Ticker

6/recent/ticker-posts

تحقیق کیا ہے، تحقیقی موضوعات کے اقسام اور حدود و امکانات

تحقیقی موضوعات کے اقسام اور حدود و امکانات تحقیق کیا ہے؟ اس کی اقسام


انسان نے دنیا میں آتے ہی اپنی نئی نئی تخلیقات سے یہ بات پوری طرح ثابت کر دی ہے کہ انسان ازل سے ہی کھوج اور پرکھ کا خواہاں رہا ہے۔ انسان کی یہی تحقیقی صلاحیت اور خواہش کی وجہ سے اس کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے۔یہ تحقیق کی صلاحیت ہی تو تھی جس نے آدمی کو آگ پیدا کرنے سے لے کر گول پہیے کی ایجاد تک کا درس دیا۔

تحقیق دراصل ابتدائے آفرینش سے موجود ہے۔ تحقیق تخلیق انساں کے اجزا کا جزو لاینفک بھی ہے ۔ اگر عَلَمَ آدم الاسماء ہی پر ہم گہرائی سے غور کریں تو پاتے ہیں کہ اسماء اشیاء کا علم وجودو ماہیت اشیا کاعلم کی تلاش اور تحقیق میں گھلی ملی نظر آتی ہیں۔ یہ حقیقت اور ماہیت کا علم و جود اشیاء کے حدوث و اقدام کے علم کا متلاشی نظر آتا ہے۔ جبکہ تمام اشیاء کی حقیقت اور ماہیت یا حدوث اور قدم کا علم فکرِ انسانی کی کسی نہ کسی مرحلے کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔ جب اشیاء کی حقیقت و ماہیت اور حدوث و قدم کے علم کو حاصل کرنے کے لیے فکری میدان ِتحقیق میں اپنے دماغی گھوڑے دوڑ اتی ہیں تو کچھ نئے نئے چشموں پر پہنچ کر اپنی تشنگی مٹاتی ہیں ۔جیسے تحقیق پرت در پرت علم کے باریک ریشمی کپڑوں میں لپٹی ہوئی دھات ہے ۔


تحقیق کیا ہے؟

تحقیقی عمل بنی نوع انسان کی پیدائش سے لےکر عمر بھر جاری رہتا ہے ۔قدیم قبائلی انسانوں نے بھی مختلف مظاہر فطرت، رات ہونا، سورج کا نکلنا اور ڈوبنا، آندھی ،بارش، زلزلہ،سیلاب، وغیرہ کی اپنے فہم کے مطابق تحقیق کئے اور مختلف نتیجے اخذ کیے۔ زلزلے کے متعلق بتایا گیا کہ گیا کہ زمین ایک گائے کے سینگ پر رکھی ہوئی ہے اور وہ سینگ بدلتی ہے تو زلزلہ آتا ہے۔ زندگی کے عام مسائل سے متعلق جن مسائل سے انسان کو دلچسپی ہوگی، ان سے متعلق خصوصا وہ سوچتا رہےگا یا سوچنے پر مجبور ہوتا ہے اور اپنے حالات کو بدلنا یا پھر اور بہتر بنانا چاہےگا ۔اس لیے اس کے دماغ میں ہمیشہ نئے نئے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں یا پرانے مسائل سے متعلق نئے نئے پہلو اور بہم و گمان اس کے پیش نظر آتے رہتے ہیں انسان ہمیشہ ہی ان نئے نئے مسائل کو حل کرنا یا شکوک کو دور کرنا یا یقین میں بدلنا چاہتا ہے دراصل یہی سے تحقیق کی ابتدا ہوتی ہے۔


تحقیق کیا ہے؟

تحقیق کا لفظ عربی زبان سے لیا گیاہے ،جس کا مادہ یعنی اصل (ح ق ق) ہوتا ہے۔ جس کا تعلق بابِ تفعیل سے ہے اور اس کے لغوی معنی کھوجنا، پرکھنا، تفتیش اور کسی بات کی تحقیقات وغیرہ کے ہیں۔ تحقیق کو انگریزی زبان میں ریسرچ بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کو دوبارہ یا پھر سے دیکھنا۔یا توجہ سے تلاش کرنا اور دوبارہ تلاش کرنا کے ہیں۔ رابرٹ راس نے فرمایا ہے کہ یہ فرانسیسی لفظ ریسرچر سے نکلا ہے۔ جس کے مطلب پیچھے جا کر تلاش کرنا کے ہیں۔ہندی بھاشا میں تحقیق کو انوسندھان کے نام سے جانا جاتا ہے۔اور انوسندھان کے معنی ٹوٹے بکھرے دھاگے کو جوڑ کر رکھنے کے بھی ہیں۔لیکن تحقیق ایک ایسا امر ہے جس کی اہمیت انسانی زندگی میں ہمیشہ باقی رہے گی اور کبھی ختم نہیں ہوگی۔ اس اصطلاح کا تعلق زندگی کے ہر شعبہ سے جڑا ہوا ہے۔ زندگی کے ہر میدان میں اس کی ضرورت پڑتی ہی ہے اور اس کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں۔


دراصل تحقیق ان طریقوں کا خاص اور مستحکم مجموعہ ہے، جو کسی مسئلے یا گہرائی میں مسئلہ جاننے اور جس علاقے میں اس کا اطلاق ہو رہا ہے، اس میں جدید علم پیدا کرنے کے مقصد سے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سائنسی پیشرفت کے لئے بھی ایک اہم وسیلہ ہوتاہے، کیوں کہ یہ قابل اعتماد پیرامیٹرز کے ساتھ مفروضوں کو جانچنے یا مسترد کرنے کی اجازت سائنس دان یا محقق کو دیتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اور واضح مقاصد کے ساتھ۔ اس طرح اس بات کی ضمانت دی جاسکتی ہے کہ تفتیش علم کے شعبے میں دیئے جانے والے تمام شراکت کی تصدیق اور نقل کی جاسکتی ہے۔


تحقیق کی اقسام کی درجہ بندی

تحقیق کی اقسام کا انحصار ان کے مقاصد ، تحقیق کے گہرائی ، اعداد و شمار کے تجزیہ اور واقعہ کے مطالعہ کے لئے ضروری وقت و دیگر عوامل پر بھی منحصر ہوتاہے۔تحقیق کی اقسام کو مقصد کے مطابق درجہ بندی کی جاتی ہے، تحقیق کی گہرائی کی سطح جس کے ذریعہ کسی رجحان کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور استعمال شدہ ڈیٹا کی قسم ، اور وہ وقت جو مسئلہ کا مطالعہ کرنے میں لگتا ہے وغیرہ۔


تحقیق کی بے شمار اقسام درج ذیل ہیں:


۱۔ تجزیاتی تحقیق:

سائنسی علام اور کارگزاریوں کی تحقیق تجزیاتی تحقیق کہلاتی ہے۔ اس میں سائنسی علام کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ یہ اس طرح کے مظاہر کی ڈیزائننگ یا اس کی ہو بہو نقل تیار کرنے سے متعلق ہے جس کے متغیرات کو کنٹرول حالت میں تبدیلی کیجاتی ہے۔ اس مطالعہ کیے جانے والے رجحان کی پیمائش مطالعہ و کنٹرول گروپس کے ذریعے کی جاتی ہے ۔ اور سائنسی طریقہ کار کی رہنما خطوط کے مطابق بھی ہوتی ہے۔

جیسے کہ کہ کسی نئی دوا کو بنانے کے لئے دواسازی کی صنعت کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔


۲۔ اطلاقی تحقیق:

اس طرح کی تحقیق ڈاکٹری، باغبانی اور زراعت کے شعبہ جات میں کی جاتی ہے۔ اطلاقی تحقیق، بنیادی تحقیق سے وجود میں آنے والی نظریات کو موافق بنا کر مسائل کو حل کرتی ہے۔ سماجی علوم اور تعلیم کے شعبہ میں ہونے والی زیادہ تر تحقیقات اطلاقی نوعیت کی ہی ہوتی ہے۔اطلاقی تحقیق ہمارے روز مرہ کو متاثر کرنے والے عملی اور خصوصی مسائل کا حل تلاش کرنے کے مقصد سے کی جاتی ہے۔ اس طرح کی تحقیق کسی پالیسی کو تییار کرنے،یا کسی ادراک میں آئے، خصوصا وہ جسکا سبب دریافت طلب ہو کی سمجھ بنانے کے لئے کی جاتی ہے۔


۳۔ شماریاتی تحقیق:

یہ تحقیق مواد کی زیادہ مقدار پر مبنیٰ ہے۔ شماریاتی تحقیق میں ڈیٹا یا جو بھی معلومات پہلے سے دستیاب ہوہوتی ہے اس کو یکجا کیا جاتا ہے اور پھر اس کا منظم طریقے سے تجزیہ کرنے کے بعداس سے نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ شماریاتی تحقیق میں ڈیٹا یامعلومات کی حصول یابی سے نتائج تک پہنچنے کے مراحل شامل ہوتے ہیں۔ یہ ڈیٹا یا معلومات کسی بھی چیز کی اور کیسی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ تحقیق مواد کی مقدار پر مبنی ہے۔


۴۔ ادبی تحقیق:

ادبی تحقیق ادب سے متعلق ہوتی ہے اس میں ادبی اشیاء پر سنجیدگی سے تحقیق کی جاتی ہے۔

۵۔‌ سندی تحقیق

یہ ایسی تحقیق ہے جو کسی ادارے کی زیرِ نگرانی کی جائے اور جس کا مقصد سند کی تحقیق میں سند حاصل کرنا ہو ۔

۶۔ غیر سندی تحقیق:

اس طرح کی تحقیق میں محقق کسی ادارے کی نگرانی کے بغیر آزادانہ طور پر تحقیقی کام کرتا ہے۔

۷۔ تقابلی تحقیق:

اس طرح کی تحقیق میں کوئی سی دو مختلف قسم کی اشیاء کے درمیان تقابل کیا جاتا ہے۔

۸۔ نفسیاتی تحقیق:

اس سے مراد کتابوں کے مصنفین کے رجحانات اور انکی نفسیات کا ذہنی مطالعہ کرنا ہے۔

۹۔ تہذیبی تحقیق:

اس میں کسی بھی معاشرے کی تہذیب کو ملحوظِ نظر رکھتے ہوئےتحقیق کی جاتی ہے۔

۱۰۔ تاریخی تحقیق:

اس میں تاریخی کتب اور تاریخی اصنافِ ادب کے متعلق سنجیدہ غوروفکر اور بحث کی جاتی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے