جامعہ ام سلمہ میں ھندو مذہبی کتابوں کے تعارف پر سوامی شنکرا چاریہ جی کا لیکچر
جامعہ ام سلمہ دھنباد، جھارکھنڈ میں جگت گرو، ماہرِ وید و پران، سری سوامی شنکرا چاریہ جی مہاراج نے نہایت بصیرت افروز اور معلومات افزا لیکچر دیا ،، پروگرام جامعہ کی علمی و تہذیبی فضا کو مزید نکھار دینے والا ثابت ہوا اور طالبات کے لیے نئی فکری جہتوں کے دروازے کھول گیا۔
سوامی شنکرا چاریہ جی نے اپنے خطاب کا آغاز ہندو دھرم کی بنیادی کتابوں وید، اُپنشد، بھگوت گیتا اور دیگر مشہور گرنتھوں کے تعارف سے کیا۔ انہوں نے انکی تہذیبی، اخلاقی اور روحانی اہمیت کو نہایت عالمانہ لیکن آسان اسلوب میں واضح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کتابوں میں انسان دوستی، امن، محبت، خدمت خلق، سچائی اور اخلاقی پاکیزگی جیسے اوصاف کو اصل معیار قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے انکی زبانوں کے بارے میں بتایا کہ اصل وید کی جو زبان ہے وہ نہ کوءی سمجھتا ہے ، نہ اسکا کوءی عالم ہوا ہے ،اسکے ترجموں اور مفہوم جو پیش کئے جاتے ہیں وہ غلط ہیں ، ہاں رشی منیون کی جو تعلیمات ہیں انہیں کو ویدوں کی شرح سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے نہایت دل کش انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “دنیا کے تمام مذاہب کا بنیادی پیغام ایک ہی ہے: انسانیت، خیر خواہی، اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت و احترام۔ اگر ہم ان مشترکہ قدروں کو سمجھ لیں تو سماج میں نفرت و بے چینی کی کوئی جگہ نہیں رہے گی۔”انہوں نے بتایا کہ جو راجہ رانی کی کہانیاں، میتھالوجی کی کوئی حیثیت نہیں ہے دھرم میں، انہوں نے سوامی وویکا نند کے حوالوں سے بھی اپنے دعووں کو مدلل کیا۔
گفتگو کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے سوامی جی نے قرآنِ کریم کی آفاقیت اور احادیثِ نبویہ کی ہمہ گیریت کا مؤثر انداز میں ذکر کیا۔ انہوں نے اپنی بصیرت سے بھرپور مثالوں کے ذریعے واضح کیا کہ الہامی کتابوں کا اصل مقصد انسان کو اس کے خالق سے جوڑنا اور کائنات کے حسن و نظم میں غور و فکر کی دعوت دینا ہے۔ انہوں نے وحدانیت، نظامِ کائنات اور خالقِ کائنات کی کرشمہ سازیوں کو نہایت آسان اور پر کشش پیرائے میں بیان کیا۔
ملک کے معروف خطیب بلند شاہ ظفر اللہ سجادہ نشیں خانقاہ چشتیہ قادریہ، گیا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ناظم جامعہ حضرت مولانا آفتاب عالم صاحب ندوی کی قربانیوں، ان کی انتھک علمی و انتظامی محنت اور جامعہ کی تعلیمی ترقی کے لیے ان کے غیر معمولی کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے طالبات کو علم سے محبت، وقت کی قدر اور ایک ذمہ دار شہری بننے کی اہمیت پر بھرپور انداز میں ابھارا۔
اس موقع پر جامعہ کے ناظم حضرت مولانا آفتاب عالم صاحب ندوی نے مہمانانِ خصوصی کا پُرتپاک خیر مقدم کیا۔ انہوں نے سوامی شنکرا چاریہ جی اور دیگر معزز شخصیات کا تعارف پیش کرتے ہوئے ہندو دھرم کی معتبر اور اصل کتابوں اور بین المذاہب ہم آہنگی کے نظریے پر بھی روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی انہوں نے جامعہ کے تعلیمی نظام، اس کی خدمات اور مستقبل کے اہداف کا بھی پُر مغز بیان پیش کیا۔
محاضرہ میں شریک طالبات نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔ سوال و جواب کا سیشن نہایت علمی، سنجیدہ اور مثبت رہا، جس میں سوامی شنکرا چاریہ جی نے ہر سوال کا مدلل، روادارانہ اور تحقیقی جواب دیا۔ اس سے طالبات کو نہ صرف بین المذاھب مطالعے کی ترغیب ملی بلکہ فکری وسعت بھی پیدا ہوئی۔
پروگرام میں خنساء اکیڈمی کے ڈائریکٹر مولانا خورشید عالم ندوی، حضرت مولانا رضوان الحق ندوی، جامعہ کی معلمات اور طالبات شریک ہوئیں۔

0 تبصرے