Ticker

6/recent/ticker-posts

سکندر اعظم

سکندر اعظم

وفات : 10 جون 323 قبل مسیح

.......لیکن جب سکندر (Sikandar e Azam) سائرس کی قبر پر پہنچا تو نا مرادی نے گھیر لیا. وہ دل گرفتہ ہوا کہ اس جوش و خروش اور جنگ و جدل کا انعام دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کی شکل میں مل سکتا ہے مگر اس کا انجام محض قبر کی تنہائی اور تاریکی ہو گا. سکندر کو سائرس نے رنجیدہ کیا اور جولیس سیزر کو سکندرِ اعظم نے.۔سیزر نے سکندر کا حال پڑھا تو رونے لگا کہ میری عمر تک سکندر کتنے ہی ملک فتح کر چکا تھا اور میرے اعمال نامے میں ابھی تک ایک درخشاں کارنامہ بھی نہیں ہے۔ جولیس سیزر کا یہ جملہ میں نے پڑھا اور میں بھی آزردہ ہوا. سکندرِ اعظم کی سوانح کا ایک استعمال سیزر نے کیا، اور دوسرا ہمارے فقیروں نے جو خیرات مانگتے ہوئے صرف اتنا یاد دلاتے ہیں کہ

سکندر حب گیا دنیا سے دونوں ہاتھ خالی تھے


جن ہاتھوں نے دنیا بھر سے خراج وصول کیا، ان کے حوالے سے یہ لوگ خیرات مانگتے ہیں کیوں کہ افراد اور اقوام، واقعات سے ہمیشہ اپنے مزاج کے مطابق سبق حاصل کرتے ہیں۔

آواز دوست
مختار مسعود

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے