ہو نہ ہو، دل میں کوئی راز چھپاتا ہو گا : غزل
12 جون 2026
غزل
ہو نہ ہو، دل میں کوئی راز چھپاتا ہو گا
مجھ کو جو شخص مرا حال سناتا ہو گا
یونہی بے رنگ نظر آتا نہیں ہے مَنظَر
کوئی پردہ، پسِ پردہ بھی ہٹاتا ہو گا
میں جسے درد سمجھتا ہوں، عطا ہو شاید
چَرکے آہستہ سے کوئی تو لگاتا ہوگا
اپنی ہستی کے شَبِستاں میں اُتر کر دیکھو
کوئی گُم گَشتہ چراغ اب بھی جگاتا ہوگا
ہم نے جس شے کو فنا جان کے چھوڑا برسوں
وہی اک رازِ بقا بھی تو بتاتا ہوگا
یہ جو ہر سِمْت بکھر جاتے ہیں معنی کے گُلاب
کوئی خوشبو کا مسافِر اُنہیں لاتا ہوگا
عَقْل حیران ہے، کِس سِمْت چلے، ڈھونڈے صدا
عِشْق چُپ چاپ کوئی راہ دکھاتا ہوگا
کوئی آواز ازل سے مرے اندر گونجے
کوئی نغمہ مری خاموشی میں گاتا ہوگا
میں نے مانا کہ اندھیروں نے رکھا ظلمت میں
کوئی سورج پسِ دیوار سے آتا ہوگا
جس کو دنیا نے سمجھ رکھا ہے تنہائی کا غم
وہ کسی بزمِ نہاں میں بھی تو جاتا ہوگا
درد جب حد سے گزر جائے دعا بنتا ہے
اشک خاموشی سے عارض کو سجاتا ہوگا
کون کہتا ہے کہ منزل ہے جدا راہوں سے
جو بھٹکتا ہے، وہی گھر کو بھی جاتا ہوگا
طارقؔ اُس کوچے میں یہ رسمِ محبت دیکھی
جو بھی کھویا ہے، وہی خود کو بھی پاتا ہوگا
ڈاکٹر طارِقؔ انور باجوہ- لندن
0 تبصرے