Ticker

6/recent/ticker-posts

مرثیہ : فلک سے ارض تلک ذکر اب حسینؑ کا ہے

مرثیہ : فلک سے ارض تلک ذکر اب حسینؑ کا ہے


مرثیہ

فلک سے ارض تلک ذکر اب حسینؑ کا ہے
کہ اب عدو کا نشانہ حسب حُسینؑ کا ہے

سمجھ نہ پائے جو موت وحیات،کہتے ہیں
کہ گھر لٹانے کا فتویٰ عجب حسین کا ہے

یہ فلسفی بھی کوئی کر نہ پائے گا ثابت
کہ کربلا کا سفر بے سبب ، حسینؑ کا ہے

یہ سوچ کر نکل آئے عدو کی صف سے حُر
نثار ہونا ہے جس پر وہ رب حسین کا ہے

نہ جانتا تھا یہ بزدل یزید کا لشکر
کہ گھر لٹانے کا جذبہ غضب حسین کا ہے

غم‌ِ‌ حسینؑ عبادت سے کم نہیں یارو!
ہمارے خون کا، ہر قطرہ اب حسینؑ کا ہے

خدا کے سامنے ماتم کناں تھیں حوریں بھی
کہ شیر خوار تلک جاں بہ لب ،حسینؑ کا ہے

یزید و شِمر کی تربت بھی بے نشاں ٹھہری
عجم حسینؑ کا دیکھو، عرب حسینؑ کا ہے

ہوئے شہید یہاں تشنہ لب مگر نازاؔں
وہاں تو کوثر و تسنیم سب حسینؑ کا ہے
____

جبیں نازاؔں
نئی دہلی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے