Ticker

6/recent/ticker-posts

روزہ آدھی طریقت ہے Ramzan Ka Roza Aadhi Tariqat Hai

روزہ آدھی طریقت ہے Ramzan Ka Roza Aadhi Tariqat Hai


حضرت جنید بغدادی کا قول ہے کہ روزہ آدھی طریقت ہے۔ اگر ہم روزہ کی اصل روح کو دیکھیں، روزے سے حاصل ہونے والے روحانی فوائد کو دیکھیں تو تقریباً وہ سبھی چیزیں شامل ہیں جن پر ہم طریقت کے راستے پہ کوشش کرتے ہیں۔

روزہ کی اہمیت روزہ کی فضیلت

روزہ صبر و برداشت پیدا کرتا ہے۔ روزہ انسان کو سکھاتا ہے کیسے حق تعالی کے احکام کی پیروی کی جاتی ہے۔ روزہ انسان کے اندر تابعداری جیسی صفات پیدا کرتا ہے، روزہ انسان میں عبادات کا شوق پیدا کرتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ روزے سے انسان اپنے نفس کو اپنی خواہشات کو قابو کر لیتا ہے۔ روزے سے انسان زکر کے اصل معنی کا پاتا ہے۔ روزے سے انسان کی روح طاقت کو حاصل ہوتی ہے۔ اور بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو ایک روزہ دار کو حاصل ہوتی ہیں جو اللہ کی رضا کہ لیے روزہ رکھ رہا ہوتا ہے۔

آپ زرا تصور کریں آپ کے پاس نعمتیں موجود ہیں کھانے کی اشیاء دسترس میں ہیں لیکن ایک حکم کی اطاعت میں آپ ان سب سے رک رہے ہو۔ ایک حکم آپ کو روک رہا ہے جس سے آپ حلال پاکیزہ چیزوں کے استعمال سے بھی بچ رہے ہو۔

آپ زرا سوچیں وہ کیا بات ہے جو آپ سحری کے وقت کے بعد کھانے نہیں دے رہی۔ وہ کیا چیز ہے جو آپ کو افطار سے قبل بھوک اور پیاس کی شدت ہوتے ہوئے بھی آپ پانی و خوراک کے استعامل سے بچ رہے ہو۔

آپ خود پہ سختی کس لیے کر رہے ہو؟ کوئی آپ کا بازو پکڑ کر نہیں روک رہا۔۔۔۔۔

آپ روزہ میں گناہوں سے بچ رہے ہو۔ نیکی کی طرف رغبت بھی پیدا ہو رہی ہے، نمازوں کا بھی باقائدگی سے اہتمام کیا جا رہا ہے۔ نوافل اور زکر ازکار بھی ہو رہے ہیں۔

زبان سوچ خیال ہر چیز کو پاک رکھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہو۔ کوئی بری بات نہ نکلے، کوئی بری سوچ نہ لائیں، ہر عمل پہ نگاہ رکھ رہے ہو۔ یہ سب کیسے ممکن ہو رہا ہے؟؟

یہ سب اس ایک حکم کی اطاعت میں ہے۔ روزہ کے ادب میں ہے، روزہ کی کاملیت حاصل کرنے کے لیے ہے۔ یہ آپ خود کر رہے ہو، اپنی خواہش اپنی خوشی اور اپنی مرضی کے مطابق۔

یہی آپ کو ضرورت ہے آپ کی رمضان کے علاوہ کی زندگی میں، اللہ کے احکامات کی پیروی، اللہ کی رضا کو مدنظر رکھنا، اللہ کی محبت میں اپنے اعمال کو نگاہ میں رکھنا، اللہ کے لیے اپنا محاسبہ کرنا اپنا تزکیہ کرنا، خود کو پاک و صاف کرنا، گناہوں سے بچانا، اللہ کی محبت میں نیک اعمال اختیار کرنا، یہی آپ کی زندگی میں ہو آپ کی طریقت مکمل ہے۔

آپ کی زندگی اگر روزے کی حالت میں ہے تو آپ کی موت عید سے کم نہیں ہوگی، آپ کا وصال عرس ہوگا، خوشی ہوگی، آپ اپنے محبوب حقیقی سے ملو گے، اس نعمت کبری کو پاؤ گے جس کے لیے اپنی زندگی آپ نے روزے جیسے گزاری۔۔۔!!!!!

شاہ ظفرحسین ارولی


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے