ہوش والوں نے جسے سود و زیاں جانا تھا : ڈاکٹر طارق انور باجوہ کی غزل
10 جون 2026
غزل
ہوش والوں نے جسے سود و زیاں جانا تھا
عشق نے اُس کو بھی اک وہم و گماں جانا تھا
وہ جو اک قطرۂ ناچیز نظر آتا تھا
بحر نکلا ہے، اسے ہم نے کہاں جانا تھا
دل کے آئینے پہ جب نقشِ ازل چمکا تو
پھر کسے اپنا، کسے نام و نشاں جانا تھا
ہم نے مٹی کی محبت میں گزاری دنیا
خاک ہونا تھا ہمیں، خاک کو جاں جانا تھا
رہنماؤں نے جسے منزلِ آخر سمجھا
اہلِ دل نے اسے اک راہِ رواں جانا تھا
جس کو دنیا نے سمجھ رکھا تھا حاصل اپنا
وقت آیا تو اسے خوابِ گراں جانا تھا
رازِ ہستی نہ کھلا عقل کے پیمانوں پر
عشق والوں نے اسے دل کا بیاں جانا تھا
ایک ذرّے میں بھی آثارِ تجلّی تھے نہاں
ہم نے ہر شے میں فقط اُس کا نشاں جانا تھا
عمر بھر اپنے تعارف پہ بھروسہ رکھّا
خود کو جب سمجھا تو بے نام و نشاں جانا تھا
درد اُٹھّا تو کھلے ہم پہ محبت کے رموز
ورنہ ہر زخم کو اِک صرفِ زیاں جانا تھا
طارقؔ انجامِ سفر کا نہ گماں تھا ہم کو
جس کو آغاز کہا ، اُس کو کہاں جانا تھا
ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن
اور پڑھیں 👇
0 تبصرے