کاکروچ ( Cockroach ) بھی یاد رکھا جائے گا...!!
انسان کے اندر انسانیت کا خمیر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔حالات کے تھپیڑے اسے بھلا دیتے ہیں، لیکن جب پریشانی آتی ہے تو انسانی ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ انسانی دوستی اور بھائی چارہ تڑپ اٹھتا ہے۔ ساری نفرتیں دم توڑ دیتی ہیں، اور جب ملک کے نوجوان سڑک پر نکل پڑتے ہیں تو ہواؤں کا رخ موڑ دیتے ہیں۔
انسانیت کے دشمن شیطانی طاقتوں نے ہمیشہ سے انسانیت کے خلاف سازشیں رچی ہیں۔ بظاہر اپنی گہری چال میں کامیاب بھی ہوئی ہیں لیکن جب ظالموں کی ان سازشوں سے انسانیت پریشان ہوتی ہے تب اللہ تعالیٰ ان سے بھی زیادہ لطیف اور خطرناک چال چلتا ہے۔
آل عمران کی آیت 54 میں اس کا اشارہ ملتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی خفیہ تدبیر سے حق کی حفاظت کی ہے۔
وَمَكَرُوۡا وَمَكَرَ اللّٰهُ ؕ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمَاكِرِيۡنَ
آل عمران 54
ترجمہ: " اب انہوں نے بھی چالیں چلیں اور اللہ نے بھی چال چلی اور اللہ تعالیٰ بہترین چال چلنے والا ہے"۔
اللہ تعالیٰ کی چال بظاہر یہ سمجھ میں آئی کہ ایک بڑے جج نے کچھ غلط کہا، ردعمل میں Virtually CJP بن گیا، بغیر کسی اندازہ کے جنتر منتر پر بھیڑ اکٹھی ہوئی اور پھر کچھ دنوں کے بعد سرکار کو جھکنا پڑا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی فرد یا قوم کا عروج و زوال اکثر اسی طرح کے چھوٹے موٹے حادثات سے ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے نمرود جیسے متکبر اور جبار بادشاہ کو عذاب دینے کے لیے ایک انتہائی کمزور اور حقیر مچھر کو ذریعہ بنایا۔ اللہ نے بظاہر ایک معمولی سی مخلوق بنام کاکروچ ( Virtual Cockroach ) کے ذریعہ نوجوانوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگا کر کہا اٹھو اور ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرو۔ یہ آواز پوری دنیا میں سنی گئی، ساتھ ہی کامیاب ہو کر آئندہ اٹھنے والی تحریک کے لئے مشعلِ بھی راہ بنی ۔
مئی 2026 کو نیٹ پیپر لیک NEET Paper Leak سے پریشان ہو کر جب ملک کے نونہالوں نے آواز بلند کیا تو 15 مئی 2026 کو چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران کچھ بے روزگار نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کو Cockroach کہہ کر مخاطب کیا اور " کاکروچ کو معاشرے پر بوجھ" قرار دیا۔ اسی کے جواب میں 16 مئی کو سات سمندر پار بیٹھا Abhijit Dipke نے طنزیہ طور پر " CJP " نام کی ایک Virtual Party کی بنیاد رکھی۔ توقع کے خلاف سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل کر یہ ایک تحریک کی شکل میں 6 جون 2026 کو دہلی کے جنتر منتر پہنچ گئی۔20 جون کو اپنی مانگوں کے ساتھ پارلیمنٹ مارچ کیا گیا جس میں بغیر ڈرے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا۔ پولس نے خوب لاٹھیاں برسائیں۔ اسی سے تحریک پاکر راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کے گھر کا گھیراؤ کیا اور پولیس کے ظلم کو برداشت کیا۔ بالآخر 25 جون کو وزیر تعلیم Dharmendra Pradhan کو استعفیٰ دینا پڑا۔
یہ مہم GenZ نے شروع کی تھی جو آگے چل تمام انصاف پسند ہندوستانیوں کی تحریک بن گئی۔ یہ تحریک پچھلی تمام تحریکوں سے کتنا مختلف رہی، آئیے سب سے پہلے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
سنہ 1974ء کا جے پی(JP Movement) آندولن ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، حکومتی بدعنوانی اور آمریت کے خلاف اٹھائی گئی تھی۔ 5 جون 1974ء کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں ایک تاریخی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جے پی نے اسے محض حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر انقلاب قرار دیا۔تحریک کے دباؤ میں آکر 25 جون 1975ء کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور جے پی سمیت تمام بڑے اپوزیشن رہنما قید کر لیے گئے۔ 1977ء میں جب ایمرجنسی کے بعد انتخابات ہوئے، تو اسی تحریک کے نتیجے میں تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہوئیں اور جنتا پارٹی برسرِ اقتدار آئی۔ بھارت کی تاریخ میں پہلی بار مرکز میں کانگریس کے علاوہ کسی دوسری جماعت کی حکومت بنی۔
دوسرا سب سے بڑا عوامی اندولن Anna Hazare کی نمائندگی میں سنہ 2011ء میں "انڈیا اگینسٹ کرپشن" (India Against Corruption) تحریک کی صورت میں ہوا۔اس وقت کی ( UPA) حکومت کے دور میں 2G سپیکٹرم اور کامن ویلتھ گیمز گھوٹالہ ہوا تھا۔ حکومت میں اعلیٰ سطح پر بدعنوانی کو روکنے کے لیے ایک مضبوط اور خود مختار احتسابی ادارے "جن لوک پال" (Jan Lokpal) کا قیام۔ اس اندولن کے نتیجے میں عام آدمی پارٹی (AAP) وجود میں آئی، جس نے بعد میں دہلی میں حکومت بنائی۔ نیز، اس عوامی غصے نے 2014ء کے عام انتخابات میں مرکزی حکومت کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا۔
تیسرا بڑا آندولن سنہ2012ء میں دہلی میں ہونے والے ہولناک Nirbhaya Gang Rape کے خلاف پورے ملک کے نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔ اس عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت کو عصمت دری کے خلاف قوانین کو انتہائی سخت بنانا پڑا۔
چوتھا بڑا آندولن سنہ(2019-20) میں شہریت کے ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف ملک گیر احتجاج ہوا، جس کا اہم مرکز دہلی کا شاہین باغ بنا اور تقریباً ہر شہر میں شاہین باغ کا منظر دیکھنے کو ملا۔ اس میں بڑے پیمانے پر خواتین اور طلبہ نے حصہ لیا۔ حالانکہ اس کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا۔
پانچواں بڑا آندولن Kisan Andolan (2020-2021) حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف بھارت کی تاریخ کا طویل ترین اور سب سے منظم کسان احتجاج ہوا۔ پنجاب، ہریانہ اور یوپی کے لاکھوں کسانوں نے ایک سال سے زائد عرصے تک دہلی کی سرحدوں کا گھیراؤ کیا، جس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو ان قوانین کو واپس لینے کا اعلان کرنا پڑا۔
اب ہم کاکروچ تحریک CJP کی کامیابی اور نمایاں خصوصیات کا جائزہ لیں گے۔
(1) موجودہ ہندوستان کی یہ پہلی تحریک تھی جس کی بنیاد سوشل میڈیا پر رکھی گئی اور اسی کی مدد سے کامیاب بھی ہوئی۔ اس طرح( It was the first Social Media Protest in modern India) ۔Virtual سے Real بنی اس تحریک نے سوشل میڈیا کی طاقت کو ثابت کیا اور سرکار کو جھکنے پر مجبور کردیا۔
(2) دوسری بات یہ کہ شاید پہلی بار کسی تحریک میں طلباء اور طالبات نے مل کر خراب تعلیمی سسٹم کے خلاف میدان میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ لڑکیوں نے آخری کوشش کرتے ہوئے لڑکوں کی طرح ہی سرکاری لاٹھیاں کھائیں۔ ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ لڑکیوں نے بھی کھل کر تحریک کی حوصلہ افزائی کی۔ Gen Z کے والدین نے بھی ان نوجوانوں کی خوب حوصلہ افزائی کی۔چھوٹے بچے بچیوں کا جوش تو دیکھنے کے لائق تھا۔
(3) تیسری بڑی خوبی یہ رہی کہ اس تحریک کے منچ پر لگ بھگ ہر سیاسی جماعت کے بڑے چہروں نے حاضری دی لیکن کسی نے اس تحریک کو اچکنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کسی کو اس کا موقع دیا گیا۔راہل گاندھی نے بھی بڑی حکمت عملی سے ان کی حمایت کی۔
(4) چوتھی بات یہ ہوئی کہ اس تحریک کو سماج کے ہر طبقے کا ساتھ ملا۔ وکیل، ایماندار صحافی ،ان گنت یوٹیوبر، فلمی کلاکار، عام جنتا، بوڑھے بزرگ، امیر غریب سبھی نے آواز سے آواز ملا کر دنیا کی سب سے بڑی پارٹی والی سرکار کی چولیں ہلا دیں۔
(5) پانچویں بات یہ کہ گودی میڈیا کو چھوڑ کر تمام میڈیا ہاؤس نے تحریک کو بھر پور مشتہر کیا یہاں تک کہ درجنوں غیر ملکی میڈیا ہاؤس نے بھی اپنا اچھا رول نبھایا۔ سرکاری میڈیا سے ناراض صحافیوں نے اپنی زندگی کا ایک کامیاب مظاہرہ بخوبی کور کیا۔مشہور تجربہ کار صحافی اجیت انجم کو کون بھلا سکتا ہے جو Ranchi دوسرا جنتر منتر میں بھی پہنچ گئے ہیں۔
(6) چھٹی خوبی یہ رہی کہ تمام طرح کے اختلافات کو بھول کر ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی نے محبت کے ساتھ اپنی خدمات پیش کیں۔جنید کو کون بھلا سکتا ہے جنہوں نے بغیر تھکے کھانے پینے کا انتظام کیا۔
(7) ساتویں نئی بات یہ ہوئی کہ غیر ملکوں سے آن لائن کھانا بھیجنے کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ ان لوگوں کو مزید بھیجنے سے منع کرنا پڑا۔ گویا عوام بھی بالواسطہ تحریک کا حصہ بنے۔کئی غریب چہروں کی صلاحیت ابھر کر سامنے آئی۔
(8) آٹھویں بات یہ کہ گودی میڈیا اور اندھ بھکتوں نے اس تحریک پر طرح طرح کے الزام لگائے۔ پاکستانی، بنگلہ دیشی اور بدیشی فنڈنگ تک کا الزام لگایا لیکن GenZ نے خود کو سچا ہندوستانی ثابت کردیا۔
(9) نویں اور نئی بات یہ تھی کہ پہلی بار مودی حکومت کے خلاف کسی احتجاج میں مودی اور بی جے پی کو ووٹ دینے والے متوسط اور اعلیٰ طبقے کے خاندانوں کے بچے خود اپنے والدین کے خلاف کھڑے ہوئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ لڑائی کسی سیاسی نظریے (Ideology) کی نہیں تھی، بلکہ یہ بچوں کے کیریئر، نوکریوں اور مستقبل کا معاملہ تھا، جس پر نوجوان نسل اپنے والدین کی سیاسی پسند کی وجہ سے سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھی۔
(10) دسویں خاص بات یہ کہ معروف سماجی کارکن اور مصلح سونم وانگچک نے تحریک کی حمایت میں جنتر منتر پر 26 روزہ طویل بھوک ہڑتال کی، جس سے یہ تحریک قومی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنی۔جب بھوک ٹوٹی تو انہوں اپنے خلاف اٹھی چند غلط فہمیوں کا اطمینان بخش جواب بھی دیا۔
(11) گیارہویں خصوصیت یہ ہے کہ اس تحریک کا کوئی ایک لیڈر نہیں ہے۔ یہ ایک Leaderless Party ہے۔ہر Cockroach اس کا ایک لیڈر ہے۔یہ بھی بار بار اعلان کیا جا رہا ہے کہ یہ کوئی Political Party نہیں بنائیں گے جس کی کوشش سرکار کر رہی ہے۔
آخری مگر سب سے اہم بات وہ یہ کہ اس تحریک نے بغیر ڈر اور خوف کے موجودہ حکومت سے سوال پوچھنا سکھا دیا۔ پچھلے 14 سالوں سے ڈر کے سائے میں جی رہے عام ہندوستانی کو ان کی جمہوری طاقت کا احساس دلایا۔ظالم حکمرانوں سے سوال کرنا سکھا دیا۔ نفرت کی دیوار گرادی اور نفرت کے ماحول کو ختم کرکے ہندوستان کو ایک پیارا گلدستہ بنا کر محبت کا پیغام دیا۔ملک کے تعلیمی اور معاشی بحران پر از سر نو بحث چھیڑ دیا۔
اسی طرز پر محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کی تحریک شروع ہو چکی ہے۔ پٹرول میں Ethenol-20 ملانے کے خلاف بھی بڑی تحریک کھڑی ہو سکتی ہے۔بات یہاں تک ہو رہی ہے کہ امریکہ کا ایتھنول اب بھارت میں بیچا جائے گا۔ لوگوں کا اندازہ ہے کہ اب تو کئی مسائل کے خلاف تحریک شروع ہونے کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ Ranchi میں بھی بڑے پیمانے پر مقابلہ جاتی امتحانات میں پرچہ لیک ہونے پر بھوک ہڑتال کے ساتھ تحریک کھڑی ہو چکی ہے۔ تحریک کی چنگاری بھڑک اٹھی ہے جو ٹھنڈی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔اب (Gen Alpha) کا احتجاج بھی شروع ہوا ہے جو بنیادی طور پر اتر پردیش (UP)، بہار اور راجستان کے سرکاری اسکولوں میں ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسکول کے بچوں کی طرف سے بنیادی سہولیات (جیسے صاف پانی، پنکھے اور بیت الخلا) کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس طرح پہلی بار Social media کی طاقت ثابت ہو چکی ہے۔30 جولائی 26 کو بانکی پور by election میں پرشانت کشور کی بڑی کامیابی پر ایک بڑا اثر ان تحریکوں کا بھی مانا جا رہا ہے۔
حالانکہ ان تحریکوں میں مسلمانوں کی براہ راست شمولیت نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ انہیں میں سے اچھے لوگوں کے ذریعہ اب تک ہماری حفاظت کرتا آرہا ہے۔ پھر بھی ہمیں باخبر رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ جو قوم حالات سے بے خبر رہتی ہے وہ دھیرے دھیرے تباہ ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو بالعموم اور ہمارے اکابرین کو بالخصوص فراست اور ہمت عطا فرمائے اور امت مسلمہ کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اسی طرح کی تحریک چلانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین
سرفراز عالم پٹنہ
رابطہ 8825189373


0 تبصرے