ہم نے ایسے عید منائی : فلسطینی پکار
مجیب الرحمٰن جھارکھنڈ۔
خون کی ندیاں بہ رہی ہیں، بچے زخموں سے چور ہیں، کسی کے دونوں کان کٹ چکے ہیں،تو کوئی ایک ہاتھ سے معذور ہوچکا ہے، کوئی بچہ دو ٹکڑوں میں بٹا ہے تو کوئی ملبوں تلے چیخ رہا ہے، کوئی ہسپتال میں دوا کیلئے تڑپ تڑپ کر جان دے رہا ہے، کسی کے لب خشک ہورہے ہیں، کسی کی آنتیں جل رہی ہیں، کوئی بیساکھی کے سہارے چل رہا ہے، سڑکوں پر لاشیں بچھی ہوئی ہیں، ایک طرف سر پڑا ہے، ہاتھ کٹا ہوا زمین پر ہے، کلیجہ نظر آرہا ہے، آنکھیں نکل چکی ہیں، مغز سر سے باہر بکھرا پڑا ہے، حسرت سے آسمان کو تکتی آنکھیں ہیں، بچے ماں کی گود میں بلک کر دم توڑ رہے ہیں، قدم اٹھتے ہیں تو خون پر پڑتے ہیں، لاشیں کی دھیر ہے، قبریں ٹرین کی پٹریوں کی طرح بچھی ہوئی ہیں، ہو کا عالم ہے، ہر طرف کراہیں ہیں، آہ و فغاں ہیں، فریادیں ہیں، بم دھماکوں کی آوازیں ہیں، دھواں دھواں فضا ہے، ہواؤں میں لاشوں کی جھریاں ہیں، ہڈیاں بکھری پڑی ہیں، زمین تنگ ہے، آسمان بھی خاموش ہے، دشمنوں کا پہرہ ہے، گولیوں کی گڑگڑاہٹ ہے، ہر لمحہ کھٹکا ہے، انسانوں کی آوازیں غائب صرف بندوقوں کی آوازیں ہیں، بچے ماں کو ترس گئے، بیویاں شوہر کیلئے ترس گئیں، شوہر بیویاں کھو چکے ہیں، باپ کی آنکھیں اولاد کی خاطر یتیم ہوگئیں، مائیں بچوں کو کٹے ہاتھوں سے ٹٹول رہی ہیں، شہر کھنڈرات میں بدل گیا ہے، مکانات ملبوں میں تبدیل ہو گئے ہیں، رہنے کیلئے زمین نہیں ہے، سر پر سایہ نہیں ہے، دھوپ کی تمازت ہے ایسا لگ رہا ہے جیسے سر پر آگ جل رہی ہو، زمین کہیں نظر نہیں آرہی ہے یا تو ملبہ ہے یا پھر قبریں ہیں، مسجدوں میں پہرے ہیں، سجدہ کرنے کیلئے پیشانی زمین پر رکھتے ہیں لیکن دوبارہ اٹھا نہیں سکتے بلکہ بموں تلے دفن ہوجاتی ہے، قیام رکوع سجود کی حالت میں ہم شہید ہورہے ہیں، چین و سکون، شانتی سے واسطہ ٹوٹ چکا ہے، کمر جھک گئی ہے، زمین پر لیٹتے ہیں تو دشمنوں کے جہاز فضا میں تیرتے نظر آتے ہیں، آنکھوں سے نیند غائب ہے، آنکھ بند ہوتے ہی روتے بلکتے تڑپتے بچوں کا منظر ہے، خواب میں تیرتی لاشیں ہیں، کھانے میں درختوں کے پتے ہیں، پینے کیلئے پانی نہیں، علاج کیلئے دوا نہیں، ہسپتال میں بیڈ نہیں، کوئی پرسان حال نہیں، ان تمام منظروں کے بیچ ہماری عید آئی، لاشوں کے بیچ کھڑے ہوکر نماز ادا کی اور خوشیاں منائیں۔
آپ نے خوشیوں بھری عید منائی ہوگی، نئے کپڑے خریدے ہوں گے، آپ کے صحن میں کھیلتے بچے ہوں گے، لہلہاتی فضا ہوگی، سوئیاں ہوں گی، مٹھائیاں ہوں گی، نئے جوڑے ہوں گے، نئ چیل اور جوتے ہوں گے، تمہیں تمہاری عید مبارک اور ہمیں ہماری عید مبارک، تم اس منظر میں خوش رہو، ہم اسی حالت میں خوش ہیں۔
0 تبصرے