خودی نہ بیچ تو، ذرا سا آہنی بن جا
آج عالمی پیمانے پر امت مسلمہ غیر مستحکم دنیا کے پیچھے اس طرح بھاگ رہی کہ فکری اور عملی طور پر لگ بھگ مفلوج ہو چکی ہے۔دنیا کی لالچ میں خودی لگ بھگ بِک چکی ہے۔موجودہ دور میں دولت سے سحر شدہ دنیا میں سب سے زیادہ خودی کا سودا کیا جا رہا ہے۔ ہر دن لوگوں کی اکثریت دنیا داری کے نام پر زندگی کے رہنما اصولوں سے سمجھوتا کر رہی ہے۔ ہر شخص زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کی فکر میں مبتلا ہے۔ لگ بھگ تمام انسانی رشتے کمزور ہو چکے ہیں۔ امیر اور غریب لوگوں کے بیچ کی دوریاں بڑھ گئی ہیں۔واضح رہے کہ دنیا بیزاری سے ہی خودی کی ترقی ممکن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دنیا میں رہیں لیکن دنیا پرست نہ بن جائیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ کا ہر فرد اپنا بھولا ہوا سبق یاد کرے اور اپنی خودی کو پھر سے عروج دینے کے لئے تمام طرح کی قربانیوں کے لئے تیار ہو جائے۔ ہر فرد سب سے پہلے اپنا محاسبہ کرے، کمیوں اور کوتاہیوں کو اپنی زندگی سے نکال دے۔ دنیا کی لالچ میں نفس پروری سے بعض آئے۔ اپنی غیر ضروری خواہشات کی تکمیل سے پرہیز کرے۔ قومی اور مسلکی تصادم سے دست بردار ہو کر ملت کی سربراہی کے لئے مل جل کر گھروں سے باہر نکلے۔ ضرورت مندوں کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے سے بھی گریز نہ کرے۔ ممکن حد تک انسانوں کی خدمت کرے یہاں تک کہ شیعہ سنی اختلافات کو بھی درگور کرکے قرآن واحادیث کی بنیاد پر حقیقی اسلامی تصور کا نمونہ بن جائے۔ اہل تشیع بھی قرآن میں مذکور پانچ بنیادی عقائد ( " اللہ، ملائکہ، انبیاء، کتب اور آخرت پر ایمان رکھنا"۔(سورہ بقرہ آیت 177) کی بنیاد پر امت مسلمہ کا مضبوط حصہ ہیں۔ ان قرآنی عقائد کے علاوہ ان کی غلطیوں کا حساب لینے کے لئے اللہ کافی ہے۔ مسلم حکومتیں بھی اپنی خودی کو بلند کریں تاکہ آئندہ "غزہ" اور " فلسطین" جیسے حالات نہ پیدا ہوں۔ آئیے ہم سب مل کر اپنے تمام اختلافات کو بھلا کر ایک ایسی آہنی دیوار بن جائیں کہ خدا ہر بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے..!
انسانی زندگی کی مکمل بنیاد خودی (Ego) یا خود شناسی( Self Identity ) پر ٹکی ہوئی ہے۔ احساس ذمہ داری پر ہی خودی کی عمارت قائم رہتی ہے۔ لاپرواہ ہوئے تو خودی ذی فراش ہو جاتی ہے۔ جب جب کسی فرد یا قوم نے اپنی خودی کو پہچانا ہے تب تب اس کو عروج حاصل ہوا ہے۔ جیسے ہی قوم خود شناس ہوتی ہے وہ ایک مرد آہن اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے۔ آج زمانہ پھر سے مومنین کو محاسبہ کے ذریعہ اپنی "خودی" کو پہچاننے کی دعوت دے رہا ہے۔ دور نبوت سے لگ بھگ 1450 سال کے بعد خودی کو خود غرضی سے باہر نکال کر " صرف ذرا سا فولادی" بن جانے کی گہار لگا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ آج بھی 1000 کے مقابلے کے لیے 313 کی مدد کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ مسلم امت تعداد کے لحاظ سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے لیکن افسوس عیش و عشرت میں ڈوب کر اکثریت خودی کا سودا کر بیٹھی ہے۔ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوا سے ہچکولے کھا رہی ہے۔ اسلام نے تو امتِ واحدہ کی تعلیم دی تھی، ہم خانوں میں بٹ کر تنکے کی طرح بکھر چکے ہیں اور دنیا میں ذلیل خوار ہو رہے ہیں۔
خودی دراصل (Ego) بڑھانے نہیں بلکہ خود کی پہچان کرنے کا نام ہے۔ خودی گئی تو زندگی بے معنیٰ ہو جاتی ہے۔ یہی وہ طاقت اور خصوصیت ہے جس کی حفاظت کے لئے انسان زندگی کی تگ و دو میں آنے والی پریشانیوں سے لڑ کر اُبَر پاتا ہے۔ بہت غور کیا جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ زندگی کی مشکلات کو انسان اکثر شکست دے کر اپنی ذات میں خودی Ego یا Self identity کو زندہ رکھنا چاہتا ہے۔ خودی کا احساس، اس کی حفاظت اور ترقی کی کوششیں اسلامی تعلیمات کا مرکزی نکتہ بھی ہیں۔
قرآن مجید میں "خودی" کا تصور مختلف طریقوں سے بیان ہوا ہے۔ اگرچہ یہ اصطلاح براہِ راست قرآن میں استعمال نہیں ہوئی ہے لیکن بیشتر آیات تزکیہ نفس کے ذریعہ اپنی خودی کو بلند کرنے کی تاکید کرتی ہیں۔ قرآن مجید میں "خودی" کا تصور درحقیقت اپنی حقیقی پہچان، اپنی عاجزی اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے احساس پر مبنی ہے۔ یہ انا پرستی نہیں، بلکہ اپنی ذات کو اللہ کی مرضی کے تابع کرنے کا نام ہے۔ قرآن میں انسان کو اپنی حقیقت، اپنی کمزوریوں، اپنی ذمہ داریوں اور اپنے رب کے ساتھ تعلق کو سمجھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
سورہ الشمس آیت 9 اور 10 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
ترجمہ :- بے شک وہ شخص فلاح پا گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا، اور نامراد ہوا جس نے اسے گناہوں میں دھنسا دیا"۔
جو شخص یا قوم جب اپنی خودی سے واقف ہو جاتی ہے تب خود احتسابی کے لئے تیار ہوتی ہے جو جوابدہی کا آخری زینہ، کامیابی کی کنجی، مقصد حیات، رجوع الا للہ اور ہمیشگی کی زندگی کے لئے سکون کا ذریعہ ہے۔
سورۃ الحشر: 18 میں اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ترغیب دیتا ہے۔
ترجمہ :- "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل (قیامت) کے لیے کیا بھیجا ہے"۔
خودی کا تصور علامہ اقبال کے فلسفے کا مرکزی نکتہ ہے، جسے وہ انسانی وجود کی شناخت، خودآگاہی، اور روحانی بلندی کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے یہاں خودی " بے خودی" نہیں ہے۔ خودی" بیداری اور خود آگاہی" ہے۔ یہ لفظ فارسی سے ماخوذ ہے، لیکن اقبال نے اسے روایتی معنوں (مثلاً غرور یا انانیت) سے ہٹ کر ایک وسیع فلسفیانہ مفہوم عطا کیا۔ اقبال کے نزدیک خودی سے مراد "احساسِ ذات"، "خود شناسی"، اور "خوداری کا جذبہ" ہے۔ یہ تکبر یا خود پرستی نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کا ادراک اور انہیں بروئے کار لانے کی صلاحیت ہے۔ خودی کو وہ "رازِ درونِ حیات" اور "بیداریِ کائنات" قرار دیتے ہیں۔اقبال نے خودی کو فرد تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے قومی اور تہذیبی نشوونما کا ذریعہ بھی قرار دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ خودی کی تربیت سے ہی مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔
اقبال کی نظر میں خودی ایک فعال اور بیدار کیفیت ہے۔ اقبال کی خودی کا تعلق خودداری اور عمل سے ہے۔ یہ صرف ایک نظریہ نہیں، بلکہ عملی زندگی کا رہنما اصول ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کو خدا کی عطا کردہ صلاحیتوں کے ذریعے پہچانے اور اسے اللہ کی رضا کے تابع کرے۔
خودی کا مقصد صرف اپنی ذات تک محدود نہیں، بلکہ دوسروں کی بہبودی کے لیے کام کرنا ہے۔ اقبال کے مطابق، حقیقی خودی انسان کو "مردِ مومن" بناتی ہے جو دوسروں کے لیے مشعلِ راہ ہوتا ہے۔ خودی انسان کو اخلاقی بلندی اور روحانی ترقی کی طرف لے جاتی ہے، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر معاشرے کی تعمیر کرتا ہے۔ یہ تصور انسان کو خوابِ غفلت سے جگاتا ہے اور اسے ایک فعال، باشعور اور بااختیار فرد بناتا ہے۔ جیسا کہ اقبال فرماتے ہیں:
"خودی کی نگہبانی کر، ایں گوہر ہے بے بہا..!"
یہ شعر بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خودی کی حفاظت علم اور دلیل کے بغیر ممکن نہیں۔
اقبال کے نزدیک انسان کے اعمال ہی ہیں جو اس کی "خودی" کو مضبوط کرتے ہیں یا اس کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انسان کے اعمال ہی پر" خودی" کا فنا ہونا یا موت کے بعد زندہ رہنا موقوف ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ حیات بعد موت انسان کا حق نہیں بلکہ وہ اس کا امیدوار ہے۔ اگر خودی نے اپنے عمل اور کوشش کی بدولت اتنا استحکام پیدا کر لیا ہے کہ موت اسے کوئی گزند نہ پہنچا سکے تو اس صورت میں موت بھی اس کے لیے ایک راستہ ہوگا۔ اسی راستہ کو قرآن مجید " برزخ" کا نام دیتا ہے۔
علامہ اقبال کے درج ذیل اردو اشعار بھی اسی سیاق میں ہیں:
" ذرا تقدیر کی گہرائیوں میں ڈوب جا تو بھی
کہ اس جنگاہ سے میں بن کے تیغ بے نیام آیا
خودی کے ساز میں ہے عمرِ جاویداں کا سراخ
خودی کے سوز سے روشن ہے امتوں کے چراغ"
اقبال کے نزدیک، خودی کی تکمیل صرف اجتماعی ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے ہی ممکن ہے۔ فرد کو اپنی ذات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اقبال کی فکر میں خودی اور اجتماعیت ایک دوسرے کے متضاد نہیں۔
خودی بغیر اجتماعیت " انانیت" (Egoism) بن سکتی ہے۔ اجتماعیت بغیر خودی کے تقلید اور محکومی کا باعث بنتی ہے۔اقبال کے مطابق، ایک مثالی معاشرہ وہی ہے جہاں افراد اپنی خودی کو پہچانتے ہوئے اجتماعی مقاصد کے لیے کام کریں۔ یہی تصور اسلامی تعلیمات کے اصول "اخوت" اور "امت" سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
"ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ"
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ امت کا ہر فرد دنیا کے مکر و فریب سے باہر نکلے، اپنی بقا کا مقصد سمجھے، اور اپنے آس پاس کے معاشرے کی تعمیر نو کے لیے کمر کس لے۔ اپنی خودی کو اتنا بلند کردے کہ زندگی پر فخر محسوس ہو۔ دنیا سے جائے تو پیشانی پر رتی بھر شکن نہ ہو کہ ہم نے زندگی صرف دنیا کے لیے برباد کردیا۔ فرشتے آسمان پر چرچا کریں کہ یہ شخص اپنی آخرت سنوار کر آیا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم دنیا بیزار ہو کر خودی کو مضبوط بنائیں گے۔ افسوس انہیں کوتاہیوں کی وجہ سے آج مسلمانوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے تالا لگا دیا ہے۔ جب مغربی اور یورپی ممالک دولت کے نقصانات کو سمجھ کر انسانی قدروں کو پہچان کر زندگی میں برت رہے ہیں، امت مسلمہ ( وھن ) یعنی دولت کی محبت میں گرفتار ہو کر انسانی قدروں سے نابلد ہوتی جارہی ہے۔ ان دنوں ایسا لگتا ہے کہ اب ہم نے آخرت فراموشی کو اپنے اوپر خود ہی مسلط کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
سرفراز عالم
عالم گنج پٹنہ
رابطہ

0 تبصرے