اور بھی غم ہیں امت کو مناظرے کے سوا
پتہ نہیں کن حالات میں مفتی شمائل ندوی "موحد" کو جاوید اختر "ملحد" کے ساتھ 20 دسمبر 2025 کو ایک عوامی مناظرہ کرنا پڑا۔حالانکہ وہ یہ کام سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نہ کر کے چپکے سے بھی کر سکتے تھے جیسا کہ دنیا بھر میں ہزاروں لوگ خاموشی سے دین کی خدمت کر رہے ہیں اور یہ خبر آتی کہ جاوید اختر موحد ہو گئے۔تعجب تو تب اور زیادہ ہوا جب دیکھا کہ موحد اور ملحد کے مناظرہ کی صدارت ایک ایسا "مشرک" کر رہا ہے جو شاید اب گودی میڈیا کی شرن میں جا چکا ہے۔ حیرت کی بات یہ بھی رہی کہ اس لایعنی مناظرہ کو اکثر علمائے کرام کی خاموش تائید بھی حاصل ہوئی۔ممکن ہے کہ اس فتنے کے دور میں اصل مسائل سے بھٹکانے کے لئے للن ٹاپ کے ایڈیٹر کی نگرانی میں یہ ایک سوچی سمجھی سازش رچی گئی ہو۔ایسا میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ آج دشمن پوری دنیا میں مذہب کی بنیاد پر ہی انسانیت کے خلاف آخری جنگ چھیڑ چکا ہے اور آبادی کو الجھا کر شیطانی طاقت کو کامیاب کرنے میں لگا ہوا ہے۔
دور حاضر میں Artificial Intelligence ہماری فراست اور صلاحیت کو نگلنے کے لئے تیار بیٹھا ہے اور ہم ثابت شدہ حقیقت پر پھر بحث کرکے اپنا وقت برباد کر رہے ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ دشمن اسلام نے اپنے کسی نمائندہ کے ذریعہ مسلمانوں بشمول دوسرے مذہبی ٹھیکیداروں کو ایک لایعنی بحث میں الجھانے کی کوشش کی ہے، تاکہ بے شمار بنیادی مسائل سے لوگوں کو دور کیا جا سکے۔ اللہ کا وجود تو اظہر من الشمس ہے جس کو ثابت کرنے کے لئے اب کسی منطق، فلسفہ اور سائنس کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ کچھ دہائیوں پہلے جب غیر اسلامی یونانی فلسفے کا یلغار تھا تب ہمارے اسلاف نے اپنی جانیں گنوا کر اسلامی فلسفے کے زور پر اللہ کے وجود کو ثابت کردیا۔ حجت تمام ہوگئی اب سائنسی ترقی اور سوشل میڈیا کے کھلے پلیٹ فارم کی موجودگی میں ایسا مناظرہ یا بحث وقت کی بربادی کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ خبریں یہ بھی آرہی ہیں کہ ہندو پاک میں " بین المسالک مناظرے" کو مزید بھڑکایا جا سکتا یے۔ ویسے بھی اکثر مناظرہ کا مقصدِ خاص سامنے والے کو زیر کرنا ہی ہوتا ہے جبکہ دعوتِ خاص افہام و تفہیم ہونا چاہئے۔اس سے بھی آگے سوچنے کی بات ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے اسلامی طریقہ کو اپنایا جائے گا تبھی اللہ تعالیٰ کی نصرت شامل حال ہو سکتی ہے۔
اکبر الہ آبادی نے ٹھیک ہی کہا تھا....
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
آج کے سائنسی ترقی کے دور میں کوئی کہے کہ میں اسلام کو نہیں جانتا ہوں یا اللہ کے وجود کو نہیں سمجھتا ہوں وغیرہ تو یہ اپنے آپ میں سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ غیر اسلامی معاشرہ بھی اسلام کا مطالعہ بخوبی کر رہا ہے۔ اس دور میں جبکہ سائنس اللہ تعالیٰ کے وجود کو ماننے کے لئے مجبور ہو چکا ہے، نظام کائنات چیخ چیخ کر اللہ کے وجود اور قدرت کی گواہی دے رہا ہے۔ جب کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں ہمہ وقت مشغول ہے تو انسان کی کیا مجال کہ وہ ملحد بن جائے۔ یہ سب شیطانی اور دجالی فتنے کی گندی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔ شاید کوئی سائنسدان بھی اللہ کے وجود اور قدرت کو مانے بغیر دنیا سے نہیں گیا ہوگا..! انسان اپنی پیدائش، جسم کی بناوٹ اور موت پر ہی غور کرلے تو اللہ کا وجود واضح ہو جائے۔ ایلن مسک Alon Musk آج ایک زندہ مثال بن چکا ہے جو ایک عظیم الشان اور قادر مطلق کے وجود کو ماننے پر مجبور ہو گیا۔ موحد ہونا تو فطرت میں ودیعت ہے ملحد ہونا سراسر شیطانی وسوسہ ہی ہو سکتا ہے۔
ابن المعتز شاعر کہتا ہے....
فَیَا عَجَباً کیفَ یُعْصَیٰ الْالٰہ > اَمْ کیفَ یَجْحَدُہ الجاحِد وَفِیْ کُلِّ شئیٍ لَہ ایة > تَدُلُّ علی أنَّہ وَاحِد
ترجمہ: تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کیسے کی جاسکتی ہے یا اس کے وجود سے کوئی کیسے منکرہوسکتاہے ؟ جب کہ ہر چیز میں اس کے وجود کی نشانی اور دلیل موجود ہے۔جو بہ زبان حال پکار پکار کر گواہی دے رہی ہے کہ وہ اکیلا ویکتاہے اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں۔ (ابن کثیر:82/1)
صرف جاوید اختر ملحد جیسے لوگ ہی نہیں بلکہ کافر و مشرک بھی حق کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں، کس کس سے مناظرہ کیجیے گا۔ ماضی میں بھی ہمارے اکابر نے جو مناظرے کئے وہ وقت کا تقاضا تھا۔ مناظرہ کا عنوان تو ? Does God Exist تھا لیکن غور کیا جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ خدا کے وجود پر بحث ہی نہیں ہوئی۔ ساری بحثیں اس پر ہوئی کہ اللہ کیسا ہے؟ اللہ غزہ میں مدد کیوں نہیں کر رہا ہے؟ اللہ رحیم ہے تو ظلم کیوں نہیں روک رہا ہے؟ وغیرہ۔ حد تو یہ ہوئی کہ مباحثے کے آغاز میں جاوید اختر نے اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ بحث کی خاطر اگر مان بھی لیا جائے کہ خدا واقعی میں ہے، تو جب وہ دنیا کی حالت دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں خدا کے لیے کوئی جذبات پیدا کیوں نہیں ہوتے۔
ملحد اختر نے بڑی بے شرمی سے اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا " تم قادر مطلق ہو، ہر جگہ موجود ہو، تم تو وہاں غزہ میں رہے ہو گے، تم تو ہر جگہ ہو، تم دیکھ رہے تھے کہ بچے کی کیسے دھجیاں اڑ رہی ہیں، تم دیکھ رہے تھے اور تم چاہتے ہو میں تمہاری پرستش کروں، اگر تم ہو بھی؟"
انھوں نے اللہ تعالیٰ کا مذاق اڑاتے ہوئے مزید کہا کہ ’ارے یار اس سے اچھے تو ہمارے پرائم منسٹر ہیں، کچھ تو خیال کرتے ہیں۔‘
واہ رے مسلمان..! ہنسی خوشی اللہ تعالیٰ کا مذاق اڑاتے ہوئے مزہ لوٹ گئے جب جاوید اختر ملحد نے کہا کہ تم (اللہ) سے تو اچھے ہمارے پردھان منتری ہیں جو کچھ تو کرتے ہیں۔ جاوید اختر صرف ملحد نہیں بلکہ " پاگل ملحد" ہے۔ استغفراللہ
لگتا ہے اب مسلمانوں کی فراست چھین لی گئی ہے۔کاش کے لوگ آثار قیامت کی نشانیوں کا مطالعہ کرلیتے۔ بعد میں تو غیر مستند افواہ یہ بھی پھیلائی گئی کہ 20 ہزار لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ واللہ اعلم بالصواب
ہر دور میں وقت کی ضرورت کے حساب سے ترجیحات کی بنیاد پر محنتیں کی گئی ہیں۔آج بھی ترجیحات طئے کرنی ہوگی۔آج اپنا محاسبہ امت مسلمہ کا سب سے اہم تقاضا ہے۔ اسلامی تعلیمات تو بالکل ظاہر ہو چکی ہیں۔ ایک بٹن دبائیں اور ساری تفصیلات حاضر۔ اپنا ذاتی محاسبہ اس لئے کہ ان دنوں مذہب ہی کی بنیاد پر دنیا بھر میں شرارت کی جارہی ہے اور اکثر لوگ اس میں پھنستے جارہے ہیں۔ ہماری بچیاں مرتد ہو رہی ہیں، ہماری مسجدیں مسمار کی جا رہی ہیں، بے قصوروں کی ماب لنچنگ کی جارہی ہے اور معصومین قید کئے جارہے ہیں، دولت کی ریل پیل اور فضول خرچی بیماری بن چکی ہے، عیش و عشرت اور نمائش کی زندگی ہمارا خاصہ بن چکا ہے، وغیرہ۔ اس سے نکلنے کی کوئی فکر ہے نہ کوئی پلاننگ۔ ان عنوانات پر بحثیں ہوتیں تو شاید اچھے سماج کی تشکیل نو ہوتی۔مسلمان اب شاید چوپائے اور بھیڑوں کی مثال بن چکے ہیں۔جو دشمن دنیا پڑھا رہی ہے وہی ہم پڑھ رہے ہیں اور فتنوں کی بارش میں بھیگ رہے ہیں۔ہم کوئی داروغہ نہیں ہیں کہ امت مسلمہ کے مسائل کو بھول کر ایک پڑھے لکھے باخبر ملحد کو سمجھانے کی فکر کریں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو کہا کہ کیا آپ ان کی فکر میں اپنے آپ کو ہلاک کر دیں گے..!
بحث و مناظرہ کرکے خدا کے وجود کو منوانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا وجود اور قدرت تو زرےّ زرےّ سے عیاں ہے۔ ہم کو اللہ تعالیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کا مکلف نہیں بنایا گیا ہے۔ ہمیں نیک اعمال کے اعادے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ اس مناظرے کے بعد بین المذاہب نظریاتی بحث اور مسلکی اختلافات میں اضافہ ہو جائے۔پھر بھی اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس مناظرہ کے ذریعہ جاوید اختر کو ملحد سے موحد بننے اور ان کے طفیل میں ہزاروں ملحدین کو اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو فراست نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ واللہ اعلم بالصواب
سرفراز عالم
عالم گنج پٹنہ
رابطہ 8825189373

0 تبصرے