Ticker

6/recent/ticker-posts

الوداع سید - Alvida Syed

الوداع سید

آیت اللہ خامنائی


بچپنے کے زمانے کی مبہم سی ایک یاد زندہ ہے کہ رہبر معظم آیت اللہ خامنائی شہید امت علیہ رحمہ کی لاہور آمد تھی اور ہم چند بچوں کو استقبال اور ایک کلام اقبال کا ٹیبلو پیش کرنا تھا اور ہم کچھ بچے سفید شلوار قمیض اور بلیک واسکٹ میں ملبوس ہاتھوں میں گلدستے تھامے ادھر ادھر پریکٹس کرتے رہے۔
اس یادگار کا اس کے علاوہ مجھے کچھ بھی حصہ یاد نہیں ہے۔
مگر وہ خوشگوار احساس اور وہ مسحور کن واقعہ، بچوں کی مسکراہٹ اور رہبر شہید کا انتہائی چمکتا ہوا چہرہ کہیں نہ کہیں یادوں کی پرتوں میں دبا ہوا ہے۔

وہ زمانہ کیونکہ ایسے عوامی اور عمومی طور پر پکچرز یا ویڈیوز کا نہیں تھا جسکی وجہ سے یہ یاد فقط یاد ہی ہے جو کبھی کبھار ری پلے عکس و آواز کی لہروں میں نظر آ جاتا ہے اور بس اس کے سوا کچھ نہیں۔


آج جبکہ خود اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ہاتھ سے نکل ہی چکا ہے مگر رہبر شہید سے عشق و محبت اور بنا ملے، بنا دیکھے، بنا بات کئے شدید اپنائیت اور انسیت کا ایسا گہرا اور بھرپور احساس تب سے ہی زندہ ہے کہ جیسے گھر کے کسی بزرگ یا محترم فرد سے جذباتی و قلبی وابستگی ہو اور ہم ایسے ہی آن کے ساتھ ہی رہتے ہوں،

خود رہبر جب مختلف سوشل میڈیمز پر بچوں اور نوجوانوں سے ملتے، بات کرتے تو ان سامعین کا احساس انسیت تو اپنی جگہ مگر ہم دیکھنے والوں کو بھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ہم ویڈیوز میں نہیں اس ہال اور محفل میں ہی موجود ہیں اور برابر رہبر شہید کے سامنے ہی بیٹھے ہیں حتی کہ عبداللہ حسین ( بیٹا ) جب علی حسین ( بیٹا ) کے سن و سال میں تھا تو گھر میں موجود رہبر شہید کے عکس کو دیکھتا رہتا اور کہا کرتا تھا یہ بڑے بابا ہیں اور یہ عبداللہ حسین نے خود ہی سیکھا اور سوچا تھا کیونکہ والد محترم مرحوم و مغفور کو دادا ہی کہتا تھا، یہ بڑے بابا اس کی اپنی ہی سوچ تھی گویا رہبر شہید کی شخصیت اور عکس کا خاکہ سوائے محبت اور شفقت کے کچھ نہ بن پاتا تھا، جو بھی دیکھتا بس دیکھتا ہی رہ جاتا، جو بھی ملتا، سنبھل کر ناپ تول کر مخصوص چال ڈھال اور نپی تلی گفتگو تک ہی محدود رہ جاتا، میں نے زندگی بھر دنیا بھر کے صدور و سربراہان کو دیکھا جو بھی سامنے بیٹھ جاتا لفظ لفظ گن گن کر ناپ ناپ کر تول تول کر ادا کرتا، خواتین سربراہان و بین الاقوامی ریاستی نمائندگان یورپ سے ہوں یا عرب و عجم سے رہبر کے سامنے آتے ہی مہذب و معقول ہو جاتیں، لباس، بیٹھنے کا انداز، گفتگو میں شدید روحانیت، سکون، اطمینان اور لطف و کرم کا احساس ہر ایک کو گھیر لیتا اور سبھی خود کو ان کے سامنے بونے، ٹھگنے، گونگے محسوس کرتے اور رہبر شہید کا مطمئن، پر سکون اور مہذب عکس مندوبین کو ان کا گرویدہ بنا لیتا، میں نے آج تک سوائے چند عالمی منحوسوں اور بد بختوں کے رہبر کے لئے کبھی کوئی عامیانہ لب و لہجہ نہیں سنا۔


یہی رہبر شہید جب نوجوانان سے ملتے تو نوجوانان سے زیادہ جوان نظر آتے، رہبر کی چمکتی آنکھیں، مظبوط ارادے، دمکتا چہرہ نوجوانوں کو بھی ماند کر دیتا، ایران و عراق انتہائی خوبصورت مرد و زن کی سرزمین ہے مگر رہبر کے سامنے بیٹھے جوانان میں بھی چھیاسی سالہ رہبر شہید اماوس شب میں چمکتے چاند کی مانند دکھائی دیتے۔

گفتگو پر ایسا ساحرانہ عبور تھا کہ کسی سے 10 سال پہلے کی ملاقات کے موضوعات، حتی کہ ان کے سنائے اشعار و کلام کا من و عن حوالہ بھی دے دیتے اور سامع دنگ رہ جاتا۔

پوری دنیا، سربراہان، ایجنسیاں، افواج رہبر کے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ کو غور سے سنتے، اپنے اپنے مفاہیم و مطالب لیتے جبکہ دنیا بھر کے نیوز روم رہبر شہید کو ہمیشہ براہ راست کوریج دیتے آئے اور یہ سلسلہ رہبر کے سپریم لیڈر بننے سے آخر دم تک قائم رہا۔ 

رہبر شہید کا اپنے وطن، اپنے مشن، تعلیم و تدریس، فقہ و اجتہاد سے عشق کا یہ عالم تھا جب سے سپریم لیڈر بنے تب سے آخری دن تک اپنے وطن سرحدوں سے باہر نہ گئے، دنیا بھر کے سربراہان و مشاہیر فقط ایران ہی آئے۔

مگر رہبر شہید کا سب سے خوبصورت چہرہ اور رویہ تب دیکھنے کو ملتا جب وہ بچوں سے ملتے۔
 شفقت، کریمی، الفت، پیار اور محبت سے سرشار، بچوں کے ساتھ بچے بن جاتے اور ہر طرف نورانیت اور معصومیت پھیل جاتی، ایسی مسکراہٹ اور لطافت رہبر کے وجود سے پھوٹتی کہ تفریق مشکل ہو جائے یہاں کوئی سن رسیدہ بزرگ بھی موجود ہے، رہبر کو کبھی کھل کر مسکراتے دیکھا تو فقط بچوں کے ساتھ، لطیفانہ حکمت بھرے واقعات و گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا، رہبر کبھی بچوں کو پاس بلاتے، کبھی ہاتھ چومتے، کبھی بچوں کو گلے لگاتے تو کبھی بچوں کی معصوم سی خواہشات پوری کرتے کرتے زمانے کی تلخیوں، سختیوں اور مشکلات کی تھکن اتار پھینکتے اور تازہ دم ہو جاتے۔


میرا ابھی شہید کی سیاسی جد و جہد، عالمی طاقتوں، سامراج اور صہیونی طاقتوں کے ساتھ نبردآزمائی اور مسلمان ممالک کی بے وفائیوں پر گفتگو کرنے کا من ہی نہیں، بس دیکھ تو دنیا نے بھی لیا کہ اگر کوئی شخصیت موجودہ دور میں تھی تو فقط رہبر، کوئی قوم تھی تو شعیہ قوم اور کوئی ملک تھا تو فقط ایران کہ جس نے باطل کے گلے میں بازو گھسیڑ کر باطل کا کلیجہ نکال کے رکھ دیا۔

نہ ہی میرا موضوع رہبر شہید کی عالمانہ زندگی، درس و تدریسی حیات، اجتہاد و فتاوی کی مصروفیات، ایران کے ڈومیسٹک مسائل اور لوکل سیاست پر ہے۔

میری یہ بے ربط سی گفتگو، ٹوٹے پھوٹے پیرے، غیر مسلسل تحریر کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میں مسلسل رات سے سفر میں ہوں گاڑی کا پہیہ زندگی کے پہیے کی طرح برق رفتاری سے لاہور تا بہاولپور روانہ ہے اور گاڑی بھگاتے علی رضا کا ممنون ہوں کہ مجھے ڈرائیونگ سے چھٹی دے رکھی ہے تبھی کچھ کہنے کی فرصت ہوئی رہبر شہید کو یاد کرنے بیٹھ گیا ہوں اور مجھے صبح بہاولپور پہنچ کر شہید رہبر کو نذرانہ عقیدت پیش کر کے سر شام لاہور پہنچنا ہے اور دوسری وجہ رہبر شہید کی حیات با صفات پر مجھ ایسے کم علم اور کم کم فہم نے کیا ہی گفتگو کرنی فقط اپنی رہبر سے وابستگی میں محبوب کا ذکر چھیڑ کر اس فضا میں خوش ہو رہا ہوں کہ رہبر کا تذکرہ اور یاداشتیں ہی موضوع کلام ہے بالکل ایسے عاشق نامراد کی طرح کہ جو اس بات پر بھی خوش ہے کہ معشوق کا ذکر ہی ہو جائے تو معشوق کا چہرہ آنکھیں میں سمایا رہتا ہے۔

خدا وند کریم رہبر شہید کی کامل مغفرت اور اعلی علیین کا ساتھ قرار فرمائے!

"ایسے ہوتے ہیں علی کے نوکر"

Agha Zahoor
July 2026, Samma Satta, Pakistan

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے