ہم منائیں گے غم محرم میں : نوحہ و مرثیہ
ہم منائیں گے غم محرم میں
غم ہوا مُحترم محرم میں
نوچ ڈالا کلیجہ اُمت کا !
ہاۓ اتنا ستم محرم میں ؟
میری آنکھوں کو ٹوکنے والو !
صبر آتا ہے کم محرم میں
ہم حُسینی ہیں ہم ہی سنی ہیں
چل نکالیں علم محرم میں
پڑھ کے تسبیح پاک پنجتن کی
کر لیں سینے پہ دم محرم میں
جتنے آنسو تھے میری مٹھی میں
کر دیئے سارے ضم محرم میں
سوگ و گریہ و غم کی شدت سے
ہیں سیاہ پوش ہم محرم میں
چار سو آنسووں کی کثرت ہے
کتنا پھیلا ہے نم محرم میں
عشق تکمیل پا گیا ایماں !
بحر ِفیض و کرم محرم میں
ڈاکٹر ایمان قیصرانی
0 تبصرے