Ticker

6/recent/ticker-posts

الیاس احمد گدی کے ناول : فائر ایریا کا خلاصہ Fire Area Iliyas Ahmad Gaddi Ke Novel Ka Khulasa

فائر ایریا : الیاس احمد گدی کے ناول کا خلاصہ Fire Area Iliyas Ahmad Gaddi Ke Novel Ka Khulasa

ناول فائر ایریا کا خلاصہ مصنف : الیاس احمد
ناول فائر ایریا کے مصنف الیاس احمد گدی ہیں۔ ناول فائر ایریا کی اشاعت ١٩٩٤ میں ہوئی تھی۔ناول فائر ایریا میں الیاس احمد گدی نے غربت کےمارے ہوئے مزدوروں اور محنت کش لوگوں کا حال بیان کیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا گاؤں، شہر، گھر اور پریوار چھوڑ کر دور دراز کے علاقوں میں جا کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔انہیں مزدوروں کی زندگی اورمحنت کشی پر واقع اس ناول کی کہانی ہے۔ اس ناول میں یہ بتایا گیا ہے کہ جی توڑ محنت کے بعد بھی ملنے والی مزدوری کتنی معمولی ہوتی ہے کہ اس سے ان کا اور ان کےپریوار کاپیٹ نہیں بھرتاہے۔

ناول فائر ایریا کا مرکزی کردار

فائر ایریا ناول میں مرکزی کردار سہدیو نام کے مزدور کا ہے۔ سہدیو صرف دسویں تک پڑھائی لکھائی کی ہے۔سہدیو گاؤں اپنا گاؤں چھوڑ کر باہر کمانے کے لئےجا تا ہے۔اس طرح سے ناول کی کہانی آگے بڑھتی ہے۔

ناول فائر ایریا کا خلاصہ

الیاس احمد كا ناول فائر ایریا صرف تین ابواب پر مشتمل ہے۔اس کی کہانی میں اختصار کی خصویات پائی جاتی ہے۔

پہلا باب

فائر ایریا کے پہلے باب میں مصنف نے کول فیلڈ میں ہونے والے تمام واقعاتکاذکرکیاہے۔ لوٹ کھسوٹ اور نا انصافی کا ذکر کر کے کہانی میں جستجو پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

سہدیو کا گھر ست گانواں ضلع گیا میں ہے۔اس گھر میں وہ اپنے بھیا بھابھی کے علاوہ اس کا ایک بھتیجا لڈو کے ساتھ رہتا ہے۔
اِس گاؤں کا ایک باشندہ ننکو بہت پہلےہی سے جهريا دھنباد کے کول فیلڈ سرسا کولیری میں مزدوری کرتا تھا اور اپنے پریوار کی پرورشکرتا تھا۔ اس بار ننکو اپنے ساتھ گاؤں سے جگشیر، سہدیو، ودسادھ اور رسول پور گاؤں کے رہنے والے رحمت میاں کو بھی ساتھ لے جاتا ہے۔

گاؤں سے باہر کام کی تلاش میں جانے والے مزدوروں کے اس قافلے میں صرف سہدیو ہی دسویں پاس تھا اور باقی سبھی مزدور ان پڑھ تھے۔ جس دن سہدیو گاؤں سے دور کام کی تلاش میں جا رہا تھا اسے وہ صبح اور آس پاس کا ماحول سب کچھ مختلف اور اداس سا محسوس ہو رہا تھا۔ کیا معلوم کہ یہ اداسی گاؤں اور اپنوں سے بچھڑنے کے سبب تھی یا اپنی محبوبہ جلیا سے جدا ہو کر دور جانے کے سبب۔ لیکن جليا نے سہدیو کو یقین دلایا تھا کہ وہ گردھاری کے کنویں میں کود کر جان دے دینا پسند کرےگی لیکن کسی اور سے شادی نہیں کرے گی۔ جليا اور سہدیو کی محبت کے متعلق سہدیو کی بھابھی جی اچھی طرح سے جانتی بھی تھی اور انہوں نے سہدیو سے یہ وعدہ بھی کیاتھا کہ اس کےبارے میں مناسب موقع دیکھ کر سہدیو کے بھائی سے ضرور بات کرے گی۔

جهريا میں جن چھوٹے چھوٹے گھروں میں مزدور کرائے پر رہتے ہیں انہیں دھوڑا کہا جاتا ہے۔ سہدیو نے کولیری میں مزدوری کر کے پہلا ہفتہ اٹھایا ہی تھا کہ اپنی یونین کے دو تین بندوں کے ساتھ جوالا مصر چندے کی کٹوتی کے لئے آ کھڑا ہوا۔

لالو سادھ نے تو اس ہفتے سہدیو کو بچانے کی بھرپور کوشش کی مگر پھر بھی جوالا مصرنہیں مانا اور اس سے ایک روپیہ وصول کر ہی دم لیا۔ دھوڑا پہنچتے پہنچتے تین روپے اور خرچ ہو گئے تھے۔اس میں دو روپے مائنینگ سردار رام اوتار کے اور ایک روپیہ منشی کا تھا۔

سہدیو اور رحمت میاں دھوڑے میں ایک ہی ساتھ رہتے تھے۔

دھوڑے میں بہت دنوں تک ساتھ ساتھ رہتے ہوئے اور کولیری میں ساتھ کام کرنے کی وجہ سے سہدیو کی رحمت میاں سے کافی گہری دوستی ہو گئی تھی اور دونوں ایک دوسرے کے متعلق کافی کچھ معلومات حاصل کر چکے تھے۔ رحمت میاں نے بتایا کہ وہ گاؤں کے طاقتور زمینداروں کا ستایا ہوا بہت کمزور اور کم ہمت والا آدمی ہے۔ اس کی وجہ سے اب اس حالت میں اس سے محنت مشقت بامشکل ہی ہوا کرتی ہے۔سہدیو کو یہ سب دیکھ کر رحمت میاں پر بڑا ترس آتا ہے۔سہدیو نے اس سلسلے میں مائینینگ سردار سے بات بھی کی کہ وہ رحمت میاں کو آسان کاموں میں لگائے اور اس کے حصّے کا محنت والا بھاری کام میں کر دیا کرونگا۔ مائیننگ سردار بہت منانے کے بعد ہی سہی لیکن اس بات پر راضی ہو جاتا ہے۔

ایک روز کی بات ہے۔ مزدوروں کوتنخواہ ملنا تھا کہ اسی دن کالا چند کی وجہ سے سہدیو اور کپل سنگھ کے آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہو جاتا ہے۔ننکو نے کسی طرح سے بیچ بچاؤ کر کے اس جھگڑے کوختم کیا اور سہدیو کو دوسروں کے معاملے میں دوبارہ نہ پڑنے کی کو نصیحت بھی کی۔

جب رحمت میاں آٹھ مہینے بعد چھٹی لے کر اپنے گاؤں رسول پور جانے لگا تو سہدیو نے بھی کچھ چیزیں رحمت میاں کے ذریعے اپنے بھیا بھابھی کے لئے بھیجی۔ رحمت کے گھر میں رحمت کی بیوی ختونیا کے ساتھ بیٹا عرفان اور بوڑھا باپ بھی رہتا تھا۔ جب رحمت میاں کولیری واپس پہنچا تو اس نے سہدیو کو جليا کی شادی کی خبر سنائی۔ سہدیو کو یہ خبر سننے کے بعد اپنے اندر کچھ خالی خالی سا محسوس ہوا۔ سہدیو کپل سنگھ کے آدمیوں کے ساتھ جھگڑے کی وجہ سے کولیری میں بہت مشہور ہو گیا تھا۔سہدیو کی اسی سلسلے میں ایک دو بار مجمدار بابو سے بھی گفتگو ہوئی۔ مجمدار کتابیں پڑھنے کا بہت شوقین تھا اور کولیری کے اندھیرے میں ہونے والے ظلم و جرم اور نا انصافیوں سے پردہ اٹھانا چاہتا تھا۔ سہدیو کے دسویں پاس ہونے سے مجمدار کافی متاثر ہوا۔اب کام کے بعد سہدیو کا زیادہ تر وقت مجمدار صاحب کے گھر پر ہی گزرنے لگا۔ ہر مشکل میں مجمدار سہدیو کے کام آنے لگا تھا۔

اس کولیری میں سہدیو کو آئے ہوئے پورے دو سال گزر چکے تھے۔ لیکن اب تک وہ ایک بار بھی اپنے گھر چھٹی لے کر نہیں گیا تھا۔ اس کا دل گاؤں سے اب پوری طرح سے اچاٹ ہو گیا تھا۔ شاید اس کی وجہ جليا کی شادی رہی ہوگی۔ وقت گذرتا گیا اور سہدیو نے بھیا بھابھی کی چٹھیوں کا جواب دینا بھی بند کر دیا ۔اس بات سے پریشان ہو کر اس کے بھیا کولیری تک آ گئے اور حاضری بابو سے بات کر کے سہدیو کو زبردستی پندرہ دنوں کی چھٹی پر گاؤں لے گئے۔ بھابھی سے سہدیو نے جليا کے بارے میں پوچھا تو بھابھی نے یہ ساری باتیں بتائی کہ اس کے بھیا نے ان کے گھر والوں سے تمہارے رشتے کی بات کی تھی لیکن وہ لوگ ذات اور گوتر میں ہم سے بڑے تھے اس لئے انہوں نے رشتے سے انکار کر دیا۔

سہدیو کے دوست رحمت میاں نے سہدیو کے گھر لوٹتے وقت اپنے گھر والوں کے لیے کچھ چیزیں بھیجی تھی ۔سہدیو رحمت کے گھر رسول پور پیسے اور بچے کے کھلونے دینے جاتا ہے۔وہاں پر اس کی ملاقات رحمتِ کی بیوی ختونیا، عرفان اور رحمت کے باپ سے ہوتی ہے۔ اس بار گاؤں میں سہدیو کا دل بلکل نہیں لگا اور وہ بہت مشکل سے صرف تیرہ دن ہی گاؤں میں ٹھہر سکا اور چھٹی ختم ہونے سے قبل ہی کولیری چلا گیا۔ اس بار اسے کولیری کا ماحول بھی بڑا خاموش اور کھویا ہوا سا لگا جیسے ہر طرف اک گہری اداسی چھائی ہو اور جیسے سب کچھ اس سے نظریں چرا رہے ہوں۔ ننكو نے اسے ایک اور بری خبر سنائی کہ رحمت میاں تین دنوں سے لا پتہ ہے۔ شاید زیادہ کام کے ڈر سے چھپے ہوئے تھے یا کسی عورت کے ساتھ بھاگ گئے ہیں۔

سہدیو کے دل میں بار بار یہ خیال پیدا ہوا کہ رحمت میاں جیسا سیدھا آدمی پوری کولیری میں نہیں ہے اس لئے رحمت ایسا کام نہیں کر سکتا ہے۔ سہدیو کو ختونیا اور عرفان کا خیال بھی آیا۔ سہدیو نے اس کے تعلق سے مجمدار سے بھی بات کی۔ مجمدار نے سہدیو سے کہا کہ حاضری بابو سے بات کرتے ہیں۔ اگر رحمت کولیری سے نکلا ہے تو اس کے دستخط حاضری بابو کے کھاتے میں ضرور موجود ہونے چاہیے۔ سہدیو جب مجمدار کے گھر سے نکلا تو اسے نشے کی حالت میں کالا چند مل گیا۔ کالا چند نے سہدیو کو یہ بری خبر سنائی کہ اسے مدنا باؤری سے معلوم ہوا ہے کہ رحمت اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔

یہ خاص طور سے نشے میں مدنا نے کالا چند کو بتائی تھی۔ مدنا چار دنوں سے سو نہیں پایا تھا اس لیے کہ کوئیلری کے چھت سے کوئلے کا بڑا ٹکڑا رحمت میاں کے اوپر گرنے کے وقت وہ وہیں موجود تھا مگر رام اوتار نے اسے یہ بات کسی کو بتانے سے صاف صاف منع کر دیا دیا تھا۔ چار دن خوف اور نشے کی حالت میں بتانے کے بعد مدنا نے اپنے دل کا بوجھ کالا چند کے آگے بے خیالی میں اتار لیا۔ اور کالا چند بھی زیادہ وقت یہ بوجھ اپنے دل پر نہ رکھ سکا۔ اس نے بھی اس راز کو سہدیو کے آگے کھول ہی دیا۔ سہدیو یہ بری خبر سننے کر سیدھا مدنا کے پاس چلا گیا۔ مدنا نے اسے ساری بات تفصیل سے بتائی مگر کپل سنگھ کے ڈر سے گواہی دینے سے صاف انکار کر دیتا ہے اور صبح سویرے ہی چپکے سے اپنے سامان اور بچوں کے ساتھ گھر چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔

رام اوتار سے مل کر سہدیو نے بھی رحمت میاں کے بارے میں سچائی معلوم کرنی چاہی لیکن رام اوتار نے اسے دھمکا دیا اور خاموش کروا دیا۔ سہدیو نے فیصلہ کیا کہ وہ اس معاملے کو اتنی آسانی سے جانے نہیں دے گا۔ سہدیو نے مجمدار کو سارا حال بیان کیا کہ وہ یہ معاملہ یونین کے آگے رکھ دے۔ مجمدار نے اسے ایک خفیہ بات بتائی کہ یونین مزدوروں کے حق میں نہیں بلکہ صاحب اور بابو لوگوں کے اشاروں پر ناچتی کٹھپوتلی ہے۔ مجمدار کی مدد سے سہدیو نے ایک گمنام چٹھی لکھی اور مائیننگ ڈیپارٹمنٹ کو پوسٹ کر دی کہ شاید اس طرح سے سچ سامنے آجائے اور انکوائیری شروع ہو جائے۔ لیکن انکوائری تو شروع ہوئی پر بابو صاحب نے گواہ اپنی مرضی کے رکھ لئے اور بیان بھی مرضی سےہوا۔ سہدیو نے پکہ ارادہ کیا کہ کسی بھی قیمت پر وہ انسپکٹر کے سامنے گواہی دے کررہےگا۔ اس سے پہلے کہ گواہی ہوتی صاحب لوگوں نے سہدیو سے پہلے ہی سترنجی چال چل دی اور اس پر حملہ کروا دیا۔جب مجمدار نے سہدیو کی مدد کرتے ہوئے گواہی دینے کی کوشش کی تو کپل سنگھ کے آدمی اسے مارتے پیٹتے ساتھ لے گئے اور اس کی نوکری بھی چلی گئی۔ اس طرح ناول فائر ایریا کا پہلا باب اپنے اختتام کو پہنچا۔

ناول فائر ایریا کا خلاصہ

دوسرا باب
دوسرے باب کے آغاز میں ہندوستان آزاد ہو چکا تھا، لیکن پھر بھی موہنا کولیری کے انگریز سی ایم ای سمال صاحب اپنی ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دیتے تھے۔ وہ اکلوتے افسر تھے، جو اب بھی گھوڑے پر سوار ہو کر کولیری آتے۔ وائٹ صاحب کے پاس فورٹین تھی۔ سمال نے اصغر خان کے بھتیجے کو گالی دی تھی۔ اصغر خان پٹھان دنگل کا مکھیا انعام الخان کا دایاں ہاتھ تھا۔ اصغر خان نے اپنے بھتیجے کا بدلہ لینے کو سمال صاحب کو گھوڑے سے گھسیٹ کر نیچے اتارا، جس کی وجہ سے سمال نے کافی بے عزتی محسوس کی اور اپنے عہدے سے استفعی دے دیا۔

وائٹ صاحب نے سمال کو ٹھنڈا کرنے کی بہت کوشش کی لیکن سمال نہیں مانا۔ وائٹ نے انعام الخان سے بھی بات کی لیکن وہاں سے بھی کچھ بات بنتی نظر نہ آئی۔ جب مجمدار کی نوکری موہنا کولیری میں پکّی ہو گئی تو اس نے سہدیو کو بھی یہاں بلوا لیا اور نوکری مل جانے والی خصوصیات اسے ازبر کروا دیں۔ سمال صاحب کے استعفیٰ سے گھوشال بابو بڑے خوش تھے کیوں کہ انہیں انگریزوں سے نفرت تھی۔ وائٹ، سمال اور لوکس بنگلے پر منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ انعام الخان بھی چلا آیا۔انعام الخان نے افسروں کو خوش کرنے کی کوشش میں اصغر خان کی طرف سے معافی بھی مانگی لیکن برف زیادہ پگھلی نہیں۔

ائی این ٹی یوسی والوں نے جب دیکھا کہ کمپنی اور انعام الخان کے بیچ معاملے خراب ہو رہے ہیں تو انہوں نے خفیہ طور پر اپنے ممبر بڑھانے کی کوشش تیز کر دی۔ لالہ دیپ نارائن کی قیادت میں سہدیو سمیت ائی این ٹی یوسی کے چھے لوگوں کا وفد انعام الخان پر غم و غصّہ ظاہر کرنے لوکس کے بنگلے پر پہنچا۔ لوکس نے انہیں ممبر بنانے کی اجازت دے دی اور کہا ہفتہ دس دن بعد نیا سی ایم ائی آجائے گا، تو ایک جلسہ کر کے اپنے لیڈر پی این ورما کو بلائیے اور ایک گرم بھاشن دیجیے۔ انعام الخان کے تابوت میں آخری کیل ہم ٹھونکے گے۔ مجمدار بھی اسی کولیری میں تھا مگر اس کے ممبر ٢٥،٣٠ سے زیادہ نہیں تھے۔سہدیو کو لیڈری کا شوق نہیں تھا مگر وہ تبدیلی کے لئے اس یونین کا حصّہ بنا تھا۔

آفس کے لوگوں اور پی این ورما کے بیچ کھچڑی پکی اور پی این ورما نے بظاھر مزدوروں کا ساتھی بن کر ایک جلسے کے بعد مزدوروں کی تنخوا بڑھوا دی۔ اس تبدیلی پر مزدور کافی خوش ہوئے اور اس یونین کو اپنا ساتھی مان کر اس میں شمولیت شروع کر دی۔ مگر سہدیو کو احساس ہو چکا تھا کہ کول فیلڈ میں سچ کہیں بھی نہیں ہے۔ انعام الخان اس نئی یونین میں مزدوروں کی شمولیت پر تنفر کا شکار تھا اور اب حالات ایسے تھے کہ دونوں یونین میں ٹکراؤ لازم تھا۔ یہ سچ بھی ہوا اور دونوں یونین میں مدبھیڑ ہو گئی۔ اور رات کے کسی وقت نئی یونین کے دو آدمیوں کا قتل ہو گیا۔ پی این ورما نے یہ الزام انعام الخان اور اصغر خان وغیرہ پر لگا کر انہیں جیل کروا دی۔ پٹھان دنگل رو پوش ہو گیا۔

اتوار کے روز مجمدار اپنی منہ بولی ابهاگن بہن پرتی بالا سے ملنے گیا تو ساتھ میں سہدیو کو بھی لے گیا۔ ناجانے سہدیو کے من میں کیا سمائی کہ اس نے مجمدار سے بات کر کے پرتی بالا سے شادی کرلی۔ ڈیڑھ ماہ بعد سہدیو کا بھائی آیا تو ابهاگن سے شادی کرنے پر کافی برہم ہوا۔ لیکن سہدیو کے سمجھاؤ بجھاؤ کے بعد دونوں کو گاؤں لیتا آیا۔ گاؤں آنے کے بعد سہدیو کی بھابھی نے انکی خوب خدمت کی اور ان کی اس خدمت کرنے کا چکّر جلد ہی سمجھ آگیا، جب سہدیو کے بھائی نے اسے اسکی گاؤں کی زمین لڈو کے نام کرنے کا کہا۔ پرتی بالا جو پہلے ہی گاؤں والوں کے طعنوں سے سخت نالاں تھی۔ اس نے سہدیو سے پہلے ہی حامی بھر دی اور وہ گاؤں سے چلے آئے۔

سہدیو جوناشن کے ساتھ جهريا گیا تو چائے کی دکان پر اسے ختونیا ملی، جس سے باتوں میں معلوم ہوا کہ وہ اب چھ سال سے یہاں ہی کوئلہ بیچ کر اپنا گزارا کر رہی ہے۔ اور عرفان کو یہاں ہی اسکول میں لگایا ہوا ہے۔ اب عرفان بھی کافی بڑا ہوگیا ہے اور ماں کو کوئلہ بیچنے سے منع کرتا ہے۔جب ختونیا سہدیو کے گھر آئی تو اس نے بتایا کہ شروع شروع میں اس نے رحمت کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی پھر آہستہ آہستہ اسے سب خبر لگ گئی اور جو کچھ رحمت کے معاملے میں پڑنے پر سہدیو کے ساتھ ہوا وہ بھی پتہ لگ گیا۔ سہدیو جو ختونیا سے اتنے عرصے اس لئے نہیں ملا تھا کہ اگر اس نے رحمت کے بارے کوئی سوال کیا تو وہ کیا جواب دے گا۔ ختونیا سے یہ سب سن کر اس نے سکون کی سانس لی کہ اس سے کوئی جواب طلبی نہیں ہوئی۔

پی این ورما اب کافی بڑا لیڈر بن چکا تھا۔ اب پچاسوں کولیری تک اسکا جھنڈا لہرا رہا تھا، اب اس کے پاس وقت نہیں تھا اس لئے اس نے ہر کولیری میں اپنے نمائندے چھوڑ رکھے تھے۔ لالہ دیپ نارائن کی بیوی نے بستر سے لگے ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کے لئے سہدیو سے مدد مانگنے کی کوشش کی کہ انہیں کوئی کام دلوا دے۔ سہدیو نے بچوں کی کم عمری کی وجہ سے کہا کہ وہ یونین سے بات کرے گا۔ لالہ کی بیوی نے کہا کونسی یونین جو مزدور کی ہے ہی نہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ لالہ کا قتل انعام الخان نے نہیں پی این ورما نے کروایا تھا کیوں کہ قتل ہوتے وقت اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، پر بچوں کی جان بچانے کی خاطر وہ چپ رہی۔

لالہ دیپ کی بیوی سے مل کر سہدیو گھر آیا تو اسے پی این ورما کا آدمی بلانے آیا۔ سہدیو نے جانے سے انکار کر دیا۔پھر وائٹ صاحب کا سہدیو کو بلاوا آگیا۔ وائٹ صاحب نے اسے ورما سے ملنے اور اسکی یونین کے لئے کام کرنے کو کہا لیکن سہدیو نے منع کر دیا۔وائٹ صاحب نے اس کا انکار سن کر اس کے خلاف جھوٹے الزاموں کی چارج شیٹ جاری کر دی اور اسے کہا کہ ورما کے لئے کام کر لو تو یہ الزامات ختم ہو سکتے ہیں مگر وہ نہ مانا اور نتیجہ یہ نکلا کہ اسکی نوکری چلی گئی۔

آمدنی کا ذریعہ بند ہوا تو سہدیو پینے کا عادی ہو گیا۔ ایک دن نشے کی حالت میں اس نے بھرے بازار میں اس راز سے پردہ اٹھا دیا کہ لالہ دیپ کو انعام الخان نے نہیں پی این ورما نے مروایا تھا۔ یہ سن کر پی این ورما کے آدمیوں نے اسے اتنا مارا کہ وہ تین چار ماہ اٹھنے کے قابل نہیں رہا۔ کواٹر سے کمپنی والوں نے اسکا سامان نکال کر باہر پھینک دیا۔ ختونیا کو خبر ملی تو وہ سہدیو اور اس کے سامان کو اپنے گھر لے گئی اور اسکا علاج کروایا۔عرفان اب بڑا ہو چکا تھا اور چاس نالہ کولیری میں کام کیا کرتا تھا۔ بیماری کے اس وقت میں عرفان نے بھی سہدیو کی بہت خدمت کی۔ عرفان مجمدار کے پاس زیادہ آنے جانے لگا تھا۔ مجمدار نے اسی کے زریعے سہدیو کو پیغام بھجوایا کہ پتھر کھیڑا کولیری اک چھوٹی کولیری ہے، اسکا مالک بنیا ہے، وہ پورا اسٹاف نہیں رکھ سکتا مگر اسے ایک مائیننگ سردار کی ضرورت ہے۔ جو حاضری بنائے اور دستخط کرے۔ سہدیو کے پی ایف کے پیسے بھی ختم ہو گئے تھے، اس لئے اس نے اس نوکری کی حامی بھر لی۔ اب مجمدار کے ساتھ بھی پچاس ہزار لوگ جڑ چکے تھے، اسی لئے وہ سہدیو سے ملنے کم ہی آتا تھا، مگر اس نے سہدیو کے بار بار مار کھانے کے باوجود انسانیت نہ چھوڑنے پر داد دی تھی۔ اسی دوران اندرا گاندھی نے تمام کولیری کو نیشنلائز کر دیا اور اسی کے ساتھ ناول کا دوسرا باب اختتام پذیر ہوگیا۔

تیسرا باب
تیسرے باب کے آغاز میں کولیریا نیشنلائیز ہونے کے بعد سہدیو کو بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سہدیو کا نام کھاتے میں ضرور موجود تھا، مگر اسکے نام کا پی ایف جمع نہیں ہوا۔ اس لئے اسکی نوکری پرمننٹ نہ ہو سکی۔ اس نے کافی بھاگ دوڑ کی کہ کسی طرح بات بن جائے مگر سب بے سود۔ کچھ لوگوں نے اسے مشورہ دیا کہ رشوت سے بات بن سکتی ہے، مگر رشوت دینے کو سہدیو راضی نہ ہوا۔ چھ مہینے سہدیو دفتروں میں دھکے کھا کھا کر تھک چکا تھا۔ کسی نے اسے مشورہ دیا کہ وہ نام بدل کر نوکری کر لے، مگر سہدیو اس پر بھی راضی نہ ہوا کہ یہ حرکت اسکے لئے سیدھی سیدھی گالی ہوگی۔

ایسے موقع پر اس کی ملاقات بھاردواج کے آدمی ست نارائن سے ہوئی۔ بھاردواج ایک ابھرتی ہوئی ہستی تھی، جو اپنا کام بندوق کی نال سے نكلوانا اچھے سے جانتی تھی۔ اس نے سہدیو سے وعدہ لیا کہ وہ سہدیو کا کام کر دے گا مگر بدلے میں سہدیو کو بھی اسکا کام کرنا ہوگا۔سہدیو نے اس کا کام کرنے کی حامی بھر لی۔ اور جو کام سہدیو اتنے عرصے میں نہ کر سکا وہ کام بھاردواج کی بندوق کی نال نے ١٥ منٹ میں کر دکھایا۔ پھر سہدیو کی نوکری تو لگ گئی، ساتھ ہی وہ ساری کولیری میں مشہور ہو گیا کہ سہدیو بھاردواج کا آدمی ہے۔

اب کولیری میں سہدیو کا الگ ہی دبدبہ تھا۔ اب کوئی بندہ بھی سہدیو سے پنگے لینے کی کوشش نہیں کرتا تھا، چاہے وہ آفس کا بندہ ہو یا مزدور۔ یہ فتح سہدیو کو بھی کافی اچھی لگ رہی تھی۔ اس لئے وہ ہر برائی پر پردہ ڈالے بهاردواج کے قریب ہوتا گیا۔ اسی دوران کولیری میں بهاردواج کی یونین آنے والی تھی تو سہدیو بھی اس کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہا تھا۔ اب تو سہدیو اپنی معاملہ فہمی اور عقل مندی کی وجہ سے آفسروں اور مزدوروں کا چہیتا بن گیا تھا۔

دهرما کولیری میں دلت مزدور سنگھ (بهاردواج کی یونین ) کا آفس کھل گیا۔ جشن بھی ہوا، سہدیو نے بھی تقریر کی، اب وہ آہستہ آہستہ لیڈر بننے لگا تھا۔ بهاردواج نے اب اسے کولیری سے نکال کر پارٹی آفس میں بٹھا دیا تھا، جہاں وہ سارے کیس خود دیکھتا اور مزدوروں کی فریاد سنتا۔

بھرت سنگھ بهاردواج کا بہت خاص آدمی تھا، اس نے بهاردواج کے کہنے پر ان گنت قتل کیے تھے۔ اس کے نام کتنی ہی ایف آئی آر کٹ چکی تھیں، مگر ہمیشہ پولیس اسے پکڑنے میں ناکام رہتی یا پھر لوگ جان چلے جانے کے ڈر سے گواہی دینے کو ہی نہیں مانتے تھے۔

مجمدار کی یونین میں اب ممبرز کی تعداد لاکھوں میں ہو چکی تھی۔ پر وہ اب سہدیو سے ناراض تھا کہ اس نے اپنے ضمیر کی سننا چھوڑ دی ہے۔ اور وہ غلط لوگوں کے پهندے میں پھنس گیا ہے اور ساتھ ہی ہر برائی سے اپنی آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا ہے۔ اک روز مجمدار بیمار پرتی بالا کو دیکھنے اس کے گھر آیا تو اس نے سہدیو کو احساس دلایا کہ وہ جانے انجانے میں جرم کی دنیا میں قدم رکھ چکا ہے۔ اب کہیں نہ کہیں وہ خود بھی ایک مجرم ہے۔ اب اس کے ہاتھوں پر بھی خون کے چھینٹے لگے ہیں، جو وہ دیکھ نہیں پا رہا ہے۔ مجمدار کی ان باتوں نے سہدیو پر گہرا اثر کیا اور وہ اب سوچتا رہتا کہ کیا سچ میں وہ غلط ہے؟
کیا وہ بھی ہتھیارا، قاتل ہے؟

ایک میلے میں چوہان کے چار گنڈوں نے کسی لڑائی میں بھرت سنگھ کو مار دیا۔ پولیس نے پانچ لوگوں کو گرفتار کیا جس میں ایک بے قصور شخص مجمدار کی یونین کا بندہ بھی تھا۔ بھرت سنگھ کے قتل کے بعد بهاردواج طیش میں آگیا اور اس نے فیصلہ لیا کہ چوہان کے ان بندوں کے ریلیز ہوتے ہی انہیں اڑا دیا جائے۔ جب مجمدار کو یہ خبر ملی تو اس نے کسی طرح ان کی ریلیز رکوا دی۔کیوں کہ اس میں اسکی یونین کا اک بےقصور مزدور بھی شامل تھا۔ بهاردواج کو جب مجمدار کے ریلیز رکوانے کا علم ہوا تو اس نے مجمدار کے گھر پہنچتے ہی اسکی گاڑی پر حملہ کروا دیا۔مجمدار بری طرح زخمی ہوا اور عرفان کے بازو میں گولی لگی۔ سہدیو مجمدار سے ملنے بھی نہیں جا سکتا تھا کیوں کہ وہ بھی بهاردواج کا آدمی تھا۔ جتنے روز مجمدار ہسپتال میں رہا، اتنے دن سہدیو پر کافی بھاری رہے۔ وہ روز ہسپتال فون کر کے مجمدار کی خیریت معلوم کرتا، مگر ایک ہی جواب ملتا کہ مجمدار کو ہوش نہیں آیا ہے۔ وہ روز اپنے ہاتھوں پر خون تلاشنے کی کوشش کرتا۔ اب روز اسکا ضمیر اسے روز کچوکے لگاتا۔

آخر کار غم کی خبر آگئی اور مجمدار اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ مجمدار کی موت کے بعد اسکی یونین کا جلوس نکلا۔ اتنا بڑا جلوس جتنا کبھی کسی نے نہ دیکھا نہ سنا، یہ جلوس عرفان کی سرپرستی میں نکلا تھا اور ان کی ایک ہی مانگ تھی۔
”قاتلوں کو پھانسی دو“
سہدیو کی نظر جلوس میں موجود جس شخص پر اب گئی وہ ختونیا تھی، اس کی آنکھوں میں آگ تھی، وہ بھی نعرے لگا رہی تھی۔ اب سہدیو کے پاس سوچنے کے لئے مزید کچھ نہ بچا تھا۔ آخر کار وہ بھی اپنے قدم بڑھا کر اس جلوس میں شامل ہو گیا اور اسی کے ساتھ ناول کے آخری باب اور ناول کا اختتام ہوگیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے