معرکہ عظیم.! جسے ہم نے فراموش کردیا
غزوہ بدر بظاہر ایک جنگ تھی لیکن حقیقت میں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں لڑا گیا وہ معرکہ عظیم تھا جس نے اس زمین پر قیامت تک کے لیے حق کو غالب کرنے کی حجت تمام کر دیا اور امت مسلمہ کی ذمہ داری بھی طئے کر دی۔ تمام باطل طاقتیں بشمول شیطان اور اس کی ذریت کے اس جنگ میں حق کا نام و نشان مٹانے کے درپے ہو چکی تھی۔ چونکہ اب کوئی نئی شریعت نہ کوئی نبی آنے والا ہے لہٰذا اللہ نے بھی اس جنگ میں ان کو شکست دے کر حق اور باطل کے بیچ قیامت تک کے لیے فرق واضح کر دیا۔ اسی لیے قرآن میں اس کو " یوم الفرقان" کہا گیا ہے۔ قرآن نے تو اس پورے معرکے کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ تقریبا نصف سے زیادہ حصے پر صرف دشمن اسلام بنی اسرائیل کا تذکرہ پھیلا ہوا ہے۔ افسوس کہ ہم میں سے اکثر نے اس غزوہ کو اس حیثیت سے نہیں سمجھا جتنا سمجھنے کا حق ہے۔
اکثر مفسرین اور سیرت نگاروں نے اسے صرف ایک ہزار پر 313 کی فتح کے طور پر دیکھا۔ سورہ انفال آیت 66 کے مطابق اللہ نے میدان جنگ میں اپنے سے 20 گنا تعداد والے دشمن کی فوج پر غالب ہونے کی بشارت دی تھی جو بعد میں دو گناہ کر دی گئی۔ دو گناہ تعداد پر غالب آنے کی بشارت کو بھی لیا جائے تو اللہ بے شک اس پر بھی قدرت رکھتا تھا کہ 313 کو ایک ہزار پر غالب کر دیتا پھر بھی اللہ نے فرشتوں کو اتارا۔ نیند کے ذریعہ سکینت اتاری تاکہ مومنین تازہ دم ہو جائیں۔ مومنوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان کی تعداد کو کم کرکے دکھایا گیا۔ ( انفال 43، 44) مزید سورہ انفال کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے جس میں جنگ بدر کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔
لہٰذا اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ پہلے کے اکثر دانشوروں نے اس غزوہ کو حق و باطل کے بیچ عظیم معرکہ کے طور پر گہرائی سے قلم بند نہیں کیا اور امت مسلمہ کی اکثریت تک شاید بات نہیں پہنچ پائی۔ لوگوں کی بے حسی اور غیر فکری تو ہم پرست مزاج نے اس عنوان کو سمجھنے کی ذمہ داری علمائے کرام پر ڈال دی۔ جبکہ عوام مصیبت آنے پر علماء کو کٹگھرے میں کھڑا کرنے میں بڑی اجرت پسندی سے کام لیتی ہے۔ نتیجتاً عصری علوم میں غرق عوام اس کے شعور سے آج بھی اکثر خالی ہے۔ الا ماشاءاللہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی موجودگی میں یہ پہلی جنگ تھی جس میں حزب اللہ اور حزب الشیطان آمنے سامنے تھے۔ آخر کیوں ابتدائے آفرینش سے ہی مشیعت خداوندی کے تحت شیطان اپنی پوری ذریت کے ساتھ حق اور اہل حق کو مٹانے کے در پہ رہا ہے۔ ہزاروں سال سے یہودی ابلیس اور شیاطین سے سانٹھ گاٹھ کرکے حق کو مٹانے کی سازش کر رہے ہیں یہاں تک کہ سینکڑوں انبیاء کرام کو قتل کیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قتل کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔ احادیث بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبر مبعوث فرمایا۔ قرآن میں 25 یا 26 پیغمبروں کا ذکر ہے بقیہ کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ باقی پیغمبروں کے ساتھ حزب شیطان نے کیا کیا کوششیں نہ کی ہوں گی۔ اس جنگ میں اللہ کی طرف سے ہر طرح کی مدد دینا اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ کفار مشرکین کی مدد کے لیے شیطان اپنے پورے لشکر کے ساتھ میدان میں حاضر تھا۔
ابن کثیر رحمت اللہ علیہ سورہ بقرہ آیت 61 کی تشریح میں فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل ایک ایک دن میں تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے، پھر بازاروں میں جا کر اپنے لین دین میں لگتے تھے۔ ( ابو داؤد، طیالسی)
انسانی تاریخ میں پہلی بار عالمی لاک ڈاؤن کے تحت پوری دنیا بیک وقت کلی طور سے رک گئی۔ پہلی بار مکرو فریب کے خوف سے انسان چپ رہنے کو مجبور ہو گیا۔ پہلی بار دنیا کے سارے لوگ ذہنی طور سے مفلوج ہو گئے۔ پہلی بار یہودی سازشیں خواص سے نکل کر عوام میں ظاہر ہوگئیں ۔ پہلی بار دنیا بھر کے علماء و دانشور کلی طور سے کمزور ثابت ہو گئے۔ پہلی بار دنیا بھر کی حکومت محکوم ہوگئی۔ یہ کوئی معمولی سانحہ نہیں ہو سکتا۔ ذرا غور کیجئے کہ کیا اللہ اس بات سے راضی ہوگا کہ لوگوں کو خانہ خدا سے روک دیا جائے، مسجد نبوی جانے پر پابندی لگا دی جائے، روضہ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری سے محروم کر دیا جائے، کروڑوں مسجدوں کے دروازے بند کروا دیے جائیں، رمضان المبارک میں مسجدوں میں عبادت کرنے سے روک دیا جائے، صلوٰۃ عید الفطر کی ادائیگی کی اجازت نہ دی جائے، مدارس میں قرآن کی حفظ و تلاوت روک دی جائے درسگاہ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا جائے وغیرہ۔ ہرگز نہیں یہ سازش صرف حزب الشیطان ہی کر سکتا ہے۔
اس سے بھی آگے غزوہ بدر کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ سے گڑگڑا کر یہ کہنا کہ اے خدا یہ مٹھی بھر لوگ مر جائیں گے تو کون تیرا نام لیوا باقی رہے گا۔ آپ کا یہ جملہ حالات کی نزاکت اور شدت کو بتاتا ہے۔ آخری نبی پہلے غزوہ میں بھی اللہ سے استعانت کی دعا شدت کے ساتھ اس لیے کر رہے تھے کہ وہ یہودیوں کہ ہزاروں سالوں سے چلی آ رہی خطرناک سازشوں سے باخبر ہو گئے تھے۔ ایسی ہی سازشیں آج امت مسلمہ کے خلاف ہو رہی ہیں جس کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث کے ذریعہ ہمیں دے دی ہیں۔ وہ تو نبی تھے اللہ نے باخبر کر دیا لیکن ہم امت کے اکثر لوگ اس سازش کو سمجھنے سے آج بھی قاصر اور لاپرواہ ہے۔ صرف دنیا بنانے کی فکر میں مگن ہیں۔ یاد رہے اب بھی ہم بے خبر رہے تو ہمیں بچانے اب کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔
غور کرنے کا مقام ہے کہ اس جنگ میں اللہ نے نہ صرف فرشتوں کو بھیجا بلکہ سورہ انفال آیت 17 میں یہ فرمانا کہ تم نے ان کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے قتل کیا، اور تو نے مٹی نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھرکنکریاں لے کر شاھت الوجود تمہارے چہرے بگڑ جائیں کہہ کر تین بار پھینکا۔ اس بات کا واضح اعلان تھا کہ یہ جنگ دراصل حق کو غالب کروانے کے لیے بظاہر رسول اللہ کی نگرانی میں بالواسطہ اللہ نے لڑی تھی۔
انفال آیت 12 میں تو اللہ فرشتوں کو حکم دیتا ہے اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے رب فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میں تمہارا ساتھی ہوں، سو تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ میں ابھی کفار کے قلوب میں رعب ڈال دیتا ہوں۔ سو تم ان کی گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور کو مارو۔ اس آیت میں اللہ فرشتوں کو حکم دے رہا ہے کہ مشرکین کو قتل کرکے ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ چنانچہ یوم بدر میں لوگ ان مقتولین کو پہچان جاتے تھے جو ملائکہ کے ہاتھوں مرے ہیں۔ کیونکہ ایسے مقتولین کا زخم گردن پر یا جوڑ بندوں پر ہوتا تھا۔ اس کی شدت کا ایک اور بین ثبوت بخاری کے ایک روایت ہے جس میں حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ جو لوگ غزوہ بدر میں شریک نہ ہوئے ان پر کوئی عتاب نہیں ہوا۔ کیونکہ رسول اللہ تجارتی مہم کے ارادے سے نکلے تھے اتفاقا خدا نے باقاعدہ جنگ کی صورت پیدا کر دی۔ حالانکہ عام طور سے رسول اللہ کے حکم کے بعد جنگ میں نہیں شامل ہونے پر وعیدیں سنائی گئی ہیں۔ اللہ نے بدر کے غازیوں کے اعزاز میں فرمایا اب تم جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔
سورہ انفال آیت 48 میں قرآن واضح طور پر غزوہ بدر میں فرشتوں اور شیاطین کے شامل ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے کرتا ہے۔
ترجمہ: " اور جس وقت خوشنما کر دیا شیطان نے ان کی نظروں میں ان کے اعمال کو اور بولا کہ کوئی بھی غالب نہ ہوگا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں تمہارا حمایتی ہوں، پھر جب سامنے ہوا دونوں فوجوں کے تو وہ الٹا پھر اپنی ایڑیوں پر اور بولا میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں۔ میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے۔ میں ڈرتا ہوں عذاب سے اور اللہ کا عذاب سخت ہے"۔
اس آیت کی تشریح میں شبیر احمد عثمانی فرماتے ہیں قریش اپنی قوت و جمیعت پر مغرور تھے لیکن بنی کنانہ سے ان کی چھیڑ چھاڑ رہتی تھی۔ خطرہ ہوا کہ کہیں بنی کنانہ کامیابی کے راستہ میں آڑے نہ آجائیں۔ فورا شیطان ان کی پیٹھ ٹھوکنے اور ہمت بڑھانے کے لیے کنانہ کے سردار اعظم سراقہ بن مالک کی صورت میں اپنی ذریت کی فوج لے کر نمودار ہوا اور ابو جہل وغیرہ کو اطمینان دلایا کہ ہم سب تمہاری مدد اور حمایت پر ہیں۔ کنانہ کی طرف سے بے فکر رہو میں تمہارے ساتھ ہوں۔ جب بدر میں زور کا رن پڑا اور جو شیطان کو جبرائیل وغیرہ فرشتے نظر آئے تو ابو جہل کے ہاتھ میں سے ہاتھ چھڑا کر الٹے پاؤں بھاگا۔ ابو جہل نے کہا سراقہ عین وقت پر دغا دے کر کہاں جاتے ہو ؟ کہنے لگا میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا مجھے وہ چیزیں دکھائی دے رہی ہیں جو تم کو نظر نہیں آتی یعنی فرشتے خدا کے یعنی اس خدائی فوج کے ڈر سے میرا دل بیٹھا جاتا ہے۔ ٹہرنے کی ہمت نہیں کہیں کسی سخت عذاب اور آفت میں نہ پکڑا جاؤں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ملعون نے جھوٹ بولا اس کے دل میں خدا کا ڈر نہ تھا وہ جانتا تھا کہ اب قریش کا لشکر ہلاکت میں گھر چکا ہے کوئی قوت بچا نہیں سکتی۔ یہ اس کی قدیم عادت ہے کہ اپنے متبعین کو دھوکہ دے کر اور ہلاکت میں پھنسا کر عین وقت پر کھسک جایا کرتا ہے۔
اس آیت کی تشریح میں تفسیر ابن کثیر میں ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بدر والے دن ابلیس اپنا جھنڈا بلند کیے شخص کی صورت میں اپنے لشکر سمیت پہنچا اور شیطان سراقہ ابن مالک بن جعشم کی صورت میں نمودار ہوا۔ اور روایت میں ہے کہ اسے پیٹھ پھیرتا دیکھ حارث بن ہشام نے پکڑ لیا اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا جس سے یہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ تو اوروں نے کہا کہ سراقہ تو اس حال میں ہمیں ذلیل کرتا اور ایسے وقت ہمیں دھوکہ دیتا ہے۔ وہ کہنے لگا ہاں ہاں میں تم سے بری الزماں اور بے تعلق ہوں۔ میں انہیں دیکھ رہا ہوں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے ہو۔ حارث بن ہشام چونکہ اس سے سراقہ ہی سمجھے ہوئے تھے اس لیے اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور زور سے گھونسا مارا کہ یہ تو منہ کے بل گر پڑا اور شیطان بھاگ کر سمندر میں کود پڑا اور اپنا کپڑا اونچا کرکے کہنے لگا۔ اے خدایا میں تجھے تیرا وہ وعدہ یاد دلاتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا تھا۔
ائیے اب جائزہ لیتے ہیں کہ مفسرین نے غزوہ بدر کے بارے میں اپنی کتابوں میں کیا کیا درج کیا ہے۔
ابن کثیر رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں...
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ یوم بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اے خدا میں عہد کے پورا کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہوں ورنہ اے خدا تجھے پوجنے والا کوئی نہ رہے گا۔ تو ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کا ہاتھ تھام لیا اور کہا بس بس۔ تو آپ اٹھے اور فرما رہے تھے۔ قریب تر عرصہ میں کافروں کو شکست ہونے والی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرئیل ہزار فرشتوں فرشتے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدھی طرف تھے جدھر کے ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور میکائیل ایک ہزار فرشتے لے کر بائیں طرف تھے جدھر میں تھا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہزار کی مدد پر دوسرے ہزار بھی تھے۔ اسی لیے بعض نے " مردفین" بہ فتح دال قراءت کی ہے۔ اور یہ بھی روایت ہے کہ 500 ملائکہ جبرئیل کے ساتھ تھے اور 500 میکائیل کے ساتھ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان ایک مشرک کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ اوپر سے ایک کوڑا مشرک کے سر پر پڑنے کی آواز سنی اور ایک سوار کی بھی آہٹ پائی۔ اب کیا دیکھتے ہیں کہ کافر گر کر زمین پر ڈھیر ہو گیا۔ کوڑے کی ضرب سے سر پھٹ گیا حالانکہ کسی انسان نے اسے مارا نہ تھا۔ پیچھے والے انصاری نے خبر حضرت کو پہنچائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سچ کہا یہ آسمانی مدد تھی یہ آپ نے تین دفعہ فرمایا۔
صحیحین میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا جبکہ عمر نے قتل حاتب بن حبیب بلتع کے بارے میں مشورہ کیا تھا یہ کہ حاتب بدر میں شریک ہوا تھا اور تمہیں کیا خبر کہ اللہ پاک نے اہل بدر کو بخش دیا ہو کیونکہ فرمایا تھا کہ اب تم جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔
( سورہ انفال آیت 9 تفسیر ابن کثیر)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فرشتوں کی نشاندہی بدر والے دن سفید رنگ صوف کی تھی اور ان کے گھوڑوں کی نشانی ماتھے کی سفیدی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کے خلاف فرشتے کبھی جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور سفید رنگ اماموں کی علامت تھی یہ صرف مدد کے لیے اور گنتی بڑھانے کے لیے تھے نا کہ لڑتے ہوں۔ ربیعہ بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلے ایک ہزار فرشتے اترے پھر تین ہزار پورے ہوئے۔ آخر میں پانچ ہزار ہو گئے۔
( سورہ ال عمران آیت 124۔ 25) ابن کثیر
جنگ بدر کی اہمیت
جنگ بدر کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس معرکہ میں خود ابلیس لعین کنانہ کے سردار اعظم سراقہ بن مالک کی صورت میں ممثل ہو کر ابو جہل کے پاس آیا اور مشرکین کے خوب دل بڑھائے کہ آج تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور میرا سارا قبیلہ تمہارے ساتھ ہے۔ ابلیس کے جھنڈے تلے بڑا بھاری لشکر شیاطین کا تھا۔ اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کی کمک پر شاہی فوج کے دست جبرئیل و میکائیل کی کمانڈ میں یہ کہہ کر بھیجے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر شیاطین آدمیوں کی صورت میں مشکل ہوکر کفار کے حوصلے بڑھا رہے ہیں اور ان کی طرف سے لڑنے کو تیار ہیں اور مسلمانوں کے قلوب کو وسوسے ڈال کر خوفزدہ کر رہے ہیں تو تم مظلوم ضعیف مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کرو۔ ادھر تم ان کی ہمت بڑھاؤ گے ادھر میں کفار کے دلوں میں دہشت اور رعب ڈال دوں گا۔ تم مسلمانوں کے ساتھ ہوکر ظالموں کی گردن مارو اور پور پور کاٹ ڈالو کیونکہ آج ان سب جن و انس کافروں نے مل کر خدا رسول سے مقابلہ کی ٹھہرائی ہے۔ سو انہیں معلوم ہو جائے کہ خدا کے مخالفوں کو کیسی سخت سزا ملتی ہے۔ آخرت میں جو سزا ملے گی اصل تو وہی ہے لیکن دنیا میں بھی اس سے تھوڑا سا نمونہ دیکھ لیں عذاب الہی کا کچھ مزہ چکھ لے۔ روایات میں ہے کہ بدر میں ملائکہ کو لوگ آنکھوں سے دیکھتے تھے اور ان کے مارے ہوئے کفار کو آدمیوں کے قتل کیے ہوئے کفار سے الگ شناخت کرتے تھے۔ خدا تعالی نے ایک نمونہ دکھایا کہ اگر کبھی شیاطین جن و انس ایسے غیر معمولی طور پر حق کے مقابل جمع ہو جائیں تو وہ اہل حق اور مقبول بندوں کو ایسے غیر معمولی طریقے سے فرشتوں کی کمک پہنچا سکتا ہے۔ باقی ویسے تو فتح و غلبہ بلکہ ہر چھوٹا اور بڑا کام خدا ہی کی مشیت و قدرت سے انجام پاتا ہے۔ اسے نہ فرشتوں کی احتجاج ہے نہ آدمیوں کی اور اگر فرشتوں ہی سے کوئی کام لے تو ان کو وہ طاقت بخشی ہے کہ تنہا ایک فرشتہ بڑی بڑی بستیوں کو اٹھا کر پٹک سکتا ہے۔ یہاں تو عالم تکلیف و اسباب میں ذرا سی تنبیہ کے طور پر شیاطین کی غیر معمولی دوڑ دھوپ کا جواب دینا تھا بس۔
جب جنگ کی شدت ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکڑیاں لشک کفار لشکر کفار کی طرف پھینکی اور تین مرتبہ شاھت الوجود فرمایا خدا کی قدرت سے کنکڑیوں کے ریزے ہر کافر کی آنکھ میں پہنچی۔ وہ سب آنکھیں ملنے لگے۔ ادھر سے مسلمانوں نے فوراً دھاوا بول دیا۔ آخر بہت سے کفار کھیت رہے اسی کو فرماتے ہیں گویا ظاہر کنکریاں تم نے اپنے ہاتھ سے پھینکی تھی لیکن کسی بشر کا یہ فعل عادتا ایسا نہیں ہو سکتا کہ مٹھی بھر کنکڑیاں ہر سپاہی کی آنکھ میں پڑ کر ایک مصلح لشکر کی ہزیمت کا سبب بن جائے۔ یہ صرف خدائی ہاتھ تھا جس نے مٹھی بھر سنگریزوں سے فوجوں کے منہ پھیر دی۔ تم بے سر و سامان قلیل التعداد مسلمانوں میں اتنی قدرت کہاں تھی کہ محض تمہارے زور بازو سے کافروں کے ایسے ایسے منڈ مارے جاتے۔ یہ تو خدا ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ اس نے ایسے متکبر سرکشوں کو فنا کے گھاٹ اتارا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بظاہر کام تمہارے ہاتھوں سے لیا گیا اور ان میں وہ فوق العادت قوت پیدا کر دی جسے تم نے اپنے کسب اختیار سے حاصل نہ کر سکتے تھے۔ یہ اس لیے کیا گیا کہ خدا کی قدرت ظاہر ہو اور مسلمانوں پر پوری مہربانی اور خوب طرح احسان کیا جائے۔
بے شک خدا مومنین کی دعا اور فریاد کو سنتا اور ان کے افعال و احوال کو بخوبی جانتا اور یہ بھی جانتا ہے کہ مقبول بندوں پر کس وقت کس عنوان سے احسان کرنا مناسب ہے۔
( شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی)
خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم الگ ایک خیمے میں نہایت الحاح و زاری سے مصروف دعا تھے۔
( بخاری کتاب المغازی)
یعنی فرشتوں کا نزول تو صرف خوشخبری اور تمہارے دلوں کے اطمینان کے لیے تھا ورنہ اصل مدد تو اللہ کی طرف سے تھی جو فرشتوں کے بغیر بھی تمہاری مدد کر سکتا تھا۔ تاہم اسے یہ سمجھنا بھی صحیح نہیں کہ فرشتوں نے عملاً جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں فرشتوں نے عملی حصہ لیا اور کئی کافروں کو انہوں نے تہ تیخ کیا۔
( بخاری و مسلم کتاب المغازی بحوالہ تفسیر احسن البیان)
بخاری اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کے روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا۔ جہ جبرئیل اسلحہ لگائے گھوڑے کے لگام پکڑے ہوئے ہیں۔ ابو یعلی اور حاکم کا بیان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بدر کے کنویں کے پاس تھا کہ ایسی تیز ہوا آئی جس طرح میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی پھر ایسی ہی ایک تیز ہوا آئی پھر اس طرح کی تیز ہوا اور آئی۔ پہلی ہوا جبرائیل کے آنے کی تھی ایک ہزار ملائکہ کے ساتھ اتر کر رسول اللہ کی طرف آئے تھے۔ دوسری ہوا میکائیل کے آنے کی تھی جو ایک ہزار ملائکہ کے ساتھ رسول اللہ کے دائیں جانب اترے تھے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دائیں طرف تھے اور تیسری ہوا اسرافیل کے آنے کی تھی جو ایک ہزار ملائکہ کے ساتھ رسول کے بائیں جانب نازل ہوئے میں بائیں جانب تھا۔
ابراہیم حرثی کا بیان ہے کہ ابو سفیان بن حارث نے کہا ہم نے بدر میں کچھ گورے گورے رنگ کے آدمی ابلق گھوڑے پر سوار ہو کر آسمان و زمین کے درمیان دیکھے تھے۔ بیہقی اور ابن عساکر راوی ہیں کہ حضرت سہیل بن عمر نے فرمایا بدر کے دن میں نے کچھ گورے رنگ کے مرد ابلق گھوڑوں پر سوار آسمان و زمین کے درمیان دیکھے جو قتل بھی کر رہے تھے اور قید بھی کر رہے تھے۔ طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عروہ کا قول نقل کیا ہے کہ بدر کے دن حضرت جبرائیل علیہ السلام زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی شکل میں زرد امامہ باندھے اترے تھے۔ ابن شیبہ، ابن جریر اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر کے روایت سے بھی اس طرح بیان کیا ہے۔ اقراء سے جس امت کی تعلیم شروع ہوتی ہے اس امت کی بے خبری کا یہ عالم ہے کہ اسے اپنی تاریخ کا صحیح درک بھی نہیں ہے۔ یاد رکھیں بے خبر امت کو تاریخ بھلا دیتی اور کبھی معاف نہیں کرتی۔ باخبری ہی بے فکری سے بچاتی ہے۔ اہل حق کے مقابلہ میں یہودی قوم آج سب سے زیادہ باخبر نظر آتی ہے۔ اسی لیے اسے اپنی نجات کی سب سے زیادہ فکر ہے۔ فکر سے ہی حرکت پیدا ہوتی ہے اور حرکت صحیح نجات کے راستے میں سعی نصیب ہوتی ہے۔ بے شک قرآن ہمیں فکر و عمل پر ابھارتا ہے۔ آخر میں اسرار عالم کی کتاب " معرکہ دجال اکبر" حصہ اول سے چند قیمتی الفاظ اس امید کے ساتھ درج کرتا ہوں کہ ابھی بھی امت مسلمہ ہوش کے ناخن لے اور دنیا طلبی سے بے پروا ہو کر قرآن و سنت کا مطالعہ دلجمئی کے ساتھ کرے۔ تاکہ اللہ فتنے دجال سے بچنے کی فراست دے اور آخرت میں ابدی سکون عطا فرمایا۔ آمین علم شئی بہ از جہل شئی ..... کسی شے کا علم اس شے سے لاعلمی سے بہتر ہے۔
علم کے بعد بے چینی لاعلمی کی صورت میں اطمینان سے بہتر ہے۔
حرکیت کے باوجود ناکامی تعطل کی حالت میں کامیابی سے بہتر ہے۔
سرفراز عالم
عالم گنج پٹنہ
رابطہ 8825189373،
اور پڑھیں 👇
0 تبصرے