عید مبارک شاعری نظم
عید مبارک
آ گیا دلکش زمانہ دیکھئے پھر عید کا
انبساط و شادمانی کی حسیں تمہید کا
ہر کلی رنج و الم کی خود بہ خود مُرجھا گئی
کِھل اُٹھا ہے آج ہر گُل گلشنِ اُمید کا
سج گئی ہے بزمِ رونق، جشن کا ماحول ہے
عید میں بے شک نہاں پیغام ہے تبرید کا
بھول کر شِکوے گِلے سب کو لگا لیجے گلے
کھوئیے مت دلنشیں موقع خوشی کی دید کا
عید نے بخشا سبھی کو لمحۂ شاد و نشاط
اس لئے شیدا ہوا ہر فرد دل سے عید کا
عید ہے تحفہ خدا کا صائموں کے واسطے
عید ہے مظہر خدا کے نکتہء توحید کا
فلسفہ ضم ہے خوشی کا یوں نویدِ عید میں
ہو مشدد لفظ میں جوں کام اک تشدید کا
یاد رکھنا ہے مگر یہ بھی خوشی کے دور میں
ہاتھ سے دامن نہ چھوٹے مذہبی تقلید کا
ہر طرف ورنہ نوازے جائیں گے الزام سے
اس لئے مت دیجئے موقع کسی تردید کا
یوں شریعت کے مطابق ہم منائیں عید کو
ہو عیاں مفہوم جس سے کلمۂ تمجید کا
سُنتّوں کی پیروی ہوتی رہی گر عید میں
بند ہو جائے غزالی در سبھی تنقید کا
✒️— محمد مصطفےٰ غزالی، عظیم آباد
📞— 9798993200 : 8409508700
نذرانہء عید
خوشیاں تمام آج منائیں کہ عید ہے
سارے نقوشِ غم کو مِٹائیں کہ عید ہے
بغض و حسد ، فتور کا نام و نشاں نہ ہو
دل کو جناب دل سے مِلائیں کہ عید ہے
ہر ایک کی زباں پہ مسرت کی بات ہو
سب کو پیامِ جشن سنائیں کہ عید ہے
.............................................
خدا کا شکر ہے بخشا ہمیں پھر سے حسیں موقع
تبسم کا، مسرت کا، خوشی کا، شادمانی کا
منائیں عید کی خوشیاں، سبھی سب سے گلے مل کر
غزالی ہے دعا گو آپ سب کی کامرانی کا
عید کی خوشیاں مبارک ہوں
مبارک ہوں سبھی کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں
صدا آئی مرے دل سے یہی بے ساختہ یارو
مناؤ تم خوشی لیکن غریبوں کو نہیں بھولو
غزالی دے رہا ہے پاسِ دیں کا واسطہ یارو
.............................................
خلوصِ قلب سے ہم پر خدا کا شکر ہے واجب
عطا جس نے کیا ہم کو خوشی کے دید کا تحفہ
نوازا نیکیوں سے ماہِ رمضاں میں ہمیں حق نے
بفضلِ رب غزالی مل گیا پھر عید کا تحفہ
✒️ ...... محمد مصطفےٰ غزالی ، عظیم آباد
📞 ۔۔۔ 9798993200 : 8409508700
0 تبصرے