Ticker

6/recent/ticker-posts

فورٹ ولیم کالج کی ادبی خدمات | فورٹ ولیم کالج کے مقاصد

فورٹ ولیم کالج کی ادبی خدمات | فورٹ ولیم کالج کے مقاصد

فورٹ ولیم کالج کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالئے۔
فورٹ ولیم کالج کے قیام کے عوامل سیاسی تھے اور ان کا مقصد ہندوستان میں انگریزی سامراج کو استحکام بخشنا تھا۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ جب تک ہندوستانیوں کی زبان ، رسوم و رواج اور روایات سے واقف نہ ہونگے وہ اچھے طریقے سے حکومت نہیں کر سکیں گے۔ چنانچہ انگریز افسروں، در باریوں، فوجیوں اور ملازموں کو مقامی زبان اور کلچر سے روشناس کرنے کے لئے کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج کا قیام ۱۸۰۰ء میں لارڈ ولزلی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ انگریزوں کو پڑھانے کے لئے ایسی کتابوں کی ضرورت پیش آئی جو سادہ و سہل زبان میں لکھی گئی ہوں اور جس میں ہندوستانیوں کے مذہبی عقائد اور تہذ یبی زندگی عکائی ہوئی ہو۔

اس کالج کے ڈائر کٹر اور شعبہ اردو کے سر براہ ڈاکٹر جان گلکرائسٹ بنائے گئے۔ انھوں نے ملک کے دور دراز علاقوں سے ادیبوں اور شاعروں کو وہاں بلایا اور آسان زبان میں کتابیں لکھوائیں اور ترجمے کرائیں۔ ان ادیبوں نے کالج کے زیر سرپرستی اردو نثر میں قابل قدراضافہ کیا۔ فورٹ ولیم کالج سے جو لوگ وابستہ ہوئے ان میں چند اہم نام یہ ہیں۔

1. میر امن دہلوی۔ فورٹ ولیم کے زیر سرپرستی کام کرنے والے مصنفین میں سب سے زیادہ شہرت میر امن دہلوی کو حاصل ہوئی۔ انھوں نے دو کتابیں ’’باغ و بہار ‘‘ اور ’’گنج خوبی‘‘ لکھیں۔انھیں شہرت اور حیات جاویداں ’’ باغ و بہار ‘‘ سے ملی۔ یہ فارسی کتاب ’’ قصہ چہار درویش‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں میرامن نے اپنے عہد کی نثری روایت سے بغاوت کر کے زندگی سے بھر پور اردو نثر کا سلیس اور فطری نمونہ ا گرنہ پیش کیا ہوتا تو موجودہ ناول کے لئے شاید ہی راہ ہموار ہوئی ہوتی اور اردو نثر قافیہ وردیف کے تنگ دائرے میں محصور رہتی۔

2. میر شیر علی افسوس۔ انھوں نے سعدی کی ’’گلستاں“ کا ترجمہ ’’ باغ اردو‘‘ کے نام سے کیا اوربخلاصة التواریخ‘‘ کا ترجمہ ’’آرائش محفل‘‘ کے نام سے کیا۔ یہ ہندوستان کی جغرافیائی اور تاریخی حالات پر لکھی گئی ہے۔

3. سید حیدر بخش حیدری۔ فورٹ ولیم کالج سے وابستہ مصنفین میں حیدر بخش حیدری نے سب سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ ان کی طبعزاد اور تراجم پر مشتمل کتابوں میں طوطا کہانی، آرائش محفل ، گل مغفرت“، ”ہفت پیکر ، قصہ مہر و ماہ وغیرہ ہیں۔ ان میں طوطا کہانی، آرائش محفل، کو کافی شہرت حاصل ہوئی۔

4. مرزا علی لطف ۔انھوں نے گلکرائسٹ کی فرمائش پر اردو شاعروں کا تذکرہ ”گلشن ہند ‘‘ کے نام سے لکھا۔

5. میر بہادر علی حسینی۔ انھوں نے میر حسن کی شہرہ آفاق مثنوی ’’سحر البیان‘‘ کو نثر بے نظیر کی شکل میں منتقل کر کے داستانوی ادب میں اضافہ کیا۔ ان کے علاوہ ’’اخلاق ہندی‘‘، تاریخ آسام، اور گلکرائسٹ کی قواعد کو مختصر کر کے سادہ و عام فہم زبان میں لکھا۔

ان مصنفین کو علاوہ مظہر علی خان ولا، مرزا کاظم علی جوان اور نہال چند لاہوری وغیرہ نے بھی اس کالج کے زیر سرپرستی اردو نثر میں قابل قدر اضافہ کیا۔ ولاؔ نے کالج کے لئے کئی کتابیں لکھیں جن میں ’’مادھو نل اور کام کنڈلا‘‘ ’’بیتال پچی‘‘ اور ’’تار یخ شیر شاہی‘‘ مشہور ہیں ۔ مرزا کاظم علی جواں نے کالی داس کی شاہکار تخلیق ’’ ابھگیان شا کنتم‘‘ کا ترجمہ شکنتلا ناٹک“ کے نام سے کیا۔ نہال چند لاہوری نے قصہ گل بکاولی کا فارسی سے اردو میں نثری ترجمہ کیا اور کتاب کا نام ”مذہب عشق ، رکھا۔ ان کے علاوہ بینی نرائن جہاں نے ’’چار گلشن “ اور للولال جی نے ’’سنگھاسن بتیسی، لکھی۔

ان ادیبوں کے علاوہ امانت اللہ شیدا،اکرام علی ، حفیظ الدین، حمید الدین بہاری، مرزاجان طپش ، مرزا محمد فطرت، خلیل علی اشک و غیر ہ نے بھی اس کا لج کی سر پرستی میں کئی کتابیں لکھ کر اردو نثر کی ترقی میں قابل قدر خدمات انجام دیں۔

مختصر فورٹ ولیم کالج اردو نثر کے ارتقاء میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی کوششوں سے اردو نثر قافیہ اور ردیف کی پابندیوں سے آزاد ہو کر علمی موضوعات کے لئے ایک کار گر وسیلہ اظہار بن گئی۔ ادب کی فرسودہ و پامال روایت سے انحراف اور اس میں مسائل زندگی کو پیش کرنے کا شعور بیدار ہوا۔ اس کالج نے اردو ادب کو در باری چاؤ چونچلوں سے آزاد کرا کے عوام سے قریب تر کیا اور اردوادب کے جمود کو توڑ کر اس میں طغیانی تخلیق اور تصنیفی شعور پیدا کیا۔ اگر تصنیفی شعور کی یہ اجتماعی تحریک وجود میں نہ آئی ہوتی توار دو ادب کو نہ یہ آفاقی حیثیت حاصل ہوتی اور نہ ہی وہ معیاری علمی لب ولہجہ حاصل ہوتا جو آج اسے حاصل ہے ۔ مجموعی طور پر تاریخی اعتبار سے فورٹ ولیم کالج ایک ایسا ادارہ ہے جس کے ذکر کے بغیر اردو نثر کی داستان نا مکمل رہے گی۔

fort William college ki adbi khidmat

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے