ادب کیا ہے؟ : نظم : ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
اسسٹنٹ پروفیسر ۔ اردو
وہمنس یونی ورسٹی
تلنگانہ ۔ حیدرآباد
نظم
ادب کیا ہے؟
ادب
تفریح نہیں—
یہ
بقا کا علم ہے۔
اگر دنیا کے سارے علوم
اونچی عمارتیں ہیں
تو
ادب
وہ بنیاد ہے
جو نہ ہو
تو
عمارت
پہلی لرزش میں
زمین چاٹ لیتی ہے۔
ادب
انسان کو
نمبر نہیں سکھاتا—
وہ
ناکامی جھیلنا سکھاتا ہے۔
وہ کہتا ہے:
ہار
قتل نہیں ہوتی،
اور
لغزش
قبر نہیں۔
یہ
لفظوں کی خوشبو نہیں—
یہ
ذہن کا حفاظتی نظام ہے۔
میں نے نہیں دیکھا
کہ
ادب پڑھنے والا
پہلی ٹھوکر پر
خود کو ختم کر دے۔
لیکن
میں روز پڑھتی ہوں
میڈیکل کا طالب علم—
ایک رینک پیچھے۔
انجینئرنگ کا طالب علم—
ایک پرچہ فیل۔
اور
زندگی
منسوخ۔
وہ
چاند تک پہنچ گئے—
مگر
اپنے دل کی
اونچ نیچ نہ ناپ سکے۔
انہیں
ستاروں کے فارمولے آتے ہیں،
مگر
غم کی زبان نہیں۔
ادب
یہ سکھاتا ہے
کہ انسان
مشین نہیں—
ٹوٹتا ہے،
جڑتا ہے،
اور
پھر چلتا ہے۔
یہ سکھاتا ہے
کہ زندگی
ایک امتحان نہیں
جسے فیل ہو کر
پھینک دیا جائے۔
اس لیے سن لو—
ادب
شوق نہیں،
عیش نہیں،
اضافی مضمون نہیں۔
ادب
زندگی بچانے کا
واحد مضمون ہے۔
0 تبصرے