”اچھے استاذ کا بہت بڑا دقّاق ہونا ضروری نہیں“ امیرِ شریعت کا فکر انگیز خطاب!
وفاق المدارس الاسلامیہ امارتِ شرعیہ کے زیرِ اہتمام اور جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے زیرِ انتظام منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کے پہلے روز علمی و تربیتی فضا اُس وقت مزید معطر ہوگئی جب امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے اپنی بصیرت افروز صدارتی خطاب سے شرکائے ورکشاپ کو گراں قدر علمی، فکری اور تربیتی رہنمائی فراہم کئے۔
(قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس موقع پر صدارتی خطاب پروگرام کے اختتام کے بجائے آغاز ہی میں رکھا گیا۔ اس ضمن میں وفاق المدارس الاسلامیہ امارتِ شرعیہ کے ناظمِ اعلیٰ حضرت مفتی ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی نے کہا کہ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو قرآن و حدیث سے منصوص ہو اور جس میں تبدیلی یا حالات کے مطابق ترتیب کی گنجائش نہ ہو۔ حالات، ضرورت اور مصلحت کے پیشِ نظر اسے آغاز میں بھی رکھا جا سکتا ہے)۔
اپنے خطاب کے آغاز میں امیرِ شریعت نے عمل، جدوجہد اور توکل کے باہمی تعلق پر نہایت حکیمانہ اور بصیرت افروز روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ دینِ اسلام انسان کو محض توکل کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ توکل کے ساتھ اسباب کے اختیار کرنے کا بھی حکم دیتا ہے۔ سیرتِ طیبہ کے روشن نقوش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے واضح کیا کہ کامیابی کا صحیح راستہ یہ ہے کہ انسان پہلے تمام ممکنہ وسائل، ذرائع اور اسباب کو پوری سنجیدگی، حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ بروئے کار لائے، اور اس کے بعد نتائج کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہوئے اس پر کامل اعتماد اور بھروسہ رکھے۔
اسی تناظر میں آپ نے اساتذۂ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے یاد دلایا کہ طلبہ ان کے پاس محض زیرِ تعلیم افراد نہیں، بلکہ ایک عظیم امانت ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت صرف ایک ملازمت یا پیشہ نہیں، بلکہ ایک نہایت حساس، ہمہ گیر اور مقدس ذمہ داری ہے، جس کے اثرات نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تربیتی ورکشاپ دراصل اسی احساسِ ذمہ داری کو مزید گہرا، مؤثر اور بیدار کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، تاکہ اساتذۂ کرام اپنی تدریسی و تربیتی ذمہ داریوں کو زیادہ شعور، بصیرت اور اخلاص کے ساتھ ادا کرسکیں۔
بعد ازاں امیرِ شریعت نے اساتذۂ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک کامیاب اور مؤثر استاذ کے لیے محض علمی موشگافیوں اور دقیق مباحث کا ماہر ہونا کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے طلبہ کی نفسیات، ذہنی سطح، ذوق اور مزاج کو سمجھنا کہیں زیادہ ضروری ہے۔ آپ نے فرمایا:اچھے استاذ کا بہت بڑا دقّاق ہونا ضروری نہیں، بلکہ اچھا استاذ وہ ہے جو اپنے ما فی الضمیر کو طلبہ تک مؤثر انداز میں منتقل کردے۔
آپ نے موجودہ دور کے تعلیمی تقاضوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ آج کا استاذ حساس، بیدار مغز اور حالات شناس ہو۔ وہ کلاس میں داخل ہوتے ہی طلبہ کے رجحانات، استعداد اور نفسیاتی کیفیت کا اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہو، تاکہ تعلیم محض معلومات کی منتقلی نہ رہے بلکہ شخصیت سازی اور ذہن سازی کا مؤثر ذریعہ بن سکے۔
اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے آپ نے ایک نہایت بلیغ مثال پیش کی۔ فرمایا کہ ایک اسپیشلسٹ ڈاکٹر کے پاس بعض اوقات مریض کی جان بچانے کے لیے نوّے سیکنڈ کا وقت ہوتا ہے اور وہ اسی مختصر وقفے میں مرض کی نوعیت، علاج کی صورت اور ممکنہ نتائج پر غور کرتا ہے ؛ لیکن ایک استاذ کی ذمہ داری اس سے بھی زیادہ نازک اور وسیع ہے؛ اسے اپنے طلبہ کے مزاج، ذہنی کیفیت اور تعلیمی معیار کو اس سے بھی کم وقت میں سمجھنا پڑتا ہے، تاکہ وہ مؤثر انداز میں ان کی رہنمائی کرسکے۔
آپ نے اپنے خطاب میں ایک مثالی استاذ کے لئے اور بھی کئی خوبیوں کا تذکرہ کیا اور اساتذۂ کرام کو یہ پیغام دیا کہ وہ علم کے ساتھ حکمت، تدریس کے ساتھ تربیت اور نصاب کے ساتھ کردار سازی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔
امید ہے کہ آپ کا یہ خطاب شرکائے ورکشاپ کے لیے فکری تازگی، عملی رہنمائی اور تربیتی بصیرت کا ایک گراں قدر سرمایہ ثابت ہوگا، جس کے اثرات یقیناً تدریسی و تربیتی میدان میں دور رس ثابت ہوں گے۔ ان شاء اللہ ۔
✍️ :شمس الدین سراجی قاسمی!
جامعہ سراج العلوم تلاپت گنج (سنگرام)، مدھوبنی
0 تبصرے