Ticker

6/recent/ticker-posts

مرثیہ : در ذکر سرکارِ وفا عباس علمدار

مرثیہ : در ذکر سرکارِ وفا عباس علمدار


مرثیہ

در ذکر سرکارِ وفا عباس علمدار


پھر موج میں ہے فکر کا طوفانِ بلاغت
پھر عزمِ قلم چوم رہا ہے رخِ مدحت
میدانِ سخن میں ہے بپا حشر کی ساعت
لرزیدہ ہے باطل، ہے عیاں حق کی جلالت
لکھتا ہوں شہنشاہِ وفا کا میں سراپا
تھرائے جسے دیکھ کے خود لشکرِ اعداء

پھر رن میں علمدارِ جری، صف شکن آیا
وہ حیدرِ کرار کا گل پیرہن آیا
بجلی کی طرح کفر پہ جو تیغ زن آیا
عباسِ دلاور سوئے دشتِ مِحن آیا
ہلنے لگی دھرتی، یوں لرزنے لگا لشکر
عباس بڑھے رن میں تو یاد آ گئے حیدر

اک شور، غضب ناک ہے اب شیرِ الٰہی
چھانے لگی اعداء کے وہ چہروں پہ سیاہی
بخشے گی اماں کس کو یہ غازی کی گواہی
بھاگے گا کدھر چھوڑ کے اب لشکرِ شاہی
وہ غیظ کا عالم ہے کہ ہیں فوجیں بھی لرزاں
قبضے میں ہے اب موت، تو شمشیر ہے عُریاں!

چمکی جو وہ شمشیر تو لشکر میں مچا شور
طاقت نہ کسی میں تھی، رہا اب نہ کوئی زور
عباس کی ہیںت کا نرالا تھا ہر اک طور
تلوار تھی یا برق جو گرتی تھی علٰی الفور
حیراں تھی قضا دیکھ کے غازی کی لڑائی
دی لشکرِ اشرار نے مقتل میں دہائی!

جب نہر پہ پہنچا وہ شہنشاہِ وفادار
چُلو میں لیا پانی تو یاد آئے یوں سرکار
ناگاہ چلا کفر کا اک تیرِ ستم گار
کٹنے لگے شانے نہیں ہارا وہ علمدار
لی مشک یوں دانتوں میں کہ شانے جو قلم تھے
عباس کے خیموں کی طرف بڑھتے قدم تھے

ناگاہ لگا مشک پہ اک تیرِ ستم گر
بہنے لگا پانی، تو بپا ہو گیا محشر
ٹوٹی جو امیدِ حرمِ سبطِ پیمبر
بے دست و مددگار گرا مردِ دلاور
غل تھا کہ جدا ہوتا ہے شبیر سے بھائی
عباس نے یہ رسمِ وفا خوب نبھائی!

منصور نقوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے