Ticker

6/recent/ticker-posts

اردو تنقید پر ایک نظر : کلیم الدین احمد کی تنقید نگاری کا تجزیاتی مطالعہ

اردو تنقید پر ایک نظر : کلیم الدین احمد کی تنقید نگاری کا تجزیاتی مطالعہ

اردو تنقید پر ایک نظر کلیم الدین احمد
اردو تنقید نگاری میں کلیم الدین احمد کی شناخت مشکل پسند نقاد کی ہے۔ وہ ادبی منظر نامے پر ایک ہلچل بن کر ابھرے اور اردو ادب کو تنقیدی فکر عطا کیا۔ ان کی تنقید بے لاگ اور دو ٹوک ہوتی ہے۔ بعض اوقات انھوں بے رحم تنقید کے نمونے بھی پیش کئے ہیں۔ ان کی تنقید دراصل مغربی ادب اور خاص طور پر انگریزی ادب کے زیر اثر وجود میں آئی ہے۔ وہ مغرب کے پرستار ہیں اور اردوادب کو انگریزی ادب کے ہم پلہ دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ انھوں نے اردو ادب کے سرمائے کو مغر بی کسوٹی پر پرکھا اور اسے بے وزان پایا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ان کی تنقید نگاری بے رتم ہو جاتی ہے۔ مگر ان کی مشکل پسندی اور سخت گیری نے اردو تنقید کو فیض پہنچایا اور اردو تنقید کے سرمائے میں اضافہ کیا۔

اردو تنقید پر ایک نظر کلیم الدین احمد

کلیم الدین احمد ادب میں افادیت اور ابدیت کے قائل ہیں۔ ان کے خیال میں ادب آفاق گیر ہے اور انسان کے جذبات و احساسات سے جڑا ہوا ہے۔ انھوں نے اعلی ادب کوفن کی کسوٹی پر پرکھا اور عملی تنقید پر زور دیا۔

کلیم الدین احمد نے اپنے والد عظیم الدین کے کلام کا مجموعہ گل نغمہ کے نام سے ترتیب دیا اور اسے اپنے خود کے لکھے ہوئے مقدے کے ساتھ شائع کیا۔ اسی مقدمے سے ان کی تنقید نگاری کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کے بعد اردو شاعری پر ایک نظر، اردو تنقید پر ایک نظر، عملی تنقید، سخن ہائے گفتنی، فن داستان گوئی اور ادبی تنقید کے اصول جیسی اہم کتا بیں منظر عام پر آ گئیں۔

اردو تنقید پر ایک نظر کلیم الدین احمد

اردو تنقید پر ایک نظر کلیم الدین احمد کی ایک اہم تنقیدی کتاب ہے۔ اس کتاب کو کل 15 ابواب میں منقسم کیا گیا ہے جس کے تحت اردو تذکرے سے لے کر اردو کے کم وبیش تمام اہم نقادوں کی تنقید نگاری کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس کتاب کی شروعات اس جملے سے ہوتی ہے کہ اردو میں تنقید کا وجود محض فرضی ہے۔ یہ اقلیدس کا خیالی نقطہ ہے یا معشوق کی موہوم کمر۔

ان جملوں نے اردو ادیبوں کو خوب چونکایا کلیم الدین احمد اس جملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس طرح ادب محض تفریح طبع کا ذریعہ ہے اسی طرح تنقید بھی محض گپ، لغو یعنی بکواس تک محد ود رہی۔ تنقیدیکے ماہیت اس کے اغراض و مقاصد اور اس کے اصول فن پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔

اردو تنقید پر ایک نظر : کلیم الدین احمد

اس کتاب کے دوسرے تیسرے اور چوتھے باب میں نکتہ چینی کی تمام روایت پر تنقیدی نظر ڈالی گئی ہے۔اردو تذکرہ نگاری پر کھل کر بحث کی گئی ہے۔ اس امر میں محمد حسین آزاد کی کتاب آب حیات پر خاص طور سے توجہ دی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں آب حیات تنقیدی کا رنامہ نہیں محض ایک تذکرہ ہے۔کلیم الدین احمد نے پانچویں سے ساتویں باب میں ان تنقید نگاروں پرفردا فردا تنقید کی ہے۔ جنھوں نے اردو ادب میں تنقید نگار کی حیثیت سے اپنا سکہ جما لیا ہے۔ حالی شبلی عبدالحق، آل احمد سرور کی تنقید پر انھوں نے اپنے تنقیدی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ حالی کے بارے میں وہ رقم طراز ہیں۔ خیالات ما خود و، واقفیت محدود، فہم و ادراک معمولی، غور و فکر ناکافی، تمیز ادنٰی، دماغو شخصیت اوسط۔ یہ ہے حالی کی کل کائنات۔ عبدالحق صاحب کے بارے میں کہتے ہیں کہ عبدالحق صاحب شاعری کی ماہیت اور اس کے مقصد سے بیگانہ ہیں۔

آل احمد سرور صاحب کے بارے میں ان کے تنقیدی نظریات اس طرح ہیں۔ معلوم نہیں کیوں سرور صاحب کچھ جھنجھلائے ہوئے ہیں۔ شاید ان کے احساس کمتری کہتا ہے تم نے ابھی تک کوئی مفصل کتاب کیوں نہیں لکھی۔ وہ دسترخوان کی مکھی ہیں شہد کی مکھی نہیں۔

اس طرح کلیم الدین احمد صاحب نے اردو کے اہم نقادوں کے سلسلے میں منفی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ حالی شبلی اور عبدالحق حتی قد آور شخصیات کو ہدف تنقید بنایا ہے۔

اردو تقید پر ایک نظر کا سب سے زیادہ مفید باب باب نمبر 9 ہے۔ اس باب میں ترقی پسند تحریک پر تنقید کی گئی ہے۔ کلیم الدین احمد کا خیال تھا کہ ترقی پسند تحریک کے زیراثر جس طرح کا ادب وجود میں آیا وہ ادبی محاسن سے محروم تھا۔ ان میں ادب کی حسن کاری کی جگہ نعرہ بازی نے لے لی تھی۔ لہذا ادب کے محاسن سے محروم محض پروپیگنڈا بن کر رہ گیا ہے۔ کلیم الدین نے ایک اہم ترقی پسند نقاد احتشام حسین کی تنقید پر اس طر ح اپنی رائے کا اظہار کیا ہے:

جب انتظار حسین اس طرز میں لکھتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کوئی ہاتھی خوش فعلیاں کر رہا ہو۔

اس کتاب کے آخری تین ابواب میں کلیم الدین احمد نے اردو ادب کی تاریخوں، سالوں میں چھپنے والے تبصروں پر سرسری نظر ڈالی ہے اور شروع سے اس وقت تک کی تنقید کاری کا مختصر جائز ہ لیا ہے۔ مگران سے متعلق اپنی کوئی تنقید کی رائے قائم نہیں کی ہے۔ لہذا ان ابواب کی تنقیدی اہمیت نہ کے برابر ہے۔

اردو تنقید پر ایک نظر کی نوعیت کا کلاس کے لیکچروں کے مجموے کی کی ہے۔ ہر لکچر میں ایک موضوع یا ایک فردbخاص کو لیا گیا ہے۔ اس کے پچھ پہلوؤں کی کھل کر وضاحت کی گئی ہے۔ جس میں طوالت ملتی ہے۔ ان لیکچروں کی اہم خصوصیات یہ ہے کہ ان کو پڑھنے کے بعد قاری کی دلچسپی اور فکری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تنقید نگاری کے سلسلے میں کلیم الدین احمد کا نظریہ بہت ہی صاف اور معیاری ہے۔ ان کے نظریے کے مطابق نقاد کا فرض ہے کہ دہ مصنف کے مقصد کو پرکھے، اس کے کارنامے کی قدرو قیمت کا اندازہ کرے، پھر یہ کچھے کہ حصول مدعا میں مصنف کو کامیابی ملی یا نہیں۔ کیوں کہ تنقید کوئی گپ یا دل بہلانے کا کام نہیں ہے بلکہ یہ مشکل ترین فن ہے۔

اردو تقید پر ایک نظر کا اسلوب تجزیاتی ہے۔ ان کی نثر میں قطعیت پائی جاتی ہے۔ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں بالکل وہی بات قاری کو ذہن نشین ہوتی ہے۔ حوالوں اور مثالوں سے واپنی بات کو با وزن بناتے ہیں۔ ان کی نثر سادہ اور آسان ہے۔ اس لئے قاری کی ساری توجہ موضوع پر مرکوز رہتی ہے۔

کلیم الدین احمدنے جس طر ح سے اپنی کتاب میں تنقید کے اصول مرتب کیے ہیں اس کے اغراض و مقاصد کا تعین کیا اور گول مول رائے کی بجائے صاف اور دو ٹوک تنقید کا عملی نمونہ پیش کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کی تنقید سے ادب کو ادب کی کسوٹی پر پرکھنے کا رواج قائم ہوا۔ ناقد بن ادب نے ادب پارے پر گول مول رائے دینے کے برخلاف دو ٹوک اور بے لاگ تنقید کا ہنر سیکھا۔ تمام تر مشکل پسندی اور مغرب پرستی کے باوجود کلیم الدین احمد اردو تنقید کے قد آور نقاد کی حیثیت سے ناقابل فراموش ہیں اور ان کی کتاب اردو سفید پر ایک نظر میں قیمتی ادبی سرمایہ ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے