی گئی۔


علیزے نجف: انشائیہ نگاری ایک ایسی صنف ہے جو تفریح و تعمیر کا مرکب ہوتی ہے۔ آپ خود ایک انشائیہ نگار ہیں۔ 'کوئی لوٹا دے میرے' آپ کے انشائیہ مضامین کا مجموعہ ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ موجودہ وقت میں کیا انشائیہ نگاری کے فن کو ملنے والی توجہ تشفی بخش ہے؟ نوجوان نسل اس کے حوالے کس سے طرح کے نظریات رکھ رہی ہے؟

جاوید حشمی: طنز و مزاح ادب کو بعض ناقدین نے ”دوسرے درجے“ کا ادب کہا ہے۔ اس کے باوجود یہ ادب عالیہ کا ایک اہم حصہ ہے اور عوام و خواص میں یکساں مقبول ہے۔ انشائیہ نگاری کا تعلق اسی صنف سے ہے مگر طنزیہ و مزاحیہ مضمون سے اس کی ہیئت مختلف ہوتی ہے ۔یہ ایک مشکل فن ہے ۔زبان و بیان اور لفظیات پر قدرت رکھنے والے ہی اس صنف سے انصاف کر سکتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ معیاری انشائیہ لکھنے والوں کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ظاہر ہے چرچے کم ہوں گے تو توجہ بھی کم ہی ملے گی۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ گزشتہ دہائی سے یہ صنف مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھتی نظر آ رہی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پہلے انشائیے عموماً ”شگوفہ“ اور اس جیسے مخصوص رسائل و اخبارات کی زینت بنا کرتے تھے۔ مگر اب تقریباً سبھی رسائل و جرائد میں افسانوں اور غزلوں کے ساتھ انشائیوں کا بھی گوشہ مستقل ہوتا جا رہا ہے۔ اس میدان کے پرانے تخلیق کاروں اور مدیران کے مطابق انشائیہ نگاروں کی نئی کھیپ تیار نہیں ہو رہی ہے۔نوجوان تخلیق کاروں کا اس صنف کی جانب متوجہ نہ ہونے کا اول سبب تو یہ ہے کہ انشائیہ لکھنا ہرکس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ دوسرا سبب شاعری سے ہونے والی فوری واہ واہ کی حصولی ہے جس نے نئی نسل کو اس جانب بھیڑ چال میں مبتلا کر رکھا ہے۔ نئی نسل کالج پہنچتے ہی شاعری کی لت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔



علیزے نجف: ۔اگر غور کیا جائے تو انشائیہ نگاری میں مشتاق یوسفی، مستنصر حسین تارڑ جیسا مقام حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے کیوں کہ اس کے لئے حاضر جوابی اور ادبی اسالیب کے ساتھ تجزیاتی صلاحیت کا بھی ہونا ضروری ہوتا ہے جو کہ اب مفقود نظر آتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ اس حوالے سے کیا رائے رکھتے ہیں؟ آپ کو انشائیہ نگاری کی کس خوبی نے اپنی طرف متوجہ کیا اور آپ خود کن انشائیہ نگاروں کو پڑھنا پسند کرتے ہیں؟

جاوید حشمی: جی ہاں، حاضر جوابی، فقروں کی برجستگی، لفظوں کی ہم آہنگی، ذو معنی جملے، واقعات کا گہرا مشاہدہ اور ان کا مختلف پس منظر اور مختلف پہلوؤں سے تجزیہ اور پھر ان کا کسی اور پس منظر میں انطباق اس فن کے مبادیات میں شامل ہیں۔ اس کے لیے عمیق مشاہدے و مطالعے دونوں کی ضرورت پڑتی ہے۔لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ فطرتاً حاضر جواب اور حسِّ مزاح رکھنے والا اگر اس صنف میں طبع آزمائی کرتا ہے تو اس کے کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔مشتاق احمد یوسفی اور مجتبیٰ حسین میرے پسندیدہ انشائیہ نگار رہے ہیں۔مجتبیٰ حسین کے سفرناموں، خاکوں اور کالموں کے مجموعے بھی میرے بک شیلف کی زینت ہیں۔میں ان لوگوں کی کتابیں صرف لطف لینے کے لیے نہیں پڑھتا بلکہ ان سے بہت کچھ سیکھنے کی کوشش بھی کرتا ہوں۔



علیزے نجف: آپ نے ادبی مضامین اور افسانوں کے ساتھ سائنسی مضامین بھی لکھے ہیں۔ بےشک سائنسی مضامین بدلتے وقت کے تقاضوں میں سر فہرست ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اردو میں سائنسی مضامین کو وہ اہمیت حاصل نہیں ہے جو کہ انگریزی میں ہے؟ کیا یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل اردو زبان سے برگشتہ ہورہی ہے کیوں کہ ان کے ذہن کو ایڈریس کرنے والے مواد ان کے لئے ناکافی ہیں؟*

جاوید حشمی: بہت ہی اچھا سوال کیا ہے آپ نے۔ پہلی بات تو یہ کہ اردو میں سائنسی مضامین لکھنے والے بہت کم ہیں۔اور جو لکھتے بھی ہیں ان میں سے بیشتر، بچوں کے لیے لکھتے ہیں لیکن وہاں بھی بچوں کی نفسیات، ان کی دلچسپی،موضوع کی اہمیت اور وقت کی ضرورت کو مد نظر کم ہی رکھا جاتا ہے۔بس وہی شہد کے فوائد، لیموں کی اہمیت، کلونجی کے کرشمے، ماضی کے مسلمان سائنس داں۔ اس سے آگے وہ بڑھ نہیں پاتے۔ جدید موضوعات جیسے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ، آرٹی فیشیل انٹیلی جنس، تھری ڈی پرنٹنگ، طبّی میدان میں نئی کامیابیاں اور کارنامے، خلائی سائنس میں ہونے والی انتہائی دلچسپ اور حیران کن دریافتیں وغیرہ پر بہت کم لکھا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان موضوعات پر عام فہم زبان میں، اور تکنیکی اصطلاحات کا کم سے کم استعمال کرتے ہوئے، ایسے مضامین لکھے جائیں جنہیں ایک عام قاری بھی پڑھ کر بنیادی باتیں سمجھ سکے۔ یاد رہے سائنسی مضامین کا بنیادی مقصد تکنیکی علم فراہم کرنا نہیں ہوتا بلکہ موضوع کا تعارف کراتے ہوئے یہ احساس دلانا مقصود ہوتا ہے کہ سائنس ہماری زندگی میں کس حد تک داخل ہو چکی ہے، اور مستقبل میں کیا کیا امکانات ہیں نیز قاری کو نئی دریافتوں علم ہو اور وہ اس کے استعمال سے باخبر بھی رہے۔ بچوں کے لیے لکھے گئے مضامین کا مقصد ان کی ذہن سازی کرنا، سائنس سے دلچسپی پیدا کرنا ہونا چاہئے۔ اس ضمن میں کچھ لوگ سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں مگر انفرادی کاوشیں بار آور نہیں ہو سکتیں۔ یہ کام اجتماعی کاوش کا متقاضی ہے۔ انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ اردو اکیڈمیوں اور اردو فروغ کونسل کو غالب و اقبال سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ جگالی کیے ہوئے مقالوں اور تصنیفات پر کروڑوں روپے لٹائے بلکہ لوٹے جا رہے ہیں۔سائنس کے گھسے پٹے غیر اہم موضوعات پر تصانیف لکھ کر سرکاری فنڈ کی بندر بانٹ جاری ہے۔ ایسی کتابیں بچے پڑھنا تو دور، کتاب الٹ پلٹ کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ میں آپ کی توسط سے اردو کے سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں کے اربابِ اختیار تک ایک بات پہنچانا چاہتا ہوں۔ آپ مصنفین کی مرضی کی منتخب موضوعات پر لکھی کتابوں کو چھاپنے کی بجائے اعلان کے ذریعہ جدید اور اہم موضوعات پر دلچسپ اور آسان زبان میں مضامین لکھنے کی دعوت دیں۔ پھر منتخب مضامین اور تصانیف کی اشاعت کریں اور انعام سے بھی نوازیں۔ پھر دیکھیے اردو میں سائنسی ادب کتنی تیزی سے فروغ پاتا ہے۔ اور ہاں، اقبال و غالب اور دبیر و انیس کی روحوں کو بھی تھوڑا سستانے دیں !


علیزے نجف: کیا سائنس اور ادب ایک دوسرے سے متضاد ہیں یا ان کے درمیان کچھ مماثلت بھی ہے ؟آپ نے سائنس اور ادب کے اسالیب اور اس کی اساس کو قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے۔ کیا زبان کی تبدیلی سے ادب کے اسالیب بھی تبدیل ہوتے ہیں؟ اس بارے میں آپ کی ذاتی رائے کیا ہے؟

جاوید حشمی: دیکھیے سائنس کا تعلق دراصل ہماری طبعی دنیا کی تحقیق سے ہے، ہمارے طبعی وجود کی وضاحت سے ہے، اس کےمقصد اور فلسفے سے نہیں۔ثبوت، مشاہدات و تجربات اس کی اساس ہیں۔لہٰذا یہ ایک tool ہے جب کہ ادب ایک ذریعہ اظہار ہے، احساسات و مشاہدات کا، تجربات و تحقیقات کا، تخلیلات و تصورات کا۔ لہٰذا ان کے ایک دوسرے کے متضاد یا ایک دوسرے سے متصادم ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ سائنس اپنے بیانیہ کے لیے ادب کا سہارا لیتا ہے تو سائنسی ادب کا وجود عمل میں آتا ہے۔سائنسی مضمون نگاری اور سائنس فکشن کی بنیاد پڑتی ہے۔ سائنسی مضمون نگاری informative بنیاد رکھتی ہے جب کہ سائنس فکشن سائنسی حقائق کی بنیاد پر قیاسی اور تخیلاتی پہاڑ کھڑے کرتا ہے۔زبانوں کی تبدیلی سے سائنسی حقائق نہیں بدلتے لہٰذا سائنس کا اسلوب بھی بنیادی طور پر یکساں ہوتا ہے۔ لیکن ادب کا تعلق زبان سے ہے اور زبان احساس کی ترجمانی کرتے ہیں، احساس کا تعلق جمالیات سے ہے۔ لہٰذا زبان کی تبدیلی اسالیب کو بھی مختلف پیرائے عطا کرتی ہے۔


علیزے نجف: اردو زبان کا ماضی بےشک روشن رہا ہے لیکن اس کے مستقبل کے ضمن میں امکانات کے ساتھ اندیشے بھی شامل ہو گئے ہیں۔ آپ اردو اور انگریزی دونوں ہی زبانوں پہ عبور رکھتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ انگریزی زبان کی مقبولیت کا راز کیا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ اردو کو خود اس کے اپنے ہی لوگ ثانوی ضرورت تسلیم کر چکے ہیں؟ کیا ایسا ممکن نہیں کہ بیک دونوں ہی زبانوں کو یکساں اہمیت دینے کی کوشش کی جائے؟ اس راہ میں کون سی ذہنیت مانع ثابت ہو رہی ہے اپنے مشاہدے اور تجربات کے تحت بتائیں۔


جاوید حشمی: انگریزی زبان کی مقبولیت کا اولین اور اہم ترین سبب یہ ہے کہ یہ بین الاقوامی رابطے کی زبان بن چکی ہے۔ جہاں تک richness کی بات ہے، دیگر کئی زبانیں نہ صرف اس کا مقابلہ کر سکتی ہیں بلکہ بعض تو اس سے بھی زیادہ rich ہیں۔ لیکن آفاقیت کے معاملے میں محدود ہیں۔ آپ چاہ کر بھی انگریزی زبان سے کنارہ کش نہیں ہو سکتے۔ دوسرا سبب، اس کا دیگر زبانوں کے الفاظ کا من و عن یا تھوڑی تحریف کے ساتھ اپنی زبان میں سمو لینا ہے جو زندہ زبانوں کی پہچان ہے۔ اس کی ایک موٹی سی مثال دیتا ہوں۔ جب ہم اردو والے انگریزی سے سائنسی تحاریر کا ترجمہ کرتے ہیں تو اصطلاحات کے معاملے میں تنگ دامانی کا احساس ہوتا ہے۔پھر کیا کرتے ہیں؟ فوراً معرّب یا مفرّس اصلاحات کی جانب ذہن مائل ہو جاتا ہے۔ کیا یہ لسانی تعصب نہیں؟ جب دوسری زبان سے مستعار لینا ہی ہے تو صرف عربی یا فارسی ہی کیوں؟ انگریزی کیوں نہیں؟ Nucleus کو نیوکلیس کہنے میں کیا قباحت ہے؟ مرکزہ پر کیوں بضد ہوں؟ چلئے مان لیا ”مرکزہ“ صوتی و معنوی اعتبار سے اپیل کرتا ہے۔ مگر ریاضی کی نصابی کتابوں میں ایل سی ایم جیسی اصطلاح کے لیے ”مشترک ذو اضعاف اقل“ لکھنا اور پڑھانا، چہ معنی دارد؟ کالج میں اور باقی زندگی میں اس کا کوئی استعمال ہی نہیں، تو پھر یہ اضافی اصطلاح سیکھنے کا بوجھ بڑھانے پر ضد کیوں؟ یاد رکھیے، ہماری زبان کو خطرہ اصطلاحات سے نہیں، رسم الخط سے ہے۔ رسم الخط پر اَڑے رہیے، دیگر زبانوں کے آسان اصطلاحات کو من و عن قبول کیجیے، زبردستی ”اردووانے“ کی کوشش عام لوگوں کو اس سے دور کرتی جائے گی۔ اور پھر یہ بھی سنسکرت کی طرح پنڈتوں کی زبان بن کر رہ جائے گی اور عوام سے ناتا ٹوٹ جائے گا۔


انگریزی اور اردو دونوں زبانوں کو یکساں اہمیت دینا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ اور اس کی ایک ہی صورت ہے۔ اردو اسکولوں میں انگریزی زبان کی تعلیم (تحریر اور گفتگو) پر بھی اتنی توجہ دی جائے کہ ہمارے بچے انگلش میڈیم والوں کا بھرپور مقابلہ کر سکیں۔ یقین مانیے، انگریزی کے تعلق سے نہ صرف انفرادی احساس کمتری ختم ہو جائے گی بلکہ اپنے بچوں کو اردو میڈیم سے نکال کر انگلش میڈیم میں دینے کا رجحان بھی کم ہوتا جائے گا۔ یہ بات میں اپنے چار دہائیوں کے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ تمام مضامین اردو میں پڑھائے جائیں مگر انگریزی کی الگ سے اسپیشل تیاری کروائی جائے۔ یہ کچھ مشکل نہیں۔ ہم بہن بھائی اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ کالج میں لوگ مشکل سے یقین کرتے تھے کہ میں اردو میڈیم بیک گراؤنڈ سے ہوں۔


علیزے نجف: معاشرے میں شعور اور آگہی پیدا کرنے کے لئے سمپوزیم، سیمینار، اور ورکشاپ کا انعقاد کس حد تک نتیجہ خیز رہا ہے؟ اس میں علمی طبقے کے لوگ اپنی حاضری درج کرواتے ہیں جب کہ عام آبادی کی اکثریت اس سے محروم ہی رہتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ عام آبادی کے درمیان شعور و آگہی کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے اس کے لئے کس طرح کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے؟


جاوید حشمی: آپ نے درست کہا سمپوزیم، سیمینار اور ورک شاپ وغیرہ میں واقعی عوام کی شمولیت نہیں ہوتی۔ دراصل معاشرے میں شعور و آگہی پیدا کرنے کے لیے جس تربیت کی ضرورت پڑتی ہے اس کے ٹریننگ سینٹرس اسکول، کالج اور جامعات ہیں۔ ہماری درس گاہوں کے نصاب سے ہی اس کی شروعات کرنی ہوگی۔ کمزور بنیادوں پر مضبوط عمارتیں کھڑی نہیں کی جا سکتیں۔


علیزے نجف: آپ ایک معلم بھی ہیں اور اینگلو پرشین ڈپارٹمنٹ کلکتہ میں بطور اسسٹنٹ ٹیچر کے اپنی معلمی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ کے تجربے و مشاہدے کے مطابق، نوجوان نسل میں کس طرح کی ذہنیت کا غلبہ ہے؟ کیا وجہ ہے کہ وہ اخلاقی و مذہبی اقدار کو فراموش کر کے فقط پیسہ کمانے والی مشین بننا چاہتے ہیں؟ اس ذہنیت کو فروغ دینے میں کن عوامل کا کردار رہا ہے؟


جاوید حشمی: نئی نسل میں اخلاقی قدروں کی پستی کا رونا سب رو رہے ہیں۔یہ ایک بہت بڑی تلخ حقیقت بھی ہے۔ دس میں سے آٹھ گھرانوں میں والدین اپنی اولاد سے اونچی آواز میں بات کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔یوں تو تربیت اور ماحول کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جا تا ہے مگر سوشل میڈیا کے سیلاب میں نہ تو تربیت آسان رہی ہے نہ ہی ماحول موافق مل رہا ہے۔ ہماری نئی نسل آن لائن گیمس اور سوشل میڈیا کی لت میں پڑ چکی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ راتوں رات امیر بننے کے خواب دیکھتا ہے۔ یہ معاشرے میں تیزی سے فروغ پاتی صارفیت کا براہ راست نتیجہ ہے۔ Parenting اب اتنی آسان نہیں رہی۔ہماری درس گاہوں کے نصاب پروفیشنلس تیار کرنے کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں، انسان بنانے کے لیے نہیں۔ آپ دیکھیں گی کہ تمام تر دشمنی کے باوجود آر ایس ایس اور اسلامی تنظیمیں ایک معاملے میں بالکل ہم خیال ہیں، اور وہ ہے اسکولوں میں اخلاقی تعلیم پر زور۔


علیزے نجف: ہم یہ نہیں کہتے کہ اعزازات سے ہی کسی کی قدر و قیمت متعین ہوتی ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ اس کے ذریعے سے عوامی سطح پہ ایک فنکار کے فن کا اعتراف اور اس کو عزت بخشی جاتی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ بتائیں کہ آپ کو اب تک کتنے اعزازات سے نوازا جا چکا ہے اور اس کو حاصل کرتے وقت آپ کے احساسات کیا تھے؟


جاوید حشمی: کچھ خاص نہیں ۔ میرے افسانوں کے مجموعے ”دیوار“ کو مغربی بنگال اردو اکیڈمی کی جانب سےعلامہ راشد الخیری ایوارڈ اور افسانچوں کے مجموعے ”کلائیڈوسکوپ“ کو منشی پریم چند ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ 2017 میں حیدرآباد کے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں منعقدہ اردو سائنس کانگریس کے اجلاس میں اردو میں سائنس کے فروغ کے لیے مجھے توصیفی سند سے نوازا گیا۔ میرے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات تھی کہ اردو میں سائنس کی تدریس کے تعلق سے میرے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پر ملک بھر سےآئے مندوبین اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم پرویز صاحب نے نہ صرف standing ovation دیا بلکہ میں نے سند نامہ بھی ڈاکٹر اسلم پرویز صاحب کی موجودگی میں عثمانیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ہاتھوں وصول کیا جسے یوٹیوب پر لائیو نشر بھی کیا گیا تھا۔

لیکن ان تمام سے بڑھ کر جو اعزاز میرے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے وہ میرے ایک طالب علم نے دیا تھا۔ کلکتے کے ایک معروف کوچنگ انسٹی ٹیوٹ نے اپنے ایک ٹیسٹ کے سوالنامے میں ”آئیڈیل ٹیچر“ پر مضمون لکھنے کو دیا تھا، اور مذکورہ اسٹوڈنٹ نے جسے پتہ بھی نہیں تھا کہ اس کی کاپی کبھی مجھ تک بھی پہنچ سکتی ہے، مجھے موضوع بناتے ہوئے میری تدریسی خدمات کا ہر پہلو سے جائزہ لیتے ہوئے اپنا سب سے پسندیدہ ٹیچر بتایا تھا۔ ادارے کے میرے ایک شناسا ٹیچر نے مجھے یہ بات بتائی تھی اور اس کا جواب اسکین کر کے مجھے بھیجا تھا جسے میں کسی سرٹیفکیٹ کی طرح سنبھال کر رکھتا ہوں۔


علیزے نجف: کتابیں علم کی منتقلی کا ایک معتبر و مستند ذریعہ ہیں۔ انسانی زندگی میں یہ گراں قدر اثاثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا کتابوں سے محبت کئے بغیر ایک قلمکار اپنے قلم کا حق ادا کر سکتا ہے؟ ایک زود گو اور حساس قلمکار بننے کے لئے مطالعہ کے ساتھ اور کن اوصاف میں کمال حاصل کرنا ضروری ہے؟

جاوید حشمی: ہم جانتے ہیں کہ ایک پیدائشی بہرہ بچہ گونگا بھی ہوتا ہے گو کہ اعضائے گویائی میں کوئی طبعی خامی نہیں ہوتی ہے۔ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ بولنے کے لیے سننا ضروری ہوتا ہے اور لکھنے کے لیے پڑھنا۔ نئی نسل میں پڑھنے کا رجحان کم، پڑھوانے کا زیادہ ہے ۔اپنے کلاسیکی ادب کو پڑھنا، اپنے سینئرس کو پڑھنا دراصل سیکھنے کے مترادف ہے۔ ایک کامیاب قلم کار ہونے کے لیے کثیر مطالعے کے علاوہ دو ہی بنیادی باتوں کا ہونا ضروری ہے۔ اس کا مشاہدہ بہت تیز ہونا چاہئے، اور اس کے اظہار کے لیے زبان وہ بیان پر اتنا قادر ہو کہ کسی بات کو جس شدت سے خود محسوس کرے، قاری کو بھی اتنی ہی شدت سے محسوس کرا دے۔


علیزے نجف: آپ کی صلاحیت اور پروفیشن کے حوالے سے تو بہت سارے سوالات ہو چکے ہیں ۔اب میں چاہتی ہوں کہ کچھ آپ کی ذاتی زندگی کے بارے جاننے کی کوشش کروں۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ کی مجموعی شخصیت میں کس طرح کے مزاج کا عنصر غالب ہے؟ آپ تفریح طبع کے لئے کن مشاغل سے دلچسپی رکھتے ہیں؟

جاوید حشمی: میں فطرتاً ظریفانہ مزاج رکھتا ہوں۔ میرے بیشتر ملنے جلنے والے بھی ویسے ہی طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ سنجیدہ طبیعت لوگوں کے درمیان زیادہ دیر بیٹھنا میرے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔بناوٹی پن کا احساس ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے اسکول کے آفیشیل واٹس ایپ گروپ کے علاوہ میں نے Jovial Anglo-Persians کے نام سے ایک اور واٹس ایپ گروپ بنا رکھا ہے جس میں صرف ہنسی مذاق اور لطائف پسند کرنے والے رفقائے کار شامل ہیں۔مجھے کامیڈی فلمیں اور ٹی وی سیریلس بہت زیادہ پسند ہیں۔میوزک اور غزلیں سننا میری تفریح طبع میں شامل ہے۔ ٹی وی پر نیوز کے علاوہ صرف اور صرف مزاحیہ ویڈیوز دیکھنا پسندکرتا ہوں۔

علیزے نجف: حادثات و واقعات زندگی میں ایک جزو لازم کی حیثیت رکھتے ہیں ۔آپ اپنی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ شیئر کریں جس نے آپ کی زندگی پہ گہرے اثرات مرتب کئے ؟

جاوید حشمی: میں نے شروع سے ہی کالج لکچرر بننے کا خواب دیکھا تھا کیوں میرے خیال میں اس سے اچھی جاب ممکن نہیں جس میں پیسہ، عزت، شہرت، فرصت سبھی کچھ ممکن ہے۔ قسمت نے تدریس کا پیشہ تو سونپا مگر اسکول تک محدود رکھا۔ پھر جب اپنے دو ایک رفقائے کار کو کالج میں تقرری ملتے دیکھی تو ان کی قسمت پر رشک اور اپنی تقدیر سے شکایت ہونے لگی۔ سسٹم اور حالات کا رونا روتا رہتا تھا کیوں کہ ان میں سے کچھ مجھ سے صلاحیت میں بہت کمتر تھے مگر سفارشات کے بل بوتے پر اور سیاسی ہتھکنڈے اپنا کر کالج تک رسائی حاصل کی تھی۔ایک نے یونیورسٹی تک چھلانگ لگا لی، دوسرا کالج کے قائم مقام پرنسپل کے عہدے پر جا پہنچا۔ جب لوگ میری صلاحیتوں کو دیکھ کر کہتے کہ مجھے تو کالج یا یونیورسٹی میں ہونا چاہئے تھا تو میری تکلیف بہت بڑھ جاتی۔ پھرایک دہائی کے بعد معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک آٹھ دس سال سے لاولد ہیں اور دوسرے کی بیوی کے دونوں گردے ناکارہ ہو چکے ہیں، اور خود انہیں کوئی نیورو degenerative disease ہے جس کے باعث وہ خود سے کالج بھی نہیں جا سکتے اور انہیں ہر روز دو لڑکے دونوں کاندھوں سے پکڑ کر لٹکائے ہوئے سیڑھیاں چڑھا کر اس کے دفتر میں بٹھاتے ہیں تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ کچھ سال قبل ان کا انتقال بھی ہو گیا۔ بیوی شاید dialysis پر ابھی بھی زندہ ہے۔ میں نے کئی بار شکرانے کی نماز پڑھی اور سچے دل سے اپنی تقدیر سے شکایت پر توبہ کی۔ وہ دن اور آج کا دن، پھر کبھی حرفِ شکایت میری زبان پر نہیں آئی۔میری چار تندرست اور ذہین اولاد ہیں اور ان میں سے دو تین تو اپنے کلاس کے ٹاپرس میں شامل رہی ہیں۔ اگر مجھے بالا قیمتوں پر کالج کی لکچرر شپ ملے تو ہزار بار refuse کروں گا۔آج میں خود کو خوش قسمت ترین بندوں میں شمار کرتا ہوں، اور اس بات کا احساس اپنے بیوی بچوں کو بھی دلاتا رہتا ہوں تا کہ ان کی نگاہ ہمیشہ خدا کی نعمتوں پر رہے، اور وہ ہر پل شکر بجا لاتے رہیں۔



علیزے نجف: یہ انٹرویو دیتے ہوئے آپ کے احساسات کیا تھے؟ سوالات کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے نیز یہ کہ کیا کچھ اور کہنے کی تشنگی اب بھی باقی ہے؟ اگر ہاں تو یہاں کہہ سکتے ہیں۔

جاوید حشمی: بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ آپ کے بیشتر سوالات نے مجھ سے وہ سب کہلوا لیا جنہیں میں خود ایک عرصے سے کہنا چاہتا تھا۔میرے خیالات و جذبات کو outlet دینے کا بہت بہت شکریہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے