Ticker

6/recent/ticker-posts

محبت دید کی خواہش کو لافانی بتاتی ہے : جبیں نازاؔں کی غزل

محبت دید کی خواہش کو لافانی بتاتی ہے : جبیں نازاؔں کی غزل


غزل

محبت دید کی خواہش کو لافانی بتاتی ہے
صدائے لن ترانی ہنس کے نادانی بتاتی ہے

یہ دنیا جذبۂِ الفت کو جسمانی بتاتی ہے
مگر مریم عطائے رب کو روحانی بتاتی ہے

  پرانی ہے کہانی ایک راجا سات رانی کی
مگر سن کر نو اسی کیوں پریشانی بتاتی ہے

چمن کے پھول کو معلوم ہے ہر راز مالی کا
فشاں کرتی ہے خوشبو، رات کی رانی بتاتی ہے

تپسیا عمر بھر کی اک پیالہ میں سمٹ آئی
اِسے مِیراؔ کنہیا کی نگہبانی بناتی ہے


تو اپنی داستاں میں لاکھ دھر الزام میرے سر
جبیؔں اس کو تری قدروں کی ارزانی بتاتی ہے

جبیں نازاؔں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے