Ticker

6/recent/ticker-posts

تحقیق کیا ہے | تحقیق کی تعریف | تحقیق معنی و مفہوم : بسمل جی اردو میں

تحقیق کیا ہے | تحقیق کی تعریف | تحقیق معنی و مفہوم : بسمل جی اردو میں

تحقیق کا فن، تحقیق کا مطلب

تحقیق لفظ عربی زبان سے ماخوذ ہے جس کے معنی حقائق کی کھوج، تفتیش،حقیقت کو دریافت کرنے، چھان بین کر کے سچائی معلوم کرنا اور تلاش و جستجو کے ہوتے ہیں۔تحقیق کا عمل انسان کے جنم لینے کے فوراً بعد سے ہی شروع ہو جاتا ہےاوربچپن سے اس کی موت تک لگاتار جاری رہتا ہے۔ عربی زبان کے لفظ ”تحقیق“ ”حق“ سے مشتق ہے جس کے معنی حق کو مکمل طور پر ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہیں۔حق کے معنی سچائی یا حقیقت کے ہیں اور اس طرح سے دیکھا جاۓ توتحقیق کی تعریف سچ یا حقیقت کی دریافت کرنے کے عمل سے ہے۔

تحقیق کی تعریف

تحقیق کی تعریف الگ الگ لوگوں نے الگ الگ وقتوں میں الگ الگ طرح سے کی ہے لیکن ان تمام الگ الگ تعریفوں سے تحقیق کے متعلق ایک ہی بات نکل کر سامنے آتی ہے کہ اِنسانی ذہن کی تلاش و جستجو کا نام ہی تحقیق ہے۔انسان کی زندگی میں تحقیق کی ضرورت بھی ہے اور اہمیت بھی۔زندگ میں تمام طرح کے حرکت اور عمل تحقیق ہی کا نتیجہ ہے۔ اگر تحقیق نہیں ہو تو زندگی بھی کی اہمیت کچھ بھی نہیں۔ تحقیق کے بنا زندگی بےجان اور بے حرکت ہوگی۔

تحقیق معنی و مفہوم

تحقیق اس عمل کا نام ہے جس کے ذریعے سے کسی بھی مسائل کے قابل قبول اور اعتبار کے لائک حل تک پہنچا جا سکتاہے۔ تحقیق کے لیے مکمل منصوبہ بندی اور باضابطہ طور پر مواد جمع کیا جاتا ہے۔یہ بے پناہ صبر و تحمل،قوت و توانائی کی حامل سنجیدگی سے بھرپور سر گرمی ہے جو کسی معاملات کی تردید یا تصدیق اور تعبیر و تشریح میں کمی بیشی کو مکمل انجام دیتی ہے۔

تحقیق کے لئےانگریزی میں لفظ ریسرچ (Research)

تحقیق کے لئےانگریزی میں لفظ ریسرچ (Research) کا استعمال ہوتاہے۔ Research کا پہلامعنی توجہ سے تلاش کرنے کے ہیں اور دوسرامعنی پھر سے تلاش کرنے کے ہیں۔ ہندی ساہتیہ میں تحقیق کے لیے ’انوسندھان‘ کا لفظ استعمال ہواہے۔اردو اصطلاح میں اس طرح تحقیق کے معنی سچ یا حقیقت کی دریافت کرنے کے لئےہے، انگریزی میں ریسرچ کے معنی کھوج اور پھر سے کھوج، اور ہندی ساہتیہ میں انوسندھان کے معنی مقررہ نشانے کو حاصل کرنے کے لئے اس کا پیچھا کرنا ہے۔

دنیا میں آتے ہی انسان نے نئی سے نئی تخلیق سے یہ ثابت کیا کہ انسان ازل ہی سے کھوج بین اور تلاش و جستجو میں سرگرداں پھرتے رہے ہیں۔ انسان نے اپنی تخلیقی صلاحیت کی بدولت ہی اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل کرنے میں کامیابی پائی ہے۔

تحقیق کی صلاحیت

تحقیق کی صلاحیت نے آدم کو آگ پیدا کرنا اورگول پہیہ بنانا سکھا دیا۔ انسان میں ہمیشہ ہی غوروفکر کی عادت اور خصصیات پائی جاتی ہے۔ زندگی کے عام روزمرّہ کے مسائل سے متعلق اور جن مسائل سے انسانوں کو دلچسپی ہوتی ہے اس کے لئے وہ اکثر سوچتا رہتا ہے۔وہ ان مسائل کا حل تلاش کرنا اور حالات کو بدلنا اور بہتر بنانا چاہتا ہے۔اس لیے انسان کے دماغ میں نئے نئے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں یا کبھی کبھی پرانے مسائل کے بارے میں نئے پہلو اور شکوک پیدا ہونے لگتے ہیں۔ مسائل کےحل تلاش کرنا یا شکوک کو مکمل طور پررد کرنا یا یقین میں بدلنا چاہتا ہے انہیں سب چیزوں کا نتیجہ تحقیق کی ابتدا ہوتی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے