25 مشہور نعتیں | منتخب نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کا مجموعہ
5.6.2020
نعتِ رسولِ مقبول صلیّ اللّٰہ علیہ و سلم
آسماں سے حبیب اُترا ہے
رب کے گھر سے قریب اُترا ہے
مُردہ روحوں کو زندگی دینے
لے کے نُسخہ عجیب اُترا ہے
عرش نے دی صدائے صلِّ علٰی
جب خُدا کا نقیب اُترا ہے
ہے فرشتوں کو حُکم بھیجو درود
دیکھو ایسا نجیب اُترا ہے
لے کے کشکول آئے شاہ وگدا
وہ جو بیکس غریب اُترا ہے
ایک اِک لفظ ہے خُدا کا کلام
کیسا یکتا خطیب اُترا ہے
جو دُعا کی وہی قبول ہوئی
ایسا مضطر مجیب اُترا ہے
کون لے گا تِرا حساب وہاں
جب یہاں پر حسیب اُترا ہے
ماند سب پڑ گئے ستارے جب
پھِر وہ ماہِ مُنیب اُترا ہے
لفظ لفظ اُس کا دِل پہ جادو کرے
مُنفرد وہ ادیب اُترا ہے
تھام لیتا ہے جو بھی ہاتھ اُس کا
پار وہ خوش نصیب اُترا ہے
عِشق میں اُس کے میں جو قُرباں ہوں
کیوں پریشاں رقیب اُترا ہے
ہاتھ تُو بھی بڑھا کے نبض دِکھا
تیرا طارقؔ ! طبیب اُترا ہے
ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔لندن
13.8.2021
نعتِ رسولِ مقبول صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم
محمد بادشاہِ دوسرا ہے
محمد جو ہمارا رہنما ہے
محمد جو حبیبِ کبریا ہے
دو عالم کے لئے رحمت بنا ہے
خطاب اس کو دیا صادق سبھی نے
امیں کا بھی لقب اس کو ملا ہے
ہوئی ہے دُور ظلمت اس کے دم سے
اجالا ہر طرف اس سے ہوا ہے
عطائے علم و عرفاں کا سمندر
خدا کے فیض کا چشمہ بہا ہے
خدا کے فضل کی برسات برسی
جو چھائی ابرِ رحمت کی گھٹا ہے
چراغ اس سے ہوئے دنیا میں روشن
مہ و انجم نے نور اس سے لیا ہے
کئے قائم حقوق عورت کے اس نے
بنا بیواؤں کے سر پر رِدا ہے
وہ بچوں کے لئے شفقت کا پیکر
وہ بُوڑھوں کے لئے بھی اک عصا ہے
اسیروں کی رہائی کا وہ مژدہ
یتیموں کا تو وہ مولیٰ رہا ہے
وہ شہزادہ حسیں امن و اماں کا
رواج اس سے معافی کا پڑا ہے
جو کی تلوار سے اپنی حفاظت
دلوں کو فتح الفت سے کیا ہے
نصیب اس کو ہوئی معراج ایسی
قدم عرشِ معلّیٰ پر گیا ہے
ہماری جان واری ہے اسی پر
محمّد مصطفیٰ پر دل فدا ہے
مجھے رستہ دکھایا ہے اسی نے
مرے دل کا وہی روشن دیا ہے
پڑھیں صلِّ علیٰ طارق ہمیشہ
کہ مومن کو یہی حکمِ خدا ہے
ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن
22.102021
نعتِ رسولِ مقبول صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم
وہ لے کے آئے تھے رقص و سرود کا تحفہ
قبول ہو گیا ، میرا درود کا تحفہ
فرشتے ہر گھڑی اس پر سلام بھیجتے ہیں
درود ہے اسے ربِّ ودود کا تحفہ
بلند شان ہے اس کی کہ وہ محمّد ہے
ملا ہے اس کو خدا سے حمود کا تحفہ
عرب گواہ رہے صدق اور امانت کے
دیا انہوں نے اسے خود شہود کا تحفہ
اسی کا نام لیا ہے خدا کے نام کے ساتھ
ملا ہے اس کے لئے گو قیّود کا تحفہ
کیا ہے اس سے محبّت کا ہم نے دعویٰ جب
ملا ہے ملک میں اپنے ، حدود کا تحفہ
جمال و حسن کا پیکر ، جہاں کا محسن ہے
وہ لے کے آیا بہشتِ خلود کا تحفہ
خدا نے بھیجا ہے قرآن جو ہمارے لئے
ہمیں ملا ہے یہ اس کے ورود کا تحفہ
ہوا طلوع , جو وہ بدر , کیوں نہ شکر کریں
خدا کو پیش کریں ہم سجود کا تحفہ
پڑھا کرو اسے طارق ہمیشہ صبح و شام
قصیدہ اس کا ، مسیحِ موعود کا تحفہ
ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔لندن
21.8.2021
نعتِ رسولِ مقبول صلیّ اللّٰہ علیہ وسلّم
لب پہ ذکرِ صفا محمّد کا
وِرد صلِّ علیٰ محمّد کا
میرا محسن مرا حبیب ہے وہ
میرے دل کے بڑا قریب ہے وہ
آشنا لطف سے زبان کروں
کچھ صفات اس کی میں بیان کروں
وہ ہے رحمت خدا کی سب کے لئے
وہ نمونہ ہے روز و شب کے لئے
عشق یوں اس کو اپنے رب سے تھا
منتظر اس کا جیسے ، کب سے تھا
ذکر کرتا تھا اس کا کثرت سے
آج بھی لوگ دیکھیں حسرت سے
اس نے اُمّی لقب تو پایا تھا
خود خدا نے اسے پڑھایا تھا
علم و عرفاں کا وہ خزانہ تھا
اس کا قائل ہوا زمانہ تھا
جب خدا اس سے ہم کلام ہوا
جاری قرآن کا نظام ہوا
جب بھی کرتا کسی کو وہ تبلیغ
بات کرتا تھا وہ فصیح و بلیغ
اس کی سب سے بڑی جو طاقت تھی
اس کی ہر بات میں صداقت تھی
گفتگو اس کی ہوتی تھی جامع
اس کو سنتے تھے شوق سے سامع
مختصر جو کلام کرتا تھا
دشمنوں کو بھی رام کرتا تھا
کی گئی تھی عطا اسے حکمت
رعب سے دی گئی اسے نصرت
معرفت سے بھری جو باتیں تھیں
تھیں عبادت سے پُر جو راتیں تھیں
مل گئی تھی خبر زمانوں کی
کنجیاں دی گئیں خزانوں کی
وہ تو حاضر ہوا خدا کے حضور
چھوڑ کر وہ گیا خدا کا نور
مل گئے اب ہمیں خزانے وہ
ڈھونڈتے ہم ہیں پر زمانے وہ
ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن
12.6.2020
نعتِ رسولِ مقبول صلیّ اللّٰہ علیہ وسلّم
ذکر چھیڑا ہے ایک مہ رُخ کا
ایسی ہمت بھلا کہاں مُجھ کو
اِک حسیں تذکرہ محبت کا
تیرے جلووں نے دی زباں مُجھ کو
اس قدر رات کا اندھیرا تھا
چشمِ بینا ملی وہاں مُجھ کو
ٹھو کریں کھا کے میں تو گر جاتا
گر نہ ملتا ترا نشاں مُجھ کو
تیری رحمت ہوئی ہے جلوہ گر
شکر واجب کہاں کہاں مُجھ کو
تُو نے کُوئے صنم دکھایا ہے
تھا وہ یارِ نہاں ، نِہاں مُجھ کو
صدق پیشِ نظر ہوا جب سے
تیری عظمت ہوئی عیاں مُجھ کو
تیرا آنا خُدا کا آنا ہے
ایسا واضح ہُوا بیاں مُجھ کو
تُو نے مظلوم کی حمایت میں
دی وہ جراَت ملی زباں مُجھ کو
حق اسیروں نے پالئے تُجھ سے
تیرے در سے ملی اماں مُجھ کو
تیری تعلیم سے ہوئے پیارے
سب یتیم اور بیٹیاں مُجھ کو
بےشُمار اس قدر ترے احساں
غیر مُمکن ہوا بیاں مُجھ کو
دورِ آخر میں پِھر سے آئے گا
تیرے ملنے کا تھا گُماں مُجھ کو
چاند گہنا گیا تو سُورج بھی
تیرا روشن ہوا نشاں مُجھ کو
جب سے در پر ترے سلام کیا
پائے دُشمن بھی مہرباں مُجھ کو
تیرے آنے سے وُہ بہار آئی
غنچہ و گُل ہوا جہاں مُجھ کو
عشق صبر آزما سُنا تھا پر
اور کتنے ہیں امتحاں مُجھ کو
میں نچھاور ہزار بار کروں
تجھ سے پیاری نہیں یہ جاں مُجھ کو
ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن
3.6.2022
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
سفر کا شوق بھی ، منزل کی جستجو بھی ہے
ترے وصال کی خواہش بھی آرزو بھی ہے
اگرچہ بندے کو نسبت نہیں کوئی تُجھ سے
مگر عزیز اُسے، تیری آبرو بھی ہے
وہ عرش پر جسے ملنے بلایا خود تُو نے
ہوئی پھر اس سے ملاقات رو برو بھی ہے
کِیا پھر اس سے محبّت کا تُو نے جو اظہار
گواہ اس کی، تری طرزِ گفتگو بھی ہے
تِرا ہی حسن جھلکتا ہے خوب روؤں میں
حبیب تیرا حسین اور خوبرو بھی ہے
تری صفات سبھی جلوہ گر ہوئیں اس میں
ترے نقوش پہ قائم وہ نیک خُو بھی ہے
درود اس پہ سبھی بھیجتے ہیں صبح و مسا
دلوں میں پیار ہے ذِکر اُس کا، کُو بہ کُو بھی ہے
قصیدہ پڑھنے کی توفیق مل گئی تُجھ کو
کہ طارق اس کے غلاموں میں ایک تُو بھی ہے
ڈاکٹر طارق انور باجوہ ۔ لندن
4.9.2020
نعت رسولِ مقبول صلیّ اللّٰہ علیہ وسلّم
خدا کے بندوں میں سب سے اعلیٰ خدا کا جو اک نذیر آیا
وہ سب جہانوں میں رحمتوں کا پیام لے کر بشیر آیا
جو ظلمتوں کے عمیق گڑھوں میں گر گئے تھے ذلیل ہو کر
وہ پستیوں سے نکال کر ان کو دینے خیرِ کثیر آیا
وہ ظلم کی چکیوں میں پس کر ہوۓ تھے حیوان سے بھی احقر
امان پائی خدا کے بندوں نے امن کا جب سفیر آیا
نہیں تھے جن کے حقوق کوئی ،غلام رہتے تھے عمر بھر جو
انہیں رہائی دلا کے ان کو بنانے والا امیر آیا
خدا کی خاطر جو دن گزارے، عبادتوں میں بتائیں راتیں
نہ اس سے پہلے کسی نے دیکھا وہ عاشقِ بے نظیر آیا
خدا کی رحمانیت کا پرتو رحیم تھا وہ کریم تھا وہ
خدا کا عاشق بنانے والا خدا کا بن کے نصیر آیا
خدا کے عرفاں کا فیض دے کر کیا ہے سیراب تشنگی کو
عطا سمندر تھی جس کی ایسا وہ منعمِ دل پذیر آیا
وہ حسن و احساں کا ایسا سورج نہ اس سے پہلے فلک نے دیکھا
کئے جو روشن زمیں زماں سب مقدّروں کا قدیر آیا
یہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیں ہوئی ہیں روشن اسی کی لو سے
محبّتو ں کی لطیف گرمی لئے وہ مہرِ منیر آیا
وہ امّیوں کا تھا فخر جس کو خداۓ رحماں نے خود سکھایا
بتائے قرآں کے وہ معارف ، نہ اس سا عالِم کبیر آیا
بتانِ وہم و گماں کو تَج کر یقیں کے زیور سے بن سنور کے
خدا کی توحید کا پیمبر وہ سب سے بڑھ کر ، اخیر آیا
خداکی خاطر گزارتا تھا جو زندگی کا ہر ایک لمحہ
ہماری بگڑی بنانے آخر اسی کے در کا فقیر آیا
خدا کی جُودو سخا کا مظہر ، عطا ہوا جس کو حوضِ کوثر
وہیں پہ پہنچا جو تشنہ روحوں کا ایک جمِّ غفیر آیا
اسی کے در پہ پڑا ہے طارق اسی کے گھر کا ہوا ہے مہماں
زہے مقّدر وہ اس کے لطف وکرم کا ہو کے اسیر آیا
ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن
6.11.2022
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
چشمۂ فیضِ عام آیا ہے
وہ جو ماہِ تمام آیا ہے
دل کی تاریکیاں جو دور کرے
آسماں سے کلام آیا ہے
برکتیں اس سے پائیں قوموں نے
جب وہ خیر الانام آیا ہے
وہ جو پیاسے تھے لوگ صدیوں سے
دوڑتے ہیں کہ جام آیا ہے
اس سے لی ہے گلاب نے خوشبو
وہ گلوں کا امام آیا ہے
گفتگو جب کہیں بھی چلتی ہے
بار بار اس کا نام آیا ہے
کہتے پھرتے ہیں لوگ دُنیا میں
رب کا عاشق غلام آیا ہے
اس نے دھویا دلوں کو لفظوں سے
اس سے یہ اہتمام آیا ہے
جو بھی آیا ہے اس کی محفل میں
پھر بہ صد احترام آیا ہے
ساتھ اس کے جو چل دیے لیکن
ان پہ مشکل مقام آیا ہے
چاہنے والے بڑھ گئے اس کے
اس کا لطف ایسا کام آیا ہے
پیار سے دیکھا ساری گلیوں کو
وہ جہاں صبح و شام آیا ہے
جس کو آئی صدائے صلِّ علےٰ
اور خدا کا سلام آیا ہے
رشک طارق ہے خوش نصیبی پر
اس کی امّت میں نام آیا ہے
ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن
10.5.2023
نعتِ رسولِ مقبول صلعم
جاں ترے کوچہ میں آ کر یہ فنا ہو جاتی
مجھ کو گر قوّتِ پرواز عطا ہو جاتی
بارہا سوچا یہ دیکھوں ترا روضہ میں بھی
دیکھتا آ کے جو حائل نہ حیا ہو جاتی
دیکھ لیتا جو عدو ، چہرہ ترا ، غور کے ساتھ
روشنی چہرے کی ، آنکھوں کی ضیا ہو جاتی
بیٹیوں ، بہنوں، کی عزّت ہوئی قائم تجھ سے
سر پہ ان کے تھی ، رِدا تیری دُعا ہو جاتی
بھیجتا ہے جو خدا ساتھ فرشتوں کے درود
تُو جہاں ہوتا معطّر تھی فضا ہو جاتی
ایسا کرتا تھا اثر ، زیست کا انداز ترا
دل سے دنیا کی محبّت تھی ، جدا ہو جاتی
ایک خواہش ہو جو پوری تو ہے انجام بخیر
میری ہر سانس میں بس تجھ سے وفا ہو جاتی
ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن
1.10.2023
نعتِ رسولِ مقبول صلّی اللہ علیہ وسلّم
ذکر ہو اِس ماہ میں، ماہِ عرب ﷺ کا بار بار
نعمتوں میں، سب سے بڑھ کر اُس کی رحمت کا شمار
قوّتِ قدسی ہے اس کی جس سے سارے پھل لگے
اس کے دم سے ہر طرف پھیلے ہیں اب باغ و بہار
حسن اور اخلاق کا کامل نمونہ اس کی ذات
وہ خدا کی قدرتوں کا دیکھ لو ہے شاہکار
اس سے پہلے کب نظر آیا کوئی ایسا حسیں
ساتھ اس کے ہو گئے، سب چھوڑ کر اپنے دیار
سب مخالف ہو گئے اس نے ذرا پروا نہ کی
دے دیا پیغامِ حق گرچہ سہے دشمن کے وار
ہو گئے دشمن بھی قائل، عشق اُس کو رب سے ہے
دی گواہی سب نے ہے اس کو فقط رب سے ہی پیار
خُم لنڈھاتے، نازنینوں سے جنہیں فرصت نہ تھی
آ گئے سب چھوڑ کر، اس کے لئے دیوانہ وار
یاد کرنا اپنے رب کو ہر گھڑی معمول تھا
ذکر ہر پل پیار سے کرتا تھا اُس کا بار بار
“صد ہزاراں یوسفے بینم دریں چاہِ ذقن
واں مسیحِ ناصری شد از دمِ اُو بے شمار”
اے خدا رنجور ہیں ، اِس پر خزاں کا دَور ہے
پھر محمّد مصطفٰے ﷺ کے باغ میں آئے بہار
ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن
23.7.2023
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
جس طرف دیکھیں اسی کا نور ہے پھیلا ہوا
وہ محمّد مصطفےٰ، اس سا نہ کوئی دوسرا
ہے وہی تو مہ لقا، بدر الدّجٰی، نجمُ الہدٰی
ہر طرف پھیلی ضیا جس کی، ہے وہ شمس الضحٰی
ہے وہی خیرالورٰی، خیر البشر، ختم الرّسل
انبیا کا رہنُما، مولائے کُل، عین الشفا
حسن و احساں میں نظر آئے کہاں اس کی نظیر
دیکھ کر اخلاق، دشمن بھی کہیں صد مرحبا
ہو گئے قائل سبھی ہو کر محبّت کے اسیر
اَشࣿجَعَ الشُّجعان، فیضانِ نبوّت سے بھرا
وہ یتیموں سے محبّت کی تھا اک اعلیٰ مثال
وہ اسیروں کی رہائی کا سبب آ کر بنا
بادشاہی میں بھی ساری زندگی سادہ رہی
عبدِ کامل، ہے نمونہ اُس کا زہد و اتّقا
کیوں نہ طارق ہر گھڑی بھیجیں درود اس ذات پر
جب خدا بھیجے درود اس پر، فرشتے بھی سدا
ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن
حال نزیل، پریسٹین نارتھ ویلز
2.2.2024
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
“بھیج درود اس محسن پر تُو دن میں سو سو بار”
“پاک محمد مصطفےٰ ، نبیوں کا سردار ﷺ”
خیرہ کر دے چہرہ ، دل پر ، نازل ہوں انوار
اُس کے آگے موسٰی، عیسٰی کھڑے ہوئے ابرار
سب سے اونچا تخت اسی کا ، آئے نبی ہزار
اس پر بھیج درود ، دعا کر ، ہو گی عرش کے پار
روک سکے گی اس کو کیونکر پھر کوئی دیوار
وہ ناؤ کو طوفانوں میں لے کر جائے پار
چلتا ہے جو اس کے پیچھے دے وہ پار اتار
بھیج درود اسی پر ، دن بھر ، یوں ہی رات گزار
اس کو یار بنا لے جلدی ، جیون کے دن چار
چھوڑ کے جائیں گے کیسے جب ایک وہی سردار
اس کے ساتھ کئے ہیں ہم نے پکّے قول قرار
اس کا چہرہ دیکھ کے اس پر دیں ہم سب کچھ وار
دین سے الفت ، سب سے بہتر ، ہیچ ہے یہ سنسار
طارقؔ نام محمّد سن کر رہا نہ جائے یار
“بھیج درود اس محسن پر تُو دن میں سو سو بار”
ڈاکٹر طارق انور باجوہ ۔ لندن
18.9.2024
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
خدا کرے مرے لب پر ترا ہی نام آئے
سکون دل کو ملے، جب ترا پیام آئے
ہو ذکر آپ کا تو رحمتوں کی بارش ہو
درود پڑھ کے سکوں دل کو صبح و شام آئے
مدینے جا کے بسوں میں، یہی تمنا ہے
زباں پہ سامنے روضہ کے، خوش کلام آئے
نبیؐ کا در ہے کہ جُود و کرم کا چشمہ ہے
ملے ہر ایک کو عرفان کا جو جام آئے
نبیؐ کی سیرت و سنت سے روشنی پائیں
جہاں میں امن ہو اور دل میں احتشام آئے
خدا کے گھر کا بھی آسان ہو سفر میرا
نبیؐ کا ذکر ہو کعبہ کا جب مقام آئے
شفاعت ان کی ملے پیار کرنے والوں کو
جو ان پہ بھیجیں انہیں ان کا بھی سلام آئے
ڈاکٹر طارق انور باجوہ-لندن
19.9.2024
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
محمد ﷺ محسنِ انسانیت، رحمت دو عالَم کے
وہی ہیں راحتِ جاں، ہاں وہی ساقی ہیں زمزم کے
فلک سے ابر برسا جس میں اک آبِ حیات اترا
نظر آیا کہ پھولوں پر گرے قطرے تھے شبنم کے
نبیؐ کے خُلق آئینہ ہیں، دل انوار سے بھر دیں
وہی تھا سلسلہ، آخر میں آئے تھے وہ آدم کے
نہیں کوئی مثال ان کی، وہی اک فخرِ عالَم ہیں
کہ نیچے آ گئے سارے نبی ہی اُن کے پرچم کے
خزاں کے بعد آتی ہے بہار ان کے اشارے سے
چمن میں پھول کھلتے ہیں انہی کے دم سے موسم کے
کبھی یہ پیار کی لو، دل سے مدّھم ہو نہیں سکتی
کہ ان کے نور کے دم سے دیے روشن ہیں عالم کے
مدینے کی زیارت ہو، یہ خواہش دل میں رہتی ہے
شفاعت کی سخاوت میں، نبی والی ہیں حاتم کے
وہی تو راحتِ جاں ہیں درود ان پر سلام ان پر
محمدؐ جو کہ ہیں محبوب، طارِقؔ سارے عالَم کے
ڈاکٹر طارق انور باجوہ- لندن
25.3.2025
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
تجھ پہ قربان مری جان ، مدینے والے
تجھ پہ کامل مرا ایمان ، مدینے والے
زیب لَو لاکَ لَما کا تجھے دیتا ہے خطاب
سوچ سے اونچی تری شان ، مدینے والے
دین ، کامل ہوا ، اتری جو کتابِ فرقاں
تجھ پہ نازل ہوا قرآن ، مدینے والے
ہے ابَد تک ترا قانونِ شریعت جاری
ہے خدا کا یہی فرمان ، مدینے والے
دشت سر سبز ہوئے جس کی بدولت سارے
تُو وہ رحمت کا ہے باران ، مدینے والے
رب کو پہچانو گے خود کو ہے اگر پہچانا
تجھ کو حاصل ہے یہ عرفان ، مدینے والے
لاجَرَم ختم ہوئیں نعمتیں تجھ پر ساری
اب ترا جاری ہے فیضان ، مدینے والے
مدح میں تیری قصیدے کہے جس نے آقا
ہے ترا مہدئ دوران ، مدینے والے
معرفت جس نے تری پائی ، وہ دیوانہ ہوا
اُس کو حاصل ہوا وجدان ، مدینے والے
جس کی سیرت میں نظر آئے ترا قول و عمل
پیش کرتا ہے وہ برہان ، مدینے والے
تُو محبّت ہے سراپا ، تو یہ نفرت کیسی
اس پہ حیران ہیں انسان ، مدینے والے
ہے محبّت کا تقاضا ترے اُسوے پہ چلیں
کاش سمجھیں یہ مسلمان ، مدینے والے
ڈاکٹر طارقؔ انور باجوہ - لندن
6.9.2025
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
روشنی کے سب ستارے، ہیں ہدایت کے گواہ
عزمِ حق کے سب صحیفے، ہیں شجاعت کے گواہ
صلح کے پیغام سے مہکا جہاں کا ہر مکاں
امن کی خوشبو کے جھونکے، ہیں شرافت کے گواہ
درد مندوں کا سہارا اور غریبوں کی پناہ
رحمتوں کے سب خزانے، ہیں سخاوت کے گواہ
جو تری دہلیز پر آیا ، ہے پایا اس نے امن
قلبِ مضطر، اشکِ جاری، ہیں عنایت کے گواہ
دشمنوں کو بھی محبت سے نوازا اس طرح
جاں کے درپے تھے جو دشمن ، ہیں مروّت کے گواہ
سچ کی خاطر تو نے لہرائے تھے جراءت سے عَلَم
حق پرستی کے یہ پرچم، ہیں صداقت کے گواہ
ظلم اور جور و جفا سہہ کر رہے ثابت قدم
صبر کے قصّے ترے ، ہیں استقامت کے گواہ
جنگ میں انصاف کا معیار جو تُو نے رکھا
سخت مجرم جنگ کے بھی ، ہیں عدالت کے گواہ
آج بھی ظلمت اجالا ڈھونڈتی ہے جس طرف
روشنی کے یہ زمانے، ہیں بصارت کے گواہ
ہم گنہ گاروں میں ہیں، پھر بھی تری اُمّت تو ہیں
اے محمّد مصطفےٰ ﷺ ہم ، ہیں شفاعت کے گواہ
ڈاکٹر طارقؔ انور باجوہ-لندن
7.9.2025
رسولِ رحمت ﷺ
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
روشنی کا وہ اشارا ہے رسولِ رحمت ﷺ
جس کو دشمن نے پکارا ہے رسولِ رحمت ﷺ
عدل و انصاف کی صورت وہ ملا دنیا کو
بے قصوروں کا سہارا ہے رسولِ رحمت ﷺ
آگ برساتی ہوئی دھوپ میں ٹھنڈک کا سماں
ابر وہ رب نے اتارا ہے رسولِ رحمت ﷺ
صلح کی لے کے بشارت جو چلا آیا ہے
امن کا ایک وہ دھارا ہے رسولِ رحمت ﷺ
جام ، عرفان کے ہاتھوں میں لئے ساقی وہ
حوضِ کوثر پہ ہمارا ہے رسولِ رحمت ﷺ
دل جو دشمن کا کیا فتح ، معافی دے کر
خود زباں سے وہ پکارا ہے رسولِ رحمت ﷺ
بت دیئے توڑ ، کیا نعرۂ تکبیر بلند
حق کا واللّٰہ نظارا ہے رسولِ رحمت ﷺ
جتنے بھی آئے ہیں دنیا میں نبی اور رسول
سب کا سردار ، دُلارا ہے رسولِ رحمت ﷺ
اس پہ طارقؔ کا ہمیشہ ہو درود اور سلام
وہ جو ہم سب ہی کا پیارا ہے رسولِ رحمت ﷺ
ڈاکٹر طارقؔ انور باجوہ- لندن
10.9.2025
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ
چراغِ رحمتِ عالم ترا دربار ہے آقا ﷺ
متاعِ امنِ دو عالم ترا کردار ہے آقا ﷺ
سبھی تشنہ لبوں کے واسطے بحرِ بقا تو ہے
شفا کی اک دعائے خاص تیرا پیار ہے آقا ﷺ
جہاں میں عدل کا ڈنکا بجا ہے تیرے آنے سے
ترے خُلق و محبت پر فدا سنسار ہے آقا ﷺ
یتیموں کے لئے سایہ، غلاموں کے لئے شفقت
تری ہجرت پہ شاہد ہو گیا اک غار ہے آقا ﷺ
تری صحبت میں رہ کر جس کسی نے تجھ سے سیکھا ہے
وفا کے باب میں وہ بن گیا شہکار ہے آقا ﷺ
جہالت کے اندھیروں سے نکالا تُو نے امّت کو
علوم و حکمت و دانش کا تو معیار ہے آقا ﷺ
اخوّت کا دیا ہے درس باہم ، عدل کر کے بھی
محبت سے چلا جتنا ترا دربار ہے آقا ﷺ
دلوں کے حوصلے کو پستیوں سے سر بلندی دی
ہوا جینے کا مقصد ہی ترا دیدار ہے آقا ﷺ
جہاں میں امن کی خوشبو ترے دامن سے وابستہ
وفا کے قافلوں کا قائد و معمار ہے آقا ﷺ
خوشا قسمت ! غلاموں میں ترے طارِقؔ ہوا شامل
زمانہ جانتا ہے تُو شہِ ابرار ہے آقا ﷺ
ڈاکٹر طارقؔ انور باجوہ- لندن
10.11.2025
نعتیہ غزل
اسمِ احمد سے محبّت جو کوئی اپنائے گا
روزِ محشر اس تعلّق سے وہ بخشا جائے گا
ہر فضا، ہر روشنی، ہر دل میں اُس کا نور ہے
جو بھی دیکھے گا رخِ احمد، سب اُس میں پائے گا
چاند کی کرنیں ، ستاروں کی چمک بولے گی یوں
یہ جہاں حسنِ محمد سے حسیں کہلائے گا
نکہتِ طیبہ سے ہے معمور وہ بادِ صبا
ذکر جب آئے گا لب پر ، دل مہکتا جائے گا
جس نے اُس کے نام کی حرمت کو رکھا ہے عزیز
عرش سے رحمت کا سایہ اس کے سر پر چھائے گا
گنبدِ خضرا پہ ٹک جائے گی جب تیری نظر
زندگی کا ہر اندھیرا نور میں ڈھل جائے گا
وہ گلی کوچے مہکتے جائیں گے صدیوں تلک
جو درود اس پر پڑھے گا ، فیض اس کا پائے گا
آئینہ دل کا اگر ہو صاف تو یہ دیکھنا
مصطفیٰ کا اس میں چہرہ خود نظر آ جائے گا
کوئی دم اُس کے تبسم کا اثر پائے اگر
مسکراہٹ سب کے ہونٹوں پر اچانک لائے گا
نامِ احمد میں چھپا ہے زیست کی راحت کا راز
جو سلام اس پر پڑھے گا ، وہ خوشی ہی پائے گا
چار سُو خوشبو سے مہکے گی مدینے کی فضا
بے خودی میں ، جب کبھی طارقؔ ، قصیدہ گائے گا
ڈاکٹر طارقؔ انور باجوہ- لندن
3.05.2026
نعتیہ غزل
مصرعِ طرح: انؐ سا کوئی عرب میں، عجم میں کہاں
“اُنؐ سا کوئی عرب میں، عجم میں کہاں”
دوسرا ایسا ، اہلِ کرم میں کہاں
آپؐ کی ذات رحمت، سراپا عطا
ایسی شفقت کسی بھی صنم میں کہاں
آپؐ کے ذکر سے دل کو راحت ملی
ایسی تسکیں کسی تختِ جم میں کہاں
آپؐ کے نام سے دل سکوں پا گئے
ایسی ٹھنڈک کسی بھی کرم میں کہاں
آپؐ کے خُلق سی کیا مثالیں ملیں
ایسی عظمت کسی محترم میں کہاں
آپؐ نے ظلمتوں کو اجالا دیا
ایسا سورج کسی بھی حرم میں کہاں
آپؐ کی راہ میں جو وفا سے چلا
اس کو پھر خوف دنیا کے غم میں کہاں
آپؐ کی راہ سیدھی ، رہِ خُلد ہے
ایسی راہِ یقیں ، پیچ و خم میں کہاں
آپؐ کے نقشِ پا ، وصل کے رہنُما
ایسی منزل ہے لوح و قلم میں کہاں
آپؐ کا ذکر طارقؔ ہے ایماں کی جاں
ورنہ یہ جان قربِ اِرم میں کہاں
ڈاکٹر طارقؔ انور باجوہ- لندن
27.1.2026
یادِ حبیب ﷺ
بطحا کی وادیوں میں جو اک مہ جبیں ہوا
اُس کا ہی حسن دل میں مرے جا گزیں ہوا
دیدارِ حسن اس کا بھی اے کاش ہو نصیب
آنے سے جس کے سارا ہی عالم حسیں ہوا
لا ریب اعلٰی مرتبہ، ارفع مقام میں
اس کے وجود سے تو خدا خود قریں ہوا
اخلاق اس کے دیکھ کے طائف کے شہر میں
ہے سنگ دل بھی اس کی نظر سے نگیں ہوا
حالت ہے اس کی یاد میں کیا پوچھتے ہو تم
ہے کب سے اس کے پیار کا دل یہ مکیں ہوا
خاکِ حرم لگی تو بدلنے لگا وجود
آنکھیں ہیں اشکبار مرا دل حزیں ہوا
طارِقؔ قصیدہ اس کا جو پڑھتے ہو روز تم
مانو قبول ، بر سرِ عرشِ بریں ہُوا
ڈاکٹر طارِقؔ انور باجوہ-لندن
11.9.2025
قصیدہ فی مدحِ نبی ﷺ
۱۔ تشبیب (عشق و جذبہ، آغاز کی فضا بندی)
۱۔اے خدا کے فیض اور عرفان کے چشمے رواں
تشنہ لب دوڑے چلے آتے ہیں تجھ تک کارواں
۲۔ہر دلِ مضطر میں تیری یاد کی خوشبو بسی
ہر کسی پر تیرے ہی احسان کے ہیں سائباں
۳۔چاند سورج، کہکشاں، سب تیرے جلوے کے اسیر
نور کی صورت ہوا ہے ، آسماں بھی ضو فشاں
۴۔سبزہ و گُل ، ابر کیا ہیں تیرے جلووں کی دھنک
بادِ صرصر بھی تری رحمت سے پاتی ہے زباں
۵۔نخل اُمیدوں کا تیرے فیض سے ہے تازہ تر
تیری ہی خوشبو سے ہے آباد دل کا گلستاں
۶۔بحرِ حکمت کے کنارے پر اترتا ہے سکوں
ہو ترے پیغام ہی سے علم کا دریا رواں
۷۔چار سُو افلاک پر تیرے ستاروں کا حصار
تُو چمکتا ہے مہِ کامل ہو جیسے درمیاں
۸۔تیرے ہی دم سے کھلے انسانیت کا بابِ خیر
ورنہ وحشت ہی تھی ہر سو، علم کا تھا اُستخواں
۹۔اے کرم کے باب، اے تسکینِ قلبِ مضطرب
جانتے ہیں تیری چاہت ہے وفا کا امتحاں
۔۔۔۔۔۔۔
۲۔ گریز (تشبیب سے مدح کی طرف پل)
۱۰۔گل کھلے، کلیاں ہنسیں، ہےرنگ و خوشبو سے بہار
روشنی نے پایا جلوہ، چاندنی ہے شادماں
۱۱۔اب بتاؤں کس کا صدق و عدل تھا دل کے قریب
کس کے اخلاقِ کریمانہ کا شہرہ تھا وہاں
۱۲۔کس کی آمد سے مٹا ظلمت کا بے پایاں حصار
کس کے دم سے کھل گیا رحمت کا بابِ بیکراں
۱۳۔کس نے امن و صلح کے فرزند پیدا کر دیئے؟
کس نے نفرت کو مٹایا دے کے الفت کا نشاں
۱۴۔کس نے کعبے کو کہا آؤ ہے یہ دار السلام
کس نے صحرا کو بنایا علم و حکمت کا جہاں؟
۱۵۔کس کے قدموں سے بنی انسانیت راہِ نجات
کس کے دم سے روح کو حاصل ہوا عرفانِ جاں
۔۔۔۔۔۔۔
۳۔ مدح (سیرتِ نبی ﷺ کا بیان)
۱۶۔اک وہی ہستی ہے جس کے ساتھ خیرِ کُل ملا
ہے وہی رہبر وہی ہے رہنمائے ہر زماں
۱۷۔وقت کے لمحے شہادت پر رہا اُس کا عمل
اُس کی سیرت ،اسوۂِ کامل کا قرآں میں بیاں
۱۸۔اے مرے دل! چل مدینے کی طرف ہوں اب رواں
واں پہ محبوبِ خدا ﷺ ہیں باعثِ امن و اماں
۱۹۔رحمتِ حق کا ہوا مکّہ میں جو جلوہ عیاں
نور سے اس کے ہوئے معمور سب کون و مکاں
۲۰۔طور پر موسیؑ نے دیکھا روشنی کا اک نشاں
اور مدینہ میں محمد ﷺ کو ملا دیدارِ جاں
۲۱۔ذکرِ احمد سے ہوئے روشن سبھی ہیں بحر و برّ
مصطفیٰ کو رب نے بخشی عزتِ ہر دو جہاں
۲۲۔ان پہ جبریلِ امیں لاتے رہے رب کا پیام
رفتہ رفتہ یوں ہوا نازل کلامِ جاوداں
۲۳۔ارض و افلاک و زمانہ، ہر طرف ان کا جمال
خود خدا نے نام ان کا کر دیا سب پر عیاں
۲۴۔چشمِ عالم ہو گئی روشن انہی کے فیض سے
ان کے علم و معرفت سے ہو گیا اجلا جہاں
۲۵۔ان کے اسمِ پاک کی برکت سے ملتی ہے شفا
ان کے دم سے دور ہو جائیں مرض دل کے نہاں
۲۶۔آپ ﷺ وہ رہبر ہیں جن کے نقشِ پا پر چل کے ہم
پا گئے تسکینِ دل، اُلفت کا روشن اک نشاں
۲۷۔آپ ﷺ کی رحمت نے جیتے دشمنوں کے دل بھی تھے
آپ ﷺ کے دم سے ہوئی آباد بزمِ دوستاں
۲۸۔آپ ﷺ کی گفتار میں قرآن کی خوشبو بسی
آپ ﷺ کے کردار میں صدق و وفا کی کہکشاں
۲۹۔آپ ﷺ کے لب سے جو نکلے سب تھے الفاظِ کرم
وہ بنے انسانیت کے واسطے حرفِ اماں
۳۰۔آپ ﷺ ہر اک رزم میں فاتح تریں سالارِ جنگ
آپ ﷺ تھے صبر و شجاعت کے امیرِ کارواں
۳۱۔امنِ عالم کا دیا تھا آپ نے ایسا چراغ
جس سے روشن ہے زمانے کا ہر اک گوشہ، مکاں
۳۲۔آپ ﷺ نے ہی تو بتایا ، صلح میں ہی خیر ہے
آپ ﷺ نے ہی تو سکھایا عفو کا ہر اک بیاں
۳۳۔آپ ﷺ ہی ہیں رحمتِ عالم بھی اور نُورِ ہُدیٰ
آپ ﷺ اک ہیں شافعِ محشر، ہوئے سب کی اماں
۳۴۔آپ ﷺ کا ہی اسوۂ کامل رضا کا ہے سبب
آپ ﷺ ہی کے واسطے سے دور ہو دل کی خزاں
۔۔۔۔
۴۔ دعا (حضور ﷺ کے لیے)
۳۵۔اے خدا! محبوب کے صدقے عطا فرما ہمیں
پھر سے صلح و آشتی ، بر ہر مکاں امن و اماں
۳۶۔آپ ﷺ ہی کے نام سے مل جائے پھر تسکینِ دل
آپ ﷺ ہی کے ذکر سے روشن ہو ہر دل کا جہاں
۳۷۔آپ ﷺ کی سیرت سے ہو کر ہر گھڑی ہم فیض یاب
آپ ﷺ کے نقشِ قدم پر جب چلیں ، ہوں کامراں
۳۸۔آپ ﷺ کی اُمت رہے محفوظ ہر شیطان سے
وسوسے اس کو نہ بہکائیں ، دجل ہوں باطلاں
۳۹۔قدسیوں کو پھر ملے توفیق تیرے ساتھ کی
پھر سے ہو جائے میسر مدحتوں کا وہ زماں
۴۰۔روزِ محشر ہم غریبوں پر بھی ہو تیری نظر
ہم کو بخشی جائے تیرے دست و بازو کی کماں
۴۱۔آپ کے صدقے ملے دل کو سکون و روشنی
آپ ہی کے فیض سے سیراب ہو سارا جہاں
۴۲۔ہم کو بخشیں ، وہ شفاعت کا سہارا روزِ حشر
ہم کریں دیدار جب ہو بے حجابی کا سماں
۴۳۔اے خدا! رکھنا ہمیں اُن کے کرم کے سائے میں
ان کے صدقے بخش دینا ہیں وہی تو جانِ جاں
۴۴۔ہم کریں ایسے عمل ، پائیں شفاعت یا نبی
روزِ محشر ہم پہ بھی لطف و کرم کا ہو سماں
۴۵۔اے خدا اپنے نبی پر بھیج تُو ہر دم درود
اب وہ یہ دنیا ہو یا پھر آخرت کا ہو زماں
۔۔۔۔۔۔
۵۔ حسنِ طلب (شاعر کی درخواست و عرض)
۴۶۔یا نبی ﷺ، ہم بے سہارا، آپ ہی ہیں چارہ گر
ہم غریبوں کے لیے بن جائیں رحمت کا نشاں
۴۷۔روزِ محشر ہم خطا کاروں پہ ہو نظرِ کرم
ہم گناہوں کے اندھیروں سے نکل پائیں وہاں
۴۸۔اپنی اُمت میں لکھیں ہم کو بھی اے پیارے حضور ﷺ
ہم کو بخشا جائے انعامِ شفاعت ناگہاں
۴۹۔مصطفیٰ ﷺ کے در پہ جائیں ، التجائیں لے کے ہم
بخش دے یہ آرزو ، کرتی رہے ہر دم زباں
۵۰۔آپ ﷺ ہی کی مدح میں کہتا ہوں میں اشعار سب
گر قبول افتد زہے عزّ و شرف ، اے مہرباں!
۵۱۔یہ دعا ہے پھر مدینے کے گلی کوچوں میں ہوں
ابرِ رحمت کا رہے سر پر ہمارے سائباں
۵۲۔آپ ﷺ کے روضے پہ ہو جب جب ہماری حاضری
آنکھ کے آنسو کہیں دل کی ہمارے داستاں
۵۳۔ہم کہیں الفاظ سب تیری ثنا کے باب میں
دے ہمیں توفیقِ مدحت، ہو رواں ایسے زباں
۵۴۔یا الٰہی، آپ ﷺ کے صدقے عطا فرما ہمیں
ملّتِ احمد کو پھر مل جائیں دیں کے پاسباں
۵۵۔اے شفیعِ امّتِ مجروحِ عصیاں المدد
تیری رحمت سے ہوئے ظلمت کے صحرا ، گلستاں
۵۶۔تیری الفت نے دلوں میں نور کو اجلا دیا
تیری حرمت سے ہوئے محفوظ سب ایمان و جاں
۵۷۔اے سراپا خیر و ہمدردی کے پیکر مہرباں
تیری سیرت ہے چراغِ راہ ہر دِل کی اماں
۵۸۔جس پہ ٹوٹے غم، اُسے تیرے سہارے کا یقیں
کائناتِ دہر میں تیرے کرم کا ہے سماں
۵۹۔ذکر تیرا ہے شفا، تیری دعا ہے سائباں
تجھ سے بڑھ کر کون ہے رحمت کا پیکر مہرباں
۶۰۔دستِ انور نے دیا انسانیت کا درس وہ
عدل و حکمت پر ہوئے قائم حکومت کے نشاں
۶۱۔اے مدینہ تیری گلیوں میں پڑے اس کے قدم
خاک ان کی چومنے کو بےقرار اب ہے جہاں
۶۲۔تیری عظمت پر گواہی دے زمین و آسماں
اے نبی ﷺ تجھ سے ہوا معمور دِل کا گلستاں
۶۳۔تیرے دم سے ہے اجالا ، تُو دلوں کی کہکشاں
ظلمتِ دوراں میں روشن تُو چراغِ جاوداں
۶۴۔رحمتِ عالم، شفیع المذنبیں، ابرِ کرَم
تیرے صدقے میں یہاں قائم ہوئے دارالاماں
۶۵۔کیا بیاں ہو تیری شفقت کا سمندر بے کراں
ہے فدا ہونے کو دل، بے تاب ہے میری زباں
۶۶۔نام تیرا ہے شفا، تسکینِ دل، آرامِ جاں
ذکر تیرا ہی فقط مومن دلوں کی داستاں
۶۷۔تیری سیرت اک نمونہ ہے حکومت کے لئے
عدل تیرا ہے طریقِ زندگی کا کارواں
۶۸۔تیرے روضے پر فلک بن کر رہا ہے سائباں
ہیں زمین و آسماں، تیری صداقت کے نشاں
۶۹تیری الفت کا صلہ ہے امن و الفت کا سماں
تجھ سے روشن ہیں دلوں کے راستے اور کارواں
۷۰۔تیرے روضے کی طرف اُڑتے ہیں دل، پروانہ وار
تیرا شوق آنکھوں میں لے آیا ہے اشکوں کا سماں
اختتام
۔۔۔۔
ڈاکٹر طارقؔ انور باجوہ-لندن
۱۱ ستمبر ۲۰۲۵

0 تبصرے