Ticker

6/recent/ticker-posts

مہاراشٹرا اردو اکیڈمی کا مشاعرہ کرپشن کا شکار

مہاراشٹرا اردو اکیڈمی کا مشاعرہ کرپشن کا شکار

آپ حضرات و خواتین نے مہاراشٹرا اردو اکیڈمی کی جانب سے 26 جنوری 2022 کو منعقد ھونے والے یوم جمہوریہ کے مشاعرے کا‌ اشتہار دیکھ لیا۔ حسب سابق اس سال بھی ایک شاعر نعیم فراز کو تیسری بار مدعو کیا گیا‌ ھے اور شفیق الایمان ھآشمی جیسے لوگ مہاراشٹرا اردو اکیڈمی کے لئے اپنی 8/ سالہ‌ بے لوث خدمات اور اردو والوں کو ایک عدد شعری مجموعہ دینے کے باوجود کسی شمار و قطار میں نہیں ھیں۔ ایک مسلمان ریاستی وزیر (نواب ملک) جو بد قسمتی سے مہاراشٹرا‌ اردو اکیڈمی کا صدر بن بیٹھا ھے وہ اپنی مسلمانی سیاست اور سیاست کے مسلمانی داؤ پیچ دکھا رھا ھے اور اردو اکیڈمی پر اس کا مسلط کردہ آدمی (قاسم امام) اپنا مسلمانی اخلاق اور مسلمانی تہذیب پیش کرکے مسلم معاشرہ اور مسلم طرز معاشرت کے نئے نئے ریکارڈ قائم کرنے پر تلا ھوا ھے۔

سوال یہ‌ ھے کہ مہاراشٹرا اردو اکیڈمی کے صدر...

سوال یہ‌ ھے کہ مہاراشٹرا اردو اکیڈمی کے صدر (نواب ملک صاحب) نے مشاعرے کی باگ ڈور جس آدمی کو تھما رکھی ھے اس کے اور مذکورہ شاعر (نعیم فراز) کے درمیان کہیں کمیشن یا دلالی کا معاملہ تو نہیں چل رھا ھے اور خود وزیر موصوف (نواب ملک) اور ان کے منظور نظر (قاسم امام) کے درمیان بھی کمیش یا دلالی کا پلاؤ تو نہیں پک رھا ھے۔ کیوں کہ‌ لکھنؤ (اتر پردیش) کے کہنہ مشق صحافی عزت مآب ابرار احمد فاروقی صاحب (ایڈیٹر روزنامہ خبر ھند، لکھنؤ) اور شاملی (اتر پردیش) کے بزرگ عالم دین مولانا محبوب الحسن فاروقی صاحب (مہتمم الجامعة الاسلامیہ , کیرانہ) نے ابھی پچھلے ھفتہ راقم الحروف (شفیق الایمان ھاشمی) کی موجودگی میں نواب ملک صاحب کو ان کے دولت کدہ پر بڑے مہذب انداز میں سمجھایا تھا۔ مہاراشٹرا اردو اکیڈمی کے رسالہ (سہ ماھی امکان) کے خصوصی شمارہ (مارچ 2020) میں "بسم اللہ سے پہلے 22 غلطیوں" کے انکشاف پر وزیر موصوف (نواب ملک) کو سخت سست کہنے کے ساتھ انہوں نے اس مشکوک شخص (قاسم امام) کو مشاعرے کے انتظامی معاملات سے دور رکھنے اور مشاعرہ میں شفافیت لانے کی تلقین بھی کی‌‌ تھی۔ مزے کی بات تو یہ‌ ھے کہ‌ اس کے دوسرے ھی دن خود قاسم امام نے ابرار احمد فاروقی صاحب کو فون پر اپنی برطرفی کی "نوید" بھی سنائی تھی۔

لیکن ھم‌ دیکھ رھے ھیں کہ‌ قاسم امام اپنی جگہ پر بنے ھوئے ھیں اور ان کے کلائنٹ (Clint) نعیم فراز کا نام تیسری بار اس سال بھی انتہائی بےخوفی اور دلیری کے ساتھ اسی ڈھٹائی سے مشاعرے میں شامل کیا گیا ھے جس ڈھٹائی نے ھم اھل مشرق کو یہ مشہور ضرب المثل‌ عطا کیا ھے :
"سیاں بھئے کوتوال اب ڈر کاھے کا"

کیا یہ اندوہ ناک صورت حال اردو والوں کو کچھ سوچنے پر مجبور نہیں کرتی ? اور کیا یہ چشم کشا حقائق وزیر موصوف (نواب ملک صاحب) کے چہرے پر پڑی ھوئی ایمان داری , شرافت , وضع داری اور اردو دوستی کی نقاب اٹھاکر ان کا اصلی چہرہ نہیں دکھا رھے ھیں؟

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے "اردوستاں" والو !
تمھاری داستاں تک بھی نہ ھوگی داستانوں میں
********************************
شفیق الایمان ھاشمی (چیف ایڈمن) اردوتوا اینڈ ادبی کانٹیسٹ (انٹرنیشنل) ممبئی (انڈی)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے