Ticker

6/recent/ticker-posts

مصنوعی ذہانت (AI) انسانی قدروں کی تباہی کا سامان

مصنوعی ذہانت (AI) انسانی قدروں کی تباہی کا سامان


ذیل میں AI کے لئے صاف پانی کے بے جا استعمال کے تعلق سے سب سے پہلے کچھ انتہائی حیران کن اور خطرناک حقائق پیش ہیں :

آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے ڈیٹا کو اسٹور، پروسیس اور مینیج کرنے کے لیے اربوں لیٹر صاف پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ دراصل، اے آئی اسٹوریج اور سرورز (Data Centers) چوبیس گھنٹے شدید گرمی پیدا کرتے ہیں، جنہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کا بے تحاشہ استعمال کیا جاتا ہے۔

ai technology ka istemal



اقوام متحدہ (UN) کی حالیہ رپورٹ (جون 2026):- United Nations University کی رپورٹ کے مطابق، اے آئی کی وجہ سے 2030 تک ڈیٹا سینٹرز کے لیے قریب 39 کھرب لیٹر پانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ جو بڑھ کر 1200 ارب لیٹر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔


مائیکروسافٹ کے ڈیٹا سینٹرز میں چیٹ جی پی ٹی (GPT-3) سے پوچھے گئے ہر 10 سے 50 سوالات کے جواب تیار کرنے میں آدھا لیٹر ( 500ml ) صاف پانی خرچ ہوتا ہے۔ اے آئی کے ذریعے صرف 100 الفاظ پر مشتمل ایک چھوٹی سی E- mail لکھوانے پر بیک اینڈ سرورز کو ٹھنڈا کرنے کے لیے 235 ملی لیٹر سے لے کر 1,408 ملی لیٹر تک پانی اڑ جاتا ہے (یہ مقدار اس بات پر منحصر ہے کہ ڈیٹا سینٹر کس ملک یا ریاست میں ہے۔

Ethnol


دوسری طرف ہندوستان میں اتھینول Ethnol بنانے میں بے شمار صاف پانی کے خرچ ہونے کا خطرہ سامنے آرہا ہے۔خاص طور پر چاول، گنا اور مکئی سے ایتھنول بنایا جائے گا۔ اگر چاول سے ایک ایتھینول بنایا جاتا ہے تو تقریباً 10,790 لیٹر پانی کا استعمال ہوگا۔جبکہ مکئی سے بنانے میں 4,670 لیٹر اور گنّا سے بنانے ~3,630 لیٹر پانی کا خرچ ہوگا۔

اس کا نقصان پانی کے بحران، صحت کے شدید خطرات

خوراک کی سلامتی پر بڑھتا ہوا خطرہ، فصلوں کے رخ میں تبدیلی اور مہنگائی، آبی اور زمینی آلودگی کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔ یہ مسئلہ ہندوستان جیسے ممالک کے لئے بڑا ہو سکتا ہے۔ اس لیے زیادہ تر ایتھینول پروڈکشن پہلے سے ہی پانی کے بحران والی ریاستوں (جیسے مہاراشٹر، یوپی، کرناٹک) میں ہو رہی ہے، اور چاول جیسی فصلوں کے استعمال سے زمینی پانی کی کمی کا خطرہ اور بڑھ سکتا ہے۔UN کے مطابق موسم میں غیر متوقع تبدیلی اور بارش کے تناسب میں الٹ پھیر کی وجہ سے آئندہ جنگ Fresh Water کے لئے ہو سکتی ہے۔

ایک حدیث سے ممکنہ تعلق :

یاجوج ماجوج کے بحیرہ طبریہ کا سارا پانی پی جانے کا تفصیلی ذکر صحیح مسلم کی ایک طویل اور مشہور حدیث میں موجود ہے۔

(( بحیرہ طبریہ (Sea of Galilee) جسے طبریہ جھیل بھی کہتے ہیں، اسرائیل اور اردن کے درمیان واقع ایک مشہور اور تاریخی میٹھے پانی کی جھیل ہے))۔

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"وَیَبْعَثُ اللهُ یَاجُوجَ وَمَاجُوجَ وَهُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ، فَیَمُرُّ أَوَّلُهُمْ عَلَی بُحَیْرَةِ طَبَرِیَّةَ فَیَشْرَبُونَ مَا فِیهَا، وَیَمُرُّ آخِرُهُمْ فَیَقُولُونَ: لَقَدْ کَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ"۔

ترجمہ: " اور اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کو بھیج دے گا اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے۔ ان کا پہلا گروہ بحیرہ طبریہ پر سے گزرے گا تو جو پانی بھی اس میں ہوگا، اسے پی جائے گا۔ جب ان کا آخری گروہ وہاں سے گزرے گا تو (خشک زمین دیکھ کر) کہے گا: 'کبھی یہاں بھی پانی ہوا کرتا تھا'۔"
(صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، حدیث: 2937)

21 ویں صدی میں سائنسی سہولیات کے غیر انسانی استعمال کی وجہ سے پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔آج ندیاں سوکھ رہی ہیں، کئی علاقوں میں سمندر کا پانی ساحل سے دور جا رہا ہے۔


جس تیزی سے دنیا بھر میں AI کو شرف قبولیت حاصل ہو رہی اسی تیزی سے انسانی قدروں کی پامالی کی خبریں بھی آرہی ہیں۔ سائینٹفک ترقی کے نام پر نئی نسل بہت تیزی سے اس کو سیکھ کر اپنا کیریئر بنانے کے لئے تیار ہے۔ پچھلی صدی میں سائینٹفک ایجادات انسانی سہولیات کے مدنظر شریف النفس سائنسدانوں نے کیا لہٰذا فائدہ زیادہ حاصل ہوا۔ آج 21 ویں صدی میں جبکہ لگ بھگ تمام سائینٹفک ایجادات شیطان صفت انسانوں اور حکمرانوں کے کنٹرول میں ہو رہے ہیں لہٰذا معمولی سہولیات کی بجائے بے پناہ تباہی کے ساتھ سامنے آرہا ہے۔کوئی بھی شخص گزشتہ دو دہائیوں میں Smart Phone کے برے سماجی اثرات کو کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔ ویسے بھی انسان فطرتاً اچھائیوں کے مقابلے میں بری چیزوں کو جلدی سیکھتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ AI سے انسانی مشکلات بہت تیزی سے کم ہورہی ہیں پھر Quantum AI سے لگ بھگ تمام مادی، ذہنی و علمی مشکلات کا سد باب ہو جائے گا۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ انسانی ذہن مفلوج اور ایک مشینی ذہن کا غلام بن کر اپنی بشریت خراب کرتا چلا جائے گا، بالآخر دجالی نظام کا آلاکار بن کر برباد ہو جائے گا۔ الا ماشاءاللہ

3 اپریل، 1973 کو موٹرولا کے انجینئر مارٹن کوپر کے ذریعہ نیویارک شہر کی سڑک پر کھڑے ہو کر پہلے موبائل-فون کا استعمال شروع ہوا۔ 1992 میں IBM Simon Personal Communicator کو پہلا Real Smart Phone سمجھا جاتا ہے، جس میں ٹچ اسکرین، ای میل اور فیکس کی سہولت تھی۔

آج کے جدید اسمارٹ فونز کا تصور 2000 کی دہائی میں واضح ہوا، جس میں نوکیا (Nokia) اور بلیک بیری (BlackBerry) جیسے برانڈز نے اہم کردار ادا کیا۔


2007 میں ایپل (Apple) کے آئی فون (iPhone) کے متعارف ہونے کے بعد اسمارٹ فونز کا دور انقلاب کی طرف بڑھا، اور یہ عام لوگوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن گئے۔

اسمارٹ-فون کے بعد مصنوعی ذہانت (AI) کو جدید دور کی سب سے انقلابی ٹیکنالوجی مانا جا رہا ہے، جو ہماری نئی نسل کے ہر شعبے میں داخل ہو چکی ہے۔1956ء میں ڈارٹ ماتھ کانفرنس کے دوران مصنوعی ذہانت کی اصطلاح وضع کی گئی۔ اس کی تیز رفتار ترقی اور وسیع پیمانے پر استعمال ایسے گہرے نقصانات اور خطرات بھی پیش کر رہے ہیں جو انسانی تہذیب کے مستقبل کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔

آئیے ان مسائل کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں۔


(1) روزگار اور تعلیمی مسائل

سب سے پہلا نقصان روزگار کی کمی کے طور پر ہوگا۔ بین الاقوامی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت آئندہ چند برسوں میں 80 فیصد تک انسانی ملازمتوں کو ختم کر سکتی ہے۔ سرمایہ کاری بینک گولڈمین سینسکس کے اندازے کے مطابق، فی الحال AI انسانی ملازمتوں کا 25 فیصد حصے کی جگہ لے سکتی ہے ۔ نتیجے میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور معاشی بدحالی پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس سے معاشرتی طبقات کے درمیان فرق اور بڑھ سکتا ہے۔ تعلیمی میدان میں مواد کے نام پر Explosion of Knowledge بچےّ اور بڑوں کی logical capacity کو مجروح کر رہی ہے۔ جانکاری کے یلغار سے دھیرے دھیرے اساتذۂ کرام کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے۔

(2) قانونی ذمہ داری سے فرار

جب AI خود مختار طریقے سے فیصلے کرتا ہے تو کسی غلطی یا نقصان دہ نتیجے کی صورت میں مشین کو ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جا سکتا ہے ۔ لہٰذا معاشرے میں ایک غیر ذمہ دارانہ نظام قائم ہوگا جو قانونی نظام کے لیے ایک نئے چیلینج کے طور پر سامنے آئے گا۔ ان دنوں Cyber Fraud کے مجرموں تک ہم نہیں پہنچ پاتے ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی سزا مل پاتی ہے۔

(3) پرائیویسی کے نقصان کا خطرہ

ذاتی رازداری کا نظام AI کی وجہ سے وسیع پیمانے پر متاثر ہوگا۔ معلومات جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے نگرانی اور پرائیویسی ختم ہو جائے گی۔ سوشل میڈیا پر پیسہ کمانے کی مہم میں تیار شدہ Reel Culture کے ذریعہ لوگ بہت آسانی سے اپنی ذاتی زندگی کا خود ہی پردہ فاش کر رہے ہیں۔ لوگ Facebook, Instagram اور Tiktok وغیرہ پر اپنے گھروں کی پوری جانکاری تصاویر کی شکل میں پیش کر رہے ہیں جو مستقبل میں AI کی خوراک بنے گی اور اس کے غلط استعمال سے لوگوں کا جینا حرام ہو جائے گا۔


(4) سچ اور جھوٹ میں تمیز مشکل

مصنوعی ذہانت(AI) لوگوں کے ذریعہ مہیا کرائے گئے Personal Data کے ذریعے تیار کردہ مواد سے جعلی خبریں اور ڈیپ فیک ویڈیوز بنا کر آسانی سے پھیلا سکتا ہے، جس سے سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا عام شہری کے لیے مشکل ہو جائے گا۔ اس سے سماجی انتشار پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ فوٹوز اور وڈیوز جو کبھی سچائی کا ثبوت ہوا کرتے تھے آج بیشتر جھوٹی گواہی دے کر لوگوں کی پریشانی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

(5) ضرورت سے زیادہ انحصار

قوی امکان ہے کہ مصنوعی ذہانت پر زیادہ انحصار افراد کی فطری طور پر مسئلہ حل کرنے اور تنقیدی سوچ کی صلاحیتوں کو کمزور کر سکتا ہے ۔ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی فطری صلاحیتوں کو دھیرے دھیرے کمزور کرکے انسانی دماغ کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔ سماج میں مصنوعی فیصلے کی بہتات ہو سکتی ہے جس سے گھر اور سماج میں انتشار پھیل سکتا ہے۔

(6) آپسی انحصار کا خاتمہ

جیسے جیسے معاملات خودکار ہوتے جائیں گے، معاشرے میں انسانی رابطے اور ہمدردی جیسی اقدار کے مٹ جانے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے نزدیک مصنوعی ذہانت کے سب سے گہرے اور دور رس اثرات وہ ہیں جو پوری انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ نئی نسل تنہائی پسند ہوتی جارہی ہے جس سے ڈپریشن اور خودکشی کے معاملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

(7) قاتل روبوٹ Killer Robot سے تباہی

میزائل سے زیادہ خود مختار Drone پہلے ہی استعمال میں آچکے ہیں۔ کچھ ملک killer robot جیسے خود مختار ہتھیار تیار کرنے میں لگ گئے ہیں جو انسانی دخل اندازی کے بغیر فوجی آپریشن کر سکیں، جس کے نتیجے میں بے گناہ جانیں جائیں گی۔ آئندہ کسی بھی ملک میں Mass Killings آسان ہو جائے گی۔

(8) انسانی کنٹرول سے بالاتر

اندازہ ہے کہ AI کی انتہائی صورت میں، ایک بے قابو اور انتہائی ذہین AI کی ترقی انسانی کنٹرول سے باہر جا سکتی ہے، جس کے نتائج کو کنٹرول کرنا مشکل ہوگا۔ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مشینیں انسانوں سے زیادہ ذہین ہو سکتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے بانی ڈاکٹر جیفری ہنٹن کے مطابق، " ایسے نظام بنانا جو انسانی ذہانت کا مقابلہ کرے یا اس سے آگے نکل جائے، نسل انسانی کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے" ۔


(9) عالمی نگرانی (Global Surveillance)


عالمی پیمانے پر AI Generated کیمرے کے ذریعہ دجال کی نظر پوری دنیا پر ہوگی۔ جدید AI الگورتھزم اور Biometric Identification ایسے نظام ہیں جو ایک فرد یا گروہ کو پوری عالمی آبادی پر کنٹرول اور نگرانی کی طاقت فراہم کرتے ہیں، جسے "دجالی نظام" کی تمہید قرار دیا جا سکتا ہے۔

(10) ذہنی کنٹرول (Mind Manipulation)


محققین کے مطابق سوشل میڈیا اور AI کے ذریعے انسانوں کی سوچ اور پسند و ناپسند کو پروگرام کیا جا رہا ہے، جو لوگوں کو " دجال" کی فکری پیروی کے لیے تیار کرنے کا ایک نفسیاتی عمل ہو سکتا ہے۔ AI کا سب سے بڑا مشن Data Collection کرکے لوگوں کو شیطانی سائینٹفک مشین کا غلام بننے پر مجبور کرنا ہے۔Digital Arrest اور Hacking آج اس کی زندہ مثال بن چکے ہیں۔

علمائے کرام کی رائے

بہت سے علماء اور دانشور متنبہ کرتے ہیں کہ AI بذاتِ خود دجال نہیں، بلکہ یہ وہ آلہ یا نظام (Infrastructure) ہو سکتا ہے جسے دجال اپنے فتنے کو عالمی سطح پر پھیلانے کے لیے استعمال کرے گا۔

خلاصہ یہ کہ AI کو دجال کے "فتنے کا تکنیکی ڈھانچہ" تصور کیا جاتا ہے جو سچ اور جھوٹ کی تمیز ختم کر کے ایمان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہا ہے۔

مسئلہ کا حل

مصنوعی ذہانت ایک دو دھاری تلوار ہے جس کے بے پناہ فوائد کے ساتھ ساتھ گہرے اور دور رس نقصانات بھی ہیں۔ ان خطرات کے باوجود، اگر مناسب اقدامات اٹھائے جائیں تو مصنوعی ذہانت کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔تمام ممالک کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے رہنما خطوط قائم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ عوام میں ٹیکنالوجی کے درست استعمال کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا اور نئے ہنر سکھانا ضروری ہے تاکہ وہ نئے مواقع کے لیے تیار رہیں۔



یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس طاقتور ٹیکنالوجی کو محتاطی، دور اندیشی اور اخلاقی پابندیوں کے ساتھ استعمال کریں۔ بین الاقوامی تعاون، مضبوط قوانین، اور مسلسل عوامی مکالمے کے ذریعے ہی ہم مصنوعی ذہانت کے فوائد سے مستفید ہوتے ہوئے اس کے ممکنہ نقصانات سے بچ سکتے ہیں اور ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں۔

روحانی علاج کے طور پر اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل توکل قائم کرنا، تلاوت قرآن پاک، سورہ کہف کے مطالعے کی کثرت، مخصوص شرعی دعاؤں کا اہتمام، توبہ استغفار کرتے رہنا، ہر وقت ذکر اللہ سے دل و دماغ کو روحانی غذا پہنچانا، انسانی خدمات میں شامل ہونا وغیرہ پر عمل کرکے ان مشینی فتنوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین ثم آمین
سرفراز عالم
عالم گنج پٹنہ
رابطہ 8825189373

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے