Ticker

6/recent/ticker-posts

غالب نے مکاتبہ کو مکالمہ بنا کر پیش کیا ہے اردو ادب میں مکتوبات غالب کی اہمیت | مکتوبات غالب کی روشنی میں غالب کی نثر نگاری کا جائزہ

غالب نے مکاتبہ کو مکالمہ بنا کر پیش کیا ہے اردو ادب میں مکتوبات غالب کی اہمیت

سوال :غالب نے مکاتبہ کو مکالمہ بنا کر پیش کیا ہے اردو ادب میں مکتوبات غالب کی اہمیت کو واضح کیجئے۔ یا مکتوبات غالب کی روشنی میں غالب کی نثر نگاری کا جائزہ پیش کیجئے۔

جواب : جس طرح غالب کی شاعری اردو کے دوسرے شاعروں کے مقابلے میں الگ اور ممتاز نظر آتی ہے، اسی طرح ان کی نثربھی دل کو لبھانے والی مزیدار کہانی نظر آتی ہے۔ ہم یہ وصف ان کے نجی خطوں میں خاص طور سے پاتے ہیں، یہ بات اس لئے اور بھی قابل ذکر ہے کہ غالب کے زمانہ میں خط یا تو فارسی میں لکھے جاتے تھے یا ایسی اردو میں جس میں عربی فاری لفظوں کی کثرت اور تکلف اور تصنع کی بھر مار ہوتی تھی ۔اس زمانہ میں خط لکھنے کا ایک بندھا ٹکا انداز تھا لیکن مرزا غالب نے ایسے خطوں کی داغ بیل ڈالی کہ ہر شخص ان کا مشتاق نظر آنے لگا ۔

ہم لوگ کسی کو خط کو اس لئے لکھتے ہیں کہ جو لوگ آنکھوں سے دور ہیں ان کو اپنے خیالات اور جذ بات، اپنی خواہشات اور ضرور بات، اپنے حالات اور واقعات کی خبر پہنچائے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے خط میں مخاطب کوحسب مراتب متوجہ کر تے ہیں۔ساتھ ہی اس خط کو تحریر کرتے وقت ادب وشائستگی کا بھی لحاظ رکھتے ہیں ۔

لیکن غالب کے خطوط میں جو انداز بیان ہے وہ ایک عجیب دلچسپ چیز ہے۔ مرزا غالب خودا پنے خطوط کے بارے میں اپنی کتاب ’’ پنج آہنگ‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’ لکھنے کا میرا طریقہ یہ ہے کہ خط کا کاغذ و قلم ہاتھ میں لے کر اور جسے خط لکھ رہا ہوں اس کے مرتبے کا لحاظ رکھ کر مناسب لفظ سے خطاب کرتا ہوں! اور اپنا مدعا لکھنا شروع کر دیتا ہوں! وہ جو القاب و آداب اور خیر یت وخیر و عافیت کا دستور ہے اور جس سے خط خواہ مخواہ طویل ہو جاتا ہے۔ اسے نظر انداز کرتا ہوں! خط و کتابت میں جولوگ پختہ ہوتے ہیں وہ ان فضول باتوں سے پر ہیز کر تے ہیں۔ اپنے مکتوبات کے متعلق انھوں نے مرزا حاتم علی میرکولکھا ہے :
’’ مرزا صاحب! میں نے وہ انداز تحریر ایجاد کیا ہے کہ کوس دور سے بزبان قلم باتیں کرو اور ہجر میں وسال کے مزے لیا کرو‘‘

مرزا غالب کے خطوط کی وجہ سے اردو نثر نگاری میں ایک انقلاب برپا ہو گیا۔ اردو کی نثر یں سادہ لکھی جانے لگیں اردو ادب میں سادگی اور سلاست، لطافت وظرافت کے جونمونے ملتے ہیں اس کی رہنمائی مرزا غالب ہی نے فرمائی تھی۔ مرزا غالب کے خطوط کے دو مجموعے ہیں :
(1) ’’عود ہندی‘‘ (ii) ’’ اردوے معلی‘‘

یہ غالب کی زندگی میں ہی شائع ہو چکے تھے ۔ان کی وفات کے بعد بھی اہل علم نے غالب کے مکتوبات کو جمع کر کے مختلف ناموں سے شائع کیا ہے جن میں چند قابل ذکر مندرجہ ذیل ہیں:۔
( الف) ’’مکاتیب غالب‘‘۔۔۔۔۔ از مولانا امتیاز علی عرشی
( ب) ’’ خطوطِ غالب‘‘ ۔۔۔۔۔۔از مولانا غلام رسول مہر
( ج ) ’’ نادراتِ غالب‘‘ ۔۔۔۔۔ از آفاق دہلوی

ان خطوط کی خوبی یہ ہے کہ ان سے مرزا غالب کی زندگی کے بہت سے حالات معلوم ہو جاتے ہیں ان کے زمانے کے خاص خاص تاریخی واقعات پر روشنی پڑتی ہے سنہ اٹھارہ سو ستاون (۱۸۵۷) کی پہلی جنگ آزادی کے واقعات کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے ۔ واقعہ نگاری منظر کشی مسرت با غم کا اظہار خلوص اور محبت شفقت اور رافت دوستی اور بے تکلفی ہمدردی اور دلسوزی کے بہت سے نمو نے ان خطوط میں ملتے ہیں۔

مرزا غالب نے واقعہ کی تصویر کھینچ دیتے ہیں مثلا ایک خط میں برسات کا ذکر اس طرح کیا ہے :
" برسات کا حال نہ پوچھو خدا کا قہر ہے ۔قاسم جان کی گلی سعادت خان کی شہر ہے، میں جس مکان میں رہتا ہوں عالم بیگ کے کمرے کی طرف کا درواز ہ گر گیا مسجد کی طرف کے دالان کا جو دروازہ تھا گر گیا سیٹرھیاں گرا چاہتی ہیں۔ صبح کے بیٹھنے کا حجرہ جھک رہا ہے چھت چھلنی ہوگئی۔ میگھ گھڑی بھر بر سے تو چھت گھنٹہ بھر بر سےہیں ‘‘
مرزا غالب کے خطوط میں ہمیں بہت چھوٹی چھوٹی باتوں کا ذکر بھی ملتا ہے جو بہت پر لطف انداز میں میں پڑ ھنے میں بڑا مزا آتا ہے ۔

ان کو خطوط میں جہاں ہم ہنسی، چہل، شوخی اور ظرافت پاتے ہیں تو ساتھ ساتھ غمناک واقعات اور ماتم پرسی ،اظہار ہمدردی بھی دیکھتے ہیں۔ ’’یوسف مرزا! کیوں کر لکھوں کہ تیرا باپ مر گیا اوراگرلکھوں تو آگے کیا لکھوں کہ اب کیا کرو مگر صبر!یہ ایک شیوۂ فرسود ہ ابناۓ روزگار کا ہے تعزیت یوں ہی کیا کرتے ہیں اور یہی کہا کرتے ہیں کہ صبر کر و ،! ہاۓ ایک کا کلیجہ کٹ گیا اور لوگ اسے کہتے ہیں تو نہ تڑپ‘‘

مکتوبات غالب کی روشنی میں غالب کی نثر نگاری کا جائزہ

الغرض مرزا غالب کے خطوط انتہائی پر لطف مکالمہ کی صورت میں پیش کئے گئے ہیں جس کے اندر صداقت اور ادبی شان موجود ہے ، ان خطوط کو یکجا کر کے ایک مربوط سوانج یا خودنوشت سرگذشت تیار کی جاسکتی ہے، غالب بحیثیت نثر نگارا پنے مکتوبات کی وجہ سے اردو ادب میں ممتاز مقام پر فائز ہیں۔ مکتوبات کی دنیا میں ان کا کوئی ہمسر نہ ہوا گر چہ دو سری شخصیتوں کے مکتوبات بھی مشہور ہیں لیکن غالب کی شان اور انداز بیان نرالی ہے۔

اور پڑھیں 👇

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے