نبوت سے پہلے کعبہ پر لٹکائے جانے والے قصائد اور نزول قرآن کے بعد اس روایت کا خاتمہ: تاریخی و ادبی جائزہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر اے۔ایم۔اظہارالحق "اظہر"
نبوت سے پہلے کا عرب "عصرِ جاہلی" کہلاتا ہے، مگر یہ جہالت علم کی نہیں، اخلاق کی تھی۔ شعر وہاں کی سب سے بڑی طاقت تھا۔ قبیلے کی عزت، جنگ، صلح، عشق، نفرت — سب شعر میں ڈھلتے تھے۔ ہم اسے 'جاہلیت کا عرب اور شعر کی سلطنت' کے نام سے موسوم کرسکتے ہیں۔
عرب کہتے تھے: _"الشعر دیوان العرب"_ — شعر عرب کا رجسٹر ہے۔ جب کسی قبیلے میں شاعر پیدا ہوتا تو قبیلہ جشن مناتا: _"آج ہمارا وکیل پیدا ہوا"_۔ کیونکہ شاعر ہی قبیلے کا ترجمان، وکیل، اور پروپیگنڈا منسٹر ہوتا تھا۔
اور اس شعر کی سب سے بڑی منڈی "سوقِ عکاظ" تھی۔ یہ مکہ اور طائف کے درمیان لگنے والا سالانہ میلہ تھا۔ ہر سال ذی القعدہ میں 20 دن تک یہ میلہ چلتا تھا۔ یہاں مشاعرے ہوتے، مقابلے ہوتے، اور فاتح کا قصیدہ کعبہ کے دروازے پر لٹکا دیا جاتا۔
جو قصیدے کعبہ پر لٹکائے جاتے، انھیں "معلقات" کہتے ہیں، "معلق" یعنی لٹکا ہوا۔
مشہور روایت کے مطابق 7 تھے۔ سب سے مستند 7 کے نام یہ ہیں:
(الف) امرؤ القیس — _قفا نبک من ذکرى حبیب ومنزل_۔ عشقیہ شاعری کا بادشاہ۔
(ب) طرفہ بن العبد — سب سے کم عمر شاعر۔ 26 سال میں قتل ہوا۔
(پ) زہیر بن ابی سلمیٰ — حکمت کا شاعر۔
(ت) لبید بن ربیعہ — بعد میں مسلمان ہوئے۔ عمر 145 سال بتائی جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: _"اصدق کلمة قالها الشاعر کلمة لبید: الا کل شئ ما خلا اللہ باطل"_۔
(ٹ) عمرو بن کلثوم — قبیلہ تغلب کا سردار۔ تکبر اور جنگ کی شاعری۔
(ث) عنترہ بن شداد — عشق اور بہادری کا پیکر۔
(ج) حارث بن حلزہ — قبیلہ بکر کا وکیل۔
معلقات کی تعداد پر اختلاف اور 'مذہبہ' کا مفہوم
معلقات کی تعداد میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ "معلقات سبعہ" کے علاوہ 3 اور قصیدے بھی بعض روایات میں شامل کیے گئے۔ وہ ہیں: نابغہ ذبیانی، الاعشی، اور النابغہ الجعدی۔ اس لیے بعض نے "معلقات عشرہ" کہا۔ مگر جمہور علماء 7 پر ہی متفق ہیں کیونکہ یہ 7 ہی سب سے زیادہ مشہور اور "مذہبہ" یعنی سنہرے پانی سے لکھے ہوئے تھے۔ "مذہب" کا مطلب ہے سونے کے ورق سے مزین کرنا۔
ان معلقات کے لٹکائے جانے کی تین بڑی وجوہات تھیں: ادبی سند، مذہبی تقدس، اور سیاسی طاقت۔
ان معلقات کے لٹکائے جانے میں مؤرخین کی رائے میں اختلاف ہے۔
حامی مؤرخین: ابن عبد ربہ "العقد الفرید"، ابن رشیق "العمدہ"، اور ابو زید قرشی "جمہرۃ اشعار العرب" لکھتے ہیں کہ معلقات واقعی کعبہ پر لٹکائے گئے۔
مخالف مؤرخین: طہ حسین "فی الادب الجاہلی" میں شک کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جاہلیت کے عرب لکھنا کم جانتے تھے۔ شاعری زبانی تھی۔
درمیانی راہ: غالب گمان ہے کہ اصل قصیدے سونے کے پانی سے چمڑے پر لکھوا کر کعبہ کے خزانے میں رکھے جاتے، یا دیوار کے ساتھ لٹکائے جاتے۔ سوقِ عکاظ میں فاتح کا اعلان ہوتا، اور اس کی نقل کعبہ پر لگا دی جاتی۔
نزول قرآن، ادبی چیلنج اور شعراء کا انقلاب
آغاز نزول قرآن کے بعد سب بدل گیا۔ 610ء میں غارِ حرا سے آواز آئی: _"اقرأ"_۔
قرآن کا اسلوب عرب شاعری سے بالکل الگ تھا۔ مگر تاثیر ایسی کہ ولید بن مغیرہ جیسا دشمنِ اسلام بھی سن کر کہہ اٹھا: _"واللہ ان له لحلاوة..."_۔
قرآن کا تدریجی اعجاز: قرآن نے پہلے "بعشر سور" پھر "بسورة من مثله" کا چیلنج دیا۔ عرب جو لفظ کے ماہر تھے، وہ 3 آیت کی سورت بھی نہ بنا سکے۔ اسی لیے سوقِ عکاظ میں اب "قرآن سننے" کے حلقے لگنے لگے۔
ان شعراء نے جاہلیت کی شعر گوئی سے اپنے کو روک لیا۔
(الف) لبید بن ربیعہ نے کہا: _"ابدی کلام کے بعد عارضی کلام کیسا؟"_
(ب) کعب بن زہیر نے "بانت سعاد" پڑھ کر معافی مانگی۔ نبی ﷺ نے اپنی چادر عطا فرمائی۔
(پ) حسان بن ثابت "شاعر الرسول" بن گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: _"اہجوهم وروح القدس معك"_۔
اسلامی عہد کے شعراء کا نیا منشور
شعر کا قبلہ بدل گیا۔ اب موضوع: مدح نبوی، دفاع اسلام، اور حکمت و موعظت ہو گیا۔ یعنی شعر "بت پرستی" سے "خدا پرستی" کی طرف آ گیا۔
نزول آیات ربانی کے بعد کعبہ پر لٹکانے کی روایت ختم ہونے کی وجوہات: توحید کا غلبہ، قرآن کا اعجاز، اور شعر کی حیثیت کا بدلنا۔ قرآن نے کہا: _"والشعراء یتبعهم الغاوون... الا الذین آمنوا"_۔
تاریخی نتیجہ اور ایک نیا اضافہ: 'کعبہ' کی علامت
کعبہ پر قصیدے لٹکانا "انسان کی خدائی" کا اعلان تھا۔ قرآن نے آ کر یہ سلسلہ توڑا۔ اب کعبہ پر غلافِ کعبہ چڑھتا ہے جس پر سنہرے حروف میں قرآن لکھا ہوتا ہے۔
نئی سطر 1: یہ تبدیلی صرف ادبی نہیں، تہذیبی انقلاب تھی۔ مرکز عکاظ سے مسجد نبوی کی طرف منتقل ہو گیا۔
نئی سطر 2: ہیرو شاعر سے نبی ﷺ کی طرف آ گیا۔ تھامس کارلائل نے کہا: "شاعر بھی نبی ہے، مگر نبی شاعر سے بڑا ہے"۔
نئی سطر 3: موضوع عشق و شراب سے آخرت، توحید اور عدل کی طرف چلا گیا۔
نئی سطر 4: لبید نے 40 سال اسلام میں گزارے مگر ایک شعر نہ کہا۔ فرمایا: _"قرآن نے مجھے شعر سے بے نیاز کر دیا"_۔
المختصر، یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہر عہد کا "کعبہ" ہوتا ہے۔ جاہلیت کے عربوں کا کعبہ شعر تھا۔ آج ہمارا کعبہ کیا ہے؟ ٹوئٹر ٹرینڈ؟ انسٹا لائک؟ وائرل ریل؟
قرآن نے کعبہ سے قصیدے اتروا دیے۔ آج بھی جب ہم اپنے دلوں کے کعبے پر "اپنی میں" کا قصیدہ لٹکاتے ہیں، تو اللہ کی آواز آتی ہے: _"اقرأ باسم ربک"_۔
خلاصہ یہ کہ کعبہ پر شعر کا لٹکانا بند ہوا، کیونکہ "کلام الہٰی" آ گیا۔ جب سورج نکل آئے تو چراغ بجھا دیے جاتے ہیں۔
---
حوالہ جات
ابن سلام الجمحی، _طبقات فحول الشعراء_، باب ذکر الجاہلیة۔
ابن عبد ربہ، _العقد الفرید_، ج 2، ص 319۔
ابو الفرج الاصفہانی، _الاغانی_، ج 3، ص 45۔
یاقوت الحموی، _معجم البلدان_، مادہ "عکاظ"۔
ابن رشیق، _العمدہ فی صناعة الشعر_، ج 1، ص 112۔
_دیوان امرؤ القیس_، شرح الزوزنی۔
_دیوان طرفہ بن العبد_، مقدمہ۔
_دیوان زہیر بن ابی سلمیٰ_۔
صحیح البخاری، کتاب الادب، باب قول النبی ﷺ: "اصدق کلمة..."
_دیوان عمرو بن کلثوم_۔
_دیوان عنترہ بن شداد_۔
_دیوان حارث بن حلزہ_۔
ابو زید القرشی، _جمہرۃ اشعار العرب_، مقدمہ۔
ابن خالویہ، _شرح المعلقات السبع_۔
طہ حسین، _فی الادب الجاہلی_، ص 78۔
ابن عبد ربہ، _العقد الفرید_، ج 2، ص 325۔
طہ حسین، _فی الادب الجاہلی_، ص 91۔
شوقی ضیف، _تاریخ الادب العربی: العصر الجاہلی_، ص 156۔
القرآن الکریم، سورۃ العلق: 1۔
ابن ہشام، _السیرة النبویة_، ج 1، ص 286۔
القرآن الکریم، سورۃ ہود: 13۔
القرآن الکریم، سورۃ البقرہ: 23۔
الجاحظ، _البیان والتبیین_، ج 1، ص 201۔
ابن سعد، _الطبقات الکبری_، ج 7، ص 103۔
ابن ہشام، _السیرة النبویة_، ج 4، ص 30۔
صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب فضائل حسان بن ثابت
عمر فروخ، _تاریخ الادب العربی_، ج 2، ص 45۔
سید قطب، _فی ظلال القرآن_، ج 6، ص 345۔
القرآن الکریم، سورۃ الشعراء: 224-227۔
محمد الکحلاوی، _کسوة الکعبة عبر العصور_، ص 12۔
مالک بن نبی، _شروط النہضہ_، ص 64۔
Thomas Carlyle, _On Heroes, Hero-Worship, and The Heroic in History_, Lecture 2۔
محمد قطب، _منہج الفن الاسلامی_، ص 88۔
ابن قتیبہ، _الشعر والشعراء_، ج 1، ص 198۔
ڈاکٹر عبداللہ عزام، _آیات الرحمن فی جہاد الافغان_، ص 15۔
القرآن الکریم، سورۃ العلق: 1۔
0 تبصرے