شہادتِ حسینؓ: آزادیِ حیات کا سرمدی اصول
محمد شارب ضیاء رحمانی
اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول
تڑپی ہے تجھ پہ لاش جگر گوشۂ بتول
حسین کے خوں سے تو رنگین ہوگئی
سیراب کر گیا تجھے خون رگ رسول
کرتی رہے گی پیش شہادت حسین کی
آزادی حیات کا یہ سرمدی اصول
چڑھ جائے سر ترا نیزے کی نوک پر
پھر بھی تو فاسقوں کی اطاعت نہ کر قبول
کٹا کر گردنیں اپنی بتلا گئے یہ کربلا والے
کبھی طاقت کے آگے جھک نہیں سکتے خدا والے
کربلا اور حضرت حسینؓ کی شہادت تاریخِ انسانی کے ان واقعات میں شامل ہے جنہوں نے صدیوں سے انسانوں کے احساسات، افکار اور ضمیر کو متاثر کیا ہے۔ کربلا کے تپتے ہوئے ریگستان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور اہلِ بیت پر ڈھائے گئے مظالم کا نقش آج بھی تاریخ کے صفحات پر اسی طرح نمایاں ہے جیسے وقوع کے وقت تھا۔ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اس واقعہ کی یاد میں جتنے آنسو بہائے گئے اور جتنی تحریریں لکھی گئیں، شاید ہی کسی دوسرے تاریخی سانحہ کو یہ امتیاز حاصل ہوا ہو۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور دیگر مقدس مقامات سے دور ایک بے آب و گیاہ صحرا میں حق و صداقت کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنا امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم دینی اور اخلاقی سرمایہ ہے۔
فدا کر دے جو بہرِ دین و ملت سر بھی، سینہ بھی
مبارک اس کا مرنا بھی، مبارک اس کا جینا بھی
حضرت حسینؓ کی مظلومیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی صرف مخالفین کی جانب سے نہیں ہوئی بلکہ بعد کے ادوار میں محبت اور عقیدت کے دعویداروں کی ایک بڑی تعداد بھی ان کے پیغام کے حقیقی تقاضوں کو سمجھنے اور اپنانے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ نتیجتاً واقعۂ کربلا کے بعض ظاہری مظاہر تو نمایاں رہے، لیکن اس کے فکری، اخلاقی اور اصلاحی پہلو پس منظر میں چلے گئے۔
اس واقعہ سے متعلق ایک قابلِ توجہ حقیقت یہ بھی ہے کہ اسلامی سال کا آغاز ایسے مہینے سے ہوتا ہے جس کی دسویں تاریخ ایک عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے اور اختتام بھی ایسے مہینے پر ہوتا ہے جس کی دسویں تاریخ ایک دوسری عظیم قربانی سے وابستہ ہے۔ ایک طرف حضرت اسماعیلؑ کی اطاعت و ایثار کی یاد ہے اور دوسری طرف حضرت حسینؓ کی استقامت و قربانی کا درس۔ گویا اسلامی تاریخ کا آغاز اور اختتام دونوں قربانی کے تصور سے مربوط ہیں۔ اسی حقیقت کو علامہ اقبال نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے:
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسماعیلؑ
واقعۂ کربلا سے حاصل ہونے والے اسباق میں ظلم و باطل سے نفرت اور حق سے وابستگی کا مضمون نمایاں طور پر بیان کیا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ حضرت حسنؓ کی صلح اور ان کی عظیم قربانی بھی توجہ کی مستحق ہے۔ انہوں نے امت کے اتحاد اور باہمی خونریزی کے خاتمے کے لیے اپنی خلافت سے دست بردار ہو کر تاریخ میں ایک منفرد مثال قائم کی۔ عصر حاضر میں مسلمانوں کے درمیان عہدوں، مناصب اور قیادت کے مسائل پر جو اختلافات پائے جاتے ہیں، ان کے تناظر میں حضرت حسنؓ کا یہ طرزِ عمل امت کے لیے اتحاد و یگانگت کا ایک روشن نمونہ پیش کرتا ہے۔اگر مفاد امت میں لوگ اپنے عہدوں کی قربانی دیں اور دستبرداری کا سبق سیکھیں تو بڑے تنازعات کا سدباب ہوسکتاہے۔
حضرت حسین کی سیرت کے بیان میں اکثر واقعاتِ کربلا کو مرکزی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے، حالاں کہ ان کی حیاتِ مبارکہ کے دیگر پہلو بھی اسی قدر اہم ہیں۔ اگر ان اوصاف کا تذکرہ نہ کیا جائے تو ان کی شخصیت کا مکمل تعارف سامنے نہیں آتا۔ علامہ ابن اثیرؒ لکھتے ہیں:
’’کان الحسین کثیر الصلوٰۃ والزکوٰۃ والصوم والحج والصدقۃ وافعال الخیر جمیعاً‘‘
یعنی حضرت حسینؓ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، صدقہ اور دیگر تمام نیک اعمال کے کثرت سے اہتمام کرنے والے تھے۔
عفو و درگزر، جو ایک مومن کے نمایاں اخلاقی اوصاف میں شمار ہوتا ہے، حضرت حسینؓ کی شخصیت کا بھی اہم حصہ تھا۔ غلام کے ہاتھ سے پیالہ گر جانے اور قرآنِ کریم کی آیتِ عفو کی تلاوت پر اسے معاف کر دینے بلکہ آزاد کر کے اس کی کفالت اپنے ذمہ لینے کا واقعہ ان کے حسنِ اخلاق کی روشن مثال ہے۔
سخاوت اور فیاضی بھی ان کی نمایاں صفات میں شامل تھیں۔ اسامہ بن زیدؓ کے قرض کی ادائیگی کا واقعہ اس کا واضح ثبوت ہے۔ فصاحت و بلاغت، حسنِ اخلاق، وقار اور متانت ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ ایک شخص نے امیر بن معاویہ سے حضرت حسین کی پہچان دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ مسجد میں جوسب سے زیادہ باوقار نظر آئیں، وہی حسینؓ ہیں۔
عاجزی اور انکساری ان کے مزاج کا لازمی حصہ تھیں۔ تکبر اور خود نمائی سے وہ کوسوں دور تھے۔ ایک مرتبہ چند غریب افراد کو کھانا کھاتے دیکھا تو ان کی دعوت قبول کرتے ہوئے اپنی سواری سے اتر آئے، ان کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا تناول فرمایا اور ارشادفرمایا کہ اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔
حضرت حسینؓ علم و فضل اور روحانی کمالات کے اعتبار سے بھی ممتاز مقام رکھتے تھے۔ آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت، حضرت علیؓ کی علمی وراثت، حضرت فاطمہؓ کی آغوشِ شفقت اور حضرت حسنؓ کی رفاقت میں پرورش پائی۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓ کی شخصیت میں ظاہری فضائل کے ساتھ ساتھ شریعت و معرفت کے متعدد پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔
حضرت حسینؓ شہادت کے بعد بھی اپنے پیغام، کردار اور اثرات کے اعتبار سے زندہ ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہداء کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے انہیں مردہ نہ کہا جائے۔ مزید یہ کہ تاریخ کے فیصلے نے بھی ثابت کیا کہ حضرت حسینؓ کا موقف بقا اور قبولِ عام کا عنوان بنا، جب کہ ظلم و جبر کی علامتیں تاریخ کے حاشیوں میں محدود ہو کر رہ گئیں۔
حضرت حسینؓ سے محبت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ان کے اوصاف اور تعلیمات کو عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ جن بدعات، بے اعتدالیوں اور غیر شرعی رویوں کے خلاف انہوں نے جدوجہد کی، ان سے اجتناب کیا جائے اور ان کی سیرت کو اپنے کردار میں منعکس کرنے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح غیر اسلامی رسوم و رواج کو اختیار کرنے کے بجائے اسلامی تعلیمات کی پیروی کو ترجیح دی جائے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے روزے میں اہلِ کتاب سے امتیاز برقرار رکھنے کی تعلیم دی، لیکن بعض معاشروں میں اس موقع پر ایسے رسوم و مظاہر دیکھے جاتے ہیں جو اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیبی شناخت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اسلام زندگی کے ہر مرحلے میں اعتدال، وقار اور حدودِ شرع کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے۔‘‘
حضرت حسینؓ سے سچی محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ان کی سیرت کو اپنی زندگیوں میں نافذ کیا جائے، غلط رسوم و رواج کے خاتمے کی کوشش کی جائے، قرآنِ مجید کی تلاوت، روزے، صدقہ و خیرات اور اصلاحِ نفس کا اہتمام کیا جائے اور واقعۂ کربلا سے حاصل ہونے والے اخلاقی و دینی اسباق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ اسی رویے میں حضرت حسینؓ سے حقیقی عقیدت اور وفاداری کا اظہار مضمر ہے۔ بصورتِ دیگر واقعۂ کربلا کو محض ایک تاریخی یادگار بنا دینا اور اس کے عملی تقاضوں سے صرفِ نظر کرنا اس عظیم قربانی کے پیغام کو محدود کر دینے کے مترادف ہوگا۔
حقیقت روایات میں کھو گئی
یہ امت خرافات میں کھو گئی

0 تبصرے