شبِ عاشور : مرثیہ
شبِ عاشور
عاشور کی شب مرکزی خیمے میں بلا کر
فرمانے لگے شاہؑ چراغوں کو بجھا کر
ہے جان جسے پیاری چلا جائے بچا کر
روکیں گے اسے اکبرؑ و عباسؑ نہ جا کر
"یہ میری اجازت ہے کوئی عار نہیں ہے
یوں چھوڑ کے جانے پہ کوئی بار نہیں ہے"
میں مالکِ کوثر بھی ہوں، تسلیم و رضا بھی
میں شارحِ توحید و نبوت بھی عطا بھی
میں رحمتِ عالم سے شہہِ جود و سخا بھی
میں وارثِ حرمین تو میں قبلہ نما بھی
"الحقُ علیؑ اور مع الحق ہے اگر حق
پھر میری اجازت یہ نہیں کچھ بھی مگر حق"
جو تم پہ مرا حق ہے وہ کرتا ہوں معطل
جو وعدہِ اجداد ہے کرتا ہوں مکمل
حق آدمؑ و خاتمؑ کا ہوا مجھ میں مُشَکّل
میں وارثِ حیدرؑ ہوں تو حجت ہوں مدلل
"جو تم پہ مرا حق ہے اسے چھوڑ رہا ہوں
آلام کا رخ اپنی طرف موڑ رہا ہوں"
جنت جسے درکار ہے وہ اس کو ملے گی
راضی بہ رضا میری رضا ساتھ چلے گی
وعدہ ہے مرا ماں سے شفاعت بھی کرے گی
پھر احمدؑ و حیدرؑ کی مَعِیّت بھی رہے
"درکار مخالف کو مری جان فقط ہے
یہ تم سے جدا ہونے کا عنوان فقط ہے"
گو میں بھی سمجھتا ہوں محبت یہ تمہاری
قربیٰ سے محبت بھی، عقیدت یہ تمہاری
صد لائقِ تکریم مُوَدّت یہ تمہاری
یہ عشق و جنوں اور مروت یہ تمہاری
"بچ جاؤ، چلے جاؤ، نکل جاؤ یہاں سے
عباسؑ انھیں کہہ دو سنبھل جاؤ یہاں سے"
کل دن میں جو ہوگا میں اسے دیکھ رہا ہوں
اکبرؑ، کہیں عباسؑ پڑے دیکھ رہا ہوں
انصار تو اعوان گرے دیکھ رہا ہوں
نیزوں پہ بَہتّر کو جَڑے دیکھ رہا ہوں
"میں جان تمہاری تو بچا سکتا ہوں آخر
جو حق ہے مرا تم پہ، اٹھا سکتا ہوں آخر"
زینبؑ سرِ عّریان بھی کیا دیکھ سکو گے؟
جلتے ہوئے قرآن بھی کیا دیکھ سکو گے؟
بے سر پڑے انسان بھی کیا دیکھ سکو گے؟
روندیں اُنھیں حيوان بھی کیا دیکھ سکو گے؟
"تقریر مّکرّر ہے چلے جاؤ یہاں سے
تم لوگ تو بچ جاؤ گے اس بارِ گراں سے"
قربیٰ کی مّوَدّت میں یہ احسان کریں گے
دن چڑھتے ہی پامال یہ قرآن کریں گے
انجام سے لاغرض یہ نادان کریں گے
فرعون کو، نمرود کو حیران کریں گے
"کل دن میں یہ امت مرا حق دے کے رہے گی
حیدر سے عداوت میں سبق دے کے رہے گی"
انصار سے، اعوان سے نظروں کو ہٹا کر
عباسؑ کے ہاتھوں سے چراغوں کو بجھا کر
پھر مرکزی خیمے كي طنابوں کو اٹھا کر
شبیرؑ نے خطبہ یہ دیا دل کو بڑھا کر
"اب حکمِ حسینیؑ تھا چراغوں کو جلا دو
اور خیمہِ توحید کے پردوں کو گرا دو"
جب خیمہِ جاناں کے چراغوں کو جَلایا
اِس فرش نے افلاک کو منظر یہ دکھایا
ہر شخص نے تلوار کو گردن سے لگایا
اک سانس بھی شبیرؑ کے بن ہو نہ خدایا
"تلوار ہر اک شخص نے گردن پہ دھری ہے
کہنے لگے اس وار سے ہر نفس بری ہے"
منظر یہ فرشتوں نے، خدا نے بھی یہ دیکھا
عشق اور مُوَدّت نے، وفا نے بھی یہ دیکھا
غیرت نے، حَمِیّت نے، انا نے بھی یہ دیکھا
کن اَکھیوں سے ابلیس و جفا نے بھی یہ دیکھا
"موجود تھے انصار تو اعوان تھے موجود
دنیا میں بَہتّر ہی تو انسان تھے موجود"
دل گیر حسینؑ ابن ولیؑ نے بھی یہ دیکھا
صد شکرِ خدا زینِؑ علیؑ نے بھی یہ دیکھا
زینبؑ نے، سکینہؑ سی کَلی نے بھی یہ دیکھا
بقیہ نے، مدینے کی گلی نے بھی یہ دیکھا
"زینبؑ کو بندھی آس کہ عباسؑ سلامت
عباسؑ سلامت ہے تو اک آس سلامت"
آغا ظہور عباس
شبِ عاشور، 2026
لاہور، پاکستان

0 تبصرے