وقف ترمیمی بل ۔۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
مجیب الرحمٰن
اس وقت مسلمانانِ ہند سڑکوں پر ہے، سڑکیں سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں، مسلمانوں میں بے چینی کا عالم ہے، ہر طرف شور مچا ہوا ہے، آوازین بلند ہورہی ہیں، حکومت کو للکارا جارہا ہے، عوام تو عوام مسلم قائدین بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں، کبھی جنتر منتر پر دھرنا تو کبھی پٹنہ، کبھی کلکتہ اور نہ جانے ملک کے مختلف حصوں اور علاقوں میں مسلم عوام کا جم گھٹا دیکھنے میں آرہا ہے، گویا اس وقت مسلمانانِ ہند کو کئی خطرات درپیش ہیں،کئ مصیبتیں راہ کی دیوار بنی کھڑی ہیں، اور یہ ایسی مصیبتیں ہیں جو نہ صرف ان کے وجود کو متاثر کررہی ہیں بلکہ ان کے مدارس، ان کی مساجد، ان کی خانقاہیں اور لاکھوں لاکھ دینی ادارے خطرے سے دوچار ہیں،اور ان تمام خطرات کا دروازہ وقف ترمیمی بل کی صورت میں کھلنے جارہا ہے۔
ان تمام آزمائشوں اور احتجاجوں کے بیچ میری نظر سے ایک دو ویڈیو گزری جسمیں احتجاج کر رہے مسلمانوں سے جب پوچھا گیا تو جواب نہیں بن پڑا، مُجھے خود بھی شرمندگی ہوئی اس تحریر میں بہت اختصار کے ساتھ روشنی ڈالنی کے کوشش کررہا ہوں، چونکہ اس تحریر میں کسی اور موضوع کو لیکر چلنا ہے اس لئے تعارف قل و دل کے ساتھ اکتفاء کرتا ہوں۔
کیا ہے وقف؟
وقف مسلم پرسنل لا بورڈ کا ایک اہم حصہ ہے، ملک کی آزادی سے پہلے1937میں شریعت اپلیکیشن ایکٹ منظور کیا گیا تھا، اس کے تحت آٹھ موضوعات آتے ہیں، نکاح، طلاق، خلع، فسق و تفریق، ہبہ، وصیت، وراثت اور وقف۔ ان میں سے اگر کسی میں بھی تنازع ہو جائے اور وہ عدالت میں آئے گا اور دونوں فریقین مسلمان ہیں تو شریعت کی روشنی میں حل پیش کیا جائے گا، یہ اس ایکٹ کا حصہ ہے، اور 1937سے اس پر برابر عمل ہوتا چلا آرہا ہے ۔ لیکن ملک کی آزادی کے بعد بہت ایسے فیصلے عدالتوں سے آئے جن میں شریعت سے انحراف کیا گیا، اس وقت یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ ایکٹ کے حوالے سے حکومت کو متنبہ کیا جائے اور باور کرایا جائے کہ اپلیکیشن ایکٹ کے حوالے سے مسلمانوں کو مذہب پر عمل کرنے کی جو آزادی دی گئی ہے اس کو یقینی بنایا جائے، اور اس کے خلاف کوئی فیصلہ نہ کیا جائے، چنانچہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ 1937 میں تشکیل دیا گیا، اور مسلمانوں کے عائلی قانون وہیں سے حل ہوتے رہے ۔ اور اگر کبھی حکومت نے اس کے خلاف کوئی قانون بنایا تو پرسنل لا بورڈ نے ہمیشہ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا اور اس کو بحال کرنے کی کوشش کی ۔
وقف کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
وقف کی شرعی حیثیت کیا ہے یہ تو ہر مسلمان کو معلوم ہونا چاہیے، وقف کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے، اسلام نے رفاہی کاموں کو ہمیشہ سراہا ہے، تاریخی حقائق اس پر شاہد ہیں، اصحاب خیر کی طرف سے جو املاک وقف کی گئیں وہ بہت ہیں، اور ان زمینوں میں بیشمار مدارس، مساجد، یتیم خانے، مسافر خانے بنے ہیں، اس وقت حکومت کو اس کی نظر لگ گئی ہے اور ایسا قانون لانے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں وقفی جائداد اپنے تصرف میں لاکر اس کے مالک بن بیٹھیں گے اس سلسلہ میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ان زمینوں پر جو مدارس اور مساجد بنے ہیں وہ سب خطرے میں پڑ جائیں گے، یہ بل اگر واپس نہ لیا گیا تو حالات اور دگرگوں ہو جائیں گے۔
کچھ اپنوں نے لوٹا
جیسا کہ قرآن میں کہا گیا کہ تم پر آفتیں تمہاری کرتوتوں کی وجہ سے ہی آتی ہیں ۔ اس کا عملی شکل آج مسلمان دیکھ بھی رہے ہیں اور بھگت رہے ہیں، اگر سوال یہ کیا جائے کہ حکومت کی نظروں میں جائدادیں کیسے کھٹکنے لگیں ؟ تو حقائق پر نظر رکھنے والا ہر شخص یہی کہے گا کہ مسلمانوں نے حکومت کو خود مجبور کیا قانون لانے پر، خود مسلمانوں نے وقف املاک پر قبضہ جمانا شروع کیا، اپنی ملکیت کی دہائی دینی شروع کی، فسادات ہوئے اور معاملہ عدالتوں تک جا پہنچا، آج بھی کتنے ایسے مسلمان بلکہ ایسی تنظیمیں ہیں جن کا وقف کی جائداد کو لیکر عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں، جب وقف کی ہوئی املاک ہم سے نہیں سنبھل رہا ہے تو پھر یقیناً حکومت کو آگے آنا پڑا پھر چیخ و پکار سب صدا بصحرا ثابت ہونے لگی، اور ۔۔۔
اب بچتاوت کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت،اور بقول شاعر:
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
مسلمانوں کو سوچنا پڑے گا کہ جب آپ کے پاس پرسنل لا ہے، دارالقضاء ہے پھر آپ اپنے عائلی مسائل حکومت تک کیوں لیکر جارہے ہیں، طلاق کا مسئلہ بھی خود اپنی کرتوتوں سے مسلمانوں نے پارلیمنٹ میں حل کر وایا، سڑک پر احتجاج کرنے سے آپ کے مسائل حل نہیں ہوں گے، ہمارا احتجاج بھی تو حکومت کی نگاہ میں ڈرامہ بن گیا، حکومت کو بھی معلوم ہے کہ مسلمان کچھ دن چیخیں چلائیں گے اور خاموش ہو جائیں گے، کون سا مسئلہ آپ کےاحتجاج سے حل ہوا، اور یہ جو رسمی احتجاج ہورہا ہے دو تین گھنٹے خوب شور ہوا، تقریریں ہوئیں اور خاموش یا تو احتجاج اس طرح کیجئے کہ حکومت گھنٹے ٹیک دے یا پھر رسمی احتجاج سے باز آجائیں، کسانوں کا معاملہ آپ کے سامنے ہیں، ہم تو مسلمان ہیں اگر یہ تصور ہے کہ بھیڑ اکٹھا کرنے سے حکومت ڈر جائے گی اور کوئی قانون نہیں بنے گا تو اس خام خیالی سے باہر آئیں ۔ جب تک مسلمان اپنا مسئلہ خود حل نہیں کریں گے تب تک حکومت کی مار پڑتی رہے گی، یہی حقیقت ہے اور ہندوستان میں موجودہ حکومت اسی سے جانی جاتی ہے، کسی کو اچھا لگے یا برا لیکن حقیقت سے منہ پھیرنا حماقت ہے۔
0 تبصرے