Ticker

6/recent/ticker-posts

اسم علم کی تعریف | اسم علم کی اقسام

اسم علم کی تعریف | اسم علم کی اقسام



اسم علم کی پانچ قسمیں ہیں:
(١) خطاب (٢) لقب ‌ (٣) عرف (٤) کنیت (٥) تخلص

خطاب

(١) خطاب: وہ وصفی نام ہے جو کسی شخص کو حکومت کی طرف سے عزت افزائی کے لیے دیا جاتا ہے۔ اور وہ پھر اسی نام سے مشہور ہو جاتا ہے۔

مثلاً: سرسید احمد خان،
سر محمد اقبال،
شمس العلماء محمد حسین آزاد وغیرہ۔

ان مثالوں میں ’سر‘ کا خطاب سرسید احمد خان اور علامہ اقبال کو ’شمس العلماء‘ کا خطاب محمد حسین آزاد کو ملا ہے۔’گیان پیٹھ‘ رحمان راہی، ’بھارت رتن‘ کا خطاب بسم اللہ خان اور سچن ٹنڈولکر کو وغیرہ۔

لقب

(٢) لقب: لقب و وصفی نام ہے جو کسی خاص صفت کی وجہ سے لوگوں میں مشہور ہو جائے۔ یہ وصفی نام لوگوں کی طرف سے مل جاتے ہیں۔

مثلاً: ’خلیل اللہ‘ لقب ہے حضرت ابراہیم علیہ سلام کا اور ’قائد اعظم‘ لقب ہے محمد علی جناح کا ’مہاتما‘ لقب ہے گاندھی جی وغیرہ۔

حضرت موسی کلیم اللہ تھے، سید الشہداء جمعہ کے دن شہید ہوئے، خدا نے خلیل اللہ کو نمرود کی آگ سے بچایا۔

پہلی مثال میں حضرت موسی کو کلیم اللہ کہا گیا ہے۔ سید شہدا امام حسین کا نام ہے جو کربلا کے میدان میں شہید ہوئے، اسی طرح خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ سلام کا نام ہے جو خدا کے پیارے تھے۔ پس ایسے نام جو خاص وصف کے باعث مشہور ہو جائیں ان کو لقب کہتے ہیں۔

عرف

(٣) عرف: وہ مختصر سا نام ہے جو محبت یا حقارت کی وجہ سے اپنوں اور پرایوں میں مشہور ہو جائے۔

مثلاً: حسن علی عرف چھوٹے میاں۔ میر عسکری عرف میر کلو۔ عبدالرشید عرف جھنڈا اعلی درجے کا ادیب ہے۔ کرتار سنگھ عرف دیالہ پان فروش ہے۔

اوپر کی مثالوں میں حسن علی، میر عسکری، عبدالرشید، کرتار سنگھ، اصلی نام ہیں اور چھوٹے میاں، میر کلو، جھنڈا، ویالہ یوں ہی مشہور ہوگئے ہیں۔ ایسے نام عرف کہلاتے ہیں۔اکثر اوقات اصلی نام ہی بگڑ کر عرف ہو جاتا ہے۔

کنیت

(٤) کنیت: کنیت کسی شخص کا وہ نام ہے جو باپ، یا ماں، یا بیٹے کی نسبت سے رکھا جاتا ہے اور پھر اسی نام سے مشہور ہو جاتا ہے۔

مثلاً: ابو حنیفہ، ابن عمر، ام سلیم، ابن مریم ،ابوبکر۔

حقیقت میں یہ اہل عرب کا دستور ہے کہ اصلی نام کے علاوہ ایک اور نام بھی رکھتے ہیں جس میں مسمی‌ کا باپ یا بیٹا یا ماں یا بیٹی ہونا پایا جائے۔ مگر ہندوستان میں میاں بیوی کا نام نہیں لیتا، بیوی میاں کا نام نہیں لیتی جب ان کے اولاد ہوتی ہے تو اس کے نام کی نسبت سے ایک دوسرے کو پکارتے ہیں۔ جیسے قادر کی ماں، مجید کا باپ، بس یہی کنیت ہے۔

تخلص

(٥) تخلص: یہ وہ مختصر نام ہے جو شعرا اپنے اشعار میں اپنے اصلی نام کے بدلے استعمال کرتے ہیں اور پھر اسی نام سے مشہور ہو جاتے ہیں۔

مثلاً: سر محمد اقبال اردو کے عظیم شاعر ہیں، محمد حسین آزاد محمد ابراہیم ذوق کے شاگرد تھے، عبدالرحمن راہی یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں، عبدالصمد صاحب ہمارے محبوب استاد ہیں، غلام نبی فراق ایس بیی کالج کے پروفیسر ہیں۔

اُوپر کی مثالوں میں محمد اقبال، محمد حسین، محمد ابراہیم، عبدالرحمن، عبدالصمد، غلام نبی شاعروں کے نام ہیں۔ جنہوں نے اقبال، آزاد، ذوق، راہی، صاحب، اور فراق اپنے چھوٹے نام رکھے ہیں جن کو وہ اپنے شعروں میں لاتے ہیں۔انہی کو تخلص کہا جاتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے