وہ چلے گئے، مگر علم ابھی زندہ ہے!
وہ چلے گئے..! یہ جملہ لکھتے ہوئے بھی قلم کانپ جاتا ہے، مگر دل فوراً سوال کرتا ہے۔ کیا واقعی ؟ کیا وہ شخص چلا جاتا ہے جس کی آواز ہزاروں شاگردوں کے لہجوں میں زندہ ہو، جس کے الفاظ کتابوں کے اوراق میں سانس لیتے ہوں، جس کے خیالات نسلوں کی سوچ میں رچ بس گئے ہوں ؟ شاید نہیں۔ ایسے لوگ مرتے نہیں، صرف ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ آج لکھنؤ کی فضا غیر معمولی طور پر خاموش ہے۔ ندوۃ العلماء کے در و دیوار جیسے پہلی مرتبہ اپنی تنہائی کا ماتم کر رہے ہوں۔ وہ راہداریاں جنہوں نے برسوں ایک استاد کے قدموں کی چاپ سنی، آج اپنے ہی سناٹے سے خوف زدہ ہیں۔ وہ درس گاہیں جہاں کبھی حدیث کے موتی بکھرتے تھے، آج یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی دیواریں بھی آہستہ آہستہ رو رہی ہوں۔ کتابیں بند نہیں ہوئیں، مگر ہر صفحہ کسی بچھڑے ہوئے ہاتھ کی حرارت ڈھونڈ رہا ہے۔ قلم خشک نہیں ہوا، مگر اس کی سیاہی میں پہلی مرتبہ آنسو گھل گئے ہیں۔ اے موت ! آج ذرا خاموش رہنا۔ اپنی فتح کا اعلان مت کرنا، کیونکہ تم ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر دھوکے میں ہو۔ تم جسم کو اپنے ساتھ لے جاسکتی ہو، علم کو نہیں۔ تم سانس روک سکتی ہو، فکر کو نہیں۔ تم آنکھیں بند کرسکتی ہو، بصیرت کو نہیں۔ تم قبر بنا سکتی ہو، مگر کردار کو دفن نہیں کرسکتی۔ تمہاری حکومت مٹی تک ہے، یادوں تک نہیں، اور اہلِ علم کی اصل زندگی یادوں، کردار اور علم میں ہوتی ہے۔ مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ صرف ایک نام نہیں تھے، وہ ایک عہد تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو صرف کتابیں نہیں پڑھتے بلکہ زمانے کو پڑھتے تھے، صرف درس نہیں دیتے تھے بلکہ سوچنے کا سلیقہ عطا کرتے تھے۔ قرآن ان کے سینے میں تھا، حدیث ان کی زبان پر تھی، اور امت کا درد ان کے دل میں دھڑکتا تھا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی علم کے چراغ جلانے میں گزار دی۔ ان کے قلم میں استدلال بھی تھا، محبت بھی، اختلاف بھی اور اخلاص بھی۔ وہ علی میاںؒ کے خانوادے کی خوشبو تھے، اسی ندوہ کی مٹی سے اٹھے، اسی ندوہ میں جوان ہوئے، وہیں شاگرد رہے، وہیں استاد بنے، اور وہیں ہزاروں ذہنوں کو علم کی روشنی عطا کی۔ پھر وقت نے ایک ایسا منظر بھی دکھایا جب ان کی راہیں اسی ادارے سے جدا ہوگئیں۔ کچھ لوگوں نے اسے ریٹائرمنٹ کہا، کچھ نے اختلافات کا نتیجہ سمجھا، مگر تاریخ صرف سرکاری فائلیں نہیں پڑھتی، تاریخ آنکھوں کی نمی بھی محفوظ رکھتی ہے۔ اہلِ علم کا قد عہدوں سے ناپا نہیں جاتا، ان کے اثرات سے پہچانا جاتا ہے۔ کرسی چھن سکتی ہے، مگر علم نہیں۔ دفتر بند ہوسکتا ہے، مگر درس نہیں۔ ادارے فاصلے پیدا کرسکتے ہیں، مگر شاگردوں کے دلوں سے استاد کو کوئی جدا نہیں کرسکتا۔ زندگی نے ان کے حصے میں صرف محبت نہیں لکھی تھی، اختلاف بھی لکھا، تنقید بھی لکھی، تنہائی بھی لکھی، مگر شاید یہی بڑے لوگوں کی قسمت ہوتی ہے۔ قبرستان میں سوئے ہوئے لوگوں سے کوئی اختلاف نہیں کرتا، زمانہ ہمیشہ زندہ ذہنوں سے لڑتا ہے۔ بڑے درختوں پر ہی سب سے زیادہ پتھر پھینکے جاتے ہیں، کیونکہ وہی سب سے زیادہ سایہ دیتے ہیں۔ یہ دنیا بھی کتنی عجیب محبوبہ ہے۔ جب تک انسان کے ہاتھ میں اختیار ہو، وہ اس کے گرد پروانوں کی طرح منڈلاتی رہتی ہے، اور جب وقت بدلتا ہے تو نظریں چرا لیتی ہے، پھر موت کے بعد اسی کے قصیدے لکھتی ہے، اسی کے اقوال نقل کرتی ہے، اسی کے جنازے میں آنسو بہاتی ہے۔ کاش ! انسان اپنے محسنوں کی قدر اس وقت بھی کرلیا کرے جب وہ زندہ ہوں، کیونکہ مرنے والوں کو پھول نہیں، زندوں کو محبت چاہیے ہوتی ہے۔ آج اگر کوئی سب سے زیادہ رو رہا ہے تو شاید وہ شاگرد ہیں جنہوں نے استاد کی شفقت دیکھی تھی، وہ کتابیں ہیں جن پر ان کی انگلیوں کے نشان باقی ہیں، وہ قلم ہے جو برسوں ان کے ہاتھ میں رقص کرتا رہا، وہ میز ہے جس پر ادھوری تحریریں آج بھی اپنے مصنف کی واپسی کا انتظار کر رہی ہوں، اور شاید وقت بھی رو رہا ہے، کیونکہ وقت جانتا ہے کہ ہر صدی میں ایسے لوگ بار بار پیدا نہیں ہوتے۔ دل چاہتا ہے کہ سورج سے کہا جائے آج کچھ دیر نہ نکلے، پرندوں سے کہا جائے آج اپنے نغمے خاموش رکھو، گھڑی سے کہا جائے آج چند لمحے رک جا، کیونکہ ایک ایسا آدمی رخصت ہوا ہے جس کے جانے سے صرف ایک گھر نہیں، ایک علمی دنیا یتیم ہوگئی ہے۔ مگر پھر ایمان آہستہ سے دل کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور کہتا ہے۔ غم کرو، مگر ناامید نہ ہو۔ جدائی محسوس کرو، مگر یہ نہ سمجھو کہ سب کچھ ختم ہوگیا۔ اہلِ ایمان کے لیے موت اختتام نہیں، ایک سفر ہے۔ ایک دروازہ ہے۔ ایک ملاقات ہے۔ شاید اس دروازے کے اُس پار ان کے اساتذہ، ان کے بزرگ، ان کے والدین اور ان کے محبوب لوگ مسکراتے ہوئے استقبال کر رہے ہوں۔ وہاں نہ اختلاف ہوگا، نہ الزام، نہ منصب کی کشمکش، نہ دنیا کی گرد۔ وہاں صرف رحمت ہوگی، صرف سکون ہوگا، صرف وہ رب ہوگا جس کی رضا کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کردی۔ اے موت ! تم ایک بار پھر ہار گئی ہو۔ تم نے ایک جسم کو خاموش کیا ہے، مگر ایک آواز کو ہمیشہ کے لیے زندہ کردیا۔ تم نے ایک دل کی دھڑکن روکی ہے، مگر ہزاروں دلوں میں علم کی دھڑکن پیدا کردی۔ تم نے ایک انسان کو مٹی کے سپرد کیا ہے، مگر اس کی فکر کو زمانے کے سپرد کردیا ہے۔ وہ چلے گئے۔ مگر علم ابھی زندہ ہے۔ وہ چلے گئے۔ مگر ان کے شاگرد ابھی زندہ ہیں۔ وہ چلے گئے۔ مگر ان کی کتابیں ابھی زندہ ہیں۔ وہ چلے گئے۔ مگر ان کی دعائیں، ان کی مسکراہٹ، ان کی نصیحتیں اور ان کی یادیں ابھی زندہ ہیں۔ اصل موت جسم کی نہیں ہوتی، اصل موت تب ہوتی ہے جب انسان کو یاد کرنے والا کوئی باقی نہ رہے، اور مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہیں وقت مٹا نہیں سکتا، کیونکہ انہوں نے اپنی عمر کاغذ پر نہیں، دلوں پر لکھی تھی۔ اللّٰہم اغفر لہ وارحمہ، وعافہ واعف عنہ، واجعل قبرہ روضۃً من ریاض الجنۃ، وارفع درجاتہ فی علیین، واجزہ عن الإسلام والمسلمین خیر الجزاء۔ آمین!
0 تبصرے