نظم : کرب جدائی (کشمیر)
ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ
اسٹنٹ پروفیسر، اردو
ویمنس یونی ورسٹی
تلنگانہ، حیدرآباد
نظم
کرب جدائی (کشمیر)
جب مدتوں بعد
ہجرت زدہ روح
جنت نشاں وادیوں کی دہلیز پر اتری
تو
وادی نے
اپنی برفیلی خاموشی بچھا دی
کربِ جدائی
پگھلتے ہوئے گلیشیئر کی طرح
آنکھوں میں اتر آیا
سرو خاموش تھے
صنوبر
دھند میں لپٹے مراقبے میں کھڑے تھے
دیودار کی سانسوں سے
برفیلی نمی اترتی تھی
اور چنار
زرد پتوں میں
بچھڑے موسموں کا نوحہ لکھ رہے تھے
بیدِ مجنوں نے
جھکی ہوئی شاخوں کے ساتھ
یوں مجھے سمیٹا
جیسے صدیوں کی جدائی کے بعد
کسی ازلی محبت نے
اپنی پُرسکون پناہوں میں
بھٹکتی روح کو جگہ دے دی ہو
شبِ تنہائی
وادی کے سینے پر
آہستہ آہستہ پگھل رہی تھی
چنار جانتے تھے
ہجرت صرف انسان نہیں کرتے
کچھ موسم بھی
اپنی مٹی سے بچھڑ کر
عمر بھر زرد رہتے ہیں
سب کی آنکھوں میں
ایک ہی سوال لرز رہا تھا:
اے مرے خونِ جگر
اجنبی میدانوں میں
کیسے گزرتے ہیں تیرے شب و روز؟
میں نے دیکھا—
دھوپ وہاں بھی طلوع ہوتی ہے
مگر
اس میں پہاڑوں کی شفقت نہیں ہوتی
ہوا وہاں بھی چلتی ہے
مگر
اس میں دیودار کی مہک شامل نہیں ہوتی
دن
چٹیل میدانوں کی گرد میں
آہستہ آہستہ جلتے رہتے ہیں
اور راتیں
بے خواب کمروں میں
تارے چنتے چنتے
راکھ اوڑھ لیتی ہیں
کچھ تارے
ٹوٹے ہوئے خوابوں کی مانند
ہتھیلی پر بجھ جاتے ہیں
اور کچھ
عمر بھر
آنکھوں میں چبھتے رہتے ہیں
زیست
ایک بے آواز ہجرت بن کر
رگوں میں بہتی رہتی ہے
یوں لگتا ہے
کہ حیات
اپنی تمام تر حرارت کے باوجود
کسی بے رنگ داستان کی
آخری سطر میں
خاموش کھڑی ہے
0 تبصرے