دنیا کَبالہ (کالا جادو، سحر ) کے نرغے میں
ایسا لگتا ہے کہ 21 ویں صدی فتنوں کی صدی ہے۔ اس صدی میں اہل ایمان پر اپنے ایمان کی حفاظت کی ذمہ داری کئی درجہ زیادہ بڑھ گئی ہے ۔
سب سے پہلے ایک حدیث ملاحظہ ہو۔
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک بلند مقام کی چھت پر چڑھے اور پھر صحابہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا : " کیا تم اس چیز کو دیکھتے ہوجس کو میں دیکھ رہا ہوں" ؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "حقیقت یہ ہے کہ میں ان فتنوں کو دیکھ رہا ہوں جو تمہارے گھروں پر اس طرح برس رہے ہیں، جس طرح بارش برستی ہے" ۔
(متفق علیہ)
جنوری 30، 2026 کو امریکہ کے ایک شیطانی جزیرہ " Little Saint James" سے لاکھوں حیوانی تصاویر اور ویڈیوز کے ظاہر ہونے کے بعد دنیا سناٹے میں ہے کہ کیا کوئی انسان اتنا ذلیل ہو سکتا ہے جس کے خونریز کارنامے کو دیکھ کر شیطان بھی شرما جائے۔ Jaffery Epstien وہاں شیطانی طاقتوں کو خوش کرنے کے لئے زنا اور قتل یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کا خون پینے کا انتظام کرتا تھا۔ کئی سالوں سے حق کے خلاف " کالا جادو" کرنے کا بھی راز فاش ہوگیا۔ فائلیں لیک ہونے کے بعد دنیا کے ان قدآور ذلیل لوگوں کا سچ بھی سامنے آگیا جو اب تک دنیا میں مسیحا سمجھے جاتے رہے۔ پولیو سے لے کر کرونا تک ان کی سازش کا ہی حصہ ثابت ہوا۔ قرآن میں لفظ شیطان 88 مرتبہ اور لفظ ابلیس 11 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ مومنین کو تاکید کرتے ہوئے تقریباً 11 جگہوں پر شیطان کو کھلا دشمن بتایا گیا ہے اور ہم ہیں کہ شیطان اور ان کے ساتھی کی سازشوں کو جاننے، سمجھنے اور غور کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ سے مومنانہ فراست کی دعا مانگنی چاہیے تاکہ وہ شیطان نما انسانوں سے بار بار ڈسا نہ جائے۔آئیے اب اسلامی نقطہ نظر سے کالا جادو کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تباہ کر دینے والی چیزوں سے اجتناب کرو: وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا کرانا ہے۔“
[صحيح بخاري، حديث نمبر:5764]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک اور جادو کو ایک ہی جگہ بیان کیا ہے کیونکہ یہ دونوں گناہ اس قدر خطرناک ہیں کہ انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتے ہیں۔
شرک تو اس قدر تباہ کن ہے کہ اگر انسان شرک کرنے کے بعد توبہ نہ کرے تو وہ ہمیشہ کے لیے جنت سے محروم اور دوزخ اس پر واجب ہو جاتی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس مقام پر جادو کی سنگینی سے آگاہ کرنے کے لیے اختصار کے ساتھ اس حدیث کو بیان کیا ہے۔
موجودہ دور میں اگر سائنٹفک جادو کے اثرات پر غور کیا جائے تو میرے اس مضمون کے عنوان کی معنویت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ بیشتر لوگ سائنس کے اس دور میں اس عنوان کو من گھڑت اور پاگل پن بتائیں مگر اہل نظر جانتے ہیں کہ لگ بھگ تمام انبیائے کرام کو اس راستے سے بھی مٹا دینے کی شیطانی کوششیں کی گئیں ہیں۔ آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی جنگ بدر میں قتل کرنے کی کوشش اسی راستے سے کی گئی جن کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اتارا۔ سامری، ابن صبا، ابن صیاد، مسیلمہ کذاب، شداد اور فرعون کے جادوگروں وغیرہ کو یاد کیجئے بات بالکل واضح ہو جائے گی۔
یہ امر اب تعجب خیز نہ ہونا چاہیے کہ دنیا کے معاشی و سیاسی اقتدار پر قابض افراد میں سے زیادہ تر سحر اور سرَی عملیات میں ملوث ہیں۔ انسانوں کے بڑے پیمانے پر بلی ( Sacrifice ) دیے جانے، بچے بچیوں کے غائب ہونے، ان پر تشدد کیے جانے حتی کہ ان کا خون پیے جانے کے شیطانی عملیات کے واقعات حادثات اور جنگی کاروائیاں بڑھ رہی ہیں۔ 4 اگست 2025 ء روزنامه" امت" کراچی حیدر آباد/ راولپنڈی/ پشاور میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں موساد میں سفلی عاملوں کے خصوصی سیل کا انکشاف ہوا ہے۔
یہودی عقیدہ کے مطابق ہیکل سلیمانی میں دفن تابوت سکینہ کو تلاش کرکے دوبارہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرنے سے ہی مسیح دجال کی آمد ممکن ہے۔ ان کے مطابق یہ تابوت سکینہ مسجد الاقصٰی کے نیچے دفن ہے جس کو حاصل کرنا ان کا سب سے بڑا مقصد ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس کے دوبارہ حاصل ہونے پر ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت دوبارہ انہیں نصیب ہوگی اور وہ دنیا پر حکومت کریں گے ۔تابوت سکینہ کے جادوئی اثرات کے استعمال سے ہی دنیا میں ان کا آقا مسیح دجال حکومت کرے گا جس کو آج کل ONE WORLD ORDER یا ONE WORLD GOVERNMENT یا WORLD RESET کہا جاتا ہے۔
کالا جادو" یا سیاہ علم برے جنوں اور بدروحوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ رمل، جفر، جوتش اور نجوم بھی اسی کی شاخیں ہیں جو توہم پرستی پر مبنی ہیں۔آج کے ترقی یافتہ سائنسی دور میں ان سب چیزوں کو توہم پرستی کے سوا کچھ نہیں کہاجاتا اور فی زمانہ جادو کے وجود سے ہی انکار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جنسی جادو ( Sex magic) بھی ہوتا ہے جس میں خواتین کی لذت اندوزی کا کسی مطلوبہ مقصد کے لیے استعمال ہے۔
جس طرح شیطان ایک حقیقت ہے اسی طرح جادو سحر بھی۔ ابتدا سے ہی جادو کا شیطان سے گہرا اور ابدی تعلق رہا ہے ۔ ترقی کی دنیا میں مسلمان بھلے ہی اس کے برے اثرات سے بے خبر ہو چکے ہیں لیکن شیطانی قوتیں اس کے ذریعے امت پر ہر دن آگے پیچھے اور اوپر نیچے سے حملہ آور ہیں۔ COVID-19 کے بہانے تقریباً دو سال تک دنیا کو بالکل بند کروا دیا گیا۔اس کے انجکشن کے ذریعہ دشمنوں نے اپنا کام کر دیا اور اب ناگہانی اموات دنیا کے سامنے مسلسل آرہی ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ انجکشن Human Gene پر اثر انداز ہوتے ہوئے آئندہ سینکڑوں سال تک اپنا کام کرتا رہے۔ ہزاروں جانیں غیر طبعی طور پر ضائع ہوگئیں اور ہو رہی ہیں۔
اسی ضمن میں کالا جادو (جس کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے) کے ذریعے بھی شیطانی قوتیں اپنی چال چل رہی ہیں۔ کالا جادو یا کبالہ دراصل یونانی تہذیب کاعلم ہے جو مخصوص اعداد وشمار اور علامات کے ذریعے کیا جاتا تھا جسےعام طور پر Black magic بھی کہا جاتا ہے۔ آج تقریباً دنیا کے ہر ملک میں کالا جادو اپنا پیر پسار چکا ہے۔ ہندوستان میں بھی کچھ دنوں پہلے دولت کی لالچ میں ضعیف العمر شخص کو قتل کروا دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ کالا جادو کا اس میں بڑا عمل دخل ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک سے بھی مجھ سے دوران گفتگو کالا جادو کے مساجد میں داخل ہونے کی مستند خبریں ملی ہیں۔ واللہ اعلم
سورہ بقرہ 102 میں جادو کی حقانیت اس طرح بیان کی گئی ہے۔
ترجمہ: " اور انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو شیطان سلیمان کی بادشاہت کے وقت پڑھتے تھے، اور سلیمان نے کفر نہیں کیا تھا لیکن شیطانوں نے ہی کفر کیا لوگوں کو جادو سکھاتے تھے، اور اس (چیز) کی بھی جو شہر بابل میں ہاروت و ماروت دوفرشتوں پر اتارا گیا تھا، اور وہ کسی کو نہ سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے ہم تو صرف آزمائش کے لیے ہیں، تو کافر نہ بن، پس ان سے وہ بات سیکھتے تھے جس سے خاوند اور بیوی میں جدائی ڈالیں، حالانکہ وہ اس سے کسی کو اللہ کے حکم کے سوا کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے، اور سیکھتے تھے وہ جو ان کو نقصان دیتی تھی اورنہ کہ نفع، اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جس نے جادو کو خریدا اس کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں، اور وہ چیز بہت بری ہے جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنے آپ کو بیچا، کاش وہ جانتے"۔
کالے جادو کی دنیا باہر سے تو بہت رنگین نظر آتی ہے لیکن اندر سے بہت ہی گھناونی ہوتی ہے۔ ان میں مٹھی بھر طاقتور لوگوں کے چمکتے دمکتے چہروں کے پیچھے بدنما، درندے اور دہشت ناک کردار موجود ہوتے ہیں جو کہ شیطان کے پیروکار ہیں اور دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ دراصل یہ کبالہ نامی جادو شیطانیت اور سفلیات سے متعلق ہے جس میں مختلف نشہ آور چیزوں، جادوئی عملیات خاص طور پر Hypnotism کے ذریعے دماغ اور اس کی سوچ کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبالہ جادو کو جادوئی دنیا کا سب سے خطرناک جادو کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے Illuminati جو کہ دنیا کی آبادی کا ایک فیصد ہیں، شیطان سے براہ راست ہمکلام ہوتے ہیں۔
سورہ صافات آیت 125 میں " بعل" دیوتا کا ذکر آیا ہے جس کی الیاس علیہ السلام کی قوم پوجا کرتی تھی جو ان دنوں illuminati کا سب سے بڑا دیوتا ہے۔ اسی کی مدد سے دنیا بھر کالا جادو کا جال پھیلا دیا گیا ہے جو Epstien files کے ظاہر ہوا ہے۔
قرآن :- اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِيْنَ (125)
ترجمہ :- کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور سب سے بہتر بنانے والے کو چھوڑ دیتے ہو۔
کبالہ صرف ایک خطرناک جادو ہی نہیں ہے بلکہ یہ جادو کی قدیم ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔ اور اس کے تانے بانے مصر سے اسرائیل تک ملتے ہیں جو شیطانی طاقتوں اور عملیات پر یقین رکھنے اور ان پر عمل کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔ قدیم مصر میں ان دنوں جادو عروج پر تھا۔ یہاں لوگ کبالہ نامی جادو اور سفلیاتی علم کے ذریعے ہر ناممکن اور ناقابل یقین کام کو سرانجام دیا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر " سامری" نامی جادوگر جس کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں ان کے مقابلے کے لئے فرعون کے کہنے پر بلوایا گیا تھا۔ وہ اسی کبالہ جادو کا سہارا لیا کرتا تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمندر کے راستے نجات دلوا کر مصر سے نکل گئے جہاں فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اور موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر دوبارہ فلسطین میں آباد ہو گئے۔لیکن اس دوران قوم فرعون کے درمیان رہتے ہوئے بنی اسرائیل نے غرور و تکبر، ماہر جادوگروں کا علم اور دنیا پر حکمرانی کے حربے سیکھ چکی تھی یعنی ان میں فرعونوں جیسی تمام درندگی والی صفات پیدا ہو چکی تھیں۔ فلسطین آکر بنی اسرائیل رفتہ رفتہ سرکش اور نافرمان بن گئی اور مصری جادوگروں سے سیکھے گئے کبالہ عملیات اور جادو کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے لگیں۔
بنی اسرائیل نے جادو میں مصری جادوگروں سے بھی زیادہ مہارت حاصل کرلی اور اسے اپنے دشمنوں اور مخالفوں کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کرنے لگے یہاں تک کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور آیا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کو عظیم الشان سلطنت کے علاوہ جنات پر حکمرانی بھی عطا فرمائی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کے یہودیوں نے لوگوں کو ورغلانہ اور بہکانہ شروع کر دیا اور انہیں بتایا کہ نعوذباللہ سلیمان علیہ السلام کے پاس " کبالہ" کی ہی حکمت موجود تھی جس کے ذریعے آپ جنات کو کنٹرول کرتے تھے۔ لہذا لوگوں نے بنی اسرائیل کے ان یہودیوں کی باتوں میں آکر کبالہ جادو کو روحانیت کے طور پر سیکھنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ جادو کی کتابوں کو مقدس کتابوں کا درجہ دے کر ہیکل سلیمانی میں رکھ دیا گیا۔ مسلسل اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے اس قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور ہیکل سلیمانی پر دو مرتبہ حملہ ہوا۔ پہلا حملہ بخت نصر اور دوسرا حملہ ٹائٹس نامی بادشاہ نے کیا اور ہیکل سلیمانی کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور یہاں موجود بنی اسرائیل کو قتل کیا جانے لگا۔ تقریبا ڈیڑھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا۔ بچے ہوئے یہودی مجبوراً ہجرت کرکے پورے کرہ ارض پر پھیل گئے۔ ہیکل سلیمانی پر حملے کے دوران جادو کی سب کتابیں ہیکل سلیمانی کے ملبے تلے ہی دب کر رہ گئی جب کہ حملہ آوروں کو خبر تک نہ تھی کہ کبالہ نامی جادو کیا چیز ہے۔
لیکن پھر 1128ء میں ان بچے ہوئے یہودیوں نے مل کر ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نام knight templars رکھا گیا۔ اس تنظیم کا مقصد بظاہر عیسائی مسافروں کو تحفظ فراہم کرنا تھا یعنی بظاہر یہ ایک سیکورٹی کمپنی بنائی گئی تھی مگر درحقیقت ان کا مقصد ہیکل سلیمانی کے ملبے تلے موجود جادوئی کتابوں کو تلاش کرنا تھا جن کے یہ لوگ کبھی طالب علم رہے تھے اور یہ نہایت شاطرانہ انداز سے اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔ کیونکہ 1860عیسوی میں برطانیہ کے دو انجنیئر نے حرم شریف کے نیچے کھدائی کی تاکہ کچھ سروے کر سکے تو وہاں انہیں سرنگوں کا ایک جال نظر آیا جو ان knight templars نے کھودیں تھیں تاکہ ہیکل کے کھنڈرات سے وہ نایاب جادوئی کتابیں ڈھونڈ سکیں۔ وہ یہ نایاب اور جادوئی اثرات والی کتابیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جن میں کالے جادو اور پر اسرار رسومات کا تمام علم تھا۔ ان سب کتابوں کو حاصل کرکے ان کی غیر معمولی طاقتوں کا فائدہ اٹھا کر دنیا پر حکمرانی کرنا ان knight templars کا مقصد تھا۔
یہ لوگ عیسائیوں کے ساتھ مل کر صلیبی جنگوں میں بھی شامل ہوتے رہے اور خود کو انہیں کا حصہ یعنی عیسائی ظاہر کرکے دنیا پہ حکمرانی کے خواب دیکھتے رہے مگر سلطان صلاح الدّین ایوبی جیسے مسلم حکمران کے ہوتے ہوئے ان کے یہ ناپاک عزائم کامیاب نہ ہو سکے۔ آہستہ آہستہ یہ تنظیم تیزی سے پھیلنے لگی یہاں تک کہ اسے 1128ء میں مذہبی تنظیم تسلیم کر لیا گیا۔ یہ تنظیم دنیا بھر کے تربیت یافتہ اور تجربہ کار لوگوں پر مشتمل ہو گئی۔ ان knight templars نے تھوڑی سی فِیس کے بدلے لوگوں کی نقدی اور رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا شروع کر دیا اور سود لینا شروع کر دیا اسی سسٹم کے ذریعے آگے چل کر بینک کا نظام متعارف کروایا گیا۔
کچھ عرصہ بعد knight templars نے اپنا نام بدل کرFree mason رکھ لیا اور یوں Free mason نامی تنظیم وجود میں آئی جس کا مقصد پوری دنیا میں آذاد خیالی اور دین سے بیزاری کو فروغ دینا تھا۔ انسان کے اندر جنس پرستی اور مادی خیالات کو پروان چڑھانا تھا۔
1776ء میں اسFree mason نے مل کر ایک نئی تنظیم Iluminati قائم کی جس کے نظریات اور مقاصد Free mason کے جیسے ہی تھے۔ سارے Iluminatis خود کو دنیا کے علم میں سب سے افضل سمجھتے ہیں۔اصل میں یہ لوگ شیطان کے پجاری ہوتے ہیں۔ بائیبل میں ابلیس کا نام Lucifer بتایا گیا ۔ اس کے ممبران اور کارکن اکثر جسم پر Tattoosبنوا کر پھرتے ہیں جن کی نقل اب لگ بھگ پوری دنیا میں جاری ہے۔
کہا جاتا ہے دنیا کی مکمل آبادی میں سے صرف ایک فیصد Iluminati ہے جو کہ دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں اور یہ Blood lines یعنی 13 خاندان ہیں جو نسل درنسل شیطان کی پوجا کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ کسی کو بھی اپنی خفیہ تنظیم میں شامل نہیں کرتے ہاں مہرہ بنا کے اپنی انگلیوں پہ ضرور نچاتے ہیں یعنی جو لوگ مشہور ہونا چاہتے ہیں یا پیسہ کمانا چاہتے ہیں وہ شیطان سے سودہ کر کے اسے اپنی روح بیچ دیتے ہیں اور ہمیشہIluminati کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں پھر وہ جیسا کرنے کو بولتے ہیں انہیں ویسا کرنا پڑتا ہے۔
الیومیناٹی Iluminati کی تیرہ نسلوں میں ایک خاندان David Philip کا ہے جبکہ ایک خاندان Rothus Child کا ہے یہ دونوں خاندان پوری دنیا کےFinancial system اورامریکہ کے Federal Reserves bank کے مالک ہیں، یہ لوگ دنیا پر لگ بھگ 80 فیصد کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔ یہ لوگ بظاہر اچھے اچھے کام کرتے ہیں۔ انسان کی آسائش اور فلاحی کام کر کے لوگوں کی ہمدردی اور ان کا بھروسہ جیتتے ہیں لیکن پس پردہ غیر محسوس انداز میں ان کی Mind programming کرکے شیطانیت کو پروموٹ کرتے ہیں۔
کالا جادو سے بچنے کا طریقہ:-
کالا جادو، و دیگر مضر اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے ہر وقت ظاہری وباطنی طہارت، قرآن مجید کی تلاوت، مسنون اذکار اور دعاؤں کا اہتمام رکھیں۔ ان شیطانی حملوں سے بچاؤ کا وہی طریقہ ہے جس کی تعلیم ہمیں دین نے دی ہے۔
(1) ۔ سب سے بنیادی بات کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے تمام صفات پر کامل ایمان اور یقین ہو۔ اللہ سے ہی ہونے کا مکمل یقین ہو۔ اسی کی کائنات ہے،اسی کے حکم سے سب کچھ ہوتا ہے۔
(2) ۔ تمام شرائط و تقاضے کے ساتھ پنچ وقتہ نمازوں کی پابندی، جو اللہ ہی سے ہونے کی ضمانت ہے، کو مزید مستحکم بنایا جائے۔ جب بندے کا تعلق اللہ سے مضبوط ہوتاہے تو شیطان کا بس اس پر نہیں چلتا۔
(3) ۔ ہر وقت پاکی کا اہتمام کرنا، با وضو رہنا، اور تلاوتِ قرآنِ کریم کی کثرت، نیز ذکر کی پابندی۔
(4)۔ مکمل سورہ بقرہ معتدل آواز میں وقتاً فوقتاً گھر میں تلاوت کرنے کا اہتمام کریں۔
(5) ۔ صبح وشام کی حفاظت کی مسنون دعائیں پڑھنے کا اہتمام، (جو مختلف مستند علماءِ کرام نے جمع کرکے شائع کردی ہیں، کسی بھی دینی کتب خانے سے حاصل کی جاسکتی ہیں) نیز درج ذیل اذکار صبح وشام سات سات مرتبہ پابندی سے یقین کے ساتھ پڑھ کر دونوں ہاتھوں میں تھتکار کر سر سے پیر تک اپنے پورے جسم پر پھیردیں، ان شاء اللہ ہر قسم کےسحر، آسیب اور نظرِ بد کے اثراتِ بد سے حفاظت رہے گی۔ درود شریف، سورہ فاتحہ، آیۃ الکرسی، سورہ الم نشرح، سورہ کافرون، سورہ اخلاص، سورہ فلق، سورہ ناس کا ورد اکثر و بیشتر زبان پر رہے۔
(6)۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت کعب احبار رحمہ اللہ جو پہلے یہود کے بڑے علماء میں سے تھے،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمان ہوگئے تھے،انہوں نے بیان کیا کہ اگر میں یہ چند کلمات نہ پڑھا کرتا تو یہود جادو سے مجھے گدھا بنا دیتے وہ الفاظ یہ ہیں:
أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ، الَّذِي لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ، وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لاَ يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلاَ فَاجِرٌ، وَبِأَسْمَاءِ اللَّهِ الْحُسْنَى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَبَرَأَ وَذَرَأَ.
(موطا امام مالک)
ترجمہ :- بے شک میں اللہ تعالیٰ کے عظیم چہرے کی پناہ مانگتا ہوں جس سے بڑھ کر کوئی چیز عظیم نہیں، اور اللہ کی کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں جنہیں کوئی نیک یا بد آدمی پار نہیں کر سکتا، اور اللہ کے تمام خوبصورت ناموں کی پناہ مانگتا ہوں جنہیں میں جانتا ہوں اور نہیں جانتا، ہر اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا، بنایا اور وجود بخشا۔
ہمیں ہر وقت روحانی علاج کے طور پر اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل توکل قائم کرنا، تلاوت قرآن پاک، مخصوص شرعی دعاؤں کا اہتمام، توبہ استغفار کرتے رہنا، ہر وقت ذکر اللہ سے دل و دماغ کو روحانی غذا پہنچانا، انسانی خدمات میں شامل ہونا وغیرہ پر عمل کرکے ان مشینی فتنوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ رمضان کی آمد آمد ہے جس میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ذکر و اذکار کی طرف مائل کرنے کی کوشش کریں ۔اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے آمین ثم آمین
سرفراز عالم
عالم گنج پٹنہ
رابطہ 8825189373


0 تبصرے