آخر کس کا انتظار ہے؟؟؟
مجیب الرحمٰن ہنر
آخر کس کا انتظار ہے؟ کیا آنکھیں پھوٹ چکی ہیں، کیا دل پتھر ہو چکا ہے، کیا عقلیں ماؤف ہو چکی ہیں، کیا ضمیر مر چکا ہے، کیا کان بہرے ہو چکے ہیں؟ آخر کس کا انتظار ہے؟
کیا بے حسی کبھی ختم نہیں ہوگی؟ کیا ہونٹ ہمیشہ کے لیے سل گئے ہیں؟ کیا مصلحت کا لبادہ پسند آ گیا ہے؟ کیا زبانیں گنگ ہو گئی ہیں؟ آخر کس کا انتظار ہے؟
کوئی بتائے، کس چیز کا انتظار ہے؟ کیا ہاتھ شل ہو چکے ہیں، قدم زمین میں دھنس چکے ہیں، اعضاء مفلوج ہو چکے ہیں؟ آخر انتظار کس کا ہے؟؟
کیا نرم و گداز بستروں سے دوستی ہو گئی ہے؟ کیا لذیذ کھانے زندگی کا حصہ بن چکے ہیں؟ کیا استقبال اور پھول مالاؤں سے الفت ہو گئی ہے؟ کیا کرسیوں اور عہدوں سے حد درجہ پیار ہو گیا ہے؟ آخر کس کا انتظار ہے؟
کتنی قیامتیں اور دیکھنی پڑیں گی؟ موب لنچنگ کا طوفان تھم نہیں رہا، داڑھی، ٹوپی، نقاب نشانے پر ہیں، زندگی کے تقاضے محدود ہو گئے ہیں، سفر خوف کے سائے میں ہو رہا ہے، سرِ بازار رسوائی عام ہو گئی ہے، نگاہوں میں مشکوک ہو گئے ہیں، سرپھروں کے ہاتھ لمبے ہو چکے ہیں، ہتک آمیز نعروں کی بانگ ہے، زندگی جبر و اکراہ کا شکار ہے، مذہب دشمنی کا عروج ہے، فضاؤں میں تکدر ہے، ہوا مخالف ہے۔ پھر انتظار کس کا ہے؟
بابری مسجد ہاتھ سے گئی، حالیہ دنوں راجستھان کی پانچ قدیم مسجدیں مسمار کر دی گئیں، وارانسی اور گجرات کی قدیم مسجدیں شہید کی گئیں، اب یہ بھی نہیں معلوم کہ آگے کس کا نمبر ہے اور کتنی مسجدیں نشانہ بنیں گی۔ پھر انتظار کس کا ہے؟
بلڈوزر کی آمد آمد ہے، چن چن کر گھروں کو زمین دوز کیا جا رہا ہے، عبادت گاہیں نشانے پر ہیں، تاریخی مقامات دہانے پر ہیں، مدارس کے لیے راستے صاف ہو رہے ہیں۔ آخر انتظار کس کا ہے؟
این آر سی، اور اب ایس آئی آر حملہ آور ہے۔ گھس پیٹھ کے نام پر غیر پیدائش شدہ دستاویزات کا مطالبہ ہے، اسی بہانے ملک بدر کی سازش زوروں پر ہے، گائے کے نام پر جانوں کا ضیاع عروج پر ہے، بہن بیٹیوں کو منصوبہ بند طریقے سے ورغلانے کا کام جاری ہے۔ پھر آخر کس کا انتظار ہے؟
یہ تمام چیزیں بادلِ نخواستہ برداشت کی جا سکتی ہیں، لیکن پیارے آقا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں آئے دن گستاخیاں ہو رہی ہیں۔ ایک سرپھرا، بے وقعت، رذیل و گھٹیا شخص اپنی ناپاک سرشت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور پیارے آقا ﷺ کی شان میں ہفوات بک دیتا ہے۔ یہ واردات کوئی نئی تو نہیں۔ بے سہارا عوام چیختی ہے، سڑکوں پر دھرنے دیتی ہے، لیکن آوازیں دبا دی جاتی ہیں۔ اب تو معاملہ اتنا پرانا ہو چکا ہے کہ ہلکا نظر آنے لگا ہے۔ نا چاہتے ہوئے بھی دل مسوس کر رہ جانا پڑتا ہے، کیونکہ کوئی نہیں جو قانونی رہنمائی کرے یا پھر ہماری آواز کو ایوان تک پہنچائے۔ سرورِ کونین ﷺ کی یہ اہانت کب تک سنتے رہیں گے؟ آخر انتظار کس کا ہے؟
کہاں ہیں وہ جن کو ہم نے پیشوا بنایا، اپنا قائد و رہبر تسلیم کیا، جن کے لیے دھوپ چھاؤں برداشت کی، جن کے پیچھے زندگی کے قیمتی لمحات صرف کیے، جن کی جھولیاں دولت سے بھر دیں، جن کے نعرے لگاتے رہے، ہر وقت جن کا دم بھرتے رہے، جن کی ایک آواز پر زندگی کی تمام مصروفیات کو ترک کرکے لبیک کہا، جن کے جھنڈے گلی گلی، شہر شہر، گاؤں گاؤں ڈھوتے رہے، جن کے سہارے اتراتے رہے۔ آج "وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ" کا مصداق نظر آتے ہیں۔
کیا یہی سب دیکھنے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کیا تھا؟ کیا اب بھی انتظار ہے؟
ٹھیک ہے پھر۔۔۔۔
فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ
0 تبصرے