Ticker

6/recent/ticker-posts

مثنوی کی تعریف، مثنوی کے اجزائے ترکیبی، مثنوی کا آغاز و ارتقا، دکن میں اردو مثنوی کی روایت کا ارتقاء

مثنوی کی تعریف، مثنوی کے اجزائے ترکیبی، مثنوی کا آغاز و ارتقا، دکن میں اردو مثنوی کی روایت کا ارتقاء

مثنوی کو اردو کی قدیم ترین صنف کا درجہ حاصل ہے۔دنیا کی اکثر زبانوں میں داستانی سلسلے سے شعر و ادب کا آغاز ہوتا ہے۔ یونان، عرب، ہندستان قدیم اور چین میں جو ابتدائی ادبی نمونے دستیاب ہوئے، وہ شعری داستانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ دکن میں اردو کی ابتدائی مستند تحریر میں سب کی سب مثنویاں ہیں۔ اس وجہ سے اردو کی قدیم ترین صنف کا درجہ مثنوی کو حاصل ہے۔

مثنوی کی تعریف | مثنوی کیا ہے

مثنوی ہیئت کے اعتبار سے داستانی فضا یا سلسلہ وار انداز میں گفتگو کے خلق کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ہیئتی طور پر اس میں زیادہ داؤ پیچ نہیں ہیں محض دو ہم قافیہ مصرعے چاہیے اور ہر اگلے شعر کے لیے علاحدہ قافیہ بندی ہوتی رہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایسی صنف عوامی ضرورتوں کے تحت ایجاد ہوئی ہوگی۔ انسان کے داخل میں قافیہ بندی یا تک بندی موجود ہوتی ہے۔اسے ہی اندرون کی نغمہ ریزی یا داخل کی موسیقیت کہتے ہیں۔ شاید اسی لیے کہا گیا کہ ہر آدمی ہنسنا، گانا اور رونا جانتا ہے۔ اس گانے کی جبلت سے مثنوی کی ہیئت قریب تر ہے۔

مثنوی کی ہیئت

مثنوی میں غزل یا قصیدے کی طرح بیس یا سو دوسو قوافی جمع کریں یا ربائی کی طرح ہر قدم پر بندھن ہو، اس کے مقابلے مثنویوں میں ہیئتی تربیت کی ضرورت نہیں۔ ایک زمانہ تھا جب بعض بحروں کو بزمیہ یا رزمیہ کی خانہ بندی میں رکھا گیا تھا لیکن شاہ نامۂ فرووی اگر عظیم رزمیہ ہے تو میر حسن نے اس بحر میں عشقیہ مثنوی لکھ کر موضوعاتی حد بندی کا بھی قلع قمع کر دیا۔

مثنوی میں صنفی سہولت

مثنوی میں صنفی سہولت کی وجہ سے ہی مثنویوں کی طرف ابتدائی شاعروں کا رجحان ہوا۔ شروع کے زمانے میں جب تعلیم عام نہ تھی اور نہ تفریح کے زیادہ ذرائع تھے، ایسے میں شعرا نے عوامی ضرورتوں کا دھیان رکھتے ہوۓ قصے کہانیوں کی دنیا میں عوام کو پہنچایا۔ فارسی میں یہ صنف اپنی مقبولیت کے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ اس وجہ سے اس کے اجزائے ترکیبی بھی طے ہو چکے تھے۔ بظاہر یہ اجزائے ترکیبی مثنوی کے خال و خط میں رنگ بھرنے کے لیے ہیں لیکن ان کی شکل قصائد یا مراثی کی طرح تحکمانہ نہیں۔ ابتدا میں توحید و مناجات کا حصہ مثنویوں میں بالعموم موجود ہے۔ شاعر کی خواہش اور ضرورت پر یہ بات منحصر ہے کہ حمد، نعت اور منقبت ایک سلسلے سے شامل کر دے۔ کئی بار شعرا اسے ضروری نہیں سمجھتے۔ میر حسن نے اپنی مثنوی میں حمد کے جزو کو نہیں رکھا اور دیا شنکر نسیم نے اپنی مثنوی کا آغاز حمد کے دل پذیر اشعار سے کیا۔ حمد کے بعد حاکم کی تعریف اور پھر شعر و سخن کی تعریف کا مرحلہ ہوتا ہے۔اپنے زمانے کے بادشاہ یا اہالیان حکومت کی مدح کے ساتھ شعر و ادب کی تعریف اور خاص طور سے اپنی شاعری کو بنیاد بنانے کا رواج رہا ہے غور کریں تو یہ تینوں اجزا جاگیردارانہ عہد کو دیکھتے ہوئے ایسے نہیں معلوم ہوتے کہ ان کی وجہ سے مثنوی کا مزاج یا بنیادی انداز بگڑ جاتے۔ کئی شعراء ان روایتی اجزاء کو نہایت اختصار سے پیش کر کے قصہ گوئی سے اپنے ارتکاز کو کم نہیں ہونے دیا۔ اس کے بعد سبب تالیف اور اصل قصہ مندرج ہوتے ہیں۔روایتی طور پر شاعر آخر میں اصحاب قصہ، اربابِ حکومت اور خود اپنے لیے دعا کرتے ہوئے مثنوی کا اختتام کرتا ہے۔قصیدے اور مراثی کے مقابلے میں مثنویوں کے اجزاء زیادہ لچیلے اور بنیادی حصے سے زیادہ گٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ آخر کوئی تو وجہ ہوگی کہ حالی غزل اور قصیدے میں سو کیڑے نکالنے کے بعد مثنویوں کو سب سے زیادہ کارآمد صنف کا درجہ عطا کرتے ہیں اور اور کلیم الدین احمد مغربیت زدگی کے باوجود مثنویوں کو تاج فضیلت عطا کرتے ہیں۔

مثنوی کی خصصیات تسلسل بیان

مثنویاں تسلسل بیان اور رواں سلسلۂ خیال کے لیے داد کا موجب رہی ہیں۔ ناقدین نے فنی اعتبار سے اسے بے حد مکمل صنف اس وجہ سے بھی قرار دیا کیوں کہ طویل بیانیہ کے لیے اردو کی کوئی دوسری صنف نہیں ہے۔ قصیدے کے مختلف اجزا ایک دوسرے سے ایسے گتھے ہوۓ نہیں ہوتے۔ کلیم الدین احمد بار بار مثنویوں سے جو امید لگاتے ہیں، اس کی پشت پر یہ بات ہوتی ہے کہ عشقیہ، فلسفیانہ جنگی اور چاہے جس موضوع کو بھی شاعر مثنوی کا حصہ بنانا چاہے، اسے ناکامی نہیں ہوتی۔ پند و نصیحت اور مذہبی موضوعات کے لیے بھی مثنویوں کے دروازے کھلے ہوۓ ہیں۔اکبر الہ آبادی کی بعض مشہور ظریفا نظمیں بھی مثنوی کی ہیئت میں لکھی گئی ہیں۔ دکن میں مراثی اور قصائد کے لیے بھی مثنویوں کی ہیئت آزمائی گئی اور شعرا کو کامیابی حاصل ہوئی۔ روایتی طور پر مثنویوں میں مافوق فطری عناصر لازمی مانے گئے لیکن مرزا شوق کی مثنویوں کے بعد ایسے موضوعات کے بغیر بھی مثنویاں لکھی جانے لگیں۔ جس طرح حقیقی زندگی کی ترجمانی کا منصب افسانہ اور ناول اپنے کاندھے پر کامیابی سے اٹھاتے ہیں حالاں کہ دونوں اصناف قصہ گوئی کی شکلیں ہیں۔ حالی اور کلیم الدین احمد دونوں تخیل کی اہمیت کو سمجھنے کے باوجود شعر کا مدار حقائق پر رکھنے کے مدعی ہیں۔ اسی لیے ان ناقدین کی نظر میں مثنویاں ساخت اور ہیئت کے اعتبار سے اردو کی مرکزی صنف مانی گئیں اور ناقدین نے ان سے امید یں باندھیں۔

مثنوی کے ارتقا کی تاریخ پندرہویں صدی میں دکن سے شروع ہوتی ہے

مثنوی کے ارتقا کی تاریخ پندرہویں صدی میں دکن سے شروع ہوتی ہے۔ سہولت کے اعتبار سے ناقدین نے تین سلطنتوں : بہمنی، عادل شاہی اور قطب شاہی میں تقسیم کیا۔ دکنی ادب کا یہ وہ دور ہے جب اردو تشکیل کے مرحلے میں تھی اور شعرا ظہار کے وسائل ڈھونڈ رہے تھے۔ سب سے پہلی کتاب بہمنی دور میں مکمل ہوئی۔

اردو کا پہلا مثنوی نگار فخرالدین نظامی

’’ مثنوی کدم راؤ پدم راؤ ‘‘کے مصنف فخرالدین نظامی نے اردو کی ادبی تاریخ کا نہ صرف یہ کہ پہلا قصّہ لکھا بلکہ اردو کے مزاج کی تشکیل میں بھی راہنما اصول مرتب کیے۔ اردو ہندوستانی مشترکہ تہذیب کے حلقے میں ابھرنے والی زبان ہے اور مختلف تہذیبوں کی ضرورت کا اس میں خیال رکھا جاتا ہے۔ اس کا ثبوت قدم راؤ پدم راؤ سے ہی مل جاتا ہے۔یہی وہ دور تھا جب صوفیائے کرام بھی اس علاقے میں سرگرم تھے اور رشد و ہدایت کے لئے نثر نظم میں رسائل تیار کر رہے تھے۔ سشمس العشاق میراں جی اور ان کے صاحب زادے خوش نامہ ( شاہ میراں جی ) اور ارشادنامہ( برہان الدین جانم ) مشہور کتابیں ہیں لیکن سولہویں صدی کی سب سے اہم ادبی کتاب سید شاہ اشرف بیابانی کی مثنوی’’نوسر ہار“ ہے جو موضوعاتی اعتبار سے مرثیہ ہے۔ سولہویں صدی میں ہی خوب محمد چشتی نے ’’خوب ترنگ‘‘ مثنوی لکھی۔

عادل شاہی دور کے اہم مثنوی نگار

دکنی مثنویوں کا نقطۂ عروج سترہویں صدی میں سامنے آتا ہے۔ آج ہم جنھیں دکنی ادب کا طرہ امتیاز کہتے ہیں، وہ تمام کتابیں ستر ہو میں صدی میں ہی دکن میں سامنے آئیں۔۱۹۰۳ء میں عبدل کی مثنوی’’ابراہیم نامہ‘‘ لکھی گئی اور ۱۹۰۹ء میں دکنی شاعری کا نقطۂ عروج ملا وجہی کی مثنوی’’ قطب مشتری‘‘ میں دیکھنے کوملی۔اردو مثنوی کی تاریخ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک ہم’’ قطب مشتری‘‘ کا خصوصی ذکر اس میں شامل نہ کر دیں۔ غواصی نے’سیف الملوک و بدیع الجمال‘‘، این نشاطی نے’’ پھول بن‘، ہاشمی نے ’’ یوسف زُلیخا‘‘ مثنویاں لکھیں۔ ملا وجہی کے بعد دکنی ادب کا دوسرا قادرالکلام شاعر نصرتی اسی دوران سامنے آتا ہے۔ اس کی دو مثنویاں گلشن عشق‘اور’علی نامہ‘ دکن کی ترقی یافتہ شاعری کی مثال ہیں۔ دکن کے دورآخر میں ولی اور سراج اورنگ آبادی کی مثنویاں سامنے آتی ہیں لیکن تاریخی اعتبار سے دونوں شعر اصنف غزل کے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں اور انھیں مثنوی نگار کے طور پر کم یاد کیا جا تا ہے۔

دکن میں مثنوی نگاری کا فن

دکنی مثنویوں کا عمومی مزاج مشترکہ ہندستانی تہذیب تو ہے ہی اس کے ساتھ زبان کی سطح پر بھی ایک تجربہ پسندی دیکھنے کو ملتی ہے۔ دکن میں اردو، عربی اور فارسی کی چھاؤں میں آگے نہیں بڑھتی ہے بلکہ اس نے زبان کے مقامی وجود کو پہچانا اور ملے جلے معاشرے کو بنیاد بنا کر ایک ایسا لسانی منظر نامہ تیار کیا جو اردو کا مزاج بن گیا۔ جس ہندستانیت کا ابتدائی تجربہ امیر خسرو نے کیا تھا، اسے حیات دوام بخشنے میں دکنی مثنویوں کا سب سے بڑا رول ہے۔ دکنی مثنوی نگاروں کی کوشش سے ہی یہ تجربہ مستقل انسانی فلسفہ بن سکا۔ آج اردو اصل مزاج ملی جلی معاشرت کی نمائندگی کے بطور شناخت رکھتا ہے۔

دبستانِ دہلی کے اہم مثنوی نگار شعراء

ولی کی دہلی آمد سے جب فارسی کے مقابلے اردو کو تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنانے کا سلسلہ چلا تو لگاتار ایک کے بعد ایک مثنویاں سامنے آنے لگیں۔ دہلی کے ابتدائی شاعروں میں فائز، آبرو اور حاتم جیسے شعرا نے مثنویوں کی طرف پیش رفت کی۔ فائز کی مختصر مثنویاں اردو نظم کی تاریخ میں اہمیت کی حامل ہیں۔ فائز کی مقامیت اور مشاہداتی قوت کے سبب بڑی تعریف کی جاتی ہے۔ غور کریں تو فائز کا یہ اصل شاعرانہ جوہر اس کی مختصر مثنویوں میں ہی سامنے آتا ہے۔ آبرو اور حاتم یوں تو غزل کے اہم شاعر ہیں لیکن ان کےیہاں بھی آرائش محل ( آبرو ) اور فقہ (شاہ حاتم) جیسی مثنویاں موجود ہیں۔ دہلی کے شعراء میں محمد تقی میر اور میر اثر اہم مثنوی نگار ہیں۔ میر اور اثر غزل کے عظیم شاعر ہیں لیکن انہوں نے بڑی تعداد میں مثنویاں کہی۔مختصر اور اوسط طوالت کی اُن کی مثنویوں میں پہلی بار زندگی سادگی اور عمومی سطح پر دکھائی دیتی ہے۔ اپنی عام پریشانیاں، گھریلو زندگی۔ کے مسائل اور جنگ کی ناکامیوں کی میر اپنی مثنویوں میں منظر نگاری کرتے ہیں۔تخلیقات میں تہذیبی اور ثقافتی عناصر موجود ہیں جن کی وجہ سے میر کا نام مثنوی نگار کے طور پر بھی امتیاز رکھتا ہے۔

اردو مثنوی شمالی ہند میں

دہلی کی ابتدائی مثنویوں میں صرف میر اثر کی خواب و خیال ایسی مثنوی ہے جسے اردو کی مشہور مثنویوں میں جگہ دی جاسکتی ہے۔ میر اثر کی مثنوی ایک طرف زبان کی سادگی، برجستگی اور روانی کی وجہ سے امتیاز کی حامل ہے تو دوسری طرف انسانی جذبات کے بے محابہ اظہار پر قدغن نہیں لگانے کی وجہ سے تہذیب اور شائستگی کے حوالوں سے سوالیہ نشان کی حامل رہی ہے۔ کبھی کبھی مثنوی کی تاریخ میں عریانیت اور ابتذال کی مثال کے طور پر اس مثنوی کو یاد کیا جاتا ہے۔ اس حد کے باوجود خواب و خیال کی ادبی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ سچائی ہے کہ دہلی میں مثنویاں نہیں پنپ سکیں۔ دکن میں اتنی عظیم روایت جس قدر استحکام تک پہنچی تھی، شعراے دہلی اس میں اضافہ نہیں کر سکے۔ انیسویں صدی میں بھی یہ ویرانی قائم رہی۔ غالب کی در صفت امبہ، حاتم علی بیگ کی داغ  نگار اور داغ دہلوی کی مثنوی فریاد داغ ایسی تخلیقات ہیں جن کا تذکرہ کیا جا سکتا ہے۔ دہلی میں غزل گوئی کا ایسا بول بالا رہا کہ دوسری اصناف کی طرف کسی کو توجہ دینے کا موقع ہی نہیں ملا۔ میر سے لے کر داغ دہلوی تک غزل گو شعرا کی ایک طویل فہرست ہے لیکن ان کی مثنویاں ماسواے میر اثر اپنے معیار کے اعتبار سے کچھ خاص اہمیت کی حامل نہیں۔

دبستانِ لکھنؤ کے اہم مثنوی نگار شعراء

دکن کے بعد مثنویوں نے لکھنؤ میں پھر سے ایک بارا پنی طاقت اور مقبولیت کا احساس کرایا۔ ۱۸ویں صدی کے اواخر میں دہلی سے مہاجرین شعرا جوق در جوق نوابین اودھ کی پشت پناہی کی طلب میں فیض آباد اور بعد میں لکھنو کی طرف مراجعت کرنے لگے۔ میر ضاحک، جو سودا کے ہم عصر تھے اور ہر دور میں سودا سے انھیں چشمک رہی، اپنے جواں سال بیٹے میر حسن کے ساتھ فیض آباد پہنچے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ میر حسن نے اردو مثنوی کی کون سی دنیا بدل دی۔ میرحسن نے ایک کے بعد ایک کل بارہ مثنویاں لکھیں لیکن’’ سحرالبیان‘‘ نے انھیں اردو کی ادبی تاریخ کا سب سے بڑا مثنوی نگار ثابت کیا۔ زبان کی برجستگی، تہذیب و معاشرت کی بے پایاں جلوہ گری، قصّے کے گٹھاو اور شاعرانہ اظہار کہ بلند معیار کے اعتبار سے میر حسن کا کوئی ثانی نہیں۔سحرالبیان کے علاوہ خوانِ نعمت اور گلزارِ ارم بھی ان کی اہم ترین مثنویاں ہیں۔

مثنوی نگار دیا شنکرنسیم

لکھنؤ کے دوسرے بڑے مثنوی نگار دیا شنکر نسیم آتش کے شاگردوں میں سے تھے۔نسیم جواں سالی میں فوت ہوئے۔ نسیم نے مثنوی گلزار نسیم یا قصہ گل بکاولی کو لکھتے وقت میر حسن سے بالکل مختلف اسلوب اختیار کیا۔ میر حسن تہذیب و معاشرت واقعات اور ان کو تفصیل سے پیش کرتے ہیں۔نسیم معاشرت کے مقابلے لکھنو کی لسانی خصوصیات اور انداز کو کمیابی کے ساتھ آزمایا۔ابھی بھی اختصار میں حسن اور اثر آفرینی کے لئے یہ مثنوی مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔لکھنو کے دوسرے مثنوی نگار مرزا شوق ہیں جن کی تین مختصر مثنویاں اپنی علاحدہ شناخت رکھتی ہیں۔ زہر عشق : فریب عشق اور بہار عشق قصے کو اختصار میں رکھنے کے ہنر کی وجہ سے گلزار نسیم کا اگلا قدم ہیں۔ عہد جدید کی روشنی کے باوجود مثنوی نگار مافوق فطری عناصر میں الجھے ہوئے تھے۔ مرزا شوق نے مافوق فطری عناصر سے اردو مثنوی کو علاحدہ کرنے کا تجربہ کامیابی کے ساتھ کیا۔ بعض حلقوں سے مرزا شوق پر عریانیت اورا بتذال کے الزامات بھی عاید ہوئے لیکن انسانی جذبات کی بہترین عکاسی کے لیے انھیں داد بھی ملی۔ کہنا چاہیے کہ ایک سائنسی نقطہ نگاہ سے انھوں نے اردو مثنوی کا نیا منظر نامہ مرتب کیا۔

لکھنؤ میں مثنوی نگاری کا آخری کارواں مرزا شوق

لکھنؤ میں جب مثنوی نگاری کا آخری کارواں مرزا شوق کی سرگرمیوں کی وجہ سے برسر محفل داد حاصل کر رہا تھا، ٹھیک اسی وقت لاہور میں انجمن پنجاب کے زیر اہتمام نظم جدید کا سلسلہ شروع ہوا۔ محمد حسین آزاد اور حالی کی جو ابتدائی نظمیں ہیں، وہ سب کی سب مثنوی کی ہیئت میں ہیں۔ گویا نظم جدید نے مختصر مثنویوں کو رواج دے کر نظم نگاری کا ایسا نیا سلسلہ شروع کیا جہاں سے مثنویوں کے اختتام اور زوال کا واضح اشارہ ملنے لگا۔ شوق قدوائی، اسماعیل میرٹھی، اکبرالہ آبادی اور پھر اقبال نے بڑی تعداد میں مختصر مثنویاں لکھیں لیکن ان سب کو لوگوں نے نظم کے طور پر پڑھا۔ اب مثنوی کی اتنی ہی ضرورت باقی رہ گئی کہ لوگ یہ واضح کر دیں کہ اس نظم کی ہیت مثنوی کی ہے۔ اسماعیل میرٹھی کی گاۓ پر لکھی نظم سے لے کر اقبال کی ساقی نامہ، ہر جگہ مثنوی معدوم ہو رہی ہے اور نظم ابھر رہی ہے۔ آئندہ دور میں مثنوی کی بحر کے تعلق سے بھی تجربے ہوۓ۔ علی سردار جعفری نے مختلف مثنویاں لکھ کر اسے ثابت کیا کہ ترقی پسندوں کے خیالات کو بھی مثنوی میں سمیٹا جا سکتا ہے۔ لیکن ترقی پسندوں اور جدیدیوں کے زمانے میں مثنویوں کا آزادانہ وجود قائم نہیں رہ سکا۔ بہت مشکل سے چند شعرا نے اس ہیئت کو آزمایا کیوں کہ اب آزاد نظم اور جدیدیت کے زمانے میں نثری نظموں کا سلسلہ چل نکلا تھا۔

مثنوی کا ارتقاء اور بیسویں صدی کی ادبی تاریخ

پوری بیسویں صدی کی ادبی تاریخ نگاہ میں رکھیں تو مستقل اور طویل مثنویوں کی تعداد انگلیوں پرگنی جاسکتی ہے۔ شوق نیموی کی مثنوی سوز و گداز، شاد کی مادر ہند، جمیل مظہری کی آب و سراب، عبدالمجید شمس کی مثنوی حیات و کائنات اور قاضی سلیم کی مثنوی گل فروش، مثنوی کے ریگستان میں کچھ ہرے بھرے شجر ہیں۔ یہ تمام مثنویاں بلاشبہ سحرالبیان گلزار نسیم یا زہر عشق کے مرتبے تک نہیں پہنچتی ہے۔ ان کے لکھنے والوں کی اول و آخر حیثیت مثنوی نگار کی نہیں بلکہ یہ ثانوی ہے۔ ایسے میں مثنویاں کیسے مقبولِ عام ہوں۔ شعرا نے تو مکمل مثنوی لکھنے کا شاید خاکہ ہی نہیں بنایا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیسویں صدی میں مثنوی ایک مردہ صنف کی حیثیت اختیار کر گئی۔اب بھی اسے زندگی نو شاید ہی ملے۔

مثنویاں قصیدے کی طرح دم توڑنے کے لیے مجبور ہوئیں، اس کے اصناف بھی اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔ قصیدے اس لیے ختم ہوۓ کہ بادشاہت کا نظام باقی نہیں رہا۔ ایک اور بات تھی کہ اس ہیئت سے غزل جیسی ممتاز صنف برآمد ہو چکی تھی اور پھل رہی تھی۔ مثنوی کی ہیئت تو ہر طرح کی شاعری کے لیے نہایت موزوں مانی گئی تھی، آخر وقت کے بدلنے کے ساتھ، اس نے ان تھپیڑوں کو برداشت کر کے نئے میدان میں پہنچنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟ تھوڑی سی شکل بدلی، اختصار کی صورت پیدا ہوئی اور مثنویوں کو نظم جدید نے ہضم کر لیا۔ انیسویں صدی میں ہی جب سائنسیت اور نئے خیالات کی یلغار کا زمانہ تھا، مثنوی نگاروں نے پرانی مثنویوں کی روح ’’مافوق فطری عصر‘‘ سے اپنا دامن چھٹرا لیا۔ ایک جادوئی دنیا، ایک انجانی زندگی کے خط و خال جو پرانی مثنویوں میں موجود تھے، وہ اچانک غائب ہو گئے۔ مثنویوں کے جسم پر غور کر یں تو تہذیبی اور تمدنی چھاؤں میں ان کا وجود قائم رہتا تھا۔ اب نئے ماحول میں تہذیب و تمدن کے لیے پڑھنے والوں کے پاس سیکڑوں مواقع تھے۔ تاریخ نگاری کا آزادانہ وجود قائم ہو چکا تھا۔

انیسویں صدی کے نصف دوم سے ناول اور بیسویں صدی میں افسانہ نگاری کے فروغ نے قصہ گوئی کے بھی امکانات ختم کر دیے۔ اقبال علی سردار جعفری، جمیل مظہری، ساحر لدھیانوی، اختر الایمان، راشد، اختر شیرانی جیسے شعرا نے طویل نظموں کی تخلیق کے مرحلے میں ترکیب بند، ترجیع بند، مسدس، دو بیت نظم معری اور سردار جعفری اور زبیر رضوی نے آزاد نظم کی ہیئت میں طویل یا سلسلہ وار نظمیں تخلیق کر کے مثنویوں کی ضرورت کو انجام تک پہنچا دیا۔ اب یہ صنف تہذیب قدیم کی رمز آشنائی کے لیے مخصوص ہے۔ رسومیات اور عوامی متعلقات کے سلسلے ان مثنویوں میں بطور یادگار ہمیں ملتے ہیں۔ زبان کا ایک سلسلہ یا شعری فضا بندی کے اعتبار سے بھی مثنویوں کا ذکر ہوتا ہے۔ بالخصوص چار مثنوی نگار ملا وجہی، میر حسن، دیا شنکر نسیم اور مرزا شوق کی وجہ سے یہ تاریخ دہرائی جاتی ہے۔اب یہ توقع شاید فضول ہے کہ اردو میں پھر کبھی مثنویاں موثر اظہار کا ذریعہ بن سکیں گی۔ انھیں بلاشبہ مرحوم اصناف میں ہی جگہ ملے گی اور قصیدے کی طرح ہی عہد حاضر کے قبرستان میں مثنویاں بھی مردہ شکل میں آثار قدیمہ کے طور پر دفن دکھائی دیں گی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے