حالیہ مناظرہ اور جذباتیت کا طوفان
مجیب الرحمٰن۔ جھارکھنڈ
مناظرہ ختم ہوا۔ سب نے اپنے اپنے طریقے سے سنا، دلائل بھی دیکھے، غلبے کا پہلو بھی محسوس کیا، ملحد کی شکست کا مشاہدہ بھی کیا، اور یہ سب کچھ حقیقت میں متوقع تھا؛ کیونکہ حق کے مقابل آنے والی ہر باطل قوت کا انجام ہمیشہ ہباءً منثوراً ہی ہوتا ہے۔ دنیا کی آنکھوں نے یہ کامل نظارہ کیا۔ دینی غیرت رکھنے والے ہر فرد نے مناظرِ دینِ حق کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کیا اس لئے کہ انہوں نے باطل کے چہرے سے پردہ ہٹایا۔ اور حقیقتاً یہ سب اللہ ہی کی توفیق سے ہوا، جس پر قرآن کریم شاہد ہے۔
فتح کے بعد ازہرِ ہند میں استقبالیہ بھی ہوا۔ سوشل میڈیا پر توقع سے کہیں بڑھ کر مبارک بادیں موصول ہوئیں۔ مختلف اداروں کے ذمہ داران کی طرف سے تہنیتی خطوط بھی بڑے ذوق و شوق سے پہنچے۔ مناظر صاحب کے مادرِ علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں بھی پرتپاک استقبال ہوا، جہاں موصوف نے نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے مادرِ علمی کی عظمت اور اس کی علمی و فکری خدمات کا اعتراف کیااور یہ اعتراف بجا بھی ہے کہ آدمی جس باغ سے پھل کھاتا ہےاس کی خوبی کا ذکر کرنا اس کا بنیادی حق اور اخلاقی فریضہ ہے۔
اس مناظرہ کے تعلق سے مناظر صاحب کو ایسی شہرت اور مقبولیت عطا ہوئی، جس کا شاید کبھی حاشیۂ خیال میں بھی تصور نہ آیا ہو۔ احباب ہوں یا اغیار، ہر ایک کی نگاہیں گویا کسی ملحد کی شکست کے انتظار میں تھیں، اور مناظر صاحب نے اپنے استدلال اور وقار سے یہ توقع پوری کر دکھائی۔
تاریخ کے اوراق ہمیں بتاتے ہیں کہ ملحدین کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں، اور نہ ہی ان سے مناظرے کسی نئی ایجاد میں سے ہیں۔ ماضی کے ادوار میں بے شمار مناظرے ملتے ہیں، جہاں اسلاف نے وجودِ باری تعالیٰ کو مضبوط عقلی و نقلی دلائل سے ثابت کیا اور مخالفین کو زیر کیا۔ لیکن آج کی عوام اس سے واقف نہیں، کیونکہ ایک تو تاریخ پڑھتے نہیں، اور دوسرے اُس زمانے میں ایسا میڈیا نہ تھا جس کے ذریعے ایک لمحے میں دنیا دیکھ اور سن سکے۔
اس کے مقابلے میں ہمارے موجودہ دور کے ملحدین کا پیمانہ نہایت پست ہے۔ ان کا سارا دارومدار جذباتیت پر ہےبات دلیل کی نہیں بلکہ محض emotional reaction تک محدود ہے۔ لہٰذا ان دو ادوار کے مناظرے علمی وزن، فکری گہرائی اور نوعیتِ استدلال کے اعتبار سے بالکل مختلف ہیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ دلائل تو سب کے سامنے میراث کی طرح موجود ہیں، لیکن دنیا کا دستور اب وہی ہے کہ "جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے"، اور حالیہ مناظرہ نے اس حقیقت کو ایک بار پھر ثابت کر دیا۔
مسلمانوں کی ایک دیرینہ کمزوری ہمیشہ نمایاں رہی ہےاور وہ ہے بےمحابا جذباتیت۔ یہ کمزوری کہہ لیجئے یا خوبی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسی جذباتیت نے مسلمانوں کو بہت نقصان بھی پہنچایا ہے۔ جب جذبات غالب آتے ہیں تو انسان اپنا حال، مستقبل، اور گرد و پیش سب فراموش کر بیٹھتا ہے، اور تب مخالفین پس پردہ فائدہ اٹھا کر اپنا زہر پھیلا دیتے ہیں۔ جذباتی آنکھیں جب کھلتی ہیں تو اکثر زمین ہاتھ سے نکل چکی ہوتی ہے، اور پھر حسرت سے اُڑتے ہوئے طائر کو دیکھا جاتا ہے۔
حالیہ مناظرہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا گویا مکمل طور پر اسی مناظرہ کی زد میں آگیا ہے۔ ہر طرف تعریف و توصیف کا سلسلہ جاری ہےیقیناً یہ ضروری ہے، مگر اس کے نام پر روز مرہ پیش آمدہ فکری و سماجی خطرات سے غافل ہو جانا دانش مندی نہیں، بلکہ حماقت ہے۔ مناظرہ کے بعد حقیقی کام یہ ہے کہ اس فتح کو ایک مستقل علمی و فکری محاذ میں بدلا جائے، نہ کہ صرف چند دن کی جذباتی لہر پر گزارا ہو۔
شمائل ندوی صاحب کو بے شمار مبارکباد کہ انہوں نے نہ صرف اسلام کی نمائندگی کی، بلکہ ہر اس صاحبِ فکر انسان کی ترجمانی کی جو خالقِ حقیقی کے وجود پر ایمان رکھتا ہے۔ ان کی جرأت، علمی استعداد، اندازِ سخن، صبر اور وقار کو سلام۔ اسی طرح پوری ٹیم کو مبارکباد۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مزید قبولیت، عزت اور ترقیات سے نوازے، اور اس کامیابی کو امت کی فکری بیداری کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
0 تبصرے