منقبت : ہے ارد گرد اک حصار نور کا بنا ہوا
منقبت
ہے ارد گرد اک حصار نور کا بنا ہوا
اور اک جلالِ ہے رخ ـ حسین پر سجا ہوا
حسین آندھیوں کے سامنے پہاڑ صبر کا
ہے ظالموں کے سامنے حسین ہی ڈٹا ہوا
زمانے کو سکھا گیا وہی وفاؤں کا چلن
وہ پیکر ـ خلوص ہے ، وہ سب سے باوفا ہوا
ملائک نے سرـ فلک انہی کا مرثیہ پڑھا
غمِ حسینؑ کا بیاں فلک پہ یوں ادا ہوا
وہی تھے عرش پہ خدا کے سامنے جھکے ہوئے
انہی کا سر زمینِ کربلا پہ تھا پڑا ہوا
یہیں سے اک جہان ـ نو کی ہو گئی ہے ابتدا
ہے کربلا جو جنگ کا نیا جہاں بنا ہوا
چلے ہزار قافلے ہیں رہروان ـ شوق کے
مگر حسین حق و حریت کا راستہ ہوا
گواہی دے رہے ہیں یہ زمین اور آسماں
کسی کا کب ہوا حسین کا جو مرتبہ ہوا
تنویر سیٹھی ایڈووکیٹ
0 تبصرے