Ticker

6/recent/ticker-posts

جدید اردو تنقید کے آغاز و ارتقاء کا ایک مختصر جائزہ Jadeed Urdu Tanqeed Ka Aghaz o Irtiqa

جدید اردو تنقید کے آغاز و ارتقاء کا ایک مختصر جائزہ

اردو میں جدید تنقید کا نقطہ آغاز حالی کی تنقیدی تصنیف مقدمہ شعر و شاعری ہے۔ یہ دیوان حالی کا مقد مہ ہے۔ تنقیدی اعتبار سے اسے اتنی اہمیت حاصل ہوئی کہ اس مقدمے کو دیوان سے الگ کر کے شائع کیا گیا اور اب تک متعدد ایڈیشن شائع ہو کر منظر عام پر آچکے ہیں۔

صول تنقید پر پہلی کتاب مقدمہ شعر و شاعری

اصول تنقید پر یہ پہلی کتاب ہے جس میں حالی نے شاعری کی ماہیت، حیات اور سماج سے اس کے تعلق، اس کے لوازم، زبان کے مسائل، اردو شاعری کے اصناف سخن، ان کے عیوب و محاسن پر نہایت معقول، متوازن اور مفکرانہ بحث کی ہے۔اردو میں تنقید نگاری کے جدید امکانات کے فروغ اسی کے ذریعہ نمایاں ہوئے۔

حالی کے معاصرین میں شبلی نعمانی

حالی کے معاصرین میں شبلی نعمانی ہیں جنھوں نے تنقید و تحقیق کی روایتوں کو آگے بڑھانے میں حصہ لیا۔ شعر النجم، موازنہ انیس و دبیر، سوانح مولوی روم اور متعدد دیگر ادبی و تحقیقی مقالات انھوں نے تحریر کئے۔ان کے متبعین میں وحید الدین سلیم،امداد امام اثر اور مہدی افادی کا ذکر ہوتا ہے۔ اثر کی تنقیدی تصنیف ”کاشف الحقائق اور مہدی افادی کی ’’افادات مہدی“ کے ذریعہ تنقید جدید کی روایتوں کو استحکام ملا اور اسے آگے چل کر ڈاکٹر عبد الخالق، پروفیسر محمود شیرانی، سید مسعود حسن ادیب، حبیب الرحمن خان شیر وانی، ڈاکٹر زور اور سید سلیمان ندوی نے جلا بخشی۔ ان حضرات کی تنقیدی کاوشوں نے تنقید کے ساتھ ساتھ تحقیق کی روایت کو بھی آگے بڑھایا۔

پھر ۱۸۵۷ء کی ناکام جنگ آزادی کے بعد ہندوستانی تمدن پر انگریزوں کے اثرات تیزی سے بڑھنے لگے۔ مغربی ادبیات سے تعلق میں اضافہ ہوا۔ سر سید نے جدید تعلیم کے فروغ کے لئے جو کاوشیں کی تھیں ان کے اثرات سامنے آنے لگے۔ چنانچہ تنقید نگاری نے اس دور میں بھی ایک نئی کروٹ لی۔ سر عبد القادر، چکیست، عظمت اللہ خان، ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری اور عبد القادر سروری نے تنقید نگاری کے لئے نئے تقاضوں پر روشنی ڈالی۔ فراق اور مجنوں گورکھپوری نے تاثراتی تنقید کے میلان کی نشو و نما کی۔ ترقی پسند تحریک ۱۹۳۶ء میں شروع ہوئی تو تنقید نگاری کا ایک نیامزاج و اسلوب نمایاں ہوا۔ سجاد ظہیر، ڈاکٹر عبد العلیم، ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری، احتشام حسین وغیرہ نے ترقی پسند تنقید کی روایتوں کو مستحکم کیا۔ محمد حسین ادیب، آل احمد سرور، و قار عظیم اختر انصاری، عبادت بریلوی وغیرہ نے بھی تنقید کی ترقی پسندانہ روایتوں کو آگے بڑھایا۔ جدید تنقید میں مشرقی انداز اختیار کرنے والوں میں رشید احمد صدیقی نمایاں ہوۓ۔ مغربی طرز تنقید کی راہ پر چلنے والوں میں کلیم الدین احمد، ڈاکٹر عبد الطیف،اختر اور ینوی اہمیت رکھتے ہیں۔

۱۹۶۰کے آس پاس تنقید نگاری کے شعور کو ایک نئی جہت ملی۔ تنقید کو بھی تخلیقی عمل کے طور پر برتنے کی کاوشیں کی جانے لگیں۔ ادب اور افادیت ادب اور مقصدیت، ادب اور سماج کے مسائل سے ہٹ کر ادب کو ایک تخلیقی عمل تصور کرتے ہوۓ ایسی تنقید یں لکھی جانے لگیں جن میں واقعیت بھی تھی اور انسان کی باطنی اور داخلی کشمکش کا گہرا شعور بھی۔ تاریخی، عمرانی، نفسیاتی اور سماجی عوامل اور محرکات کی جستجو تنقید کے ذریعہ کی جانے لگی۔ خالص نفسیاتی انداز کی تنقید نگاری کے اہم نمائندہ شبیہ الحسن ہیں۔ وزیر آغا، شمس الرحمن فاروقی،احسن فاروقی، گیان چند جین، گوپی چند نار نگ، وہاب اشرفی، ممتاز شیر یں اور متعدد دیگر تنقید ی مزاج و اسلوب سے آشنا کیا۔ اسی دور مین داکٹر حسن، ڈاکٹر قمر رئیس اور بعض دیگر تنقید نگاروں نے تنقید کی ترقی پسند روایت کو آگے بڑھایا۔

اردو میں تنقید نگاری کے آغاز وارتقاء کے  اجمالی جائزے

اردو میں تنقید نگاری کے آغاز وارتقاء کے اس اجمالی جائزے سے وضاحت ہوتی ہے کہ اس ادبی صنف نے مختصر سی مدت میں تیزی کے ساتھ ترقی حاصل کی۔

حالی سے پہلے اردو میں تذکرہ نگاری

حالی سے پہلے اردو میں تذکرہ نگاری کی روایت تھی۔ ان تذکروں میں تنقید کا انداز برائے نام ہوتا تھا۔ اس نے ارتقائی مراحل طے کرنے شروع کئے تو عملی تنقید، تقابلی تنقید، تاثراتی، جمالیاتی تنقید، اشترا کی اور مارکسی -، اور تنقید، عمرانیاتی تنقید، نفسیاتی تنقید، ساختیاتی تنقید، اسلوبی تنقید کے مختلف ناز واند از منظر عام پر آنے لگے۔ادبی تخلیقات کی تفہیم و تقویم اور تنقید و تجزیہ کے نئے نئے امکانات نمایاں ہوۓ اور ادبی تنقید کے سایہ میں گرانقدراضافے ہونے لگے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے