Ticker

6/recent/ticker-posts

خوشی اور انعام و اکرام کا دن ہے عید الفطر!

خوشی اور انعام و اکرام کا دن ہے عید الفطر!


از قلم : مجاہد عالم ندوی
استاد : الفیض ماڈل اکیڈمی بابوآن بسمتیہ ارریہ بہار
رابطہ نمبر : 8429816993

اللہ ربّ العزت کا امتِ مسلمہ کے لیے ماہِ رمضان ایک عظیم تحفہ ہے، برکتوں، مغفرتوں، عظمتوں، انوار و تجلیات اور رحمتوں کی برسات کا سبب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی دعاؤں کا صلہ ہے کہ ہم تمام مسلمانوں کو اللہ تعالٰی کی رحمتوں، مغفرتوں اور نار جہنم سے آزادی کا پروانہ عطا ہوا ہے، مسلمان اس ماہِ صیام کی قدر کرتے ہوئے نیک اعمال روزہ، نماز، زکوٰۃ، تلاوت اور صدقہ و خیرات ادا کرتے ہیں، حقیقت میں عید روزہ داروں کی ہے، جنہوں نے اللہ ربّ العزت کے حکم و رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنتوں کے مطابق پورے ماہ کے روزے رکھے ہیں، تراویح کی نماز کے ساتھ پانچ وقتوں کی نمازیں باجماعت ادا کی ہے، صدقہ و خیرات ادا کیا ہے، ایسے ہی بندوں کے بارے میں اللہ تعالٰی اپنے فرشتوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ اے!!! ۔۔۔۔۔

مجاہد عالم ندوی

فرشتوں ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جنہوں نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے، فرشتے کہتے ہیں یا اللہ اُنھیں ان کی مزدوری ملنی چاہیے، ربِ کائنات ارشاد فرماتا ہے کہ اے .....

فرشتوں تم گواہ رہنا میں نے ان کی مغفرت کر دی ہے، ان کے روزوں کا بدلہ میں خود اپنے ہاتھوں سے دوں گا، میں انھیں وہ انعامات و اکرامات عطا کروں گا جن کا میں نے ان سے وعدہ کیا ہے، وہ یقیناً ان نعمتوں کو پانے والے، میرے خوش نصیب بندے ہیں، جو ہمیشہ ہمیش اس نعمتوں کے ساتھ عالی شان مقامات، محلوں میں رہیں گے۔

عید کے دن اللہ ربّ العزت اپنے بندوں کو ان کے کئے گئے اعمال کا اجر عطا کرتا ہے، جس کی کوئی حد نہیں ہے، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے ماہِ رمضان میں اہتمام کے ساتھ نیک اعمال کئے ہیں، عید کے روز اللہ اپنے بندوں پر خصوصی انعامات کی بارش کرتا ہے، ان کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔

عید الفطر میں دو لفظ ہیں ۔ ٫٫ عید کا لفظ ٫٫ عود ٬٬ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ٫٫ لَوٹنا ٬٬ کے ہیں، یعنی عید ہر سال لَوٹتی ہے، ہر مسلمان اس کے لَوٹ کے آنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے، اس کے جانے سے رنجیدہ و افسردہ ہو جاتا ہے، اور ٫٫ فطر ٬٬ کے معنیٰ ٫٫ روزہ توڑنے یا ختم کرنے ٬٬ کے ہیں ۔ چونکہ عید الفطر کے دن، روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے اور اس روز اللہ تعالٰی بندوں کو عباداتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتا ہے، تو اِسی مناسبت سے اسے ٫٫ عید الفطر ٬٬ قرار دیا گیا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہلِ مدینہ دو دن بطورِ تہوار مناتے تھے، اور لوگ اس دن کھیل تماشے کیا کرتے تھے، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اُن سے دریافت فرمایا ٫٫ یہ دو دن، جو تم مناتے ہو، ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے ٬٬؟ تو اُنہوں نے کہا ٫٫ ہم عہدِ جاہلیت میں اسلام سے پہلے یہ تہوار اِسی طرح منایا کرتے تھے ٬٬ ۔ یہ سُن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ٫٫ اللہ تعالٰی نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن مقرّر فرما دیے ہیں، یومِ عیدالاضحٰی اور یومِ عیدالفطر ٬٬ ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے عیدین کے موقعے پر شرعی حدود میں رہتے ہوئے خوشیاں منانے کی اجازت دی ہے اور اسی کے ساتھ ہمارے دوست و احباب اور رشتےداروں کو بھی ان خوشیوں میں شامل کرنے کی ترغیب دی ہے ۔ یعنی انھیں بھی ہر اعتبار سے ضروری وسائل و سامان مہیا کیا جائے تاکہ وہ لوگ بھی عید کے دن اچھا پہننے اور اچھے کھانے پینے والے بن جائے ۔ ہم مستحق لوگوں کو صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ ادا کر کے انہیں عید کی خوشیاں عطا کر سکتے ہیں، نیز ان مواقع پر عبادات کی بھی تاکید فرمائی کہ بندۂ مومن کسی بھی حال میں اپنے ربّ کو نہیں بھولتا، احادیثِ مبارکہ میں شبِ عید اور یومِ عید کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ٫٫ جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے، تو اُسے آسمانوں پر ٫٫ لیلۃ الجائزہ ٬٬ یعنی ٫٫ محاسبہ کی یا انعام کی رات ٬٬ کے عنوان سے پکارا جاتا ہے اور جب صبحِ عید طلوع ہوتی ہے، تو حق تعالٰی فرشتوں کو تمام بستیوں میں بھیجتا ہے اور وہ راستوں کے کونوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی آواز سے، جسے جنّات اور انسانوں کے سِوا ہر مخلوق سُنتی ہے، پکارتے ہیں کہ ٫٫ اے اُمّتِ محمّدیہ صلی اللہ علیہ و سلم اس ربّ کریم کی بارگاہِ کرم میں چلو، جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے ٬٬ ۔ جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں، تو اللہ ربّ العزّت فرشتوں سے فرماتا ہے ٫٫ اُس مزدور کا کیا بدلہ ہے، جو اپنا کام پورا کر چُکا ہو ٬٬؟ وہ عرض کرتے ہیں ٫٫ اے ہمارے معبود! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اُس کی مزدوری اور اُجرت پوری پوری عطا کر دی جائے ٬٬ ۔ تو اللہ تعالٰی فرماتا ہے ٫٫ اے فرشتو! تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ مَیں نے اُنہیں رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطا فرما دی ٬٬ اور پھر بندوں سے ارشاد ہوتا ہے کہ ٫٫ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو، میری عزّت و جلال اور بلندی کی قسم! آج کے دن آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے، عطا کروں گا، دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے، اُس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا، میرے عزّوجلال کی قسم! مَیں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رُسوا نہ کروں گا، مَیں تم سے راضی ہو گیا ٬٬۔

صدقۂ فطر سے غرباء، یتیم اور مساکین کی مدد :

حدیثِ نبوی میں بیان کیا گیا ہے کہ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان عید سے پہلے صدقۂ فطر ادا کریں، یہ واجب عمل ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے عزیز و اقارب میں رشتےداروں میں یا پاس پڑوس میں ایسے افراد پر نظر رکھے، جو تنگی و غربت کی وجہ سے عید کی خوشیاں منانے سے قاصر ہیں، جن کے پاس اچھے لباس نہیں ہے، پہننے کے لیے جوتے چپل نہیں ہیں، کھانے کے لیے لذیذ کھانا مہیا نہیں ہے، ایسے لوگوں کی تلاش کرتے ہوئے اُنھیں ہم سے جو ممکن ہو سکے، جتنا ممکن ہو سکے سامان و وسائل دے کر ان کی مدد کرے، انھیں عید کی خوشیوں میں ہمارے ساتھ شامل کریں، ایک فرد کا صدقۂ فطر کی مقدار دو کیلو پینتالیس گرام گیہوں یا اس کی موجودہ قیمت ہے، اس حساب سے اپنے گھر کے تمام افراد کی جانب سے حساب کر کے صدقۂ فطر ادا کریں، یہ اللہ ربّ العزت کا پسندیدہ عمل ہے، ایسا کرنے سے ہم یقیناً عید کے مکمل انعامات و اکرامات اور بھر پور اجر و ثواب کے مستحق ہوں گے، جس سے ہماری دنیا و آخرت کامیاب ہوں گی، اس ضمن میں بہت سی احادیث موجود ہیں۔

عید ان لوگوں کی نہیں ہیں جو عمدہ لباس زیب تن کر کے شان و شوکت کے ساتھ عید گاہ پر جائے اور اپنے ہم سایوں، پڑوسی اور رشتے داروں کی طرف نظر نہ کرے، بلکہ اصل عید تو ان خوش قسمت بندوں کی ہے جنہوں نے روزے، نماز اور زکوٰۃ خیرات و صدقات سے مفلس غرباء یتیم و مساکین کی مدد کی، ایسے ہی بندوں کو اللہ ربّ العزت کثیر اُجرت یعنی اجر ثواب سے نوازتا ہے۔

اللہ عزوجل سے دعا گو ہوں کہ اے پروردگارِ عالم!!!
ہمیں عید الفطر کی تمام نعمتوں، برکتوں اور رحمتوں سے مالا مال کر دے، ہم گناہ گاروں و بدکاروں کی عبادات و اعمال کو اپنی شان کے لائق بنا کر قبول فرمائے، اور ہمیں دونوں جہانوں کی کامیابی و خوشیاں عطا فرمائے۔
آمین!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے