Ticker

6/recent/ticker-posts

OVER-CONFIDENCE دور حاضر کا ایک سنگین مسئلہ

OVER-CONFIDENCE دور حاضر کا ایک سنگین مسئلہ

سرفراز عالم


بیشک اعتماد ترقی کا زینہ تو ہے لیکن ضرورت سے زیادہ اعتماد ( OVER-CONFIDENCE ) اکثر تنزلی کی شروعات بن جاتی ہے۔ انسانی شخصیت میں اعتماد ( Confidence ) ایک اہم جز ہے جو کامیابی کی کنجی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی اعتماد حد سے تجاوز کر جائے تو ناکامی کا سبب بن جاتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ اعتماد رکھنے والا شخص خود کو عقل کُل سمجھ بیٹھتا ہے، لیکن جب اس کا نقصان سامنے آتا ہے تو ایسا انسان سارے زمانے سے شکایت کرتا پھرتا ہے۔اس حالت میں سب سے پہلے وہ اپنے خیر خواہوں سے دور ہو جاتا ہے۔ سب کو شک کی نگاہوں سے دیکھتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے اپنے مسائل میں الجھ کر اکیلا ہو جاتا ہے۔ایسے لوگ اکثر تعلیم یافتہ اور صاحب دولت ہوتے ہیں ۔آج کے مادی دور میں نام نہاد ترقی کے لئے بیشتر لوگ اعلیٰ تعلیم اور بے انتہا دولت کے طرفدار نظر آتے ہیں۔ اگر یہ دونوں چیزیں حاصل ہو جائیں تو زندگی کے تمام شعبوں میں ایسے لوگوں کا اعتماد (Confidence) بڑھ جاتا ہے جس کی زیادتی سے انسان اکثر و بیشتر Over- Confidence کا شکار ہو جاتا ہے۔نادانستہ طور پر ایسا شخص مشیئت خداوندی سے دور خود کو اپنی دنیا کا ایک ناکام بادشاہ سمجھ بیٹھتا ہے جس کا انجام مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ اسی لئے اسلام میں اعتدال کو پسند کیا گیا ہے۔


اعتماد ( Confidence) اور ضرورت سے زیادہ اعتماد ( OVER-CONFIDENCE) میں فرق سمجھنا آج ہر فرد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اعتماد کی تعریف

اعتماد درحقیقت اپنی صلاحیتوں کا حقیقت پسندانہ ادراک ہے۔ اعتماد میں اعتدال ہوتا ہے جس سے ادراک کو تقویت حاصل ہوتا ہے۔
اس کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں:

اعتماد کی خصوصیات

1۔ حقیقی صلاحیتوں پر مبنی ہوتا ہے۔
2۔ محنت اور مشق کا نتیجہ ہوتا ہے۔
3۔ توازن اور استحکام سے بھرپور ہوتا ہے۔
4۔ نئے چیلنجز کو قبول کرنے کی ہمت دیتا ہے۔
5۔ سب سے بڑی بات کہ دوسروں کی رائے کو سننے اور سمجھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
اعتماد حقیقی صلاحیتوں اور تجربے پر مبنی ہوتا ہے۔اعتماد رکھنے والا شخص دوسروں کی رائے کو سنتا ،سمجھتا اور ممکن حد تک اس پر عمل بھی کرتاہے۔اعتماد کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

اعتماد کے فوائد

1۔ کامیابی کے امکانات بڑھاتا ہے۔
2۔ معاشرتی تعلقات بہتر بناتا ہے۔
3۔ مسائل حل کرنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے۔
4۔ ذہنی سکون اور استحکام فراہم کرتا ہے۔

ضرورت سے زیادہ اعتماد کی تعریف:

ضرورت سے زیادہ اعتماد درحقیقت ایک نفسیاتی مسئلہ ہے جس میں فرد اپنی صلاحیتوں کو حقیقت سے زیادہ سمجھنے لگتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ اعتماد رکھنے والا شخص صرف اپنی بات پر اڑا رہتا ہے۔ یہ انسان کو ناکامی کی طرف لے جاتا ہے۔ضرورت سے زیادہ اعتماد خیالی باتوں اور غلط فہمیوں پر مبنی ہوتا ہے۔


ضرورت سے زیادہ اعتماد کے نقصانات:


1۔ ناکامی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
2۔ معاشرتی ذلالت کا سامنا ہوتا ہے۔
3، مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتا ہے۔
4۔ ذہنی پریشانیوں کا سبب بنتا ہے۔
ان کے علاوہ نقصانات کو درج ذیل نکات سے زیادہ بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔
5۔ غلط فیصلے کرنا :- ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کی وجہ سے انسان اکثر ضروری معلومات جمع کیے بغیر یا دوسروں کی رائے لیے بغیر فیصلے کر لیتا ہے، جس سے غلط فیصلوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
6۔ خطرات کو نہیں سمجھ پانا :- ایسے لوگ اکثر خطرات کی نوعیت اور شدت کو صحیح طرح نہیں جانچ پاتے اور لاپرواہی میں بڑے خطرات مول لے لیتے ہیں، جس کا نتیجہ نقصان کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
7۔ پوری تیاری نہ کرنا :- کامیابی کا توقع سے زیادہ یقین ہونے پر لوگ اکثر محنت اور تیاری میں کمی کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، امتحان کی تیاری میں کمی کرنا یا کسی پروجیکٹ کے لیے مکمل تحقیق نہ کرنا۔
8۔ تعلقات میں تناؤ :- حد سے زیادہ خود اعتمادی اکثر غرور یا تکبر کی شکل اختیار کر لیتی ہے، جو دوسرے لوگوں کو ناگوار گزر سکتی ہے اور ذاتی یا پیشہ ورانہ تعلقات میں دوری پیدا کر سکتی ہے۔
9۔ تنقید یا فیڈ بیک کو نظر انداز کرنا :- ایسے افراد اپنی صلاحیتوں پر اس حد تک یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنی غلطیوں یا کمزوریوں کے بارے میں دی گئی کسی بھی قسم کی تنقید یا فیڈ بیک کو مسترد کر dustbin میں ڈال دیتے ہیں، جس سے سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔
10۔ مالی نقصان :- شیئر بازار یا کاروبار وغیرہ میں ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کی وجہ سے لوگ اکثر غیر ضروری خطرات مول لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑا مالی نقصان ہو سکتا ہے۔
11۔ اپنی غلطیوں سے نہ سیکھنا :- اپنی غلطیوں کو تسلیم نہ کرنے کی عادت کی وجہ سے، انسان ان سے سیکھنے کا موقع گنوا دیتا ہے اور وہی غلطیاں بار بار دہراتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کے نقصانات کو سمجھنے کے لیے کچھ مثالیں پیش خدمت ہیں۔
مثال نمبر 1 :-
ایک کامیاب تاجر (businessman) اپنے پچھلے چند منافع بخش سَودوں کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ پُر اعتماد ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب اسے مارکیٹ کی مکمل سمجھ ہے اور وہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ اس خود اعتمادی میں آکر، وہ ایک بہت بڑا نیا پراجیکٹ شروع کرتا ہے اور مارکیٹ ریسرچ (market research) یا ماہرین کی آراء کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ اپنی ساری جمع پونجی اور قرضہ اس ایک پراجیکٹ میں لگا دیتا ہے۔ لیکن چونکہ اس نے حقائق کا صحیح اندازہ نہیں لگایا تھا، پراجیکٹ ناکام ہو جاتا ہے اور اسے شدید مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
مثال نمبر 2:-
ایک ذہین طالب علم سال بھر اچھی کارکردگی دکھاتا ہے اور اسے اپنی ذہانت پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ ہوتا ہے۔ امتحان سے کچھ دن پہلے، وہ سوچتا ہے کہ "مجھے سب کچھ آتا ہے" اور پڑھائی پر توجہ کم کر دیتا ہے۔ امتحان میں کچھ ایسے سوالات آ جاتے ہیں جو اس کی نظر سے نہیں گزرے تھے یا جن پر اس نے مشق (practice) نہیں کی تھی۔ ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کی وجہ سے، اس کا نتیجہ اس کی توقعات سے بہت کم آتا ہے اور وہ کلاس میں اپنی پوزیشن کھو دیتا ہے۔
ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ خود اعتمادی ایک اچھی چیز ہے، لیکن جب یہ حد سے بڑھ جاتی ہے تو یہ انسان کو حقیقت سے دور کر دیتی ہے، جس کے نتائج اکثر نقصان دہ ہوتے ہیں۔
پیش کردہ نکات کی روشنی میں ہر خاص و عام کو اپنی ذہنیت کو پرکھ کر Over Confidence سے Confidence کی طرف ہجرت کرنے کی ضرورت ہے ورنہ سماج میں ضرورت سے زیادہ اعتماد رکھنے والا طبقہ خود بھی تباہ ہوسکتا ہے اور امت کو بھی غلط راہ پر ڈال سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری صحیح رہنمائی کرے۔ ہمیں ضرورت سے زیادہ اعتماد اور عقل کا شکار ہونے سے بچائے۔ آمین ثم آمین
 
سرفراز عالم 
عالم گنج پٹنہ 
رابطہ 8825189373

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے