Ticker

6/recent/ticker-posts

کربلا ! جب فرات کنارے کھڑی تھی اور انسانیت پیاسی رہ گئی

کربلا ! جب فرات کنارے کھڑی تھی اور انسانیت پیاسی رہ گئی


کربلا صرف ایک میدان کا نام نہیں، یہ تاریخ کے سینے میں لگا وہ زخم ہے جو چودہ سو برس گزر جانے کے باوجود آج بھی تازہ ہے۔ یہ صرف ایک جنگ نہیں، بلکہ حق اور باطل، وفا اور بے وفائی، عشق اور اقتدار، سجدے اور تخت کے درمیان ہونے والا وہ معرکہ ہے جس کی گرد آج تک فضاؤں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد خلافتِ راشدہ کا مبارک دور گزرا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ، سیدنا عمر فاروقؓ، سیدنا عثمان غنیؓ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ نے امت کی قیادت کی۔ پھر امت مختلف سیاسی آزمائشوں سے گزری۔ جنگِ جمل ہوئی، جنگِ صفین ہوئی، خوارج کا فتنہ اٹھا، اور پھر سیدنا حسن بن علیؓ نے مسلمانوں کے خون کو بچانے کے لیے خلافت سے دستبردار ہوکر امیر معاویہؓ سے صلح کرلی۔

Karbala, furat river, Hussain


یہ ایسا عظیم ایثار تھا جس کی مثال تاریخِ سیاست میں کم ہی ملتی ہے۔ مگر وقت کا پہیہ چلتا رہا۔ 60 ہجری میں امیر معاویہؓ کا انتقال ہوا اور یزید اقتدار کے تخت پر بیٹھ گیا۔ بہت سے لوگوں نے بیعت کرلی، مگر رسول اللہ ﷺ کے نواسے، جگر گوشۂ بتولؓ، سیدنا حسین بن علیؓ نے خاموشی اختیار کی۔ ان کے سامنے مسئلہ صرف حکومت کا نہیں تھا، بلکہ امت کے مستقبل، عدل، دیانت اور دینی اقدار کا تھا۔ اسی دوران کوفہ سے ہزاروں خطوط آنے لگے۔ ہر خط میں محبت کے دعوے تھے، وفاداری کے وعدے تھے، نصرت کی قسمیں تھیں۔ اگر اخلاص کا وزن کاغذ سے ناپا جاتا تو شاید کوفہ دنیا کا سب سے وفادار شہر قرار پاتا، مگر تاریخ کا سب سے تلخ طنز یہی ہے کہ بعض لوگ روشنائی سے وفا لکھتے ہیں اور وقت آنے پر اپنے قدموں سے اس کی نفی کر دیتے ہیں۔


حسینؓ نے حالات معلوم کرنے کے لیے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ بھیجا۔ ابتدا میں ہزاروں لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی، مگر جب عبیداللہ بن زیاد کوفہ کا گورنر بن کر آیا اور اس نے دھمکیوں، لالچ اور خوف کا بازار گرم کیا تو وہی ہزاروں لوگ ایک ایک کرکے پیچھے ہٹ گئے۔ شام تک مسلم بن عقیلؓ تنہا رہ گئے۔ جن گلیوں میں ان کے حق میں نعرے لگتے تھے، انہی گلیوں میں انہیں پناہ نہ ملی۔ آخرکار انہیں گرفتار کرکے شہید کردیا گیا۔ یہ کربلا کی پہلی چیخ تھی جسے شاید بہت کم لوگوں نے سنا۔ ادھر حسینؓ مکہ سے روانہ ہوئے۔ راستے میں بارہا خبر ملی کہ کوفہ بدل چکا ہے، مگر حسینؓ جانتے تھے کہ عاشق راستہ نہیں بدلتے۔ جو اللہ کے لیے نکلتا ہے وہ منزل کی کامیابی نہیں، اپنے موقف کی سچائی دیکھتا ہے۔ 2 محرم 61 ہجری کو قافلہ کربلا پہنچا۔ چند خیمے نصب ہوئے۔ چند بچے تھے، چند خواتین تھیں، چند جانثار تھے۔ سامنے وسیع صحرا تھا اور قریب ہی دریائے فرات موجیں مار رہا تھا۔ پانی بہہ رہا تھا، مگر انسانیت خشک ہوچکی تھی۔ 7 محرم کو پانی بند کردیا گیا۔ فرات وہیں تھی، لہریں ویسے ہی اٹھ رہی تھیں، مگر سکینہؓ کے ہونٹ سوکھ رہے تھے، علی اصغرؓ تڑپ رہے تھے اور بچوں کی زبانوں پر ایک ہی صدا تھی “ العطش العطش ” یعنی پیاس پیاس آج بھی جب کوئی ماں اپنے پیاسے بچے کو پانی پلاتی ہے تو تاریخ کے کسی گوشے سے سکینہؓ کی معصوم آواز سنائی دیتی ہے۔ 9 محرم کی رات آئی۔ حسینؓ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور فرمایا۔ اندھیرا چھا چکا ہے، جو جانا چاہے چلا جائے، دشمن کو صرف میری جان مطلوب ہے۔ مگر وفا کرنے والے کہاں جاتے ؟ حبیب بن مظاہرؓ نے کہا۔ کیا ہم آپ کو چھوڑ کر زندہ رہیں ؟ زہیر بن قینؓ نے کہا۔ اگر ہزار بار بھی قتل کیا جاؤں تب بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑوں۔ یہ الفاظ نہیں تھے، عشق کی قسمیں تھیں۔ رات بھر قرآن کی تلاوت ہوتی رہی، دعائیں ہوتی رہیں، آنسو بہتے رہے اور شاید فرشتے آسمان سے یہ منظر دیکھ کر رشک کرتے رہے۔ پھر عاشورہ کی صبح طلوع ہوئی۔ ایک طرف ہزاروں کا لشکر تھا، دوسری طرف بہتر نفوسِ قدسیہ۔ ایک طرف تلواروں کی کثرت تھی، دوسری طرف سچائی کی قوت۔


جنگ شروع ہوئی۔ مسلم بن عوسجہؓ گرے، حبیب بن مظاہرؓ گرے، زہیر بن قینؓ گرے۔ ایک ایک کرکے وفا کے چراغ بجھتے گئے۔ پھر اہلِ بیتؓ کی باری آئی۔ علی اکبرؓ میدان میں گئے۔ جوانی کا حسن، نبوی اخلاق کی خوشبو اور فاطمی وقار کا عکس۔ جب شہید ہوئے تو حسینؓ نے آسمان کی طرف دیکھا، شاید صبر بھی رو پڑا ہوگا۔ پھر قاسم بن حسنؓ گئے۔ کم عمر بھتیجا، مگر وفا میں پہاڑ سے بلند۔ پھر عباسؓ گئے، جنہیں خیموں کے بچے “ سقّا ” کہتے تھے۔ وہ پانی لینے نکلے، مشک بھر لی، مگر بچوں تک پانی نہ پہنچ سکا۔ بازو قلم ہوگئے، مشک چھلنی ہوگئی اور فرات کنارے وفا کا چاند غروب ہوگیا۔ پھر وہ منظر آیا جسے سن کر دل کانپ جاتا ہے۔ حسینؓ چھ ماہ کے علی اصغرؓ کو گود میں اٹھا کر لائے۔ ننھے ہونٹ خشک تھے، گلا پیاس سے سوکھ چکا تھا۔ حسینؓ نے فرمایا۔

اگر مجھ پر رحم نہیں تو اس معصوم پر رحم کرو۔ مگر جواب پانی نہیں تھا، جواب ایک تیر تھا۔ حرملہ کا تیر آیا اور ننھے گلے کو چیر گیا۔ اس لمحے شاید آسمان بھی رویا ہوگا، زمین بھی لرزی ہوگی، فرات بھی شرم سے جھک گئی ہوگی۔ آخرکار سب شہید ہوگئے۔ خیموں میں سناٹا تھا، صحرا خاموش تھا، ریت اداس تھی۔ اب حسینؓ تنہا تھے۔ زخموں سے چور، پیاس سے نڈھال، مگر چہرے پر سکون تھا، کیونکہ عاشق جب محبوب کی رضا پالیتا ہے تو درد بھی عبادت بن جاتا ہے۔ پھر وہ لمحہ آیا جب نواسۂ رسول ﷺ نے سجدۂ رضا میں سر جھکا دیا۔ تلواریں چلیں، نیزے اٹھے، ظلم نے اپنی انتہا دکھائی، مگر تاریخ نے اسی لمحے فیصلہ لکھ دیا۔ قاتل زندہ رہ کر بھی مر گئے اور حسینؓ شہید ہوکر بھی زندہ ہوگئے۔ مگر افسوس۔ ظلم ابھی تھکا نہیں تھا، سفاکی ابھی رکی نہیں تھی، درندگی ابھی سیراب نہیں ہوئی تھی۔ شہادت کے بعد امام حسینؓ کے جسمِ مبارک سے لباس اور سامان اتار لیا گیا۔ سرِ مبارک کو جسمِ اطہر سے جدا کیا گیا۔ جس سر کو رسول اللہ ﷺ نے اپنے لبوں سے چوما تھا، جسے اپنے کندھوں پر بٹھایا تھا، وہی سر نیزے پر بلند کردیا گیا۔ سوچئے! نیزے بلند تھے یا انسانیت کی بدبختی ؟ تاریخ خاموش تھی یا آسمان نوحہ کناں تھا ؟ امام حسینؓ کا جسمِ اطہر میدانِ کربلا میں پڑا تھا۔ نہ چادر، نہ سایہ، نہ کوئی محافظ، نہ کوئی عزیز۔ صرف کربلا کی تپتی ہوئی ریت۔ متعدد تاریخی روایات میں مذکور ہے کہ بعد ازاں بعض ظالموں نے شہداء کے اجساد پر گھوڑے بھی دوڑائے۔ یہاں قلم لرز جاتا ہے، الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، کیونکہ درد کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ خیموں کی طرف دیکھیے۔ وہاں سکینہؓ ہیں جن کی آنکھیں اپنے بابا کو ڈھونڈ رہی ہیں، وہاں زینبؓ ہیں جن کے سامنے بھائی کا لاشہ ہے، وہاں علی بن حسینؓ ( زین العابدینؓ ) ہیں جو بیماری کے عالم میں یہ سب دیکھ رہے ہیں، اور وہاں آگ کے شعلے ہیں جو خیموں کو نگل رہے ہیں۔ پھر اہلِ بیتِ اطہارؓ کو قیدی بنا کر کوفہ اور بعد ازاں شام لے جایا گیا۔ سرِ مبارک اور دیگر شہداء کے سروں کو نیزوں پر بلند کیا گیا۔ بازاروں اور گلیوں سے قافلہ گزارا گیا۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ ظلم اپنی پوری قوت کے باوجود نورِ نبوت کو چھپا نہ سکا۔


حضرت زینبؓ نے کوفہ اور شام میں ایسے خطبات دیے کہ ایوانِ اقتدار لرز اٹھے۔ گویا کربلا میں حسینؓ نے خون سے جو پیغام لکھا تھا، زینبؓ نے اسے زبان دے دی۔ یزید کا دربار سجا، فتح کے گیت گائے گئے، مگر وقت مسکرا رہا تھا، کیونکہ تخت سمجھ رہا تھا کہ وہ جیت گیا ہے جبکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ تاریخ کی عدالت میں ہمیشہ کے لیے مجرم بن چکا تھا۔ آج بھی جب ظلم طاقت کے نشے میں چور ہوتا ہے تو کربلا یاد آتی ہے، جب حق تنہا رہ جاتا ہے تو کربلا یاد آتی ہے، جب ضمیر بکنے لگتے ہیں تو کوفہ یاد آتا ہے، اور جب کوئی شخص حق کی خاطر سب کچھ قربان کردیتا ہے تو حسینؓ یاد آتے ہیں۔ کربلا کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ حق ہمیشہ تعداد سے نہیں جیتتا، کردار سے جیتتا ہے۔ فرات کے کنارے پانی ہار گیا اور پیاس جیت گئی۔ لشکر ہار گئے اور وفا جیت گئی۔ تلواریں ہار گئیں اور سجدہ جیت گیا۔ یزید کا اقتدار چند برس زندہ رہا، مگر حسینؓ کا نام قیامت تک زندہ رہے گا۔ آج بھی شامِ کربلا کی ہوائیں ریت سے سرگوشی کرتی ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ حسینؓ پیاسے شہید ہوئے تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پیاسی انسانیت تھی، اور حسینؓ نے اپنے خون سے اسے سیراب کردیا۔ اور ریتِ کربلا جواب دیتی ہے۔ سر نیزوں پر چڑھ گئے، خیمے جل گئے، جسم خاک پر رہ گئے، مگر حسینؓ کا سجدہ آج بھی زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔ سلام ہو حسینؓ پر، سلام ہو عباسؓ پر، سلام ہو علی اکبرؓ پر، سلام ہو علی اصغرؓ پر، سلام ہو زینبؓ کے صبر پر، اور سلام ہو کربلا کے ان تمام جاں نثاروں پر جنہوں نے دنیا کو یہ سکھا دیا کہ۔ سر کٹ سکتا ہے مگر جھک نہیں سکتا، حق دب سکتا ہے مگر مٹ نہیں سکتا، اور عشقِ حسینؓ قیامت تک انسانیت کے دلوں میں زندہ رہے گا۔۔۔

محمد عارف نثار

اور پڑھیں 👇

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے