محرم کی دین ہے : محرم شاعری
محرم کی دین ہے
منشورِ دینیات محرم کی دین ہے
دستورِ کائنات محرم کی دین ہے
ہر سمت بس حسینؑ کی صورت دکھائی دے
یہ حُسنِ شش جہات محرم کی دین ہے
اک جنگِ دائمی ہے سپاہِ یزید سے
یہ مقصدِ حیات محرم کی دین ہے
پیاسے دلوں کے دشت میں اس کو سنبھالنے
اشکوں کی یہ فرات محرم کی دین ہے
جس میں عبادتوں کو بھی معراج مل گئی
عاشور کی وہ رات محرم کی دین ہے
میدانِ کارزار میں بھی مسکرائیے
طرزِ تبسّمات محرم کی دین ہے
حُر سے گناہگار کو جس پر تھا اعتماد
وہ وعدہ ٔنجات محرم کی دین ہے
واجب ہے ہر اذاں پہ کہو: ”شکریہ حسینؑ!“
یہ صوم یہ صلوة محرم کی دین ہے
ثاقبؔ! دیا ہے نطق ہمیں ”یا حسینؑ“ نے
اپنی تو بات بات محرم کی دین ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباس ثاقبؔ

0 تبصرے