Ticker

6/recent/ticker-posts

عظیم آباد سے شکوہ آباد کا ایک یادگار سفر

عظیم آباد سے شکوہ آباد کا ایک یادگار سفر

ریل کا سفر آسان بھی اور مشکل ترین بھی ہوتا ہے۔جتنا زیادہ خرچ کریں اتنا آسان، جتنا کم خرچ کریں اتنا مشکل ہوتا ہے۔لیکن ان دنوں کبھی کبھی زیادہ خرچ کرنے کے بعد بھی آسان ریل کا سفر میسر نہیں ہو پاتا ہے۔اسی طرح کے ایک ریل کے سفر کی روداد پیش خدمت ہے جس میں آسانیاں اور پریشانیاں دونوں سے واسطہ پڑا۔

15 اپریل کو جب میں پٹنہ سے فروزآباد کے لئے ریزرویشن کرانے گیا تو سوچا بھی نہ تھا کہ 29 اپریل کو واپسی کا سفر مشکلوں سے بھرا ہوگا۔3AC میں سوار ہو کر 25 اپریل کو بہت ہی آسانی سے فروزآباد پہنچ گیا۔ میرے سفر کے ساتھی میرے دوبچے، ایک بھائی، دو استاد اور ایک بچی تھے۔کل سات لوگوں کے ساتھ میں 26 اپریل 2023 کو فروزآباد صبح 9بجے پہنچ گیا۔وہاں سے 20 کیلو میٹر کے فاصلے پر بچوں کے امتحان کے سلسلے میں شکوہ باد پہنچا۔ امتحان مرکز کے قریب ہی بالکل غیر مسلم علاقے میں ایک ریسٹورنٹ میں رہنا پڑا۔نہ کوئی مسجد نہ کوئی مسلمان ملا۔ فارغ ہو کر بہرحال سب سے پہلے کھانے کی تلاش میں نکل پڑا۔کھانے کی کوالٹی اور قیمت جان کر دھچکا لگا۔دال ہو یا سبزی سبھی کی قیمت الگ الگ 70 روپے فی کس چکانی پڑی۔ آس پاس صرف غیر مسلم اوپر سے مہنگا کھانا اور ناقص پانی جس سے کھانا ہضم نہیں ہو رہا تھا۔نتیجتاً کم خوراک پر اکتفا کرتے ہوئے تین دن گزارنا پڑا۔کھانا کھاتے ہوئے بدہضمی کا خوف بھی مسلط رہا۔بدہضمی کی شکایت کئی لوگوں نے کی۔بچوں کی حالت بھی غیر ہوتی گئی۔


بہرحال 28 تاریخ کی رات سے واپسی کی تیاری شروع ہوگئی۔ٹکٹ کٹانے کا سارا جتن ناکام ہوتا گیا۔شکوہ باد میں کوچ بس تو نظر ہی نہیں آیا۔بس اسٹینڈ میں پرانے انداز کی بسیں دیکھ کر مایوسی بڑھنے لگی۔ 7 آدمی کی وجہ سے ریل کے تتکال ٹکٹ کا منصوبہ بھی فیل ہوگیا۔کسی کو چھوڑا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ بالآخر 28 کی شب یہ فیصلہ ہوا کہ اب یہاں رہنا ممکن نہیں۔بچوں کے چہرے پر کمزوری کے آثار بھی دکھنے لگے تھے۔لہٰذا نیشنل ہائی وے کے کنارے بہت بڑا ویران سا دکھنے والا یادو برادری کا بالاجی مندر کا علاقہ اب پسند نہیں آرہا تھا۔سوائے کچھ میرج ہال، ریسٹورنٹ اورچھوٹے ہوٹل کے علاوہ وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔

ناامیدی کا دامن تھامے ہوئے ہم لوگ رات 9 بجے شکوہ آباد سے مشکل سے آٹو سواری لے کر فروزآباد کے لئے نکل گئے۔ 12.30 بجے مگدھ ایکسپریس کے انتظار میں اسٹیشن پر بیٹھے رہے۔مین لائن ہونے کی وجہ سے درجنوں ہائی اسپیڈ ٹرین کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہے۔


زندگی کے ہر دور میں کئی واقعات مثبت تو کچھ منفی اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔کچھ آزمائش تو کچھ سبق آموز ہوتے ہیں۔کچھ واقعات تربیت کے لئے ہوتے ہیں تو کچھ زندگی کا رخ موڑنے کے لئے آتے ہیں۔اسی طرح سفر میں جہاں ایک طرف کئی تجربے ہوتے ہیں تو وہیں سفری ساتھی کے اخلاق اور صبر وتحمل کا اندازہ بھی ہو جاتا ہے۔

میرے اس سفر میں بھی اللہ تعالیٰ نے سفر کی آسانیوں کے ساتھ مشکلات کا بھی سامنا کروایا۔جاتے وقت بچوں کو آسان سفر کے ساتھ واپسی میں عام آدمی کی طرح مشکل سفر کا بھی اندازہ ہوا۔ شاید اللہ تعالیٰ نے ان کی تربیت کے واسطے سفر کی مشکلات سے گزارا۔ 25 اپریل کو 3AC میں پٹنہ سے فروزآباد کا سفر بہت آسان رہا اور منزل تک پہنچنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی لیکن 29 اپریل کو واپسی کئی پریشانیوں کے ساتھ ہوئی۔شکوہ آباد سے بددل ہوکر فروزآباد پہنچےاور اسٹیشن سے جنرل کلاس کا ٹکٹ لے کر پلیٹ فارم پر بیٹھ گئے۔ 12:30 رات میں مگدھ ایکسپریس کا انتظار کر رہے تھے تبھی میرٹھ سے الہ آباد کے لئے سنگم ایکسپریس آگئی۔مگدھ میں بھیڑ ہونے کے خدشے کی وجہ سے اس ٹرین کے سلیپر میں بیٹھ گئے۔ٹی ٹی ای کو پیسہ دے کر تین برتھ اٹاوا اسٹیشن سے لیا لیکن پولس کی غلط حرکت سے پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکا اور آٹھ گھنٹے بیٹھ کر سفر کرنا پڑا۔ بچے بھوکے اور جسمانی و ذہنی طور پر پریشان ہو چکے تھے۔ ابھی وہاں سے سات گھنٹے بیٹھ کر پٹنہ آنا باقی تھا۔ کسی طرح الہ آباد پہنچے اور سنگم ایکسپریس کے پیچھے برہمپترا ایکسپریس بھی الہ آباد پہنچی جس کو بہت بھیڑ ہونے کی وجہ سے چھوڑنا پڑا۔پلیٹ فارم پر بیٹھ کر اگلی ٹرین سکندرآباد داناپور ایکسپریس کا انتظار کرتے رہے۔یہ ٹرین ڈھائی گھنٹے دیر سے پہنچی مگر بھیڑ دیکھ کر بچوں کے ساتھ سوار ہونے کی ہمت نہیں ہوئی۔اس کو بھی چھوڑ کر شام میں دوسری ٹرین کا انتظار کرنا پڑا۔


تھکن اور بھوک سے ہم لوگوں کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ بیت-الخلا کی پریشانی کی وجہ سے بھر پیٹ کھانے سے پرہیز کررہے تھے اور بسکٹ وغیرہ سے کام چل رہا تھا۔بہرحال کسی نے ٹرین میں بتایا تھا کہ 3:30 بجے وبھوتی ایکسپریس الہ آباد سے ہی کھلتی ہے۔کوئی بتا نہیں رہا تھا کہ کس پلیٹ فارم سے کھلے گی۔ہم لوگ پریشانی کے عالم میں ٹرین کا پتہ کرنے کے لئے اسٹیشن سے باہر نکلے۔بھوک کی شدت، گرمی کی جلن اور جسمانی تھکاوٹ کی وجہ سے چلنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔کسی طرح اسٹیشن سے باہر نکلے اور ہمارے چار نوجوان ٹرین کا پتہ کرنے میں لگ گئے۔ یہیں سے اللہ تعالیٰ کی مدد آئی۔ وہ لوگ جدھر پتہ لگانے نکلے میں اس کے خلاف تھا اس لئے کہ یہ اسٹیشن کا پچھلا رخ تھا۔میں فون کرکے غصے میں انہیں واپس بلا رہا تھا جبکہ وہ میری بات نہ مان کر پوچھ تاچھ کررہے تھے۔کچھ دیر بعد ہمارے نوجوان ایک آٹو لے کر آئے کہ الہ آباد رام باغ نیا نام (پریاگ راج رام باغ) اسٹیشن سے ٹرین کھلے گی۔


اس امید سے کہ اب ٹرین مل جائے گی سب سے پہلے ہم سبھوں نے بھر پیٹ کھانا کھایا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔اسٹیشن پر وبھوتی ایکسپریس لگی ہوئی تھی فوراً جاکر ہم لوگوں نے اپنی جگہ لے لی۔ پوری ٹرین میں لوگ پہلے سے جگہ لے کر بیٹھ چکے تھے۔ شدت کی گرمی میں دھوپ میں کھڑی ٹرین لگ بھگ دو گھنٹے کے بعد کھلی۔ہم لوگوں کے جسم وروح کو سکون ملا۔اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے ہر پل اپنے شہر پہنچنے کا انتظار کرنے لگا۔ ٹرین اپنی منزل کے ساتھ لوگوں کی بھیڑ بھی لیتی چلی گئی۔ فروزآباد سے الہ آباد آٹھ گھنٹے بیٹھ کر سفر کرنے کے بعد سات گھنٹے بیٹھ کر پٹنہ جانا تھا۔اللہ اللہ کرکے رات 11 بجے پٹنہ پہنچ گئے اور پھر گھر آکر گہری سانس لی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ٹرین کا پتہ بتا کر ہم لوگوں کی مدد کی ورنہ پتہ نہیں الہ آباد میں اس رات کیا کرنا پڑتا۔

اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے میں کچھ نہ کچھ مصلحت ہوتی ہے۔بچوں نے اتنے لمبے سفر کی آسانیوں اور پریشانیوں کا تجربہ کیا اور شاید عام آدمی کے روز کے پریشان کن سفر کا احساس کیا ہوگا۔سب سے بہترین تجربہ سفر میں ہوتا ہے اور تکلیف جو انہوں نے برداشت کرکے یہ ضرور محسوس کیا ہوگا کہ ملک بھر میں ہر دن لاکھوں لوگ کس طرح سفر کرتے ہیں۔
سرفراز عالم
عالم گنج پٹنہ
رابطہ 8825189373

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے