Ticker

6/recent/ticker-posts

دل کی ویران گلی میں کوئی آیا بھی نہیں : غزل

دل کی ویران گلی میں کوئی آیا بھی نہیں : غزل


11 جون 2026
غزل

دل کی ویران گلی میں کوئی آیا بھی نہیں
اور اک نام ہے جو دل سے بھلایا بھی نہیں

عمر بھر ڈھونڈتے پھرتے رہے خود کو لیکن
آئینہ سامنے تھا، ہم نے اٹھایا بھی نہیں

ایک خوشبو تھی جو احساس میں ہر آن رہی
پھول خود اس کو تو ہاتھوں سے لگایا بھی نہیں

رازِ ہستی کا اشارہ تھا ترے ہونٹوں پر
ہم کو سننا تھا مگر تُو نے سنایا بھی نہیں

کتنے دریاؤں کا پانی تھا مری آنکھوں میں
درد کچھ ایسا تھا جس نے کہ رُلایا بھی نہیں

وہ جو ہر سانس میں شامل ہے، نظر سے اوجھل
اُس کو پایا بھی بہت، اُس کو گنوایا بھی نہیں

عشق کی راہ میں یہ حال ہوا ہے اپنا
زخم سینے میں رہا، شور مچایا بھی نہیں

شبِ غم ختم ہوئی، صبح نے دستک دی ہے
کوئی آفاق پہ سورج تو اُگایا بھی نہیں

ہم نے خاموشی کو آواز بنا رکھا ہے
حالِ دل ایسا کہ دنیا کو بتایا بھی نہیں

طارقؔ اس شہرِ تمنّا میں عجب رسم رہی
دل جو ٹوٹا تو کسی کو یہ جتایا بھی نہیں

ڈاکٹر طارِقؔ انور باجوہ - لندن

اور پڑھیں 👇

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے