شامِ غریباں : نوحہ مرثیہ
شامِ غریباں
آج سے امتحان زینبؑ کا
لٹ گیا ہے جہان زینب ؑکا
عصرِ عاشور پرچمِ عباسؑ
رہ گیا سائبان زینبؑ کا
ریگ اور رہگزارِ کرب و بلاء
بن گیا ہے مکان زینبؑ کا
اختتامِ سفر حسینؑ کا تھا
آج سے کاروان زینبؑ کا
مطمئن نفس رو دیئے ایں شب
دیکھ کر اطمینان زینبؑ کا
ہتھکڑی، بیڑیاں، رسَن، پتھر
قید منزل نشان زینبؑ کا
سوچ بازارِ شام کا منظر
سوچ پھر خاندان زینبؑ کا
تخت قدموں میں گر پڑا سن کر
خطبہءِ بے تھکان زینبؑ کا
جب قدم گردنِ یزید پہ تھا
عرش تھا پائدان زینبؑ کا
رمزِ عباسؑ، لہجہءِ حیدرؑ
حوصلہ آسمان زینبؑ کا
مرتضیؑ ماتمی ہیں زینبؑ کے
مصطفیؑ نوحہ خوان زینبؑ کا
عصرِ عاشور تا بوقتِ ظہور
روز و شب اور زمان زینبؑ کا
آغا ظہور عباس
شامِ غریباں، 2024
اسلام آباد، پاکستان

0 تبصرے