لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئ زد میں۔۔.
مجیب الرحمٰن
یہ صرف ایک شاعر کا تخلیق کردہ شعر نہیں بلکہ مستقبل کی پیشن گوئی ہے، شاعر سو سال اگے دیکھتا اور سوچتا ہے، وطن کے حالات کی ستم ظریفی کو دیکھ کر ایک درد دل رکھنے والا شاعر اپنے درد کو الفاط کا جامہ پہناتا ہے اور سامعین کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ وطن میں بلڈوزر کا دور چل پڑا ہے، کبھی تو صرف مسلمان نشانے پر تھے، مسجدیں نشانہ پر تھیں اور اب بھی ہے، لیکن جب آگ بھڑکتی ہے تو اس کے شعلے دور تک لپکتے ہیں اور اپنے اثرات چھوڑ جاتے ہیں، اسی لیے آگ ایسی جگہ بھڑکائی جاتی ہے جس کے ارد گرد خالی ہو۔
یوپی سے یہ آگ بھڑکی تھی اور اب بہار تک پہنچ چکی ہے، بہار میں بھی بلڈوزر کی دستک ہو چکی ہے اور اپنی کارروائی میں مصروف ہے، گھر ٹوٹ رہے ہیں، دکانیں مسمار کی جارہی ہیں، مندروں سے بت کی گردن میں رسی باندھ کر گھسیٹا جارہا ہے اور یہ تو ابھی آغاز ہے۔
ابھی ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا
جب آگ کے شعلے بلا تفریق مذہب گھروں دکانوں مندروں کو چھو رہی ہے تو میڈیا برادری خاموش ہے، وہی میڈیا جو کسی زید، بکر، عمر کے گھر کو ٹوٹتا دیکھ کر چیختی چلاتی تھی اور گھسپیٹ کا طعنہ دیتی تھی، تالیاں پیٹتی تھی آج جب خود پر بن ائی ہے تو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو، سچ کہا تھا۔۔۔۔
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئ زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
بہار جس کی تاریخ میں پسماندگی لکھی ہوئی ہے کبھی سر اٹھاکر جینا نہیں سیکھا آج پھر اپنی تاریخ کو دہرانے چلی ہے، حالیہ الیکشن میں ایسا لگا کہ ایسے لوگ کرسی پر بٹھائے جائیں گے جن کی سوچ اچھی ہے، جن کی نیت اچھی ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ پیسے کی لالچ بڑی خطرناک اور معنیٰ خیز ہوتی ہے، دس ہزار کیا کھاتے میں آگئے عوام ماضی بھول بیٹھی اور مستقبل سے بے خبر اپنی قبر خود کھود لی، ویسے دیکھا جائے تو سیاست کی شعبدہ بازی کا کوئی سرا نہیں ہوتا جس کو پکڑ کر اطمینان کی سانس لی جائے لیکن فقہ کا اصول ہے کہ اگر دو مصیبت سامنے کھڑی منتظر ہو اور دونوں سے گزرنا ہو تو کم مصیبت کو ترجیح دی جاتی ہے، لیکن قلبی بصیرت سے نابینا عوام سمجھ سے قاصر ہے اور نتیجہ خود اپنے ہاتھ سے پیدا کرکے اپنی مصیبت آپ مول لیتی ہے۔ اس وقت بہار کی جنتا چیخ رہی ہے، لوگ بے گھر ہو رہے ہیں، ٹھہرتی سردی میں آشیانے سے محروم ہورہی ہے، دکانیں کھنڈارات میں تبدیل ہورہی ہیں، اور عوام اپنے کئے کا سہرا آنکھوں سے دیکھ رہی ہے، لیکن اب پچتاوت کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت۔
نہ وہ ہیلی کاپٹر منڈلا رہے ہیں، اور نہ ہی وہ لیڈر نظر آرہے ہیں جن کی غراہٹ سے فضا گونج اٹھتی ہے، جو مسیحائی کا دم بھرتے تھے، جو اپنی برادری کو ثریا پر لے جانے کی راہ دکھاتے تھے، پاسوان برادری کا دم گھنٹے لگا ہے، گیا، آرا، نالندہ، پٹنہ اور دیگر اضلاع میں بلڈوزر کی دھوم مچی ہوئی ہے، سڑکوں پر قدموں کی ٹاپ ہے، یوٹوبر اپنے کام میں مصروف ہے، اور عوام کا آنسو چھلک رہا ہے۔
مزید ظلم و ستم کا انتظار ہے، فی الوقت زیادہ کچھ کہنا جلد بازی ہوگی۔
0 تبصرے