Ticker

6/recent/ticker-posts

اردو نثر کا ارتقاء | اردو نثر کا آغاز اور ابتدائی نقوش | اردو کی پہلی نثری داستان

اردو نثر کا آغاز و ارتقاء | اردو میں داستان نگاری کا ارتقا

سوال : اردو نثر کا ارتقاء کے مرحلے کا ایک مختصر
جائزہ پیش کیجئے ۔
يا " اردو نثر کی ارتقائی تاریخ کا سلسلہ وار جائنزہ لیجئے ۔
جواب: اردو نثر کا اعلی ارتقاء شاعری کے مقابلے میں بعد میں ہوا۔ جب اردو دکن میں کھیلی اور وہاں شمالی ہند سے عالم ، صوفی ، تاجر، فوجی، سرکاری عمال پہنچے اور آباد ہو گئے ۔ اگر چہ وہاں پندرہویں صدی عیسوی میں سرکاری طور پر شمالی ہند کی طرح فارسی کا رواج تھا۔ لیکن عام بول چال کی زبان ارد ہی بنی تھی ۔

اردو نثر کی سب سے پہلی کتاب معراج العاشقین ہے ۔ جس کے مصنف سید بندہ نواز گیسو دراز تھے

اس سلسلہ میں اردو نثر کی سب سے پہلی کتاب معراج العاشقین ہے ۔ جس کے مصنف سید بندہ نواز گیسو دراز تھے ۔ ان کی زبان مشکل اور مطالب گہرے ہیں جو مذہبی اور روحانی جذبے کی تکمیل کے لئے لکھی گئی تھی ۔

ملاوجہی نے 1635ء میں اپنی مشہور کتاب سب رس لکھی

جب بیجاپور اور گولکنڈہ کے عادل شاہی اور قطب شاہی بادشاہوں نے اردو کی سرپرستی شروع کی تو اس کی ترقی غیرمعمولی ہوئی ۔ دکن کے مشہور شاعر ملاوجہی جو گولکنڈہ کے رہنے والے تھے نثر کی طرف متوجہ ہوئے 1635ء میں انہوں نے اپنی مشہور کتاب ’’سب رس ‘‘لکھی جس میں اخلاقی اور ڈوفیانہ مسائل ایک تمثیلی قصے کی شکل میں بیان کئے گئے ہیں ۔ اس کی تصنیف کی زبان مقفی ہے ۔

شمالی ہند کے نثری ادب میں، میرجعفرزٹلی کے دیوان، نقلی کا ’’وہ مجلس ‘‘ ’’ کر بل کتھا ‘‘ میر عطاحسین خان تحسین کی نوطرز مصع ملتی ہے

دکن کے بعد جب ہم شمالی ہند کے نثری ادب کا جائزہ لیتے ہیں توکچھ نشری عبارتیں میر جعفر زٹلی کے دیوان میں ملتی ہیں لیکن پہلا اہم نام نقلی کا ہے جنہوں نے ’’وہ مجلس ‘‘ یا کر بل کتھا‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ۔ اس کے بعد 1785ء کے قریب میرعطاحسین خان تحسین کی نوطرز مصع ملتی ہے ۔ اس کی اہمیت ط ار دونثر کی تاریخ میں مسلم ہے ۔ کیونکہ اسے ہم نشر کی پہلی خالص ادبی تصنیف کہہ سکتے ہیں اسی کے قریب ترین زمانہ میں مولانا محمد رفیع اور مولانا عبدالقادر نے قرآن شریف کے ترجمے بھی کئے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اردو میں لوگ ہرطرح کی چیزی پڑھنے میں ماہر تھے ۔

میر امن دہلوی نے باغ و بہار لکھی جو اردو کی مقبول ترین نشری داستان ہے

انیسویں صدی کی ابتداء میں اردو زبان ہندوستان میں عام ہوئی تھی۔ یہ زبان ملک کی مشترکہ کاروبار کی زبان بھی ۔ شاید اسی خیال سے ۱۸۰۰ء میں فورٹ ولیم کالج کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا ، جس کے بانی ڈاک میان گلکرائسٹ تھے ۔ وہ اردو کے ایک بڑے عالم تھے ۔ انہوں نے اپنی نگرانی میں بہت سی درسی کتابیں تیار کرائی ۔ میرامن دہلوی نے باغ و بہار لکھی جو اردو کی مقبول ترین نشری داستان ہے ۔ اس کے علاوہ فورٹ ولیم کالج سے شائع ہونے والی دوسری قابل قدر کتابیں حاتم طائی قصہ آرائش محفل، کالی داس کے مشہور شکنتلا نانک کو ار دو میں منتقل کیا گیا۔ اس کالج کے باہر سید انشاء اللہ خاں انشاء کی دوکتابیں رانی کیتکی اور کنورادئےلے بھان بہترین نثری تخلیق ہیں ۔

مرزا رجب علی بیگ سرور نے فسانۂ عجاب لکھی یہ ایک دلچسپ مافوق الفطری قصہ یا داستان ہے

۱۸۲۴ء میں لکھنؤ میں مرزا رجب علی بیگ سرور نے فسانۂ عجاب لکھی۔ جو شہرت فسانۂ عجائب کو نصیب ہوئی وہ اردو کے چند ہی کتابوں کو نصیب ہوئی ہے۔ یہ ایک دلچسپ مافوق الفطری قصہ ہے جس میں جادو ، طلسم اور دلوپری وغیرہ کے تذکرے ہیں ۔
۱۸۴۲ء میں دہلی کالج میں ایک ورناکیولر ٹرانسمیشن سوسائٹی قائم ہوئی جس نے سینکڑوں کتابوں کا ترجمہ اردو میں کیا ۔ اس طرح اس سوسائٹی کے ذریعہ سائنس ، جغرافیہ ، تاریخ ، ریاضی جیسے موضوعات پر کتابیں ترتیب دی گئی ۔
اس زمانہ کی سب سے اہم بات مرزا غالب کی نثری کاوشیں ہیں ۔ انہوں نے جو مکتوبات تحریر کی ہے ۔ وہ رنگین ، شگفتہ ، مفید اور خوبصورت ادبی سرمایہ ہے۔ جس پر اردو ادب کو ناز ہے ۔
اردو نثر کی تاریخ میں قومی ، سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی کے تبدیلیوں کے اثرات بھی نمایاں طور سے نظر آتے ہیں ۔ ۱۸۵۷ء کے انقلاب کے بعد جب ہندوستان کی سیاسی تعلیمی اور معاشی نظام میں تبدیلی واقعہ ہوئی۔ اردو نثر پراس کا گہرا اثر پڑا۔ ۱۸۳۵ ء میں اردو سرکاری زبان بن گئی تھی ۔ اس لئے اخبار و رسائل اور سماجی زندگی کے جملہ فروریات کی تکمیل اس زبان کے نثری تحریر کے ذریعہ ہونے لگی ۔


جدید اردو نثر کا عہد زریں سرسید احمد خاں کے زمانہ کو کہا جاتا ہے

جدید اردو نثر کا عہد زریں سرسید احمد خاں کے زمانہ کو کہا جاتا ہے ۔ اس زمانہ میں سوانح عمری ، تنقید ،ناول ، انشاء ، تاریخ و غیره موضوعات پر بہترین تصانیف پیش کی گئی ۔ آج اردو نثر کا سرمایہ بہت وسیع ہوچکا ہے ۔ علم و سائنس کے تمام موضوعات اردو نثر میں موجود ہیں۔

اور پڑھیں 👇

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے